• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • خاکروب کے حقوق کی آوز بننے والی “میری جیمز گل” پاکستان کا روشن چہرہ۔۔منصور ندیم

خاکروب کے حقوق کی آوز بننے والی “میری جیمز گل” پاکستان کا روشن چہرہ۔۔منصور ندیم

SHOPPING

میں ایک ایسے مذہب سے تعلق رکھتا ہوں ،جس میں “صفائی و طہارت کو نصف ایمان” سمجھا جاتا ہے، اس کے بالمقابل بد قسمتی سے ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، وہاں صفائی کے شعبے سے تعلق رکھنے والوں کو انتہائی برا سمجھا جاتا ہے، ان خاکروبوں (Sanitary Workers) کے لئے ہمارے ہاں “مسلی” یا “ملیچھ” یا “چوہڑے” اور بھنگی جیسی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔

مجھے سنہء 2017 کا واقعہ نہیں بھولتا جب عمر کوٹ کے علاقے میں 35 سالہ سینیٹری سپر وائیزر عرفان مسیح اپنے کام کے دوران ایک گندے نالے میں صفائی کی  غرض سے اترا تھا، جہاں زہریلی گیس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گیا تھا، اور جب اسے ایمرجنسی میں علاج کے لیے ہسپتال لے جایا گیا تھا تو ڈاکٹروں نے اس کے جسم پر لگی گندگی کی وجہ سے علاج کرنے سے انکار کر دیا۔ ہسپتال پہنچنے پر سب سے پہلے ایمرجنسی ڈاکٹر نے وارڈ بوائے کو کہا کہ یہ کیچڑ میں بھرا ہوا ہے، اس کو نہلا کر صاف کراؤ میں  روزے  سے  ہوں، میرے کپڑے خراب ہو جائیں گے۔ مزید ڈاکٹرز کے آنے پر بھی اسے طبی امداد فراہم نہیں کی گئی، آخر میں ایک نیک دل ڈاکٹر حنیف آریسر پہنچے اور انہوں نے کیچڑ میں لت پت عرفان مسیح کو چیک کیا اور بتایا کہ اس کی موت واقع ہو چکی ہے۔‘

ایسے ہی ابھی پچھلے برس کی بات ہے جب ایک خاکروب رفیق مسیح کراچی کے علاقے لانڈھی میں صفائی کرتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا کیونکہ وہاں حفاظت کا کوئی خاطر خواہ انتظام ہی نہیں تھا۔ اس پر نہ کوئی واویلا ہوا نہ کسی کا دل پگھلا تھا۔


آخر ہمارے معاشرے میں ایک خاکروب کی جان اس قدر ارزاں کیوں ہے کہ اسے بنیادی سیفٹی کے بغیر ہی اس قدر خطرناک کام کرنا پڑتا ہے،صرف دو وقت کی روٹی کے لئے، کیا یہ پیشہ اس قدر حقیر ہے کہ ان کی جان کی حفاظت سے زیادہ اہم سیوریج لائن کی صفائی ہے؟

ہمارے معاشرے میں عموماً  سینٹری ورکنگ میں زیادہ تر اقلیتی طبقہ کرسچن برادری سے وابستہ ہے، اس وابستگی کی بنیاد پر ہی وہ وجہ بنی کہ پاکستان میں صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والی خاتون وکیل اور سماجی رکن میری جیمز گل جو پاکستان میں سینٹر برائے لاء اینڈ جسٹس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی ہیں۔ اور یہ سنہء 2013 سے سنہء 2018 کے دوران مسلم لیگ (ن) کی جانب سے مخصوص اقلیتی نشست پر پنجاب اسمبلی کی رکن بھی رہ چکی ہیں۔ انہوں نے حکومتی سطح پر اس شعبے میں درپیش خطرات کے پیش نظر سینیٹری ورکرز کو حفاظتی سامان اور انتظامی سہولیات دینے کے لئے باقاعدہ ایک مہم”صفائی کرنے والوں کو بھی عزت دو”.(Sweepers are Super Heroes کے نام سے چلائی ۔

اس کے لیے انہوں نے مختلف شہروں میں اور سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی کی بھرپور مہم چلائی۔ یہ پچھلے 10 سال سے انسانی حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں، انہیں شدت سے احساس ہوا کہ ہمارے ملک میں خاکروبوں کے حقوق اور ان کی مشکلات پر کبھی بات نہیں کی گئی، یہی سوچ کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ
” کیوں نہ میں معاشرے میں نظرانداز کیے گئے اس طبقے کے لیے آواز اٹھاؤں۔”

میری جیمز گل نے خاکروبوں کے حوالے سے لوگوں کے منفی رویوں پر بھی اظہار کیا کہ
‘ “ہمارے معاشرے میں سینیٹری ورکرز کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو ان کے بغیر ہم شاید سروائیو بھی نہ کرسکیں۔ یہ اگر ایک دن کام نہ کریں تو ہماری سڑکوں کا کیا حال ہو یہ شاید تصور کرنا بھی محال ہے۔”

میری جیمز گل نے جب خاکروبوں کے لئے آواز اٹھائی اس وقت انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ
“ہمارے ابتدائی طور پر دو بڑے مقاصد تھے جن میں سے ایک یہ کہ خاکروبوں کو وہ عزت و احترام ملے جس کے وہ حقدار ہیں، ان کے کام کو مانا جائے دوسرا یہ کہ ان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس کے بعد ہم انہیں معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے اقدامات پر زور دیں گے۔”

اور انہیں ان دو مقاصد کے حصول میں انہیں کس حد تک کامیابی ملی ہے، ان کا کہنا ہے کہ ‘میں سمجھتی ہوں کہ ہمارا بنیادی مقصد بہت حد تک پورا ہو گیا ہے کیونکہ پہلے تو اس طرف کسی نے توجہ نہیں دی، لوگ ان کے حوالے سے بات تک کرنا پسند نہیں کرتے تھے مگر اب سوچ بدل رہی ہے۔”

میری جیمز گل کا کہنا ہے کہ صرف لوگوں کی ہی نہیں بلکہ خاکروبوں کی ذہن سازی بھی بہت ضروری تھی۔
” اس پیشے سے جڑے لوگ دوسروں کو اپنے کام کے بارے میں بتاتے ہوئے ہچکچاتے تھے لیکن ہم نے ان کی کاؤنسلنگ کی کہ یہ کوئی شرمندگی کا کام نہیں، ہم نے انہیں بتایا کہ جب تک آپ اس پیشے کو کم تر سمجھیں گے تو لوگ بھی آپ کو حقیر جانیں گے۔”

میری جیمز گل نے خاکروبوں کو پُراعتماد بنانے کے لیے dignity award کے نام سے ایک تقریب بھی منعقد کی تھی جس میں اس پیشے سے 25 سال سے وابستہ افراد میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے تھے

خاکروبوں کے انسانی حقوق کے لیے سرگرداں میری جیمز گل کی محنت رائگاں نہیں گئی ،انہیں سینیٹری ورکرز کے لیے اپنی خدمات کے عوض بین الاقوامی ایوارڈ کے لئے چنا گیا ہے ۔

سویڈن میں لندھ میموریل فنڈ نے گزشتہ ہفتے اپنے ایک اعلامیے میں اعلان کیا ہے کہ سینیٹری ورکرز اور دیگر محرومی کے شکار طبقات کے حالات بہتر بنانے کی کوششوں کے عوض اس سال کا ایوارڈ میری جیمز گل (پاکستان) کو دئیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
میری جیمز گل کی کاوشوں سے پاکستان میں خاکروبوں اور سینیٹری ورکرز کے حالات میں بہتری آئی ہے اور ان کی حفاظت اور عزت و توقیر میں اضافہ ہوا۔ اینا لندھ میموریل فنڈ نے اس ایوارڈ کے ذریعے دنیا بھر کے سینیٹری ورکرز کے حالات کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ واٹر ایڈ پاکستان سمیت دنیا بھر میں محروم اور غریب ترین طبقات کی صاف پانی، نکاسی آب اور صاف صحتمند ماحول تک رسائی کے لئے کوشاں ہے۔
سوئیڈن کے ادارے اینا لندھ میموریل فنڈ کی جانب سے یہ انعام ہر سال ان افراد کی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے جو کسی قسم کے امتیاز، ناانصافی، بے حسی کے خلاف اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

سابق ممبر قومی اسمبلی میری جیمز گل کو یہ ایوارڈ سینیٹری ورکرز کے لیے چلائی جانے والی مہم ’سوئپرز آر سپر ہیروز‘ کے لیے دیا گیا ہے۔ اور یہ پاکستان کے لئے ایک اعزاز ہے۔ میری جیمز گل دنیا کے سامنے پاکستان کا ایک روشن چہرہ ہیں ۔

اس ایوارڈ کی تقریب 8 نومبر کو منعقد ہوگی جو کہ ورلڈ ٹوائلٹ ڈے سے منسوب ہوگی جو 9 نومبر کو منایا جاتا ہے۔ سوئیڈن کے ادارے اینا لندھ میموریل فنڈ کی جانب سے یہ انعام ہر سال ان افراد کی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے جو کسی قسم کے امتیاز، ناانصافی، بے حسی کے خلاف اپنا کردار ادا کرتے ہیں،میری گل کو اس ایوارڈ کے لیے واٹر ایڈ سوئیڈن نے نامزد کیا تھا۔

میری جیمز گل کا اس اعلامیے کے بعد کہنا ہے کہ وہ بہت خوش ہیں کہ ان کے کام کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی ہے اور سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ میری مہم کی وجہ سے ان گمنام ہیروز کو شناخت ملی ہے۔ یہ ایوارڈ میرا ہی نہیں بلکہ ان سپر ہیروز کا ہے۔’

لوگوں نے میری جیمز گل کی اس کیمپین کو کافی سراہا ہے اور اس مہم کی وجہ سے لوگ اس طبقے کی طرف متوجہ ہوئے۔ اب لوگ ان کا احساس کر رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ ان کا وجود کتنا اہم ہے۔

میری جیمز گل کا کہنا ہے کہا کہ ‘اگرچہ سرکاری سطح پر ان (خاکروبوں) کے لیے ابھی تک کچھ نہیں کیا گیا نہ ہی انہیں حفاظتی لباس فراہم کیے گئے ہیں لیکن میں پھر بھی پُرامید ہوں۔ ہم نے اپنا ایک بڑا ہدف حاصل کرلیا ہے اب ان کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے معاشی طور پر مستحکم کرنا ہمارا اگلا ٹارگٹ ہوگا،’
اس مہم کے بعد حکومتی سطح پر خاکروبوں کے لیے کچھ اقدامات کیے گئے یا نہیں، میری گل نے بتایا کہ ‘جب کورونا وائرس کی جنگ میں اپنا کردار ادا کرنے والے فرنٹ لائنرز کی بات ہو رہی تھی اور صحت، سیکیورٹی اور دیگر اداروں سے منسلک افراد کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا تو ایسے میں پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں خاکروبوں کو بھی فرنٹ لائنر قرار دیا گیا۔’

SHOPPING

آئیے اپنے ملک کے ہر طبقے کے لئے آواز بنیں، اور ان کے حقوق کے لیے لڑنے والوں کی ستائیس کیجیے، کہ یہی پاکستان کے روشن چہرے ہیں۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *