چھوٹی سبزیوں( Miniature Veggies )کی پاکستان میں کاشت۔۔منصور ندیم

SHOPPING

کل شام میں شریف اللہ بھائی نے دوپہر کے کھانے میں حیدرآبادی بریانی کی آفر کی تھی، بریانی کھانے کے بعد بیٹھنے کا کوئی موڈ نہیں ہوا تو ہم نے Carre four Super Market کا رخ کیا، وہاں ہم نے کچھ مائیکرو سائز سبزیاں دیکھی، یہ سبزیاں پہلے بھی کئی بار دیکھی تھیں،بلکہ چند ایک بار اہلیہ نے خریدیں بھی اور ہم نے استعمال بھی کی، ذائقے میں وہی ذائقہ تھا، مگر ، آج تصویریں لے لیں اور سوچا اس پر کچھ لکھا جائے ۔ ان سبزیوں کو Miniature Vegges کہاجاتا ہے، یقینا اسی لئے کہا جاتا ہے کہ یہ یورپین یا مغربی ممالک کا ہی کارنامہ ہے، مجھے نہیں اندازہ کہ پاکستان میں بھی چھوٹے سائز کی سبزیاں دستیاب ہوتی ہیں یا نہیں، اگر ہوتی بھی ہونگی تو شاید چند بڑی سپر مارکیٹس میں ہی ملتی ہونگی، کیونکہ ہمارے جیسے ملک میں اصولا اتنے چھوٹے سائز کی سبزیوں کو درآمد کروانا کسی صورت سودمند نہیں ہو سکتا، کیونکہ کہ اس کے مقابلے میں نارمل سائز کی سبزیاں اس سے کم قیمت پر دستیاب ہیں۔

مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخرکار یورپین ممالک کو ایسی کیا ضرورت پیش آئی کہ سبزیوں کا سائز اتنا چھوٹا کر دیا گیا؟

بنیادی طور پر ہم نے نہ کبھی کچھ سوچا ہے اور نہ ہی حالات کے مطابق نئے آئیڈیائز سے اپنے وسائل یا مسائل کو سمجھا ہے۔

ان دنوں یورپ میں خاص طور پر سبزیوں کی باغبانی کے لئے جدید ترین رجحانات میں سے ایک چھوٹی سبزیاں ہیں۔ جنہیں وہاں پر Miniature Veggies کہا جاتا ہے – آپ اندازہ لگائیں کہ اسکواش، کھیرے، کدو، مٹر ، پھلیاں، گوبھی، گاجر، ٹماٹر، پیاز، بھٹے ، بینگن جیسی بڑے سائز کی سبزیوں کے انہوں نے نہایت بہت چھوٹے ورژن پیدا کردئیے ہیں، عموماً ابھی ان کی عوامی دستیابی آپ کو مہنگے ترین ریسٹوران، سلاد کے کسی بڑے برانڈز میں ہی ملیں گی، یا پھر مخصوص غیر ملکی خصوصی کھانوں کے انٹرنیشنل آؤٹ لیٹس پر ملیں گی، جہاں یہ کافی مہنگی ہیں۔ مگر مغرب نے انہیں مہنگائی کی  بنیاد پر نہیں اُگایا۔ بلکہ چھوٹے شہروں، قصبوں اور اپارٹمنٹ میں رہنے والے لوگوں کے لئے جو باغبانی میں دلچسپی رکھتے ہوں  یا اپنے محدود وسائل میں محدود جگہ پر انہیں  اُگا کر سستے اور کم وسائل میں ان سے مستفید ہوسکیں، اور شوق اور تفریح ​​کے ساتھ ساتھ اس کے نتائج ان کے لئے کافی دلکش اور حقیقتاً  فائدہ مند ہوسکتے ہیں۔

یعنی عام شہریوں کے لئے یہ مشغلہ چھوٹے سے گھر یا اپارٹمنٹ میں رہتے ہوئے بھی پورا ہوسکتا ہے اور ایک خوبصورت باغ رکھنے کا خواب پورا کرنے کا بھی ایک طریقہ ہے۔ مثلا یہ چھوٹی سبزیاں Miniature Veggies چھوٹے سائز کے گملوں میں بھی اگ سکتی ہیں لیکن سب سے بہترین بات یہ ہے کہ یہ پوری سائز والی سبزیوں کی طرح ہی ذائقہ دار، صحت مند اور غذائیت سے بھرپور ہیں۔

ایک عام آدمی جو خود ہی پودوں کو اگانے کا خواہشمند ہو وہ ان سبزیوں کی کاشت کے لیے ایک کشادہ اور بڑے باغ کے بجائے شہری علاقوں میں اپنے چھوٹے گھروں میں باغ بنا سکتا ہے۔

اس وقت پورے مغربی ممالک اور ترقی یافتہ ممالک میں ان چھوٹی سبزیوں کو اگانے کا کام بہت تیزی سے مشہور ہورہا ہے ، وہاں اس کی باغبانی Gardening کے لئے ان کے آن لائن سروسز کی معاونت اور گھریلو باغبانی کے بیشتر مراکز بھی دستیاب ہیں۔

گرینری اسٹور (یورپی یونین کا سب سے بڑا پھل اور سبزیوں کا تھوک فروش) اور رائک زوان باغبانی کی کمپنی کی مشترکہ طور پر کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق نامیاتی طور پر تیار شدہ یہ مصنوعات چھوٹی سبزیاں اس وقت صارفین میں ایک بڑھتی ہوئی مانگ ہے۔ صارفین Consumers کی مانگ کے مطابق دونوں کمپنیوں نے چھوٹی سبزیاں پیش کرنے کے لئے ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا تھا۔ جو “لٹل اینڈ فریش” Little & Fresh کے نام سے اس وقت لیڈ اسکینڈم (نیدرلینڈز) میں جمبو چین اسٹور سے شروع ہوچکا ہے، اور نئے برانڈز کے اضافے کے ساتھ تقریبا اس میں ایسی 20 اقسام کی چھوٹی سبزیاں پیش کی جائیں گی ، جس میں مخروطی گوبھی ، بروکولی اور سلاد شامل ہیں۔ یہ سبزیاں نہ صرف معمولی سائز سے چھوٹی ہونگی ، بلکہ نامیاتی طریقوں کے ذریعے بھی تیار کی جائیں گی  اور ان کو دیر پا محفوظ رکھنے کے لئے پیک بھی کیا جائے گا۔

SHOPPING

ویسے ہم پاکستانی پوری دنیا میں میں کاپی کرنے میں جتنے مشہور ہیں، پھر ہم کیوں اس طرح کے آئیڈیاز پر بات کرنے یا سوچنے کے لئے تیار نہیں ہیں ؟ ، چونکہ یہ ٹیکنالوجی مارکیٹ میں دستیاب ہے، ہم اس ٹیکنالوجی کی سبزیوں اور پھلوں کے بیج  منگوا سکتے ہیں، اگر بڑی سبزیوں کے لئے صرف باغبانی کی جگہ کی کمی ہے تو ہم بھی اس اقسام کی سبزیوں کا ملکی سطح پر انتخاب کریں اور اپنے اپنے گھروں میں اپنی سبزیوں کی ضرورت کو پورا کریں بلکہ ایسے کاموں کے  ذریعے ہم اپنے بجٹ کو بھی کسی نہ کسی درجے میں کنٹرول کرسکتے ہیں ۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *