گوادر، ڈھوریہ کی بستی کے دو عجب کردار‎۔۔جاوید حیات

عثمان بھیا اور ناخدا اسماعیل بھیا، دونوں باپ بیٹے زندگی کے ہر کڑے محاذ پر اکٹھے مقابلہ کرتے رہے ہیں۔ جب میں ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھتا ہوں تو وہ منظر میری آنکھوں سے چھلک پڑتا ہے، اور عینک کے شیشے میں وہ تصویریں رقص کرنے لگتی ہیں جن پر زندگی سے سجے سچے رشتوں کے رنگ جھلملاتے ہیں۔

مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے؛ ان کے پاس ایک چھوٹی پرانی کٹی ہوا کرتی تھی، جس سے جیٹی کے آس پاس وہ چھوٹی مچھلیوں کا شکار کرتے تھے۔ اُس وقت عثمان بھیا کے لبوں پر باتیں مچھلی کی طرح تیرتی رہتی تھیں، جیسے ان کی کٹی کی طرح اس کا منہ لیجر اور مربو (مچھلی کی اقسام) سے بھر گیا ہو۔ وہ کبھی زور سے باتیں کرتا تو کبھی گنگنانے لگتا۔ اس کا باپ اسے دیکھ کر مسکرا دیتا، اور تیزی سے چپو چلانے لگتا۔

دونوں باپ بیٹے زندگی کے بہتے ریلے میں سالوں ایک دوسرے کا درد بانٹتے رہے۔ اب بیچارہ عثمان بھیا جنگل کے بوڑھے پیڑ کے جیسا خاموش ہو گیا ہے، جیسے اس کے لبوں پر تیرنے والے وہ سارے الفاظ کسی مچھیرے نے جال سے پکڑ کر بازار میں کہیں بیچ دیے ہوں۔

ناخدا اسماعیل بھیا اپنے بیٹے عثمان کے بارے میں کہتے ہیں، “یہ بڑا بہادر نریان بچہ تھا، آج اس پر بےرحم وقت آن پڑا ہے جو سمندر سے بچھڑ گیا ہے۔ میرے دوسرے بچے کشتیوں کے ناخدا ہیں، ہر سیزن میں تگڑا شکار کرتے ہیں، اچھے پیسے کماتے ہیں، لیکن میرا وقت ان کے ساتھ نہیں گزرتا، میری دھڑکنوں میں صرف عثمان دھڑکتا ہے، جب تک یہ میرے پہلو میں نہیں سوتا، مجھے نیند نہیں آتی۔

عثمان نے دو تین دفعہ مجھے گہرے سمندر میں ڈوبنے سے بچایا ہے، جب سُربندر کے قریب سماک کے دنوں ہماری کشتی قلات سے اونچی موج کی زد میں آ گئی، تو ہم کشتی سمیت گہرے پانیوں کی سمت بہتے چلے گئے۔

عثمان رات کے اندھیرے میں تختے کے سہارے تیرتے ہوئے سربندر سے بلوچ پاڑے کے لوگوں کو جگا کر ساتھ لے آیا، چراغوں کی روشنی میں رسی کے سہارے وہ مجھے تیرتے ہوئے کنارے تک لے آئے۔

باقی بچے بھی مجھے پیارے ہیں لیکن عثمان مجھے جان سے پیارا ہے۔”

اسماعیل بھیا اپنے اس پاگل بچے سے بے حد خوش ہے۔ وہ کہتا ہے، میرا بیٹا جس حال میں بھی ہے میرے ساتھ ہے، ہم دونوں کو جینے کا ایک مقصد ملا ہے، یہ مجھے تلاش کرتا ہے میں اسے کھوجتا رہتا ہوں، اور سورج ڈوبنے سے پہلے ہم دونوں ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔

وہ موسیٰ موڑ کے ہوٹل پر اس کے آنے کا انتظار کرتا ہے، کبھی کبھی وہ دیر رات اس کے لوٹنے تک گھنٹوں بیٹھا رہتا ہے۔ جب عثمان آتا ہے وہ اکٹھے چائے پیتے ہیں، اور ٹارچ کی روشنی میں سورگ دل گراؤنڈ کے راستے سے گھر کی طرف لوٹتے ہیں۔

ناخدا اسماعیل بھیا کا ترشت پچھلے دو سال سے انجن کے بغیر دیمی زر کے کنارے پر پڑا ہے، اس نے ہر بڑے آدمی کو اپنا دکھڑا سنایا، مگر سمندر سے بچھڑ جانے کے اس کے اس درد کو آج تک کسی نے محسوس نہیں کیا۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *