• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • آ کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز(A Case of Exploding Mangoes )۔۔۔۔تبصرہ:طیبہ ژویک

آ کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز(A Case of Exploding Mangoes )۔۔۔۔تبصرہ:طیبہ ژویک

جو کوئی بھی شخص پاکستان کی تاریخ سے ذرا سی بھی دلچسپی رکھتا ہے۔اس کے لیے محمد حنیف کے انگریزی ناول ‘A Case of Exploding Mangoes ‘ شائع شدہ ، مئی 2008 ء پڑھ کر اس پر تبصرہ کیے بغیر رہنا ممکن نہیں۔۔
میں نے اپنی طالب علمی کے زمانے (2012) سے ہی پاکستانی تاریخ کی جب بھی کوئی کتاب پڑھی۔۔اس میں ضیاءالحق کے نام کے ساتھ اس کتاب کا ذکر ضرور آیا ۔۔اس لیے اشتیاق حد درجہ بڑھ چُکا تھا۔۔ پر جتنا اس کتاب کا ذکر تھا اتنی ہی یہ ناپید تھی ۔۔ ایک وجہ تو یہ تھی کہ اس کا انگریزی ایڈیشن امریکہ میں شائع ہوا تھا اور دوسری وجہ سوشل میڈیا بھی اس قدر متحرک نہ تھا کہ کتاب لمحوں میں پھیل جائے۔۔۔
عوامی حلقوں میں اس کا شور اگرچہ تب بلند  ہوا جب اس کے اردو ترجمہ 2019 میں “پھٹتے آموں کا کیس از سید کاشف رضا” شائع ہوتے ہی اس کی کاپیاں  ادارں کی جانب سے ضبط کرلی گئیں ،یا جب ضیاء الحق کے بیٹے نے اس کے مصنف کو ہتکِ عزت کے ہرجانے کا نوٹس بھیجا مگر مجھے یاد ہے یہ انگریزی زبان میں بھی اتنی آسانی سے میسر نہیں تھی۔۔ یہ ملک سے باہر چھپی اور باہر ہی نام کماتی رہی ۔۔۔ پاکستان میں اس کی چند سو کاپیاں ہی آئیں۔ وہ بھی صرف ایک پاکستانی مصنف کی ایوارڈ یافتہ کتاب کو اپنی لائبریری کی زینت بنانے کے علاوہ کسی کو دلچسپی نہ تھی۔اس کتاب کو عوام تک آنے کی ممانعت ہی رہی۔۔
خیر میرا شوق آج غیر متوقع طور پر اچانک پورا ہوا جب میں نے ایک دوست کے پاس کاپی دیکھ کر مانگی اور اس نے دے بھی دی ۔۔ میں پہلی فرصت میں اسے پڑھنے بیٹھ گئی اور اس وقت اسے مکمل کر کے ایک قاری کی حیثیت سے اس پر تبصرہ لکھ رہی ہوں۔۔ (اسے کسی ماہر مبصر کی آخری رائے نہ سمجھا جائے)

اس کتاب کو پڑھتے ہوئے فِکشن کا مزہ کم اور تلخ حقیقت، ناگواری، کراہت اور نفرت کے احساس نے جنم لیا ۔۔ میں اسے پڑھنے سے پہلے ہی جانتی تھی یہ فِکشن نہیں ہے۔
بلکہ اگر آپ مصنف کی حالاتِ زندگی، پیشہ، بیک گراؤنڈ اور کتاب چھپنے کے وقت پر نگاہ دوڑائیں تو آپ کے لیے بھی اصل اور فِکشن کو الگ کرنا کچھ مشکل نہیں رہے گا۔۔

یہ کتاب اگرچہ ضیاءالحق اور چند مخصوص افراد کے گرد گھومتی ہے۔۔۔ پر میں یہاں کہانی کے پلاٹ پر تبصرہ نہیں کروں گی۔ ۔ نہ ہی کرداروں پر۔۔ ۔۔
“بے بی او” یا علی شگری فِکشن ہو سکتے ہیں پر ان کے تعلقات ہر گِز فِکشن نہیں بلکہ یہ مرد و زن کے حد سے زیادہ بڑھتے ہوئے فاصلے کا نتیجہ تھے جسے اپنی دانست میں ضیاء الحق نے مردِ مومن کو گناہوں سے بچانے کے لیے کیا تھا اور اس تعلق میں اتنی خلیج ڈال  دی تھی کہ مرد و عورت دو الگ الگ دنیاؤں سے تعلق رکھنے والی مخلوق بن گئے تھے۔۔اس کے نتائج آج بھی ہمارے اردگر آسانی سے دیکھے جا سکتے ہیں ۔۔ جب حد سے زیادہ بڑھے ہوئے احساسِ گناہ یا پابندی کے زیرِ اثر نوجوان کسی غیر صنف کی طرف ہاتھ بڑھانے کی بجائے اپنی ہی صنف میں باآسانی راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔۔ یہ چلن اس قدر عام  ہے کہ مجھے شک ہے کہ شاید ہی کوئی شخص ہو جسے اس حقیقت کا علم نہ ہو۔۔
اسی طرح آپ کواس  فِکشن کے کھاتے میں ڈال سکتے ہیں پر اندھی زینب سے نظریں نہیں چُرا سکتے نہ ہی اُس نوے سالہ بڈھے قاضی سے جو ان لوگوں جیسا ہے جو عورت کو “ناری” سمجھتے ہوئے سارے گناہ اس کے کھاتے میں ڈالنے کا فن جانتے ہیں ۔۔
آپ جنرل بیگ کی جگہ جنرل ہمدانی، مرزائی یا جنرل مصطفئی بھی پڑھ سکتے ہیں ۔۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ۔۔ کیونکہ یہ حالات آپ کے وطنِ عزیز پر گزر چکے ہیں۔ ۔اور نام کے ردو بدل سے تاریخ کا وہ سیاہ دھبہ وہیں رہتا ہے مٹائے نہیں مِٹتا۔۔۔
آپ منظر نگاری کو فِکشن کہہ سکتے ہیں پر اُن حالات اور غیر مہذب نامانوس الفاظ کو نہیں جنہوں نے میرے ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور میرے دماغ سے “جنٹلمن استغفراللہ اور بسم اللہ” والے عام بہادر فوجی  قدرے اوجھل ہو گئے۔۔ اس کی جگہ بالکل ایک الگ ہی مخلوق نے لے لی۔۔ جو ان عام بلڈی سویلینز (جو خود کو کسی بڑے عہدے پر پا کر خدا بننے میں لمحہ دیر نہیں کرتے) سے بھی دو ہاتھ آگے بدتہذیب  تھے ۔۔ شروع میں میرے لیے یہ اندازہ کرنا مشکل تھا کہ یہ زہریلی زبان مصنف کی ہے یا پھر واقعی ہی ہمارے اعلیٰ اداروں میں ایسی زبان استعمال ہوتی ہے۔۔ پھر ترجمہ نے یہ خلش بھی پوری کر دی۔۔ جس عہدے دار نے جس مہارت سے جتنی غلیظ زبان کا استعمال کیا اُسے مصنف نے اتنی ہی مہارت سے صفحہ قرطاس پر منتقل کر دیا اور پھر ترجمہ نگار نے ترجمہ کا حق ادار کرتے ہوئے اتنی ہی مہارت سے عوام کے سامنے پیش کر دیا ۔۔۔
مجھے عاصمہ جہانگیر کی باتیں یاد آنے لگتی ہیں جس نے کہا تھا کہ “میں کبھی عام فوجی کے خلاف نہیں بولی، وہ تو معصوم ہیں، عام لوگوں کی طرح ڈیوٹی پر مامور، میں ان کے خلاف بولتی ہوں جو بڑے عہدوں پر براجمان ہیں، ان میں سے آدھے تو شاید جنگ کرنا بھی بھول چکے ہیں”
ایسا ہی تو ہے۔۔ مجھے بھی اپنے عام فوجی بھائیوں سے کبھی نفرت یا شکایت پیدا نہیں ہوئی، کبھی روڈ پر یا ان کے ٹرک جب ہمارے گیٹ کے سامنے سے گزر رہے ہوںتو میں ابھی بھی سیلوٹ کرنا نہیں بھولتی ہوں ۔لیکن ایسے افراد پر ہر لمحہ افسوس ہوتا ہے جنہوں  نے پاکستان کے نام کو داغدار کیا ۔

اس ناول کا ظاہری پلاٹ ہے “کیا ہوا” جو اب میرے لیے ایک تاریخی سیاہ دھبے سے زیادہ اہم نہیں رہا جسے ہم مٹا نہیں سکتے پر ، اس کے پسِ منظر کی کہانی “کیوں ہوا؟ کیسے ہوا؟ اصل کہانی ہے۔۔ جو ہمارے پیارے پاکستان کی المناک داستانوں میں سے ایک اور تاریخ کا ایسا سیاہ باب ہے جو اب بھی ختم ہونے میں ہی نہیں آرہا۔۔۔ غم، ذلت، دُکھ کونسا احساس ہے جو اس ناول کو پڑھتے ہوئے ذہن میں نہیں آتا ۔۔۔
اسے پڑھنے کے بعد ہی اس کا بین ہونا سمجھ میں آتا ہے۔یہ پھٹتے آموں کا کیس واقعی ہی خطرہ لیے ہوئے ہے کہ کہیں عوام میں پھٹ ہی  نہ پڑے۔۔۔

Avatar