زبان (12)۔۔وہاراامباکر

انسانوں کا دوسری لاکھوں دوسری زمینی انواع کے مقابلے میں ایک بہت بڑا فرق یہ ہے ایک انسانی ذہن دوسرے اذہان پر بڑے پیچیدہ انداز سے اثرانداز ہو سکتا ہے۔ سوچ کے اس کنٹرول کو زبان کہا جاتا ہے۔ دوسرے جانور ایک دوسرے کو خطرے، خوف، بھوک، پیار وغیرہ کے سگنل کر سکتے ہیں اور کچھ جانور ہمارے ایسے سگنل بھی سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن تجریدی تصورات کو چند الفاظ کی بامعنی لڑی میں پرونا؟ یہ نہیں کر پاتا۔ ایک چمپنیزی الفاظ سن کر سیب کی تصویر والا کارڈ ڈھیر میں سے نکال لے گا۔ ایک طوطا آپ کو “چوری کھاوٗں گا” کہہ کر تنگ کر لے گا۔ لیکن سادہ فرمائش، وارننگ یا شناخت سے آگے جانے کی صلاحیت تقریباً صفر ہے۔

جب 1970 کی دہائی میں سائنسدانوں نے چمپینزیوں کو اشارے کی زبان سکھائی کہ تو ان کی کوشش تھی کہ ان کو یہ سکھایا جا سکے کہ وہ گرائمر اور نحو بھی سیکھ لیں۔ یہ اس خیال کے زیرِتحت تھا کہ ان کا صوتی ہارڈوئیر ہے جو انہیں بولنے سے روکتا ہے۔ اشاروں کی زبان میں یہ پیچیدہ تبادلہ خیال کر سکیں گے۔ اس کوشش پر نوم چومسکی کا تبصرہ تھا “ایک چیمپنیزی کے زبان سیکھنے کا امکان اتنا ہے جتنا اس چیز کا کہ کسی جزیرے میں جا کر انسان کسی پرواز کے لئے ناقابل پرندے کو اڑنا سکھا دے۔ یہ نہیں ہو سکتا”۔ دہائیوں کی کوشش کے بعد اب ایسا ہی لگتا ہے کہ چومسکی کا تجزیہ بالکل درست تھا۔

جس طرح پرندوں نے اڑنا ایجاد نہیں کیا اور وہ اڑنا سیکھنے پرندے کسی سکول نہیں جاتے، زبان بھی انسانوں نے لئے ویسے ہی نیچرل ہے۔ اور صرف انسانوں سے ہی خاص ہے۔ ہماری نوع اس کی مدد سے پیچیدہ اشتراک کر سکتی ہے اور خیالات کا تبادلہ کر سکتی ہے۔ اور جس طرح سیدھے کھڑے ہونا بائیولوجیکل ایڈاپٹیشن ہے، ویسے ہی بولنا بھی اور یہ قدیم ہے۔ شاید یہ نینڈرتھال میں بھی ہو گی۔

چونکہ یہ صلاحیت جبلی ہے اس لئے ہم یہ توقع رکھیں گے کہ ہمیں بولنے والی زبان دنیا بھر میں ہر جگہ نظر آئے گی۔ اور ایسا ہی ہے۔ یہ آزادانہ طور پر کئی جگہ پر ایجاد ہو چکی ہیں۔ ہر چھوٹے سے چھوٹے قبیلے میں بھی زبان پائی جاتی ہے۔ نیولیتھک انقلاب سے قبل شاید جتنے قبائل ہوں گے، اتنی زبانیں۔ ایسا اندازہ لگانے کی وجہ کیا ہے؟ جب برٹش نے آسٹریلیا کو اٹھارہویں صدی کے آخر میں کالونی بنانا شروع کیا تو آسٹریلیا میں پانچ سو کے قریب قبائل تھے۔ ان کا اوسط سائز پانچ سو ممبران کے قریب تھا۔ ہر قبیلے کی اپنی زبان تھی۔ سٹیون پنکر لکھتے ہیں کہ “آج تک ہمیں کوئی بھی گونگا قبیلہ نہیں ملا اور کوئی ریکارڈ نہیں کہ یہ صلاحیت کسی ایک جگہ سے شروع ہو کر دوسری جگہ پر منتقل ہوئی ہو”۔

بیان ایک چیز ہے لیکن تحریر ایک بالکل ہی مختلف چیز ہے۔ اگر بولنے والی زبان انسانی نوع کی بنیادی خاصیت ہے تو لکھنے والی زبان شاید انسانی تہذیب کا سب سے اہم ایجاد کردہ اوزار ہے۔ بولنے سے ہم اپنے قریب کے چند لوگوں تک خیالات پہنچا سکتے ہیں۔ لکھنے سے ہم وقت اور فاصلے میں دور تک خیالات منتقل کر سکتے ہیں۔ اور اس سے نالج جمع ہو سکتا ہے۔ اس سے ہم ایک فرد کے نالج اور یادداشت تک محدود نہیں ہو جاتے۔ آج ہم ٹیلیفون یا انٹرنیٹ کو رابطے کی انقلابی ٹیکنالوجی کہتے ہیں جنہوں نے دنیا تبدیل کر دی لیکن ان کے آنے سے بہت پہلے دنیا کو بدلنے والی رابطے کی سب سے بڑی انقلابی ٹیکنالوجی لکھائی تھی۔

اور اس ایجاد کا محرک جو انٹلکچوئل کاوش بنی، اس کو ہم بیوروکریسی کہتے ہیں۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *