کیا لکھیں؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

بنام بلوچ برادران۔۔۔

جو کھولیں لب تو اٹھتے ہیں
صدائیں دیں تو دبتے ہیں
زباں ہے بند، تڑپتے ہیں
سہمتے ہیں، سسکتے ہیں، بلکتے ہیں

tripako tours pakistan

الم کی داستاں بھی کیا لکھیں
جو لکھ ڈالیں تو گڑتے ہیں
پھر ان کی بندوقوں کے سائے میں
زندانوں میں سڑتے ہیں

سنو مقتول کی ماں سے
یہ بانکے کیسے پلتے ہیں
پلے جو سر تھے نازوں میں
لحد میں کیسے رکھتے ہیں

فراعینِ لمحہ، لمحہ بہ لمحہ
تلے قدموں مسلتے ہیں
جو لاٹھی ہوں بڑھاپے کی
وہ بازو کیسے کٹتے ہیں

ستم ان کا جو بڑھتا ہے
فلک سے اشک گرتے ہیں
حقیقت بے نیازی ہو سو ہو
خدا کیوں نہ لرزتے ہیں؟

لکھیں جو رنج تو کیا لکھیں؟
ہمارے پر بھی جلتے ہیں
کہ لکھنے والوں کے بچے
بنا باپوں کے پلتے ہیں

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کیا لکھیں؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *