آؤ پھر احتجاج کریں، آؤ پھر گھروں کو لوٹیں۔۔محمد خان داؤد

SHOPPING

اس احتجاج میں ایسا کوئی بینر نہ تھا جس پر یہ لکھا ہوا ہوتا کہ
”آؤ پھر احتجاج کریں، آؤ پھر گھروں کو لوٹیں!“
اگر یہ لکھا ہوا ہوتا تو ہماری کار گزاری ہو بہ ہو ایسی ہی گزرتی ہر اس احتجاج میں ایسا کوئی بینر نہ تھا۔

پر ایسے لکھے بینر سے کیا ہوتا ہے؟ ہماری کارگزاری ہو بہ ہو ایسی ہی تھی ہم گھروں سے نکلے،ہم نے احتجاج کیا اور ہم گھروں کو لوٹ گئے
ہم نے برمش کے لیے بھی یہی کیا تھا
اور ہم نے حیات بلوچ کے لیے بھی یہی کیا
کیوں؟
کیوں کہ ہمیں اجازت ہی اتنی ہوتی ہے کہ ہم اتنا ہی کر پائیں جتنا ہمیں کہا جاتا ہے
جتنا ہمیں دکھایا جاتا ہے اور جتنی ہمیں اجازت ہوتی ہے ہم اس اجازت سے تجاوز کیسے کر سکتے ہیں؟

ہمیں جو دکھایا گیا ہے۔ ہمیں جو روڈ میپ دیا گیا ہے۔ ہمارے پیروں میں جو سنگیاں ڈال دی گئی ہیں ہم اس سے آگے ہر گز نہ جائیں گے
اس لیے ہم نے کل ماضی کی برمش کے لیے احتجاج کیا
اور کل مستقبل کی برمش کے لیے احتجاج کریں گے

کل ہم نے ماضی کے حیات بلوچ کے شہدا بھائیوں کے لیے احتجاج کیا
اور کل مستقبل میں حیات کے شہدا بھائیوں کے لیے احتجاج کریں گے
اور پھر گھروں کو لوٹ جائیں گے
ہم جانتے ہیں!
ہاں ہم جانتے ہیں
اس بھونکتی بندوقوں کے نام کبھی خاموش نہ ہونگے۔

بھونکتی بندوقیں اس لیے نہیں ہوتے کہ ان کے نال ٹھنڈے پڑے جائیں اور خاموش ہو جائیں
نہیں وہ بندوقیں بلوچستان میں اس لیے ہی نہیں کہ وہ بھونکتی رہیں اور نخلستان میں بیٹھے بلوچ بیٹے باباؤں کے سامنے قتل ہوتے رہیں۔
کیا یہ احتجاج یا کیا ایسے احتجاج ان بھونکتی بندوقوں کے گرم نالوں کو ٹھنڈا اور خاموش کر سکتے ہیں؟
کیا یہ احتجاج یا ایسے احتجاج برمش جیسی معصوم بچیوں کو یتیم ہونے سے بچا سکتے ہیں؟
کیا یہ احتجاج یا ایسے احتجاج وردی والوں کے ناک میں نکیل ڈال سکتے ہیں؟
کیا یہ احتجاج یا ایسے احتجاج بندوقوں کے گرم نالوں کا اتنا ٹھنڈا کر سکتے ہیں کہ ان نالوں میں کوئل اپنا گھونسلہ بنا سکے؟

کیا یہ احتجاج یا ایسے احتجاج پھر کسی بھی والد کو ایسے سکتے میں مبتلا نہ کریں گے کہ وہ وردی والوں کے پیر پکڑتا رہے اور مست وردی اپنے منھ سے گالیاں اور بندوق سے گولیاں برساتی رہے؟
کیا یہ احتجاج یا ایسے احتجاج ان ماؤں کے زخمی دلوں کی رفو گیری کر سکتے ہیں جن کے دلوں کے سیکڑوں تکڑے ہوئے ہیں اور کوئی کہاں گرا ہے اور کوئی کہاں؟

کیا یہ احتجاج یا ایسے احتجاج ان ماؤں کی سسکیوں کو خاموش کرا سکتے ہیں جو اپنے بیٹے کی چھتڑا کی لاش سرہانے رکھے بہت روئی تھی
کیا یہ احتجاج یا ایسے احتجاج اس بابا کے اعتماد کو بحال کر سکتے ہیں جس کو اب تک یقین نہیں آیا کہ اس کا بیٹا اس کی آنکھوں کے سامنے قتل کیا جا چکا ہے؟

کیا یہ احتجاج یا ایسے احتجاج اس قبر سے اس بچے کو لے آئیں گے جو بہت پڑھنا چاہتا تھا جو اب ماضی کا مزار بن گیا۔

کیا یہ احتجاج یا ایسے احتجاج اس بابا کو یقین دلا سکتے ہیں کہ وہ جو پرانے قبرستان میں نئی قبر کا اضافہ ہے اس میں حیات بلوچ کو دفن کیا گیا ہے؟اس بابا کو تو اب بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ آئے گا اس سے اجازت چاہے گا اور اپنا بیگ لیے کراچی چلا جائے گا اور کراچی پہنچ کر اپنے مخصوص لہجے میں کہے گا
”بابا میں کراچی پہنچ چکا ہوں!“
اب وہ کہاں پہنچا ہے؟
اور اس کا گھر کہاں پہنچا ہے؟
اس کی اماں کہاں پہنچی ہے؟
اور اس کی بہنیں کہاں پہنچی ہیں؟
اس کا منتظر بابا کہاں پہنچا ہے؟
ہم سب جانتے ہیں پر ہم گاندھی جی کے اندھے، بہرے، گونگے بندر ہیں.

پم سب جانتے ہوئے بھی کچھ نہیں جانتے
ہم نہیں جانتے کہ جب حیات اپنے بابا کے ساتھ نخلستان میں موجود تھا تو ان کے درمیان کیا گفتگو ہو رہی تھی پر ہمیں اتنا تو علم ہونا چاہیے کہ وہاں کوئی علمی فلسفیانہ گفتگو نہیں ہو رہی ہوگی کیوں کہ حیات کا بابا کو دانشور نہیں تھا وہ تو بس اس کا بابا تھا اور نہ ہی ان کے درمیان ایسی گفتگو ہو رہی تھی جیسے گفتگو ایک عالم اور کا زانت زاکس کے درمیان ہو رہی تھی جس میں خدا کی موجودگی پر بحث تھی
بہت سی بحث کے بعد بھی وہ عالم کازانت کے سامنے خدا کی ہستی کو پیش نہ کر سکا
جب کہ کازانت نے بس بادام کے درخت کو اتنا کہا کہ
”خدا کہاں ہے؟“
تو بادام کے درخت میں پھول کھلِ آئے!
پر جب تربت کے نخلستان میں کتابیں باتیں چھڑی ہوں گی اور بہت سی بحث کے بعد بھی بابا اور بیٹے کو محبت پر کچھ نہیں ملا ہوگا تو وہاں بھونکتی بندوقوں سے گولیاں کیوں نکلیں؟!!

اور وہ تمام کی تمام گولیاں حیات کے جسم سے ہو تے ہوئے بابا کو چھلنی کرتے ہوئے بہنوں کو قتل کرتے ہوئے اس ماں کی سینے میں پیوست ہوگئیں جو تمہارے اس احتجاج سے واقف نہیں
اگر تم اس ماں کے لیے کچھ کر سکتے ہو تو
اس کا بیٹا اس لا دو
اگر اس ماں کے لیے کچھ کر سکتے ہو اس کے سینے سے وہ تمام گولیاں نکالو
اگر اس ماں کے لیے کچھ کر سکتے ہو تو اس کے زخمی دل کی رفو گیری کرو
اگر اس ماں کے لیے کچھ کر سکتے ہو تو اس کی نیند واپس لادو
اگر کچھ کر سکتے ہو تو اس بابا کا وہ بیٹا اسے لادو جو اسے یقین دلاتا تھا کہ جب وہ پڑھ لکھ کر افسر بن جائے گا تو وہ اسے بہت سا سکھ دے گا
اس بوڑھے بابا کا دکھ دور کر سکتے ہو؟
کیا تم وردی والوں سے یہ پوچھ سکتے ہو کہ مائیں کیسے بچے جوان کرتی ہیں؟
اگر تم کچھ نہیں کرسکتے
تو پھر یہ احتجاج کیوں؟
یہ ڈرامہ کیوں؟
وہ بھی اس شہر میں جس شہر میں کسی کو کچھ خبر نہیں کہ
حیات کون تھا؟
حیات کو بے حیات کس نے کیا؟
پر تم اس ہونے والے احتجاج میں یہ تو کر سکتے ہو نہ کہ ایک ایسا بینر بھی لکھواؤ
جس پر لکھا ہوا ہو کہ
”آؤ پھر احتجاج کریں، آؤ پھر گھروں کو لوٹیں!“
اور پھر بہت سی تصاویر بنائیں
انہیں سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر چپساں کریں.

SHOPPING

اور رات تک پریشان اور بے چین رہیں کہ کس نے دیکھا کس نے لائیک کیا اور کیا کمنٹس لکھا
ہاں تم کچھ نہیں کرسکتے
تم بس دی ہوئی لائین پر احتجاج کر سکتے ہو
تو پھر کرو
اور مرتے رہو!
تم تو حیات کی ماں کے آنسو بھی نہیں پونچھ سکتے!!!

SHOPPING

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *