گوگی کی یاد میں۔۔طیبہ ژویک

ہمارے یہاں کُتوں کا صرف اتنا سا کردار ہے کہ بڑے گھرانوں میں اسے فیشن کے طور پر پالا جاتا ہے یا پھر بلاتفریق ہر طبقے میں گالی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔۔ اس کے علاوہ یہ جاندار یہاں گلی کوچوں میں گاڑیوں کے پیچھے بھونکتا, بھاگتا اور ٹھوکریں کھاتا ہی نظر آتا ہے۔
جب سے لفظ کُتا باقاعدہ طور پر گالی کے لیے مخصوص ہوا ہے، میں نے اس جانور کو ڈوگی کہنا شروع کر دیا کیونکہ میرے خیال میں یہ جانور اتنا بھی برا نہیں کہ اسے یوں تحقیر سے گالی دی جائے۔
تو جی میرا ڈوگیز سے پہلا تعارف سیکنڈ سٹینڈرڈ میں ہوا۔ جب میں حسبِ عادت سکول بنک کر کے دور دراز کے علاقے چھاننے میں مصروف تھی۔ ایک بڑا سا گیٹ کھلا تھا جس میں ریشمی بالوں اور سیاہ دھبوں والا ڈوگی بیٹھا نظر آرہا تھا۔۔۔۔ ویسا ہی جیسا اپنی اردو کی کتاب میں ڈبو نامی نظم کے ساتھ تصویر میں دیکھا تھا۔ بلا جھجک اُسے اُٹھا کر گھر لے آئی اور ایک دوست سے بڑی محنت سے ہتھیائی ہوئی چین بطور کالر اُس کے گلے میں ڈال دی۔۔ وائے ری قسمت کہ  شام کو میرے گھر والوں کے آنے سے بھی پہلے ڈوگی کے گھر والے آگئے اور چین سمیت ڈبو لے گئے۔امی جی سے باتیں الگ سننی پڑیں۔

دوسری مرتبہ میری ڈوگی سے محبت تب جاگی جب گھر کے بالکل ساتھ کوئی نئے انکل شفٹ ہوئے تھے اُن کے پاس کالا سیاہ نرم نرم بھالو جیسا پپی تھا۔ وہ چھوٹی سی دُم ہلاتا اچھلتا کودتا ہمیشہ ان کے پیچھے رہتا۔۔۔ پپی سے زیادہ مجھے انکل سے جیلسی محسوس ہوئی اور ایک دن اسی طرح ٹہلتے انکل کے پیچھے چُپکے سے جا کر یوں ڈوگی اٹھا لیا کہ ان کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ ان پر کیا واردات بیت گئی ہے۔ اس ڈوگی کو گھر لا کر میں نے بوری میں لپیٹ کر اپنی دانست میں بڑی محفوظ جگہ سٹور میں چھپا دیا۔ اور شام تک بیچارہ دم گھٹنے سے مر گیا۔ پہلی بار مجھے موت کا تجربہ ہوا کیسے لمحوں میں پیاری سی جاندار زندگی  بےجان ،بےکار جسم میں بدل جاتی ہے۔۔۔ میں نے بغیر کسی کو بتائے اسے دفنا دیا۔

اس کے بعد یاد نہیں میں نے کتنے اور کہاں کہاں سے بچے اٹھائے پر میرے گھر میں کبھی رکھنے کی اجازت نہ ملی اور باہر جو گھر بناتی تھی وہاں سے ڈوگی کی اماں یا مالک اٹھا کر لے جاتا تھا۔۔۔ کوئی بھی پپی ایک دو دن سے زیادہ نہیں رکھ سکی۔
میرے بھائی شوق کو دیکھتے ہوئے ایک بلیک فی میل ڈوگی لے کر آئے (بِچ  کہنا بھی  گالی ہی محسوس ہوتا  ہے) اس کا نام میں نے بِلو رکھا ۔

جسے اتفاق سے گھر والوں نے بھی قبول کر لیا۔۔۔ اور یوں وہ میری پہلی باضابطہ پالتو ڈوگی تھی۔۔ ہمارے گھر کے سامنے گراؤنڈ میں لڑکے کھیلا کرتے تھے۔  اکثر اپنے ڈوگیز بھی لڑاتے تھے۔۔ایک دن ایسے ہی مقابلے میں۔۔ میں نے شوقیہ اپنی بِلو کو بھی لڑنے کے لیے چھوڑ دیا اور وہ اتفاق سے جیت بھی گئی۔۔۔ بڑے لڑکوں کو غصہ آگیا ۔۔ انہوں نے اگلے دن میرے سکول جانے کے بعد
اُسے اٹھا کر گندے نالے میں پھینک دیا۔۔۔ یاد نہیں کیسے اٗڑتی خبر مجھ تک پہنچی اور میرے وہاں پہنچنے تک بِلو آخری سانسیں لے رہی  تھی۔۔۔ اسے باہر نکالا پر وہ کچھ ہی دیر میں بے جان ہو گئی۔۔۔ یہ چھ ماہ کی رفاقت اختتام کو پہنچی اُس کو رو دھو کر دفنانے کے بعد میں نے بہت لمبے عرصے تک کوئی ڈوگی نہیں پالا۔

میں نے پہلے خرگوش اور پھر بلیوں سے دوستی کر لی۔۔۔ پرندے البتہ شوق کے باوجود نہیں رکھ سکی کہ مجھے کبھی قیدی بنانا پسند نہیں رہا۔۔
خیر یہ قصہ تھما ہی رہا تاوقتیکہ انٹرمیڈیٹ میں دوبارہ ایک فی میل ڈوگی ملی۔۔۔وہ ایک فیکٹری میں رہتی تھی۔ جس کے چار پانچ روئی کے گالوں جیسے بچے تھے ۔اس سے میرا اتنا سا تعارف تھا کہ اکثر اس کے مالکان فیکٹری بند کرنے سے پہلے اس کو اندر بھیجنا بھول جاتے تھے۔۔ اور اس کے بچے اندر ہوا کرتے تھے۔ وہ ساری ساری رات کبھی بولتی اور کبھی پنجوں سے دروازہ کھولنے کی کوشش کرتی رہتی تھی۔ ایسی ہی ایک سرد رات میں وہ مسلسل بولتی رہی۔ میں اپنے ایک پرانے کلاس فیلو سے بات کر رہی تھی۔۔ سو اس سے تذکرہ کر دیا۔۔ اس نے کہا اگر یا تو اس کے لیے دروازہ کھلوا دو یا چُپ کر کے بیٹھو۔۔۔ رات کے قریباً ڈیڑھ بجے۔

میں نے چپکے سے گھر کا دروازہ کھولا اور جا کر فیکٹری کا گیٹ پیٹ ڈالا۔۔۔ مگر ملازمین نے نہ سُننا تھا۔۔۔ نہ سُنا۔۔ سامنے ہی مالک کا گھر تھا وہ اپنا گیٹ کھول کر باہر آیا اور پوچھنے لگا کیا مسئلہ ہے۔۔ میں نے اُن کو ڈوگی کا مسئلہ بتایا اور کہا اسے حل کریں۔۔

انہوں نے اسی وقت دروازہ کھلوا کر اندر بھیجا اور دوبارہ کے لیے احتیاط کرنے کا آرڈر دیا۔۔۔ ڈوگی تشکر سے میری ٹانگ سے سر رگڑ کر چلی گئی۔۔۔۔

آخری بار آج سے چار سال پہلے بھائی کا ایک دوست اپنا پالتو چھوٹا سا پپی کچھ دن کے لیے ہمارے گھر چھوڑ گیا۔۔۔ وہ انتہائی شرمیلا پپی تھا۔۔ اور کمرے سے باہر آنے کو تیار ہی نہ ہوتا تھا۔۔۔ آتا تو نظریں جھکائے واپس بھاگنے کو تیار۔۔۔ میری اُس سے بہت آہستہ آہستہ دوستی ہوئی۔۔ صبح شام میں جب بھی باہر واک کے لیے جاتی۔ وہ ڈرتا شرماتا پیچھے آتا۔۔۔ دو ہی ماہ میں وہ اتنا اٹیچ ہو گیا کہ
جس کا تھا وہ بھی اسے واپس لینے آیا مگر خوش دیکھ کر وہیں چھوڑ گیا۔

اُس کو میں نے گوگی کا نام دیا اور وہ اتنا فرینک تھا کہ بےتکلفی سے میرے کمرے میں چلا آتا۔۔ کھانے سے پہلے پاس بیٹھا نظر آتا ۔۔۔ کبھی کسی چیز سے منع نہ کرتا اور ایک آواز پر جہاں کہیں بھی ہوتا بھاگا چلا آتا۔۔۔ زیادہ پیار آتا تو گود میں بھی چڑھ جاتا۔۔۔ سچ کہوں تو مجھے اس کی وفاداری اور کچھ نہ کہنے کی وجہ سے کبھی کبھی چِڑ بھی ہو جاتی تھی۔۔۔اچھا بھلا شاندار بھونکنے والا اپنی خصلت
میں بھیڑیے جیسا خونخوار جانور جب صرف وفاداری میں بھیگی بِلی بن کر قدموں میں لوٹے۔۔۔ دُکھ تو ہو گا۔۔۔
شاید اسی لیے صوفیانہ شاعری میں وفاداری کے لیے ان کی مثال دی جاتی ہے۔۔۔
راتیں جاگیں کریں عبادت
راتیں جاگن کتے
تیتھوں اُتے
ایک سال میں ہی اس نے اچھا خاص قد کاٹھ نکال لیا۔۔ اور ہماری غیر حاضری میں گھر سے باہر بھی جانے لگا۔۔۔ ایک دن اسی طرح باہر سے گھوم پھر کر آیا اور نڈھال ہو کر گِر گیا۔۔۔ اس کے جسم کے پچھلے حصے پر چھوٹا سا زخم تھا۔۔۔ایسے زخم اکثر لگتے رہتے تھے۔۔۔ امی جی نے اُسے تکلیف میں دیکھا تو فوراً چیک کر کے اس کی مرہم پٹی کی۔۔۔
بظاہر وہ زخم ٹھیک ہو گیا۔۔ مگر چند ہی دنوں میں وہ چلنے پھرنے میں پہلے کمزور اور پھر معذور ہو گیا۔۔۔ اسے ویٹرنری ہاسپٹل لے کر گئی, انہوں نے فالج اور ڈھیر ساری بیماریوں کا مژدہ سنا کر مشورہ دیا کہ اسے کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا جائے۔۔ ان پر لعنت بھیجتے ہوئے میں واپس گھر آگئی۔۔۔ ڈوگی اب میرے کمرے میں قالین پر پڑا رہتا۔۔ جب چل پھر نہ سکتا تو اونچی آواز میں روتا۔۔۔ اُس کا رونا دیکھنا بس سے باہر تھا۔۔۔

کچھ دن گزرے میں دوبارہ اُسی ہاسپٹل میں تھی۔۔ اب کی بار میں نے پوچھا کچرے کے علاوہ کیا حل ہے۔۔ میں اسے پھینک نہیں سکتی۔۔ انہوں نے ایک انجیکشن تجویز کیا جو اسی وقت منگوا کر لگا دیا گیا۔۔۔ خدا جانے وہ انجکشن کس چیز کا تھا۔۔۔ میرا گوگی دہری اذیت میں گرفتار ہو گیا۔۔اس سے سانس لینا اور کچھ کھانا بھی مشکل ہو گیا۔ وہ نہ جیتا تھا نہ مرتا تھا۔۔۔ میرا ہاسپٹل میں پھر چکر لگا اور میں نے التجا کی کہ اگر اسے زندگی نہیں دے سکتے تو آرام دہ موت ہی دے دیں۔۔ مگر وہاں موجود چار ویٹرنری آفیسرز بِگڑ گئے۔۔ ہم زندگی دینے کے لئے بیٹھے ہیں۔۔ موت کے لیے نہیں۔۔ میں نے انہیں بتانے کی کوشش کی کہ آپ کی کچرے والی تجویز اور اس اذیت کے درمیان لٹکے بےزبان کے لیے موت نعمت ہو گی۔۔۔۔ویسے بھی یہاں میونسپل کمیٹی والے ہزاروں تندرست
جانوروں کو بھی تو موت کے گھاٹ اتارتے ہی ہیں۔۔۔ ۔ مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے اور کہا ہمارے پاس ان کو مارنے والا زہر ہی نہیں۔۔۔ اسے میونسپل کمیٹی کے دفتر لے جائیں۔۔۔ وہاں اس کا انتظام ہو جائے گا۔۔ میں ڈوگی کو ساتھ لیے وہاں پہنچی۔۔ چار مختلف کمرے گھوم پھر کر بھی وہاں کے تمام لوگ یہ فیصلہ نہ کر سکے کہ یہ ڈوگی کس کے علاقہ کی حدود میں آتا ہے۔۔۔
ادھر ڈوگی تھا کہ حالت بگڑتی ہی جا رہی تھی۔۔۔ وہ کچھ بھی کھانے پینے سے معذور تھا۔۔ اور اس کی زبان سیاہ پڑ گئی تھی۔۔۔ پر اُس کی آنکھوں کا تشکر اور دم کا ہلانا کم نہ ہوتا تھا۔۔۔ یاد نہیں وہاں سے کس کس آفیسر, حکیم اور ڈاکٹر کے پاس چکر لگا ڈالے مگر کوئی بھی اُس کے لیے کچھ نہ کر سکا۔۔۔۔ رات دس بجے واپس گھر آنے تک گوگی اذیت کی آخری حدوں پر تھا۔۔ اور میری بلکہ گھر والوں کی بھی جان سولی پر ٹنگی ہوئی تھی۔۔۔ میں بھیا کو کال کر کے رو پڑی۔۔۔ پھر بھیا نے کہیں سے پِسٹل کا انتظام کروا کے گولی سے اُسے نجات دلوائی۔۔۔ دسمبر کی سرد تاریک رات میں گھر سے باہر باغ کے دو سال گھنے درختوں کے درمیان اُسے دفنا دیا گیا۔۔۔ اور۔۔۔۔اُس کے بعد ۔۔۔ ۔
اُس کے بعد جب کہیں نظر آئیں۔۔ میں خوراک ڈال دیتی ہوں یا پیار کر لیتی ہوں اور بس۔۔۔۔
پر میں دوبارہ کبھی   بھی  ڈوگی پالنے کی ہمت نہیں کر سکی۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *