سعودی عرب میں فنون لطیفہ کا ترقیاتی سفر۔۔منصور ندیم

سعودی عرب نے جہاں معیشت کا رخ بدلنے کا فیصلہ کیا، وہاں قوانین اور معاشرت میں بھی حیرت انگیز تبدیلیاں ہوئیں ، وہیں سوچ اور فکر کی تبدیلی کے لئے سعودی عرب نے سعودی عرب کی نوجوان نسل کے لئے ثقافتی تربیت اور ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے سنہء 2019 میں نہ صرف مکمل طور پر ثقافت کے لیے پوری وزارت کا ادارہ تشکیل دیا، بلکہ سنہء 2019 سعودی وزارت ثقافت نے مملکت بھر میں 120کلچرل سینٹر کھولنے کا ارادہ کیا تھا ۔ جو سعودی عرب کی تحصیلوں، چھوٹے شہروں اور کمشنریوں میں قائم ہوں گے، اور ہر سینٹر خودمختار ہوگا جہاں ادبی انجمنوں کی سرگرمیاں ہوں گی۔


سعودی وزارت ثقافت کے اس فیصلے پر مقام سوسائٹی میں پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے یہاں کے عرب دانشوروں کے حلقوں نے کہا ہے کہ کلچرل سینٹر کے قیام کی بدولت نئی نسل کو اپنی صلاحیتیں چمکانے کا بہترین موقع میسر ہوگا۔ اور ان سے دنیا بھر کے ثقافتی مراکز سے رابطے کے روشندان کھلیں گے۔

اب سعودی وزارت ثقافت کا کہنا ہے کہ مملکت بھر میں ثقافتی سرگرمیوں سے تعلق رکھنے والوں کا ڈیٹا تیار کیا جائے گا۔ سعودی وزارت ثقافت نے ڈیٹا بیس کے لیے ایک پورٹل جاری کیا ہے، اور لوگوں سےکہا گیا ہے کہ وہ اپنے پروفیشنل اور پرسنل بائیو ڈیٹا کو اس پر اندراج کروائیں۔ تاکہ وزارت ثقافت پورے ملک میں موجود مختلف قسم کے ثقافتی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور ان کی تخلیقات سے متعلق تمام معلومات جمع کرنے کا پروگرام مرتب کرسکیں۔

سعودی وزارت ثقافت کے پروگرام کے مطابق مختلف ثقافتی شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے سے استفادہ کریں اور پورے ملک میں علمی، لسانی، نشریاتی، ادبی، تعمیراتی وغیرہ فنون ترقی کریں- اس حوالے سے قائم این جی اوز ایک دوسرے سے رشتے استوار کریں۔ تمام شعبے جیسے فلموں، زبان ، ترجمے، نشرواشاعت، کتابوں، موسیقی، تھیٹر، اداکاری، ادب، بصری آرٹ، ملبوسات، لائبریریوں، تاریخی ورثے، عجائب گھروں، تعمیراتی فن، ڈیزائن اور کھانا بنانے کے ہنر اور ان سے تعلق رکھنے والے فن کاروں، ہنرمندوں اور دانشوروں سے متعلق معلومات جمع ہوں۔

یقینا ًیہ سعودی عرب میں اپنی نوعیت کا پہلاث قافتی ڈیٹا ہوگا اور یقینا ً کئی مراحل میں مکمل ہوگا۔ وزارت ثقافت سعودی عرب کی ثقافتی دنیا سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ موثر رابطے کی سکیمیں بھی تیار کررہی ہے۔ یہ ہدف اسی وقت حاصل ہوسکے گا جب سب کے بارے میں بنیادی معلومات جمع ہوجائیں گی۔

اس اعلان پر ابوظبی بک اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر علی بن تمیم کا کہنا تھا کہ سعودی خواتین و حضرات کو ان کی بدولت اپنی ثقافت شایان شان شکل میں اجاگر کرنے کا موقع ملے گا، کلچرل سینٹر کے قیام سے نوجوانوں میں فنون لطیفہ سے دلچسپی میں اضافہ ہوگا۔

علی بن تمیم کے مطابق ہمارے یہاں امارات میں کلچرل سینٹر کے قیام کا تجربہ بڑا اچھا رہا۔ ان کی بدولت معاشرے کے تمام طبقوں کو ثقافت کے فروغ میں پرجوش کردارادا کرنے کا موقع ملے گا۔ عربی زبان اور اس سے متعلقہ علوم و فنون سکھانے کے مواقع ملیں گے۔سعودی بین الاقوامی اور عربی ادبی سے دلچسپی بڑھے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مطالعے اور ثقافت کا فروغ ہر معاشرے کی اپنی ذمہ داری ہے۔

قصر الغوري

مصری ناقد صبحیی موسیٰ نے بتایا کہ مصر میں 550 ثقافتی ادارے ہیں۔ ان میں کلچرل سینٹر اور لائبریریاں ہیں۔ جگہ اور بجٹ کے حوالے سے ہر ایک کا مختلف حجم ہے۔ ان میں ادبی سیمینار ہوتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *