• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پنجاب کو کورے لٹھے کی طرح پھاڑ دیا گیا ہے۔۔اسد مفتی

پنجاب کو کورے لٹھے کی طرح پھاڑ دیا گیا ہے۔۔اسد مفتی

SHOPPING
SALE OFFER
SHOPPING

جون 1949کی بات ہے،بروکلین نیویارک میں پروفیسر ڈی شوئی مان نے ایشیا کی تازہ صورتِ حال پر لیکچر دیتے ہوئے کہا
ایشیا میں حال ہی میں پاکستان نامی ریاست وجود میں آئی ہے،یہ ریاست ایسے اندھے کنویں کی مانند ہے،جس کی کوئی مثال نہیں ملتی،اس کا وجود غیر محفوظ ہے،جس کو وقت ثابت کرے گا،یہ ریاست نصف صدی سے بھی کم عرصہ میں اپنے ہی لوگوں کی مشکلات میں گِھر جائے گی،کہ اس کے لوگوں نے غلامی کی زنجیروں میں جنم لیا ہے،اور وہ ایک آزاد ملک کی محبت کو محسوس نہیں کرسکتے،میرے الفاظ نوٹ کرلیجیے،میں ان کا اندرونی حال جانتا ہوں۔
پروفیسر ڈی شوئی مان کی پیش گوئی بھی مولانا ابو الکلام آزاد کی طرح اس وقت درست ثابت ہوئی،جب 16دسمبر 1971کو پاکستان دولخت ہوا،اور بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا،
یہ سانحہ غیر جمہوری طرزِ حکومت،غیر جمہوری طرزِ عمل اور غیر جمہوری دور میں رونما ہوا،اس مملکت خداداد نے عوام کے حقوق اور جمہوری امنگوں کا احترام کرنے سے پہلے دن ہی سے انحراف کیا گیا۔یہاں میں آپ کو اس ملک شاد باد کے ابتدائی دنوں کے ایک ہولناک واقعہ سے روشناس کروانا چاہتاہوں،قیام پاکستان کے فوری بعد جب مشرقی اور مغربی پاکستان کے مختلف سیاسی حلقوں اور سیاسی جلسوں میں قائداعظم محمد علی جناح کے لامحدود اختیارات پر دبے دبے لفظوں میں سرگوشیاں شروع ہوئیں،تو مسلم لیگ کے چیف آرگنائزر چوہدری خلیق الزمان نے محمد علی جناح کرہ ارضی کا سب سے عظیم راہنما قرار دیتے ہوئے ڈنکے کی چوٹ پر کہا تھا کہ ایک اسلامی ملک کے حاکم اعلیٰ کو لازماً آمریت اختیار کرنی چاہیے،خلفائے راشدین مجلس شوریٰ سے مشورہ ضرور کرتے تھے،لیکن اس مشورے کو مانتے یا مسترد کرنے کا اختیار ان کے پاس تھا،پاکستان کے حکمرانوں کے پاس بھی اس اختیار کا اپنا اسلامی اصول کے عین مطابق ہے،اسلامی طرزِ حکومت میں آخری فیصلے کا اختیار اسمبلیوں کو سونپنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے،چوہدری خلیق الزمان کا یہ مشورہ ان کے قد کے برابر تھا،جبکہ میرے حساب سے جناح نے کبھی اس بات کا تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ مارچ 1940کی قرار داد لاہور میں جن ریاستوں کا مطالبہ کیا گیا تھا وہ ہندوستان سے الگ کیے جانے کے بعد جمہوریتہی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی،جسے انہوں نے پاکستان کی اساس اور نشانِ امتیاز قرار دیا تھا۔
برطانیہ کے ممتاز اخبار تائمز نے ہندوستان،پاکستان کی آزادی پر ایک نمایاں اداریہ سپردِ قلم کیا تھا، اس اداریہ کو ٹائمز نے مشترکہ تقدیر کا معنی خیز نام دیا۔14اگست 1947کو ملنے والی آزادی کا اخبار نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ہندوستان کی تقسیم ایک بھیانک غلطی تھی،پنجاب اور بنگال کو ٹکڑوں کی صورت میں بانٹ دینا اور تاریخی غلطی تھی،اس بھیانک غلطی کے نتیجے میں رونما ہوانے والے واقعات پر ٹائمز نے اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے،اخبار نے مملکت خداداد کے حوالے سے منفی واقعات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ بھارت کی تاریخ میں صرف ایک بار مسز اندرا گاندھی نے جمہوریت پر ایمرجنسی کے اوچھے ہتھیار کا استعمال کیا تھا۔اوچھے ہتھیار کے ذریعے حملہ کیا تھا،جبکہ پاکستان میں جمہوریت کی جڑیں ہی کھوکھلی ہیں،
یہ اخبار لکھتا ہے کہ بھارتی ایک ایک ایسی قوم ہے جو اس وقت بھی پوری انسانیت کا پانچواں حصہ تھے،جب پاکستان ایک نوتشیل مسلم قوم جس کا مطمع نظر اور سوچ ایک اسلامی دنیا میں نمایاں ریاست بننا تھا،ہندوستان کی تقسیم سوائے جناح کے کسی کے لیے کامیابی کی نوید نہ تھی،جن کی زندگی کا مقصد ایک اسلامی ریاست کا خواب تھا،جو ایک شاعر نے دیکھا تھا۔
اخبار لکھتا ہے کہ بھارت میں آج بھی 120ملین مسلمان ہیں جو پاکستان سے زیادہ ہیں،برصغیر کے ماضی کے 72برسوں کا جائزہ لیتے ہوئے بی بی سی نے جو تجزیہ پیش کیا تھا،اس میں لکھا گیا ہے کہ بھارت اور پاسکتان اپنے ماضی کا جائزہ لیں تو وہ دیکھیں گے کہ دونوں ملک ایٹمی طاقت بن چکے ہیں لیکن پاکستان اس عرصہ میں تنزلی کی طرف گیا ہے،گزشتہ 72سال میں پاکستان کی سیاسی سماجی،اقتصادی،اور معاشی ترقی کا گراف اوپر سے نیچے اور بھارت کا گراف نیچے سے اوپر گیا ہے،ایک وقت تھا کہ ہندوستان میں پنجاب خیبر سے راس کماری تک کو روٹی مہیا کرتا تھا،آج وزیر اعظم پاکستان عمران آدھے پنجاب کو بھی روٹی مہیا نہیں کرسکے،اب سے تیس برس پہلے تک پاکستان کا عام آدمی کہتا تھا کہ خدا شکر ہے کہ ہم بھارت کی طرح بھوکے ننگے نیہں ہیں،لیکن آج پاکستان کا ہر شہری برملا کہتا ہے کہ ہم ہر لحاظ سے خصوصاً جمہوری اور اقتصادی لحاظ سے بھارت کی طرح کیوں نہیں ہیں؟یا کیوں نہیں ہوسکتے؟
سلور جوبلی،گولڈن جوبلی،پلاٹینم جوبلی،یا ڈائمنڈ جوبلی منا کر جہاں قوموں کو خوشی ہوتی ہے،وہاں پاکستان عوام کو مایوسی کیوں ہوئی ہے؟
سوال یہ ہے کہ کیوں مایوسی ہمارا نصیب ہے؟
مانا کہ پاکستان کی تخلیق مذہب کے نام پر ہوئی تھی،لیکن مذہب سے فوج یا مارشل لاء کا کیا تعلق ہے؟
مریے حساب سے بھارت اور پاکستان کی سیاست کا بنیادی اہم ترین اور جوہری فرق ہے۔فوج اور فوجی حکومتیں جو نہ تو خود ملک چلاتی ہیں،نہ چلانے دیتی ہیں۔باضابطہ مارشل لا بھگت چکے ہیں۔
1958سے آج ت جرنیل ہماری قومی زندگی کا مقابلہ بھارت،بھارتی سیاستدان یا بھارتیوں سے ہوہی نہیں سکتا۔بھارت میں جمہوریت،سیکولرازم،اور رواداری کے تسلسل نے بھارت کے اندر یہ استعداد اور انرجی پیدا کردی ہے،کہ اس نے سیاست،صحافت،اور ثقافت کے علاوہ فلم تھیٹر ڈرامہ اور ٹی وی کو بھی قومی اتحاد اور مخالف بدی کا ذریعہ بنا لیا ہے،اس کے برعکس پاکستان مسلم معاشرہ جسے ایک معمولی ساٹیلی ویژن تباہ کرسکتا ہے،اس کے بارے میں کیسے اور کیونکر آپ خوش فہمی کا شکار ہوسکتے ہیں،سچ تو یہ ہے کہ ہم نے بڑے خلوص اور محنت سے اس ملک کو جہنم بنا یا ہے۔
آئیے آخر پر آکی آئی ایس آئی کے ناخدا سے ملاقات کرواتا ہوں جو چار دانگ کی خبر رکھتے ہیں،جنرل اسد درانی جو آج،کل زیرِ عتاب ہیں، کبھی آئی ایس آئی کے روح رواں،کرتا دھرتااور پل پل کی خبر رکھنے والے سربراہ تھے،انہوں نیایک انٹرویو میں بھارت کو پاکستان کے لیے کئی حوالوں سے نمونہ عمل یا رول ماڈل قرار دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بھارت ایک بڑا جمہوری ملک ہے،جو سیاسی اعتبار سے ہمارے ملک کے لیے ماڈل ہے،معیشت کے اعتبار سے ہمارے لیے نمونہ ہے البتہ ہم سیکولر ازم کے حوالے سے اسے نمونہ نہیں بنا سکے۔اس کا سبب بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھارت کی طرح سیاسی قیادت فراہم نہیں ہوسکی،تقسیم ملک سے اب تک باقاعدگی سے کسی خاکی نیلے پیلے کی مداخلت کے بغیر بھارت میں انتخابات ہوچکے ہیں۔ہورہے ہیں،اقتدار کسی کو بھی ملے اس سے فوج کو کوئی غرض نہیں ہوتی،انتقال اقتدار کے مراحل انتہائی خوش اسلوبی سے طے پاتے ہیں،اس لیے بھارت کو پوری دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت کا تصور پایا جاتاہے،ہمارے جرنیل قوم کی تقدیر کو فٹ بال بنا کر کھیل رہے ہیں،بھارت خوش قسمت ہے کہ 15اگست کے دن اس کے پاس مال دولت پلاٹس اور اقتدار کے حریص جرنیل نہیں ہوتے۔
ہمیں جرنیل اور بھارت کو جمہوریت مبار ک ہو
سیاست پر اگر لکھوں تو دنیا مانتی کب ہے
حدیثیں چھاپتا ہو ں توسکوں دل کو نہیں ملتا!

SHOPPING

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *