رانجھا رانجھا کردی میں آپے رانجھا ہوئی۔۔طاہر علی بندیشہ

اردو ادب میں یہ اعزاز شکیل عادل زادہ اور مستنصر حسین تارڑ کے حصے میں آیا ہے کہ انہیں اپنی زندگی میں ہی بے پناہ چاہنے والے ، اُن کا خیر مقدم کرنے والے نصیب ہوئے مگر شکیل عادل زادہ کو اس ضمن میں امتیاز حاصل ہے ۔ ٹی وی کا آسرا بھی نہیں ، ڈائجسٹ میں بھی پسِ پردہ ، اِس کے باوجود اردو دان طبقے میں اُن کی خوشبو مشکِ نافہ کی طرح چہار سو پھیلی ہوئی  ہے ۔

عاشق اور قدر دان تو انہیں کثیر ملے مگر وہ جو کہتے ہیں نا کوئی ایک ایسا بھی ہوتا ہے  جو دیوانہ ، فرزانہ ، مجاہدانہ مزاج لیے ہوئے ہو ، جس کی آن بان ، سج دھج انوکھی ہو ، تیور نویکلے ہوں ، انہیں وہ فرزانہ حسن رضا گوندل کی صورت ملا ۔ عاشق بھی ، قدردان بھی ، محب بھی ، مرید بھی ، شاگرد بھی۔
بقول شکیل عادل زادہ کے سب رنگ کے عشق میں سر تا پا ڈوبا ہوا کُشتۂ سب رنگ۔
کچھ کام فقط جنوں کی پیداوار ہوتے ہیں کسی صِلہ و تمنّا کی ستائش سے پرے
ایسا ہی تاریخ ساز کام گوندل صاحب نے سب رنگ میں شائع ہونے والی کہانیوں کے انتخاب کو کتابی صورت میں پیش کر کے انجام دیا ہے۔
عقل والوں کے مقدر میں کہاں ذوقِ جنوں
اک پنجابی تے اُتّوں جٹ ، یک نہ شد دو شد
بقول شاعر؀
کہانی ایک سنائی جو ہیر رانجھا کی
تو اہلِ درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا
اس جٹ نے بھی اپنی سعادت مندی و ادبی ذوق سے شکیل عادل زادہ صاحب کو لوٹ لیا ۔
میں تیرا ، میں تیرا تے ہر کوئی آکھے پر گَلّ تے اُدوں بَن دِی اے جَدوں اوہ آکھے ہاں تو میرا

کوئی بھی شخص جب وہ سلیبرٹی کے مقام پر پہنچ جائے بھلے روحانی ہو یا دنیاوی تو اس کے چاہنے والے ، ایثار پیشہ متعلقین اس کے حسبی تعلق والے کہلاتے ہیں ۔
گوندل صاحب نے اپنے سب رنگ کے عشق سے اس حسبی تعلق والوں میں سب سے اونچا مقام پایا کہ شکیل عادل زادہ کی علمی و ادبی وراثت سے فیض یاب ہوئے ۔
انہوں نے اپنے سب رنگ کے شمارے ، کتب ، خطوط اور کئی ایسی علمی و ادبی چیزیں اُن کے سپرد یوں کر دیں جیسے اگلے وقتوں میں مرشد مرید کو خلیفہ کرتے ہوئے اپنا مصلی اور عصا تفویض کیا کرتے تھے گویا کہ معنوی اولاد کا درجہ پا گئے ۔
این سعادت بِزورِ بازو نیست

سب رنگ کہانیاں نامی کتاب پہنچی ، ہم جیسے طالب علموں کے لیے جو لفظ کی محبت میں گرفتار ہیں ، بقول احمد جاوید صاحب جس کو جِتنا لفظ کا عِلم ہو گا اس کو اتنا فَہم و ادراک ہو گا، سب رنگ میں شکیل عادل زادہ کی ایجاد کردہ لفظی تراکیب اور معنوں کی کہکشاں لفظ و معنی کے نِت نئے رشتے بیان کرتی ہیں ، ہم بھی اُسی بیان کے مقتول ہیں۔

شاید یہ خود تعریفی ہو مگر امرِ واقعہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جاب نہ ہونے کے باوجود کتاب آتے ہی اُدھار پکڑ کر منگوا لی ، چھٹی حِس کا اشارہ تھا کہ پہلا ایڈیشن دِنوں میں ختم ہو جائے گا اور یہ خدشہ حقیقت ثابت ہوا ۔ پہلے ماہ میں سب رنگ کہانیوں کا ایڈیشن فروخت ہو گیا یعنی کھڑکی توڑ رش رہا ۔
پہلا ایڈیشن خریدنا بھی ایک اعزاز ہوتا ہے۔
کوئی ڈیڑھ دو ماہ انتظار کرنا پڑا سب رنگ کہانیاں کتاب کا پاکستان سے یہاں تک پہنچنے میں ، دریں اَثناء مختلف لوگوں کے ریویوز نظروں سے گزرتے رہے کچھ محبت سے لبریز تو کچھ نکتہ چینی کی عادت سے مجبور۔۔
کسی نے آرٹ پیپر پر چھپنے کا طنز آمیز تیر چلایا تو،کسی نے کتابت کی شکایت کی ، کسی نے کوئی بھولی بسری یاد ، ناسٹیلجیا کی کمی کی طرف توجہ مبذول کروائی ۔
کتاب ہاتھ میں آتے ہی یہ سارے خدشات ہوا ہو گئے ۔ ہم کمپیوٹر کی کتابت کے زمانے میں ہیں اب کاتب کہاں سے لائیں ، وقت کا پہیّہ اُلٹا نہیں گھمایا جا سکتا۔ دور رکھ کر دیکھی پھر بھی پڑھی جا رہی تھی اب اس سے موٹی کتابت کا تقاضا کرنے کی بجائے ایک گلاسز دو نمبر بڑی والی بنوا لینا مناسب ہے۔ سب رنگ اپنے زمانے میں اپنے مواد کے ساتھ ساتھ سرِ ورق کے ڈیزائن میں بھی یکتائے روزگار تھا صد شکر کہ وہ روایت بھی گوندل – امر-گگن کی مثلث نے خوب نبھائی ۔

سب رنگ کبھی ادارہ نہ بن سکا بلکہ ادارے کا کام تن تنہا شکیل عادل زادہ کرتے رہے اسی روایت کو آگے نبھاتے ہوئے اپنے دل سِتاں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اُن کے حسبی فیض یافتہ حسن رضا گوندل صاحب نے بھی ادارے کا کام تن تنہا کر ڈالا ۔ فیسبک پر سب رنگ کی ترویج و اشاعت ہو یا پرانے شماروں کی اسکیننگ ، حتی کہ کتابی صورت میں شائع کروانے میں بھی اپنی ذات میں انجمن بنے رہے۔
شو مئی قسمت سے ہم پاکستانی صارفین اپنے حقوق سے آگاہ ہیں اور نہ ہی کسی سٹینڈرائزڈ معیار کی خبر رکھتے ہیں گاڑیوں کی ہی مثال لے لیجیے ۔ تاجر حضرات بھلے لوکل ہوں یا عالمی ہر دو دونوں ہاتھوں سے اِس بھولی عوام کو لوٹ رہے ہیں ۔ ایسے میں کوئی آتا ہے اور اصل معیار سے نہ صرف آشنا کرتا ہے بلکہ لوٹتا بھی نہیں ہے ۔ میں نے بارہ سو میں “دروازے “ بھی خریدی اور اٹھارہ سو میں “کامیاب لوگ “ بھی اپنی کتب میں شامل کی مگر اُن کی نسبت یہ والی کتاب سب رنگ کہانیاں نہ صرف معیار میں بلندتر بلکہ قیمت میں بھی انتہائی مناسب یعنی کہ لوٹ سکتے تھے مگر نہیں لُوٹا۔
کہاوت ہے اپنا پِیر پِیر تے دوسرے دا پِیر بندہ

بس یہی معاملہ کچھ سب رنگ کا بھی ہے رسالے ، پرچے اور ڈائجسٹس اور بھی تھے مگر سب رنگ کی بات ہی رنگ در رنگ منفرد رنگ والی ہے ۔ جو نہیں جانتے وہ نہیں جانتے مگر جو جانتے ہیں وہ سمجھتے ہیں اِین چیزے دیگر است۔ تین نسلوں کی ادبی آبیاری کرنے والی مُنتَخَب تحریریں اور کہانیاں ، اُن کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرنا نہ صرف خوش آئند کام ہے بلکہ بذاتِ خود یہ جُنوں کی حکایت ہے۔
جب تک زبان باقی ہے تب تک زبان فَہمی کی ضرورت باقی رہے گی اور لفظ آشنا لوگ اس بَحر کا رخ کرتے رہیں گے اور اپنی تِشنگی کی سیرابی کا انتظام پائیں گے۔
ہم اپنے زمانے کے حساب سے اِس دیگ کے بس چند دانے ہی چَکھّ پائے تھے بھلا ہو حسن رضا گوندل کا اُس نے پوری دیگ ہمارے لیے تیار کرنے کی ٹھانی۔
شکیل عادل زادہ کا لفظوں کا ٹکسال
احمد جاوید صاحب کہتے ہیں “ لفظ سب سے بڑی چیز ہے ۔ لفظ کے دو معانی ہوتے ہیں ، ایک مستقل مطلب ہوتا ہے اور ایک عارضی یعنی کچھ معانی عارضی ہوتے ہیں۔ لفظ کے استعمال کے نتیجے میں معنویت کے مختلف شیڈز پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ “
شکیل عادل زادہ نے لفظ کو اُس کے معنوی شیڈز اور نئی تشکیل و ترکیب میں جو برتا ہے وہ دہن و ذہن کے لیے لطف سِوا ہے ۔
گل فام ، گل اندام ، خُم کدہ ، خم بدوش ، دل نشیں و دل سِتاں کو ایک ساتھ لانا ، نادرہ کار ، عَشوہ طراز ، عبرت انگیز تو ہر کوئی لکھتا ہے مگر “عبرت ساماں “کیا کہنے ، نازنینیاں سِتم گراں ( ایک ساتھ استنعمال ) ، شاہِد بازی ۔ نرم و لطیف لفظوں کا آبگینہ ۔

یہ تو اس لفظوں کے ساحِر کے ہنر کے چند ایک نمونے تھے۔تین سے زائد کہانیاں سب رنگ لورز کلب نامی گروپ میں گوندل صاحب نے شیئر کر رکھی ہیں۔
جن لوگوں نے سب رنگ کا زمانہ دیکھا ، نئے شمارے کے انتظار کا سواد چکّھا ہے وہ تو اپنے عہد میں ادبی اعتبار سے خوش قسمت رہے مگر ہمارے جیسے جو بعد میں آئے اور جو اب ہمارے بعد آئیں گے وہ سب رنگ اور شکیل عادل زادہ تک پہنچنے کے لیے حسن رضا گوندل کے ذریعے ہی پہنچ پائیں گے ۔ بھولی بسری کتابیں جو قدیم ہو چکی ہوں کبھی کبھار کسی پبلشر کے ہتھے چڑھ کر اشاعتِ ثانی سے ہمکنار ہو جاتی ہیں مگر ادبی پرچے اور ڈائجسٹس ان کا دوبارہ اشاعت پذیر ہونے کا تصور بھی محال ہے ۔ کتنے شاندار ادبی روایت کے حامل پرچے نکلتے رہے ہیں مگر آج کون ہے جو اُن کا نام لیوا ہے یا انہیں دوبارہ شائع کرنا چاہتا ہے نقوش کی ہی مثال سامنے ہے اُس کا لہور نمبر تو باقاعدہ تحقیق و تفتیش کا شہ کار ہے مگر اب ناپید ہے۔ زندہ جاوید رہنے میں سب رنگ کا اپنا کمال تو ہے ہی مگر اسے جدید عہد میں ماڈرن ٹیکنالوجی کے ذریعے زندہ رکھنے اور موجودہ نسل کو روشناس کروانے میں حسن رضا گوندل کی بے لوث و بے غرض خدمات تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔ لوگ کتابوں سے محبت کرتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ اُن کے لیے لائبریری بنا لیتے ہیں یا پھر اُن پر تبصرے لکھے اور چرچا کیا مگر جناب نے ڈائجسٹ سے عشق کر لیا۔ اصل طاقت عشق ہے جس سے ہو جائے اُس معشوق کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں ۔ سب رنگ کو بھی ایسا عاشق صادق نصیب ہوا کہ وقت کی اڑتی دھول اور جمتی گَرد سے نکال کر دلہن کی طرح سجا کر اسٹیج پر لے آیا ہے۔
اس ادبی خدمت کے لیے ہم اور ہماری آنے والی پود حسن رضا گوندل کے ممنون رہیں گے۔
عَفا اللہُ عَنهُ

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *