کراچی کے مسائل کا حل صرف جماعتِ اسلامی۔۔غیور علی خان

سیاست بارے کوئی نئی رائے بیان کرنا ایسا ہی ہے جیسے آپ نئی بوتل میں پرانی شراب پیش کریں۔
باوجودیہ کہ اس ناس پیٹے پیشہ سے تو پیشہ کرنا ہی بھلا ،پر اس بِنا کوئی چارہ بھی نہیں کہ معیشت، معاشرت، انفرادی و اجتمائی بندوبست، و دیگر دیدہ و نادیدہ معاملات اسی کے مشکوک چال چلن سے وابستہ ہیں۔

یہ ڈھونگی اپنی کج فہمی و کور بصری سے کماحقہ واقف ہے اسی لئے حتیٰ الامکان سعی کرتا ہے کہ قلم کو تیغہ دیے رکھے پھر بھی بعض اوقات نالہ سامانی میں کلیجہ منہ  کو آتا ہے۔

شہرِ غدار کراچی (ہائے! کیسا حسبِ حال مرکب ہے جس کے اصل معنی بڑی آبادی والا شہر ہے) کی تاریخ دیگر بِلاد کی بنسبت زیادہ پرانی نہیں کہ اس کشورِ خودرو نے سن سینتالیس کے بعد ہی انگڑائی لے کر اپنے شباب کی اطلاع دی۔ اس شہر میں چند گنی چنی تاریخی عمارات کے علاوہ کوئی ایسی بات نہیں جو اسے دیگر اقلیم سے ممتاز کرے مگر پھر بھی یہ غریب نواز اپنی گود میں ہزار ماؤں کا گداز رکھتا ہے۔

آزادی کے ملگجے سویرے سے پھوٹنے والی زخم خوردہ صبح پر ایک طرف تو اس شہر نے شفقت کا پھاہا رکھا تو دوسری جانب اس نے پورے ملک کا بوجھ بھی اپنے نوخیز کندھوں پر سہار لیا۔ وقت کے کوس پہیے کے ساتھ اس شہر کا گھیر کچھ ایسا سِوا ہوا کہ بقول مرزا غالب
ؔ بہ قدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے

اس دوران کراچی نے ملکی سیاست میں بھی نمایاں کردار ادا کیا کہ اس کے نو آورد میلان میں بھان متی کا کنبہ آ سمٹا۔ اشراکی ہوں یا مذہبی، لسانی ہوں یا نسلی، ہر ایک نے اپنے نظریات کا عَلَم اس کے سینے میں گاڑے ہوئے ہیں۔ دائیں و بائیں بازو کے ساتھ ہر نو کا طُوطی اس کے نقار خانے میں چہچہاتا ہے، تاہم ہمیشہ طُوطیِ پَسِ آئِینَہ ایک ہی ہے اور سوئے قسمت رہے گا بھی۔

نصف صدی سے زائد جاری اس آپا دھاپی میں یہ شہرِ غریباں ایسی اندھیر نگری چوپٹ راج میں بدلا کہ آج اس کا چپہ چپہ تارِ بارش سے جل تھل ہو چکا ہے۔

کراچی کی اکثریت نے دل و جان سے ایک سیاسی نظریہ کو پچھلی تین دھائیوں سے حرزِ جان بنایا ہوا ہے جو کہ ایک وقت تک واقعی جان سے زیادہ عزیز لگتا تھا مگر سیاسی قیادت کی مسلسل کوتاہ نظری کے سبب کچھ عرصے سے اُس پنجابی ٹپہ جیسی صورتحال ہو گئی ہے کہ باری برسی کھٹن گیا تے کھٹ کے لیاندے تیتر، او ویلا دور نہیں جدوں سب نوں پین گے چھتر (ویسے کراچی والوں کو عرصہ ہوا چھتر ہی لگ رہے ہیں)۔

اب وقت آگیا ہے کہ کراچی والے اپنے معاشی و سیاسی مفادات کے تحفظ کے لئے نئی صف بندی کریں کہ سیاست میں کوئی نظریہ حرفِ آخرنہیں ہوتا سوائے بقا کے۔

اگر ہم پاکستان کی سیاسی منظر نامے کا جائزہ لیں تو ہر طرف آزمائے ہوے مہرے ہی سجھائی پڑتے ہیں جو کہ عرصہ سے کراچی والوں سے لِلّہی بیر رکھتے ہوئے اس شہر کے وسائل کو شِیرِ مادر کی طرح غٹ غٹ پیے جاتے ہیں۔

تاہم، اس ہجومِ اِدبار میں ایک موہوم سی امید جماعتِ اسلامی سے باندھی جاسکتی ہے مگر اس کا بھی ماضی کچھ ایسا تابناک نہیں۔ بر سبیلِ تذکرہ، کراچی والوں کو ایسا کونسا خضرِ راہ میسر ہے جس سے وہ اقبال کی طرح سلطنت کے کنہہ جانیں۔

جماعتِ اسلامی کا دامن بھی دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے طرح داغدار ہی نہیں تار تار بھی ہے۔ اس کے سیاسی جرائم کے داستاں کافی طویل ہے کہ یہ کبھی آمریت کے دوام کا ذریعہ بنی تو کبھی ڈالروں کی للک میں پرائی آگ میں اپنے بچوں کے جھونک چکی۔ بہر کیف، موجودہ منظر نامے میں کراچی والوں کے پاس جماعتِ اسلامی سے بہتر کوئی دوسرا آسرا شاید نہ ہو کہ یہ جماعت بھی اب اپنی بقا کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔

کراچی والوں نے اگر تجرباتی طور پر بلدیاتی انتخابات میں جماعتِ اسلامی کو ایک موقع دیا تو امید ہے کہ حافظ نعیم و ہمنوا ایڑی چوٹی کا زور لگا کر کراچی کے مسائل کے حل کے لئے اپنی سے کوشش ضرور کریں گے۔

مگر کراچی والوں کو بھی اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ راہنما چاہیے یا منزل؟ بدنیت و بدحواس، ٹولوں میں بٹے ہوئی مقامی سیاسی جماعت چاہیے یا کچھ نیا آزمانے کی ہمت؟ اپنے شہر و آبادی کا مستقبل سنوارنا ہے یا ڈبونا ہے؟

کراچی والوں، جب تم نے تین دہائیوں سے زیادہ صرف آسروں پر اپنا ووٹ دان کر دیا تو اس دفعہ جماعتِ اسلامی کو پرکھنے کے لیے صرف بلدیاتی سطح پر ہی موقع دے کر دیکھ لو تو چار سالوں میں ہی پتہ چل جائے گا کہ یہ سودا فائدہ مند یا نہیں۔

دوسری طرف یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جماعتِ اسلامی کی ملکی و مقامی قیادت اپنی سیاسی بساط کس طرح بچھاتی ہے؟ اس کے انتخابی منشور کی ترجیحات کیا ہوتی ہیں؟ کیا وہ کراچی کے مسائل کا مکمل ادراک بھی رکھتی ہے کہ صرف گھسے پٹے نعروں پر ہی اکتفا کرتی ہے؟ سب سے اہم اس کے سیاسی مہرے کراچی کی اکثریت کا عکس ہوں گے یا غیر مقامی بھرتیاں؟

مزید براں، جماعتِ اسلامی کو کراچی والوں سے سنجیدہ مکالمے کی ابتداء کرنی ہوگی۔ پرانے ڈھول پیٹنے کے بجائے مقامی آبادی کے دل کو ٹٹول کر ان کے درد کا ادراک کرنا پڑے گا۔ کراچی، جماعتِ اسلامی کے عمومی مزاج کے متضاد ایک گوناگوں مرقع ہے جہاں مذہبی، معتدل، و آزاد خیال طرزِ فکر کے لوگ اپنے ڈھب سے زندگی برتے ہیں۔ جماعتِ اسلامی کا اصل امتحان یہی ہوگا کہ وہ کراچی والوں کی نبض پر ہاتھ رکھ کر اپنے دل کو کیسے قابو میں لاتی ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *