پیراڈائم شفٹ۔۔اسلم اعوان

کورونا وباءکی پراسرار لہر نے مشرق وسطہ میں جاری غیر محدود پراکسی جنگووں کی جس آگ کو عارضی طور پہ بجھا دیا تھا،بیروت میں امونیم نائٹریٹ دھماکوں نے اسی دم توڑتی کشمکش کو ازسر نو زندہ کرکے مڈل ایسٹ کے بحران کو زیادہ سنگین بنا دیا۔عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق بیروت کی بندرگاہ کے قریب واقع ویئرہاوس میں سات سال سے پڑا 2,750 ٹن کیمیکل،مولڈووا کے بحری جہاز ایم وی روسس میں لایا گیا،جو روس کی ملکیت تھا،جارجیہ سے روانہ ہونے والے اس جہاز کو موزمبیک جانا تھا لیکن فنی خرابی کی وجہ سے جہازکو بیروت کی بندگاہ پہ روک لیا گیا،بعدازاں چند قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے لبنانی گورنمنٹ نے اسے تحویل میں لے لیا،تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس حساس مواد میں وہ تباہ کن دھماکہ کیسے ہوا جس نے 154 افراد کی جان لینے کے علاوہ چھ ہزار سے زیادہ لوگوںکو زخمی اور تین لاکھ مکینوںکو بے گھر کر دیا۔ہرچند کہ بظاہر یہی لگتا ہے کہ تیل کی دولت سے مالامال اور تین براعظموں،یوروپ،ایشیا اورافریقہ کے درمیان رابطہ پل کا حیثیت رکھنے والے مڈل ایسٹ کو متحارب عالمی طاقتیں اُس وقت تک اِن غیر مختتم خانہ جنگیوں کے آشوب سے باہر نہیں نکلنے دیں گی،جب تک ساری عرب مملکتیں پوری طرح مضمحل نہیں ہو جاتیں۔لیکن اب چین اور ایران کے درمیان غیر معمولی اقتصادی معاہدات کے بعد مڈل ایسٹ میں امریکی اسٹریٹجک پالیسی کی ناکامی اس خطہ میں کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ مشرق وسطہ میں ایک خاص حکمت عملی کے نتیجہ میں ابھاری گئی مسلح مزاحمتی تحریکوں کے قلع قمع کے لئے بنائی گئی عالمی حکمت عملی اپنے پوشیدہ مقاصد کے حصول میں تو پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکی لیکن اسی جدلیات کے مضمرات امریکی لیڈرشپ کے طرز عمل میں گہری تبدیلیوں کا وسیلہ ضرور بن رہے ہیں،امریکی مقتدرہ سے شاید عرب سماج کی مزاحمتی طاقت کا درست اندازہ لگانے میں کوتاہی اوراستبدادی حکومتوں کے ذریعے مسلم معاشروں کو کنٹرول کرنے کوشش کے دوران کچھ غلطیاں سرزد ہوئیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز مشرق وسطہ میں امریکی افواج بھیجنے کے فیصلہ کو ملکی تاریخ کی واحد سب سے بڑی غلطی تسلیم کر لیا،ایگزیو نیوز ویب سائٹ کے لئے اسٹریلوی صحافی جوناتھن سوان کو دیئے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے جہاںکورونا وباءسے نمٹنے کےلئے بنائے گئے طریقہ کار کا دفاع کیا وہاں انہوں نے مڈل ایسٹ میں فوج بھیجنے کے فیصلہ کی مذمت بھی کر ڈالی۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اصرار کیاکہ انکی انتظامیہ کو اس ضمن میں کچھ کامیابیاں بھی ملی ہیں،ہم نے کھوج لگا کے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور داعش کے سربراہ ابوبکر بغدادی کو ہلاک کر دیا،حال ہی میں امریکی ملٹری اکیڈمی کی گریجویشن کلاس سے ملاقات میں بھی صدر ٹرمپ نے اپنے اسی عزم کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کبھی نہ ختم ہونے والی جنگوں کے عہد کا اختتام چاہتے ہیں کیونکہ دوردراز علاقوں میں قدیم تنازعات کو نمٹانا امریکی فوج کا کام نہیں ہے“۔قطع نظر اس بات کہ امریکی مقتدرہ مشرق وسطہ اور افغانستان سے فوجیں نکالنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں لیکن ان کی بدلتی ہوئی سوچیں اس امر کی غماضی کر رہی ہیں کہ جنگ اور تشدد کے رجحانات کی آبیاری کرنے والی استعماری ریاستیں اب تھک چکی ہیں اور تیسری دنیا کے وسائل پہ پلنے والی مغربی تہذیب کی روح افسردہ ہے۔امریکی لیڈرشپ کی ذہنی پسپائی کے اشارے عالمی لیڈروں کی گفتگو سے بھی ملتے ہیں،ابھی چند دن پہلے ہفتہ انسداد دہشتگردی منانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گٹیرس نے شکوہ کیا کہ کورونا وباءکے دوران،دہشتگردی کے چلینجز سے نمٹنے کے”عملی حل“ تلاش کرنے کےلئے کثیرالجہتی طاقت کو بروکار نہیں لایا گیا،انہوں نے یہ بھی کہا کہ،داعش،القاعدہ اور نئے نازیوں سمیت دیگر نفرت انگیز گروہ اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کی خاطر سماجی تقسیم اور مقامی تنازعات کو بڑھانے کے علاوہ حکمرانی کی ناکامیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں“یو این او کے سیکریٹری جنرل کے علاوہ امریکی دانشوروں کا ایک وسیع حلقہ بھی کورونا وباءکے دوران دہشتگردی کے مسلہ سے نمٹنے میں امریکی لیڈرشپ کے تساہل اور داعش کے خلاف بنائے گئے اتحاد میں شامل استبدادی حکومتوں کی من مانی توجیہات کو ہدف تنقید بنا رہا ہے،ان کے خیال میں کچھ معاملات ایسے بھی ہیں جو اگرچہ کم نظر آتے ہیں لیکن وہ زیادہ نقصان دہ ہیں،جن میںگلوبل مسائل کو نمٹانے میں امریکی لیڈرشپ کی عدم دلچسپی اوراصولی تلویث کا فقدان سب سے زیادہ اہم ہیں۔ان کے مطابق حالیہ برسوں میں امریکہ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی فنڈنگ روک کے دنیا بھر میں بنیادی حقوقِ انسانی کے تحفظ اور قیام امن کی کوششوں کو ضعف پہنچایا،امریکی مالی امداد کی بندش سے تحدید آبادی،فلسطینی مہاجرین کی بحالی اور گلوبل وارمنگ کے علاوہ ترقی کا پائیدار عمل شدید متاثر ہوا اور اس سے بھی بڑھ کر مڈل ایسٹ میںداعش کو کچلنے کی خاطر بنائے گئے اتحاد کی وجہ سے ایسا سیاسی خلاءپیدا ہوا جسے ان استبدادی قوتوں نے پُر کر لیا،جو اس کثیر الجہتی نظام کی مدد سے اپنے طرز عمل اور ترجیحات کی جائزیت چاہتی تھیں۔اقوام متحدہ کے اعلی ترین عہدیداروں اور مغربی دانشوروں کی تراشیدہ تنقید سے یہی تاثر ملتا ہے کہ امریکی اب یو این کی چھتری تلے جاری انسداد دہشتگردی مہم کی قیادت میںدلچسپی رکھتے ہیں نہ انسانی فلاح کے مصنوعی منصوبوں کی دسیسہ کاری کو جاری رکھنا چاہتے ہیں بلکہ ان کی پوری توجہ مڈل ایسٹ میں فوجی مداخلت کے مضمرات سے پیچھا چھڑانے کی تگ و دو پہ مرتکز ہو چکی ہے۔دریں اثناء ترکی میں خلافت کی بحالی کی وہ پُرجوش تحریک بھی نئی صلیبی جنگووں کو بھڑکانے کا محرک بن سکتی ہے جو نہایت تیزی کے ساتھ القاعدہ اور داعش جیسی عسکری تحریکوں کے بکھرے ہوئے وابستگان کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے، اگر ترکی کے حمایت یافتہ گروہوں نے لیبیا اور تیونس میں غلبہ حاصل کر لیا تو خلافت کا خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے گا،چنانچہ مڈل ایسٹ میں ابھرنے والی یہی پیچیدہ کشمکش تیزی کے ساتھ صورتیں بدل کے یوروپ کے دروازے پہ دستک دینے والی ہے،اس لئے یوروپ کی فضاوں پہ گہرا جمود طاری ہے،مغرب کی سیاسی اشرافیہ بھی امریکی پالیسیوں کے مہلک اثرات سے دامن بچانے اور اس پیراڈائم شفٹ کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے جو طاقت کے توازن کو مشرق کی جانب جھکاتی نظر آتی ہے۔یوروپی ممالک کی سرد مہری بھی امریکی مقتدرہ کی مبینہ دہشتگردی کے خلاف اجتماعی مساعی کی قیادت سے غیر اعلانیہ دستبراداری کی وجہ ہو سکتی ہے۔اسی تناظر میں ہم جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی تزویرات کا مشاہدہ کریں تو ہمیں سی پیک منصوبہ کی معاشی اور اسٹریٹیجک اہمیت کا اندازہ ہو سکتا ہے،بلاشبہ یہ میگا پراجیکٹ نہ صرف ہماری اقتصادی ضروریات کو پورا کرے گا بلکہ یہی عظیم منصوبہ پاکستان کے دفاع کی ضمانت بھی بن چکا ہے،ابھی حال ہی میں لداخ میں سی پیک روٹ سے کچھ فیصلہ پہ انڈین آرمی کی غیر معمولی نقل و حمل کے خلاف چینی فوج کا کوئیک ریسپانس عالمی سیاست کی اسی حرکیات اور مستقبل کی نئی صف بندی کا پتا دیتا ہے۔عالمی قوائد و ضوابط پہ قائم وہ مواصلاتی نظام،جسے دوسری جنگ عظم کے بعد تشکیل دیا گیا تھا کسی بھی مملکت کو بین الاقوامی زمینی و ہوائی روٹس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دیتا،سی پیک بھی مسلمہ بین الاقوامی تجارتی روٹ ہے،جس کے راستہ میں حائل ہونے والی ہر رکاوٹ کو عالمی قوانین کی خلاف وردی سمجھا جائے گا۔اسی لئے چینی کمانڈر نے انڈین آرمی کے جنرل پہ واضح کر دیا کہ سی پیک کی راہ میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گے،حتی کہ اگر بلوچستان میں شرپسندوں نے بھی سی پیک کی راہ روکنے کی کوشش کی تو چین کاروائی کرے گا۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *