پنجابی اسٹیبلشمنٹ ۔۔۔ محمود شفیع بھٹی

پنجاب جسے جنوبی ایشیا کی” فروٹ باسکٹ” کہا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف الزامات اور بہانوں کی زد میں ہے۔ تقسیم ہند کے وقت برصغیر کے دامن پر سب سے بڑا داغ، سب سے بڑا زخم پنجاب کی تقسیم تھا۔ وہ تقسیم جس نے بھائی کو بھائی کا دشمن کردیا، وہ تقسیم جس نے ماسٹر تارا سنگھ کے مظالم سے تاریخ کے اوراق کو سرخ کردیا، وہ تاریخ جس نے لاہور میں سکھ اور ہندو کمیونٹی کا حقہ پانی بند کردیا۔

پنجابیوں نے بھی کیا قسمت پائی ہے۔ پنجابی چاہے “چڑھدے پنجاب” کا ہو یا پھر “لہندے پنجاب” کا اپنی وفاداری اور عظمت کا یقین دلائے تھک نہیں رہا۔ قیام پاکستان کے بعد سب سے زیادہ تکلیفیں اور صعوبتیں پنجابیوں نے برداشت کیں۔ سب سے زیادہ بے گھر پنجابی ہوئے، سب سے زیادہ جانیں پنجابیوں نے دیں اور سب سے زیادہ عزتیں بھی پنجاب باسیوں نے قربان کیں۔ پنجاب کا مہاجر تقسیم سے پہلے رئیس اور تقسیم کے بعد فقیر بھی ہوا۔

قیام پاکستان کے بعد سب سے بڑا ظلم پنجاب کے ساتھ یہ ہوا کہ آسام، بہار اور یوپی کے وہ مسلمان جو نوکری کے طالب تھے، انہوں نے ادھر کا رخ کیا اور پھر پنجاب میں آباد ہوگئے۔ جو مسلمان پہلے سے ہی زمین دار تھے انہوں نے ہندوستان میں ہی رہنا پسند کیا۔ ان مسلمان بھائیوں کی پنجاب میں آمد سے پنجاب کی ماں بولی “پنجابی” آہستہ آہستہ غائب ہوتی گئی اور اب حالات یہ ہیں کہ پنجابی بولنا توہین سمجھی جاتی ہے۔

موجودہ دور میں لفظ “پنجابی اسٹیبلشمنٹ” خاصا مقبول ہے۔ ملک پاکستان کے تمام ترقی پسند دانشور، لبرلز، سیکولرز اور قوم پرست ریاست پاکستان کی ہر خامی اور ہر نااہلی کو “پنجابی اسٹیبلشمنٹ” نامی استعارے سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ الفاظ ہر گزرتے دن کیساتھ ساتھ پنجابیوں کے لیے گالی بنتے جارہے ہیں۔ یہ وہی پنجابی ہیں جنہوں نے وفاق پاکستان کو اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوا ہے۔ جدھر سے اینٹی فیڈریشن آواز آئے اسے زائل کرتے ہیں۔

پنجاب کی اس سے بڑی مہربانی کیا ہوگی کہ اس نے ہر غیر پنجابی کواپنا مسیحا سمجھا۔ بھٹوایک سندھی سیاستدان جسے ایوب خان سیاست میں لائے۔پنجاب نے اسے وزیراعظم بنایا۔محمد خان جونیجو کو سندھی بھول گئے ، پنجابی تاحال گن گاتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کا فقید المثال استقبال لاہور یوں نے ہی کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ پنجابی مزاحمت نہیں کرتے، بھٹو کی پھانسی پر مزاحمت سینکڑوں خود سوزیاں پنجاب سے ہوئیں تھیں۔ اسی طرح ضیائی مارشل لاء میں سب سے زیادہ کوڑے پنجابیوں نے ہی کھائے۔ لیکن پھر بھی پنجابی اسٹیبلشمنٹ کا طعنہ ہمارے سر ہے۔

چند دانشوروں کے نزدیک ساری فوج ہی پنجابی ہے۔ کیا مارشل لاء لگانے والے جرنیل پنجابی تھے؟ ایوب، یحییٰ،ضیاء اور مشرف یہ سب پنجابی تھے؟ کیا مشرف کی حکومت میں ظفر اللہ جمالی پنجابی تھا، کیا مشرف کا نگران وزیراعظم محمد میاں سومرو پنجابی تھا؟, وغیرہ وغیرہ۔ چوہدری برادران پاور پالیٹکس کے اسیر تھے اور رہیں گے۔ اس ملک کا بیڑہ پنجابی فوج نے نہیں ،آپکے سندھی اور پختون جرنیلوں نے غرق کیا ہے۔

پنجاب کا عام مزدور بندہ تاحال غربت و افلاس کا شکار ہے۔ پنجاب نے اپنے باسیوں کا حق کاٹ کر دوسرے صوبوں کے بھائیوں کو دیا۔ پنجاب کا مزدور روزگار کے لیے دوسرے صوبوں کے دھکے کھاتا ہے۔ جب کہ پنجاب کی تمام ہول سیل مارکیٹیس پر پختون تاجروں کی اجارہ داری قائم ہے۔ پنجاب کا مزدور بلوچستان جائے تو اسکی لاش واپس آتی ہے جبکہ دوسرے صوبے کا مزدور پنجاب آئے تو  یہاں مالک بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ کیا یہ پنجابیوں کی اعلی ظرفی نہیں ہے؟ اگر پنجابی متعصب ہو ں تو مار مار کر بھگا دے۔

 

پنجاب نے اپنے اندر “رجیم چینج” کو قبول کیا اور اس وقت لاکھوں پختون، پشتون ہم پنجابیوں پر حکم جھاڑ رہے ہیں۔ متعدد غیر پنجابی وزرائے اعلیٰ بنے، لیکن کسی نے افف تک نہ کی۔ یہ ہے پنجابی اسٹیبلشمنٹ! موجودہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نسلی لحاظ سے بلوچ ہیں، لیکن پھر بھی ہم قبول کیے بیٹھے ہیں۔ پنجاب میں۔ نیشنلسٹ اور  اصلی وزرائے اعلی منظور وٹو، پرویز الٰہی ہی تھے۔

 

کہا جاتا ہے کہ پنجاب مزاحمت نہیں کرتا۔ نجم سیٹھی ایک پنجابی صحافی، جس  نے بلوچ حقوق کی آواز بلند کرنے کی خاطر بلوچستان میں جاکر بندوق پکڑ کر مزاحمت کی اور ریاست پاکستان کو للکارا۔موجودہ دور میں نواز شریف سول سپرمیسی کی جنگ نہیں لڑ رہا؟ وہ نواز شریف جو مقبول ترین ہے، وہ نواز شریف جو تین مرتبہ وزیراعظم رہا، وہ نواز شریف جس نے ڈاکٹر عبد المالک بلوچ جیسے مڈل کلاس کےبندے  کو ثناء اللہ زہری   جیسے بڑے سردار کےمقابلے میں وزیراعلی بلوچستان بنوایا۔ اسی نواز شریف کی پیٹھ میں سندھی+بلوچی زرداری نے چھرا گھونپا۔ اسکی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کروایا۔

 

پنجاب خود ڈیماگرافک تبدیلیوں کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ پنجاب دن بدن پشتون بیلٹ کے ہاتھوں یرغمال بنتا جارہا ہے۔ اپنا وجود، اپنی زبان کو قائم رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ لیکن پھر بھی دانشور طعنہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ کا ہی دیں گے۔ ہماری مادری زبان، اسکے لہجے اور اسکا رسم الخط ہم سے چھین لیا گیا۔ پھر بھی ہم پنجابی اسٹیبلشمنٹ ہیں۔

 

پنجاب کے ہیروز رنجیت سنگھ، بھگت سنگھ، رائے احمد کھرل، دلا بھٹی، اودھم سنگھ، فقیر عزیز الدین، پورس، چانکیہ علامہ اقبال، عنایت اللہ مشرقی، نواز شریف، عمران خان وغیرہ ہیں۔ جبکہ ہم پنجابی اسٹیبلشمنٹ والے تاحال غوری، ابدالی، غزنوی کے تلوے چاٹ  رہے ہیں۔ احمد شاہ ابدالی جس نے پنجابی مردو خواتین اور بچوں تک کو کاٹ ڈالا وہ ہمارا مطالعہ پاکستانی ہیرو ہے۔ لیکن پھر بھی ہم پنجابی اسٹیبلشمنٹ ہیں۔

 

ہم پنجابیوں پر ایسا کڑا وقت آن پہنچا ہے کہ ہم اپنی وفاداری ، مزاحمت کی تاویلیں پیش کرتے تھکتے نہیں ہیں۔ آگے سے ہم پنجابیوں کو بزدل اور پتہ نہیں کیا کیا خرافاتی القابات سے نوازا جاتا ہے۔ لیکن پھر بھی ہم پنجابی اسٹیبلشمنٹ ہیں۔

 

آخر میں اتنا کہوں گا کہ!

 

ریاست پاکستان کا وفاق اور اسکی اکائیاں صرف اور صرف پنجاب کی مخلصی کی بدولت قائم ہیں۔ اگر پنجاب آج اپنی خود غرضی دکھائے تو یہ تمام نام نہاد مزاحمت کار اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ احباب اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر بیٹھ جائیں۔ پھر اقوام عالم دیکھے گی کہ ظلم، جبر اور استحصال کیا ہوتا ہے۔

پاکستان زندہ باد

محمود شفیع بھٹی
محمود شفیع بھٹی
ایک معمولی دکاندار کا بیٹا ہوں۔ زندگی کے صرف دو مقاصد ہیں فوجداری کا اچھا وکیل بننا اور بطور کالم نگار لفظوں پر گرفت مضبوط کرنا۔غریب ہوں، حقیر ہوں، مزدور ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *