• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ڈاکٹر رُتھ فاؤ کی تیسری برسی کے موقع پر خراج تحسین منجانب شاہد محمود

ڈاکٹر رُتھ فاؤ کی تیسری برسی کے موقع پر خراج تحسین منجانب شاہد محمود

پاکستان میں جذام کے مرض کے خاتمے کے لئے اپنی زندگی وقف کرنے والی انسانیت کی عظیم بیٹی ڈاکٹر رُتھ فاؤ کی آج تیسری برسی ہے- ڈاکٹر رتھ فاؤ نے اپنی زندگی پاکستان میں کوڑھ کے مریضوں کی خدمت، علاج معالجے اور عوامی شعور بیدار کرنے کے لئے وقف کر دی۔ ان کی انتھک محنتوں کا ثمر ہے کہ پاکستان کا شمار جسمانی کوڑھ کے مرض پر قابو پانے والا اولین ملکوں میں ہوتا ہے۔ (ایک ذہنی کوڑھ بھی ہوتا ہے جس کے شکار عام طور پر حکمران و بیوروکریٹ ہوتے ہیں۔ اس کا علاج قبر کی مٹی بھی نہیں کر پاتی)۔

پاکستان سے جذام یا کوڑھ کے مرض کو ختم کرنے کے لئے بے مثال خدمات انجام دینے والی ڈاکٹر رُتھ فاؤ 9 ستمبر 1929ء کو جرمنی کے شہر لیپ زگ میں پیدا ہوئیں۔ آپ نے سن 1958ء میں پاکستان میں کوڑھ (جذام) کے مریضوں کے بارے میں ایک ڈاکومنٹری دیکھی۔ کوڑھ ایک اچھوت مرض ہے جو ایک سے دوسرے انسان کو لگ جاتا ہے۔ اس مرض میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے۔ جسم میں پیپ پڑ جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہے۔ اس مرض میں مبتلا مریض کو کوڑھی کہا جاتا۔ کوڑھی کے جسم سے شدید بو بھی آتی ہے۔ کوڑھی اپنے اعضاء کو بچانے کے لئے اپنے ہاتھوں، ٹانگوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں۔

 

۔ ملک کے قریباً تمام شہروں میں کوڑھی احاطے تھے۔ پاکستان میں کوڑھ کو ناقابل علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ کوڑھ یا جذام کے شکار مریضوں کے پاس دو آپشن ہوتے تھے۔ یا تو یہ سسک سسک کر مر جائیں یا خود کشی کر لیں۔ 1960ء کے دوران ڈاکٹر رُتھ فاؤ جرمنی سے پاکستان آئیں۔ یہاں آکر انہوں نے جذام کے مریضوں کی حالت زار دیکھی تو واپس نہ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے کراچی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ کے نزدیک کوڑھیوں کی بستی میں ہی اپنا چھوٹا سے فری کلینک بنا لیا جو ایک جھونپڑی میں قائم کیا گیا تھا۔ “میری ایڈیلیڈ لیپرسی سنٹر” کے نام سے قائم ہونے والا یہ شفاخانہ جذام کے مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان کے لواحقین کی مدد بھی کرتا تھا۔ قارئین آپ ذرا یہاں رکیے۔ آپ نے خوفناک مرض کوڑھ کی ہولناکی کی بابت اس تحریر میں پڑھا ۔۔۔ شاید فلموں میں دیکھا بھی ہو یا کتابوں میں ہڑھا ہو ۔۔۔ جن احباب نے بابا محمد یحییٰ خان کی کتب پڑھی ہیں تو انہوں نے بھی اپنی ایک کتاب میں کوڑھیوں کا تذکرہ کیا ہے، کسی ترقی یافتہ ملک کی سیاحت کے دوران کسی متروک لائٹ ہاؤس کے نیچے سمندر کنارے پڑے کوڑھیوں اور ان کی حالت زار اور پھر علاج کا تذکرہ ۔۔۔۔۔

خیر اندازہ لگائیں اور چشمِ تصور سے دیکھیں کے ایک نوجوان ڈاکٹر لڑکی سات سمندر پار سے آ کر عین ہمارے اپنے دھتکار ہوئے کوڑھیوں کی جھونپڑیوں میں آ کر ایک جھونپڑی میں ہی اپنا کلینک قائم کر لیتی ہے ۔۔۔۔ چشم تصور سے دیکھیں اور سوچیں اس بات کو ۔۔۔ شاید کچھ محسوس کر پائیں ۔۔۔۔ شاید ۔۔۔ رفتہ رفتہ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے 1963ء میں ایک بڑا کلینک بنایا گیا جہاں کراچی ہی نہیں، پورے پاکستان بلکہ افغانستان سے آنے والے کوڑھیوں کا علاج و دیکھ بھال ہوتی اور کراچی کے دوسرے علاقوں میں بھی چھوٹے چھوٹے کلینک قائم کیے گئے اور ان کے لیے عملے کو تربیت بھی ڈاکٹر رُتھ فاؤ نے دی۔ جذام کے مرض پر قابو پانے کے لیے ڈاکٹر رُتھ فاؤ نے پاکستان کے دور افتادہ علاقوں کے دورے بھی کیے اور وہاں بھی طبی عملے کو تربیت دی۔ پاکستان میں جذام کے مرض پر قابو پانے کے لیے انہوں نے پاکستان کے علاوہ جرمنی سے بھی بیش بہا عطیات جمع کیے اور کراچی کے علاوہ راولپنڈی میں بھی کئی ہسپتالوں میں لیپرسی ٹریٹمنٹ سنٹر قائم کیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نیشنل لیپرسی کنٹرول پروگرام ترتیب دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر رُتھ فاؤ، ان کی ساتھی سسٹر بیرنس اور ڈاکٹر آئی کے گل کی بے لوث کاوشوں کے باعث پاکستان سے اس موذی مرض کا خاتمہ ممکن ہوا اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے 1996ء میں پاکستان کو ایشیا کے ان اولین ممالک میں شامل کیا جہاں کوڑھ / جذام کے مرض پر کامیابی کے ساتھ قابو پایا گیا۔ ڈاکٹر رُتھ فاؤ نے اپنی زندگی پاکستان میں موجود کوڑھ کے مریضوں کے لئے وقف کر دی تھی۔ ڈاکٹر رُتھ فاؤ قدرت کی طرف سے پاکستان کے لئے ایک انعام تھیں۔ ڈاکٹر رُتھ فاؤ کی زندگی پاکستان اور پاکستانیوں کے لئے ان تھک جدوجہد، محنت اور محبت سے عبارت ہے۔ ڈاکٹر رُتھ فاؤ طویل علالت کے بعد 10 اگست 2017 کو انتقال کر گئی تھیں۔

حکومت پاکستان نے ڈاکٹر رُتھ فاؤ کی خدمات کے اعتراف میں ان کی آخری رسومات و تدفین کا انتطام سربراہ ریاست کے پروٹوکول کے طور پر کیا۔ انہیں سول و فوجی حکام نے سلامی دی۔ انہیں پاکستان کے اعلیٰ اعزازات سے نوازا گیا جب کہ درحقیقت وہ خود پاکستان کے لئے اعزاز تھیں۔ ان کی یاد میں یادگاری ڈاک ٹکٹ اور اسٹیٹ بنک کی طرف سے یادگاری سکے coin کا اجراء بھی ہوا. اور ضرورت اس امر کی ہے کہ غریبوں، بے سہاروں، معاشرے کے دھتکارے ہوئے ہمارے لوگوں کی جیسے انہوں نے بے لوث و بے نظیر خدمت کی ہم بھی اس مشن کو جاری رکھیں۔
سب کے لئے سلامتیاں، ڈھیروں پیار اور محبت بھری پرخلوص دعائیں۔
دعا گو، طالب دعا شاہد محمود

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *