پتھر کا نیا دور (6)۔۔وہاراامباکر

ہم جب آئینے میں دیکھتے ہیں تو ایک چیز پہچانتے ہیں، جسے اکثر جانور نہیں پہچان پاتے۔ اور یہ ہم خود ہیں۔ اسے دیکھ کر ہم کنگھی ٹھیک کرنے لگ جائیں یا شیو بنانے لگیں لیکن ہمارا اس پر ری ایکشن یہ بتاتا ہے کہ ہم خودآگاہی رکھتے ہیں۔ اور اس سے زیادہ اہم یہ کہ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ وقت کے ساتھ اس عکس پر جھریاں پڑنے لگیں گی، بالوں کا رنگ سفید ہونے لگے گا اور سب سے بڑا یہ کہ ایک وقت، یہ نہیں رہے گا۔ یہ اپنی موت سے آگاہی ہے۔

ہمارا ذہنی ہارڈوئیر دماغ ہے اور اس کی ڈویلپمنٹ اگرچہ ہمیں زندہ رکھنے کے لئے ہے اور اس کا یہی بڑا کام ہے لیکن ہم اس سے دوسرے کام بھی لے لیتے ہیں جو سوال کرنا اور عقل لڑانا ہے۔ اور یہ احساس کہ ہم فنا ہو جائیں گے، ہمارے لئے بہت مفید رہا ہے کیونکہ یہ وجودیت کے سوالوں کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ سوال خود سائنس کے نہیں لیکن سوالات کا یہی راستہ ہے جو “ایٹم کیا ہے؟” جیسے سوالات کی طرف لے کر جاتا ہے۔ “میں کون ہوں؟”، “کیا میں اپنی حالت بدل سکتا ہوں؟”۔ یہ وہ سوالات ہیں جو ہمارے حیوانی آغاز سے ہمیں بلند کرتے ہیں اور یہ ہمارے علم کے سفر کی بنیاد ہیں۔ یہ ہماری نوع کا ٹریڈ مارک ہے۔

اگرچہ کوگنیٹو انقلاب تو لگ بھگ چالیس ہزار سال پرانا ہے لیکن ہماری ذیلی نوع کا جدید رویہ تقریباً بارہ ہزار سال قبل کا ہے۔ سائنسدان اس سے پرانے لاکھوں برس کے دور کو پیلیولیتھک دور کہتے ہیں اور ان سے اگلے آٹھ ہزار سال کو نیولیتھک۔ پیلیو کا مطلب پرانا، نیو کا نیا اور لیتھوس کا پتھر۔ ان کو پتھر کا پرانا دور اور پتھر کا نیا دور کہا جا سکتا ہے۔ اس میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کو نیولیتھک ریوولیوشن کہا جا سکتا ہے لیکن ان کا تعلق پتھر کے اوزاروں سے نہیں تھا۔ یہ فکر کا انقلاب تھا۔ سوچ کے طریقے کا تھا۔ ہمارے اس دنیا میں اپنے وجود کے بارے میں اور اپنی جگہ کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کی وجہ سے تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیلیولیتھک انسان اکثر اپنا ٹھکانہ بدلتے رہتے تھے اور خوراک کی تلاش میں خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ کئی کمیونیٹیز میں خواتین پوے، انڈے اور بیج جمع کرتی تھیں۔ حضرات شکار کرتے تھے۔ موسم اور خوراک کی دستیابی کے حساب سے جگہ بدل لیتے تھے۔ ان کے پاس زیادہ سازوسامان نہیں تھا، زندگی فطرت کے رحم و کرم پر تھی۔ اس طرزِ زندگی کو سپورٹ کرنے کے لئے وافر زمین کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے یہ چھوٹے گروہ ہو سکتے ہیں۔ عام طور پر سو افراد سے کم۔ نیولیتھک انقلاب کی اصطلاح اس طرح کے طرزِ زندگی کی آبادیوں کی صورت میں رہنے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ چھوٹے گاوٗں جن میں لمبے عرصے رہا جا سکتا تھا۔

آبادی میں رہنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ماحول کو اپنے مطابق تبدیل کرتا ہے۔ صرف فطرت کے خزانوں پر انحصار نہیں رکھتا۔ اب انسان نے وہ میٹیرئل اکٹھا کرنا شروع کیا جو خود میں خام صورت میں کوئی وقعت نہیں رکھتا۔ مٹی سے اینٹیں۔ پتھر اور لکڑی سے گھر۔ قدرتی طور پر ملنے والے دھاتی تانبے سے اوزار۔ شاخوں کو جوڑ کر ٹوکریاں۔ السی اور دوسرے کے ریشے سے دھاگے اور ان سے کپڑے جو جانوروں کی کھال سے ہلکے ہوں اور صاف ہو جاتے ہیں۔ مٹی کو پکا کر برتن جن میں پکایا جا سکے اور اضافی خوراک کو ذخیرہ کیا جا سکے۔

مٹکا ایک ایسی ایجاد ہے جسے عام سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بہت ہی اہم انسانی ایجاد تھی۔ پانی کو جیبوں میں بھر کر نہیں لایا جا سکتا۔ اس ایجاد کے بعد ہی بستی بسانا ممکن ہے۔

کئی آرکیولوجسٹ موسم کی تبدیلی یا خوراک کے چیلنج کو آبادیوں کی وجہ قرار دیتے رہے لیکن شواہد اس قیاس کے حق میں نہیں۔ خوراک کی کمی یا بیماری ہڈیوں اور دانتوں پر نشان چھوڑتی ہے۔ لیکن نیولیتھک انقلاب سے قبل کی ہڈیوں پر ایسا کچھ نہیں ملتا۔ اس سے پچھلے دور کے لوگ غذائی قلت کا شکار نہیں تھے۔ بلکہ ابتدائی کسانوں کے دانت زیادہ خراب تھے، ریڑھ کی ہڈی کے مسائل تھے۔ انیمیا اور وٹامن کی کمی تھی اور عمریں کم تھیں۔ زراعت کا یہ سفر بھی سست رفتار تھا یعنی کسی ماحولیاتی تباہی کی وجہ سے نہیں تھا۔ اور ابتدائی آبادیوں میں سدھائے گئے جانور اور پودے بھی نہیں تھے۔

قدیم انسان کی زندگی کو زندہ رہنے کی مشکل حالت کے طور پر تصور کی جاتا ہے لیکن ایسا نہیں۔ آج بھی آسٹریلیا، جنوبی امریکہ اور افریقہ میں اس طرزِ زندگی والے قبائل ہیں۔ چونکہ اس طرزِ زندگی میں متحرک رہنا ہوتا ہے، اس لئے یہ بھاری سامان نہیں رکھتے۔ اور اس وجہ سے اینتھروپولوجسٹ کو دیکھنے میں یہ اپنے معیار کے مطابق بدحال لگتے ہیں۔ لیکن انیسویں سے لے کر وسط بیسویں صدی کی تحقیق بتاتی ہے کہ اس طرزِ زندگی میں روزانہ کام دو سے چار گھنٹے ہی کرنا ہوتا تھا اور خوراک کا مسئلہ نہیں ہوتا تھا۔ اس کے مقابلے میں قدیم زراعت کمرتوڑ مشقت تھی۔ قدیم خانہ بدوش طرزِ زندگی میں نقل مکانی کے وقت کئی بار بوڑھوں، کمزوروں اور معذوروں کو پیچھے چھوڑ دیا جاتا تھا لیکن صحت مند جوان مرد و خواتین کے لئے یہ رہنے کا مقابلتاً بہت آسان طریقہ تھا۔

تو پھر یہ کیوں؟ پرانی تھیوریاں ہمیں مکمل کہانی کا نہیں بتاتیں۔ یہ عملی وجوہات کی وجہ سے نہیں تھا۔ یہ ذہنی اور کلچرل انقلاب تھا۔ جس کا ایندھن انسانی روحانیت اور اخلاقیات میں تھا۔ اور اس نکتہ نظر کو جدید دور کی سب سے حیران کن دریافت سپورٹ کرتی ہے۔ یہ اس چیز کا ایویڈنس ہے کہ انسان کے نیچر کی طرف رویے میں تبدیلی کی وجہ آبادکاری کے “بعد” نہیں ہوئی بلکہ اس سے “پہلے” ہوئی ہے۔ اور ترکی میں ہونے والی یہ دریافت ایک توند والی پہاڑی ہے جس کا ترکی زبان میں ترجمہ گوبیلکی ٹیپے ہے۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *