لاہور سے آگے۔۔رؤف الحسن

SHOPPING
SHOPPING

شام کے سات بج چکے تھے. سفر شروع ہو چکا تھا.

مسافر اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہو چکے تھے. کوئی زیر لب سفر کی دعا پڑھ رہا تھا تو کوئی اپنے موبائل میں مصروف تھا. اگلی نشستوں پر بیٹھی ایک فیملی کے دو بچے کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھنے کے لیے جھگڑ رہے تھے. میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا نوجوان کانوں پر ہیڈ فونز لگا چکا تھا. بس اب شہر کی بے ہنگم ٹریفک سے نکل کر شاہراہ پر آ چکی تھی.

زندگی سدا ایک جیسی نہیں رہتی. تین سال پہلے زندگی کتنی مختلف تھی. مختصر سے دوست, مختصر سی کہانیاں, اور مختصر سی زندگی. تین سال پہلے سوچ بھی آج سے بہت مختلف تھی. میں انہی سوچوں میں غلطاں سڑک کنارے لگے سفیدے کے درختوں کو اندھیرے میں اترتا دیکھ رہا تھا کہ تب ہی بس نے ایک زور دار بریک لگائی. شاید آگے کسی گاڑی نے غلط لین تبدیل کی تھی. چند مسافر ہڑبڑا کر بس سے باہر دیکھنے لگے. “نان سینس!” میرے ساتھ بیٹھے نوجوان نے ہیڈ فونز اتارتے ہوئے تبصرہ کیا. ‘متفق’   میں نے مسکراتے ہوئے کہا. بس پھر چل چکی تھی.

لاہور شہر نے مجھے کیا نہیں دیا. خواب و خواہشات, تعلقات, امیدیں, دوستیاں. اور ہاں… محبت بھی.

“محبت بھی…” میں نے مسکراتے ہوئے سوچا.

“محبت لاہور شہر کی ہوا میں بستی ہے.” مجھے اپنے ایک لاہوری دوست کا جملہ یاد آیا.

“اور منافقت اس کی مٹی میں” میرے جوابی جملے پر ہم دونوں اس رات دیر تک ہنسے تھے. لاہوریے بھی کمال لوگ ہیں. ہنسانا بھی جانتے ہیں اور ساتھ ہنسنا بھی. اوکاڑہ – 60 کلومیٹر – سڑک کنارے لگے سائن بورڈ پر نظر پڑی تو خیالات کا تسلسل ٹوٹ گیا.

بس کچھ دیر کے لیے سڑک کنارے ہوٹل پر رکی تو سواریاں نیچے اتر آئیں. دھندلا سا اندھیرا پھیل چکا تھا. اکتوبر کے مہینے کی خوشگوار ٹھنڈ کانوں پر لگتی محسوس ہو رہی تھی، ہوٹل پر معمول سے کم رش تھا. شاید جمعرات کی وجہ سے. میں نے آسمان کی طرف دیکھا تو چاند بادلوں کی اوٹ سے جھانکتا نظر آیا.

“ایک چائے” میں نے خالی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بیرے کو اشارہ کیا.

تین سالوں میں اگر کچھ نہیں بدلا تھا تو اس ہوٹل کی چائے کا ذائقہ. چائے پیتے ہوئے میں نے سوچا کہ لاہور کی محبت بھی یہاں کے لوگوں کی طرح خوبصورت ہے. یہ خاموش دلوں پر خاموشی سے اترتی ہے اور بنا کچھ کہے آنکھوں میں خوابوں کے چراغ روشن کر دیتی ہے. ان چراغوں کو یادوں کے ایندھن سے روشن رکھنے کا نام ہی محبت ہے.

میں نے یہی بات اپنے ایک دوست سے کہی تھی تو اس نے کہا تھا: “بزرگو! یکطرفہ محبت, محبت نہیں ہوتی. روگ ہوتا ہے.”

چائے ختم ہوئی تو میں پھر بس میں آ کر بیٹھ گیا. سفر پھر شروع ہو چکا تھا. بس کی رفتار کے ساتھ باہر کے منظر بدلتے جا رہے تھے. میں نے سیٹ سے ٹیک لگاتے ہوئے آنکھیں موند لیں. کانوں میں اقبال بانو کی خوبصورت آواز میں فیض کے الفاظ گونج رہے تھے. شاید میرے دوست نے ٹھیک ہی کہا تھا. یہ روگ ہوتا ہے:

SHOPPING

دشت تنہائی میں
اے جان جہاں! لرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے
تیرے ہونٹوں کے سراب
دشت تنہائی میں
دوری کے خس و خاک تلے
کھل رہے ہیں
تیرے پہلو کے سمن اور گلاب!

SHOPPING
SALE OFFER

Rauf Ul Hassan
Rauf Ul Hassan
I do not consider myself a writer. Instead, I am a player. As one of my friend s said: "You play with words. " He was right. I play, and play it beautifully.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *