دہلی سے آئی اک اجنبی چٹھی کا جواب۔۔۔رابعہ الرَبّاء

SHOPPING

“پیاری دشمن”
سچ ہی کہتے ہو “پیاری دشمن”، دشمن بہت پیارے ہو تے ہیں۔ اور ہم انہیں دشمن کہتے ہی اس لئے ہیں کہ ہم انہیں بھو لنا نہیں چاہتے۔
تو میرے پیارے دشمن میرا سلام قبول کرو۔۔۔

تم کہتے ہو آ ج چو دہ اگست ہے اور ہم جشن منا رہے ہیں،رات سے ہی جشن شروع ہو چکا تھا اور اب جب یہ چٹھی پڑ ھ رہی ہو ں تو شام ہو نے کو ہے۔ چند گھنٹوں کے بعد تمہارے ہا ں جشن شروع ہو جائے گا۔
دیکھو ایک رات کی بات ہے۔جشن ہی تھا اکھٹا بھی تو ہو سکتا تھا۔

آج صبح تو پو ں کی سلامی بھی ہوئی ہے۔ اور دیکھو سلامی،سلامتی کے گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ مگر بارود کی بْونے اس گھرانے کی پہچان بدل دی ہے۔تم سچ کہتے ہو ،جشن ہو گا۔ یہ وہ جشن کا دن ہے جس دن ہم نے اپنے دادا جی اور ابا جی کی آنکھو ں کو ہمیشہ نم دیکھا اور دنوں اس نمی کو اضطراب میں کبھی گھر کے کسی کونے میں تو،کبھی کسی بر آمدے میں اپنی انگلیو ں کی پو روں سے صاف کر تے تھے کہ کوئی دیکھ نہ لے لیکن وہ جو کہتے ہیں عشق اور مشق چھپائے نہیں چھپتے۔ اور دادی کو ہمیشہ یہ کہہ کر نم آلود آنکھو ں سے دیکھا ”بارہ بچوں میں بس یہ ایک ہی کالا پیدا ہوا اور اس کے نصیب بھی اس دیے کی کالی سیاہی جیسے نکلے۔جس کی روشنی میں اس کا جنم ہوا تھا،اور وہ اپنے سفیددوپٹے سے اپنی آنکھیں پونجھ لیتیں۔اور ان کے گا ل لال ہو جاتے۔

اگرچہ تقسیم سے قبل ہی اعلیٰ  سرکاری افسران جو ہجرت کر نا چاہتے تھے ان میں سے چند کے تبادلے ہو چکے تھے دادا کا بھی تبادلہ بہاول نگر میں ہو چکا تھا۔مگر تقسیم کا سرخ رنگ دونوں اور یکساں بکھرا تھا۔

خیرچھوڑئیے، وہا ں سے ہم سیدھا کرتارپورچلے گئے، رستے میں شاہی مسجد کے باہر اقبال کا مزار آتا ہے۔ امید کر تی ہو ں تم ان کو بھی دشمن جان کہہ کر بھولنے کی ناممکن کو شش کر تے ہو گے۔ مزار کے سامنے شاہی قلعہ بھی ہے۔ وہا ں سے نکل کر ہم نے اپنی وہی راہ لی۔ جہا ں سنا ہے محبت کی کوئی یاد گار بنی ہے۔ ہم نے سوچا ہوا تھا  کہ حالات وبا سے جان چھوٹتے ہی پہلی فرصت میں اس یاد گار کے رنگ دیکھ کے آئیں گے کہ وہا ں کن رنگو ں نے ان میں رنگ بھرا ہے۔ سنا تو ہے کہ سب رنگ مل کر بہت روئے ہیں۔

بات کہاں تھی نکل کہا ں گئی۔ خیر ہم وہا ں پہنچے تو ایک بہت بڑے حسین دروازے سے اندر داخل ہو تے ہی زمان و مکا ن نے ایسا رنگ بدلا کہ اجنبی تم کو کیا بتاؤ ں۔ سنہری اور سفید رنگ کا ہر سو راج ہے۔ہریالی نجانے کو ئی اتراتی پھرتی ہے۔ شاید خود  پر  نازاں ہے کہ میں کالی لکیر سے آزاد ہوں ۔ شاید ہم لکیرو ں کے فقیرو ں پہ ہنستی ہے۔

اے اجنبی اور پھر جوں جو ں میں آ گے بڑھتی گئی۔ نئی سوچیں نئے خیال مجھے گھیر رہے تھے۔ کہ اچانک میرے قدمو ں میں ایک لفا فہ ہو ا کے کسی جھونکے  کے ساتھ آ کر ٹھہرسا گیا۔ میں نے سوچا شاید دوسرے جھونکے سے کسی اور کے پاس چلا جائے گا مگر اسے نہیں جانا تھا نہیں گیا۔

میں نے اسے اٹھا لیا، یہ سوچ کر کہ شاید میرے لئے ہی آیا ہو۔ چونکہ زماں مکا ں بد لا تھا۔ سوچ بھی ہوا کی طرح ہو گئی تھی۔

میں نے اسے اپنے بٹوے میں ڈال لیا۔ کہ راستے میں دیکھتے کہ اس میں کیا راز چھپا بیٹھا ہے۔ آ ج یہا ں موسم بہت اچھا ہے کہیں بارش ہو ئی ہے اور ہوا کی خنکی چارو ں اور ناچتی پھر رہی ہے۔ جیسے مور جنگل میں رقص کر تا ہے۔ یہ وصل کا موسم ہو تا ہے۔

اے اجنبی، واپسی ہے اور ہم خانپور نہر کے ایک ڈھابے پہ ٹھہرے۔یہا ں کی مچھلی اور نان پکوڑے بہت مشہو ر ہیں۔ یہا ں بڑی بڑی لو ہے کی کڑاہیو ں کے نیچے لگا الاؤ بھی یہا ں کی خنکی کو متاثر نہیں کر سکتا۔نہر کنارے سادہ سی دیسی کرسیا ں اور میزیں ہیں اور ہم جب بھی جاتے ہیں نہر کے بالکل ساتھ والی کرسی پہ بیٹھتے ہیں اور پا نی سے دل کی باتیں کر لیتے ہیں۔نہر کا تو رومان مت پو چھو ہم جیسے حساس دل والوں کے لئے تو دشمن جان ہی ہے۔ ہم نہر کے جنگلے کے پاس کھڑے اس سے باتیں کر رہے تھے کہ پانی کی کسی لہر نے یاد کروایا کہ تمہارے پاس ایک چٹھی ہے۔ ہم نے جھٹ سے اپنے بٹوے سے چھٹی نکالی۔ اور پڑھنے لگے۔ارے یہ تو کسی لاہور کی پری وش کے نام ہے۔چٹھی سے دہلی کی وہ خوشبو آ رہی تھی کہ جو مجھے میرے دادا دادی سے آ تی تھی۔چار آرام باغ میرے پردادا کا گھر تھا۔ جو انہو ں نے اپنی آخری سر کاری پوسٹنگ کے بعد بنایا تھا۔ نہیں معلوم اب وہا ں کون رہتا ہو گا۔ وہ تو تقسیم کی خبر سے ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔

اے اجنبی، تم نے چھٹی میں جدائی کا کو نسا زنگ بھر دیا ہے۔لگتا ہے جیسے یہ چٹھی پچھلے کئی برسوں سے ہر سال کو ئی لکھتارہا ہے اور کالی لکیر کے اس پار نہیں آ رہی۔ یو ں لگتا ہے چار آرام باغ کی کسی شاہراہ پہ ہم متضاد سڑکوں پہ کسی جنم میں گزرے تھے۔ اور ایک دوجے کو دیکھ کر آ گے بڑ ھ گئے تھے اور اتنا آگے بڑ ھ گئے تھے کہ واپسی ممکن ہی نہیں رہی تھی۔
مجھے چارلس ڈکنر کا”ٹیلز آف دو سیٹیز،،نجانے کیو ں یاد آ گیا ہے۔۔

تم نے جن کا غذوں کی بات کی ہے، تم نے جن دستاویر پہ آنسو بہائے ہیں۔ یہا ں تاریخ ہمیشہ بے بس رہی ہیں۔ دنیا کی ہر ترقی اور ہر فلسفہ ان دستاویر کو نوک بندوق پہ ہار جاتا ہے۔ کہ دل سے دنیا کی خدائی نہیں چلتی۔ہمیشہ یہ کاغذ اور ان پہ کئے گئے چند دستخط نقشوں پہ لکیرو ں کو بڑھا دیتے ہیں۔مگر یاد رکھنا، نقشے میں جتنی لکیریں بڑھیں گی۔دلوں سے اتنی مٹتی جائیں گی۔ یہ دستور فطرت ہے۔
یہ جو شہہ رگ کے قریب ہو تا ہے نا ں یہ اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ یہ طاقت مانگنے لگتا ہے۔ اسی کو تو سجدے سے رام کر نا پڑتا ہے۔ مگر تاریخ یہا ں سادن سے بھادوں میں بد ل جاتی ہے۔

تم ظرف کی بات کر تے ہو ،مان لیتی ہو ں اجنبی۔ مگر میں نے جس طرح سے تاریخ کے گرد آلو داوراق کی ورق گردانی کی ہے۔ میں اس لفظ کے معنی اپنی لغت میں بدل چکی ہو ں۔اے اجنبی، ایک لغت حالات و واقعات کی بھی ہو تی ہے۔ ہم اس کے معنی نہ تو لکھتے ہیں، نہ ہی دوسرو ں تک پہنچاتے ہیں۔

دیکھو اجنبی، مجھے دِلی کے قطب مینار نے ہمیشہ اپنی اور کھنچے رکھا ہے۔ اور مجھے دشمن جان کے لفظ نے ہمیشہ سرگوشی کی ہے کہ محبت کی راہو ں کی کو ئی منزل نہیں ہو تی۔ مگر کیا کرو ں اجنبی میں اک خواب وصل تو بْن سکتی ہو ں۔ سو کب سے بُن رکھا ہے۔ مجھے بچپن سے چار آرام باغ کے بر آمدوں میں رکھی کر سیاں کہتی ہیں،کہا ں ہو؟۔ مگر مجھے انہیں یہ بتاتے ہو ئے اب حیا آ تی ہے کہ ۴۷ برس گزر چکے ہیں۔

اجنبی یو ں لگتا ہے جیسے یہ چٹھی میرے لئے ہی لکھی گئی تھی۔ اس لئے جواب دے رہی ہو ں

اے اجنبی مجھے یو ں بھی لگتا ہے جیسے میں کسی ایسی چٹھی کی منتظر تھی۔ مگر مجھے یہ پتا تھا مجھے اس مادہ پر ست دور اور مادہ پرست دنیا میں محبت کی چٹھی کو ن لکھے گا؟اس لئے اس دل کو میں نے کہا کہ محبت والی لغت کو بھی بدلنے کی کوشش کرو۔ کم از کم اسے کسی متروک لفظ کے ہی کھاتے میں ڈال دو۔ مگر دل ابھی تلک مانا نہیں۔ کہ یہ متروک کو بھی حصہ جان تصور کر تا ہے۔نادان جو ٹھہرا
اے اجنبی، اے دشمن جان۔۔

یہ چٹھی ہوا سے محبت کے قد مو ں میں آ کر ٹھہری تھی۔ جن نہروں میں یہ پیر رکھے محبت کے خیالو ں کے پھول اگاتی ہے، وہی آب پانی بن کر آسمانو ں کی اور جاتا ہے تو تو ہوا ؤ ں کے سنگ یہ بادل ہر اس جا برستے ہیں۔ جہا ں محبت پیاس بنی بیٹھی ہو تی ہے۔ کاغذوں اور ان پہ دستخط کر نے والو ں کے دل نہیں ہو تے مگر فطرت اک حساس اورکشادہ دل رکھتی ہے۔
بس ہمیں ہی علم نہیں ہو تا۔ کہ آنکھ اٹھا کر بادلو ں میں پری وش کے مکھ کا دیدار کر لیں۔ جو بالو ں کے سنگ کسی آوارہ روح کی مانند اڑے پھرتی ہے

اجنبی دیکھو ساون آخری سانسیں لے رہا ہے جس روز آسمان پہ قوس قراح مسکرائی سمجھ لینا پری وش ان بوندوں کے سنگ آ ئی تھی
جن زلفو ں کی تم نے بات کی ہے۔ان پہ مجھے جان نثارر اختر کا شعر یاد آ گیا۔
مہکی مہکی تیری زلفو ں کی گھٹا چھائی ہے
تو مجھے کو ن سی منزل پہ لے آ ئی ہے
زندگی دور بہت شورش آ لام سے ہے
آ ج کی رات منسوب تیرے نام سے ہے

اجنبی مجھے تمہارے نام کا  علم نہیں، نہ ہی پو چھو ں گی۔
مگر مجھے “محبت”کہتے ہیں۔

SHOPPING

پیاری دشمن (لاہور کی اس دوشیزا کے نام ایک خط)۔۔شعیب شاہد

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *