جشنِ آزادی عہد کی پاسداری۔۔فاطمہ بنتِ انتظام

اللہ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت اپنا گھر بھی ہے اس کی قدر وہی لوگ جانتے ہیں جن کے سر پر چھت میسر نہیں اسی طریقہ سے ملک بھی ہمارے گھر کی ہی مانند ہوتا ہے جہاں پر ہمیں عزت،جان ومال کی حفاظت کے حقوق حاصل ہوتے ہیں یوم آزادی کا دن درحقیقت ہمارے عہدوپیمان کی یاددہانی کادن ہے کہ ہم نے یہ ملک اللہ سے عہد کر کے لیا تھا کہ یا اللہ ہمیں ایک آزاد مملکت عطا فرما جس میں ہم تیرے دین کے مطابق زندگی بسر کرسکیں جس میں ہم تیرے بندے بن کر رہ سکیں، مگر افسوس کہ ہم یہ عہد بھول گئے انسان کی سرشت میں ہی بھول جانا ہے( جس طرح ہم عہد الست کر کے بھول چکے ہیں) عہد کو پورا نہ کرنا بھاری خمیازے کا سبب بن سکتا ہے جس طرح اللہ تعالی نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا اور اس کے بدلے انھیں ایک زمین عطا کی تھی مگرانھوں نے اللہ کی نافرمانی کی جس کی پاداش میں اللہ سبحان وتعالی نے چالیس سال تک صحرائےسینہ میں بھٹکائے رکھا اسی طرح ہم نے بھی اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ تو ہم کو آزاد خطہ نصیب فرما تو ہم اس میں تیرا حکم نافذ کرینگے، اللہ سبحان و تعالی نے اپنا عہد مکمل کیا اور کس قدر خوبصورت اور ہر لحاظ سے بہترین خطہ دیا جن لوگوں نے اسے قربانیاں دے کر حاصل کیا وہ اس کی قدروقیمت جانتے ہیں یا وہ طبقہ جنہوں نے انھیں قربانیاں دیتے دیکھا اس کے بعد سے اس جنریشن کاوہ دور شروع ہوتا ہے جسکو آزادی پلیٹ میں سجی ہوئی ملی تبھی انھیں جشن آزادی کی سیلیبریشن محض  ناچ گانے میں ہی نظر آتی ہے آج کل امت مسلمہ کے حالات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے پاس کس قدر بڑی نعمت موجود ہے اور آزادی کا احساس ہوتا ہے ۔ہمیں چاہیے کہ اس آزادی کی قدر کریں اور اللہ سے کیے گئے عہد کو پورا کریں ہم نے یہ ملک حاصل کیا تھا کہ ہم اس جگہ(برصغیر) اپنے معاملات دین کے مطابق نہیں کرسکتے تھے اگر ہم تاریخ کابغور مطالعہ کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ بزرگوں نے کس قدر قربانیاں دے کر یہ وطن حاصل کیا، اپنی جائیدادیں اورسںب کچھ چھوڑ کر صرف اس لیے آئے کہ ان کی آنے والی نسل باآسانی دین پر عمل کر سکےاس ہجرت کو یاد کریں جب کوئی پاپیادہ تو کوئی سوار عجیب کسمپرسی کی حالت میں صرف یہ سوچ کر ہجرت کرتا کہ چلو اب آزادی کا سورج طلوع ہوگا جس میں ہم اللہ کو حاکم اعلی مان کر اس کےحکموں کے مطابق عمل کرینگے مگر اس ملک میں شراب اور جوئے کے اڈے چلتے ہیں مللک کا سارا نظام سود پر چلتاہے اللہ اور رسولﷺ کے نام پر لیے جانے والے ملک میں اللہ اور رسولﷺ سے جنگ والے کام کیے جاتے ہیں مخلوط محافل کاآزادانہ اہتمام کیا جاتا ہے یہ تمام کام عہد کی خلاف ورزی نہیں تواورکیاہے ؟اس بار یوم آزادی اس طرح سے سیلیبریٹ کریں کہ ہم اللہ سے کیے گئے عہد کو پورا کریں گے اور اب تک جو نافرمانیاں ہم سے سرزد ہوئیں،اس پر اللہ سے معافی مانگیں، اور اس آزادی کی نعمت کا ادراک کرتے ہوئے اللہ سبحان وتعالی کے سامنے شکرانے کے نفل ادا کریں کہ اللہ نے آزادی کی نعمت سے سرفراز کیا ہے.

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *