کامریڈ نذیر عباسی شہید کا راستہ ۔۔مشتاق علی شان

کراچی کے ماڑی پور انویسٹی گیشن سینٹر یعنی فوجی عقوبت خانے میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے نوجوان مرکزی رہنما کامریڈ نذیر عباسی شہید کے ماورائے عدالت قتل کو چالیس سال کاعرصہ گزر چکا ہے۔ فاشسٹ فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاءالحق پر پاکستان کو کمیونسٹوں کے لیے دوسرا انڈونیشیا بنانے اور خود وہاں کے خونخوار فوجی ڈکٹیٹر جنرل سوہارتو بننے کا خبط سوار تھا۔ سوہارتو،پنوشے اور ایوب خان سے لیکر ضیاءالحق ،پرویز مشروف جیسے کردار جب جب اور جہاں جہاں جمہوریت پر شبِ خون مارتے ہیں تو ان کی پشتبانی کے لیے امریکی سامراجیت موجود رہتی ہے ۔ یہی سامراجی آشیر باد تھا جس نے انھیں مزید بے رحم ،مزید جنونی بنایا اور لاکھوں انسان ان کے جبر کی جہنمی مشین کا ایندھن بنے ۔

ہمارے سماج میں تو اس کے اثرات آج بھی ضیا کی بھٹکتی آتما اور اس کے ” روحانی “ فرزندوں کی شکل میں بخوبی دکھائے دیتے ہیں ۔کامریڈ نذیر عباسی کا ماورائے عدالت قتل اور اس نوع کے دیگر واقعات دراصل تاریخ کا وہ تسلسل ہے جس کی بنا سات سمندر پار سے آئے نوآبادیاتی حاکموں نے ڈالی ۔بعد میں انگلشیہ سرکار کی جگہ امریکا بہادر نے لی ۔کل کے غلام بظاہر آزاد ہو گئے لیکن یہ دراصل جدید نوآبادیاتی نظام تھا اور ہے جس میں عالمی سامراج قوت واقتدار کا اصل مرکزہ انھیں کو بنا گئے جنھوں نے نوآبادیاتی ،سامراجی جنگوں میں اپنے حاکموں کے لیے دور دیسوں میں خدمات سر انجام دیں اور اپنے ہی ہم وطنوں کے خون سے بھی ہولیاں کھیلیں ،یوں اپنی غداریوں کے صلے میں تمغوں ، اعزازت ، انعام واکرام سے لے کر حقِ حکمرانی تک حاصل کیا ۔یہ کبھی جمہور اور جمہوریت کو اپنے بوٹوں تلے روندکر براہِ راست اقتدار کے سنگھاسن پر جلوہ افروز ہوتے ہیں تو کبھی اپنی کٹھ پتلیوں کو جمہوریت کے نام پر نچوانے ،پرانے مہروں کے پٹ جانے کے بعد نئے مہرے سامنے لانے اور پھر ان سے بھی جان چھڑانے اور پھرنیا تماشا سجانے بیٹھ جاتے ہیں ۔

ان کے نوآبادیاتی آقاؤں نے جس جبر اور وحشت کی بنیاد رکھی یہ اسے کہیں آگے لے گئے ۔ انگلشیہ سرکار نے کامریڈ بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو پھانسی دینے کے بعد ان کی لاشیں ورثاء کے حوالے نہیں کیں بلکہ لاپتہ کر دیں ( ان شہدا کی لاشیں راوی کنارے چپکے سے جلا کر راکھ بہا دی گئی تھی) سندھ کے عظیم مزاحمت کار کردار شہید صبغت اللہ شاہ پگاڑا المعروف سورھیہ بادشاہ کو پھانسی دینے کے بعد ان کی لاش بھی غائب کر دی گئی اور آج تک ہمیں نہیں بتایا گیا کہ اس شعلہء تابناک کی خاکستر کہاں دفن ہے ۔اس طرح کی ان گنت مثالیں موجود ہیں ۔فوجی ڈکٹیٹر ایوب خان بھی اپنے نوآبادیاتی حاکموں کی اس روش پر چلتا رہا اس کے عہدِ ستم میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے مرکزی رہنما کامریڈ حسن ناصر کو لاہور کے شاہی قلعے میں اذیتیں دے کر قتل کیا گیا۔ ان کی لاش بھی ٹھیک اسی طرح غائب کر دی گئی جیسا کہ برطانوی سامراجی کرتے تھے ۔یہی کچھ جنرل ضیاء نے کامریڈ نذیر عباسی کی لاش کے ساتھ بھی کرنے کی کوشش کی ،ایک ایسے انقلابی کو لاوارثوں کی طرح چپکے سے کراچی کے سخی حسن قبرستان میں دفن کیا گیا جس کے وارث ناصرف ملک بلکہ دنیا بھر کے محنت کش، ہاری اور مظلوم انسان تھے ۔نوآبادیاتی حاکم کہیں نا کہیں مقدمہ چلانے کا تکلف برتتے ہوئے ہمارے انقلابی ،مزاحمت کار دھرتی زادوں کو زینتِ دار بناتے ، ان کی لاشیں غائب کر دیتے تھے۔ لیکن بعد میں آنے والے ان کے وفادار آمروں نے آہستہ آہستہ مقدمات چلانے کا تکلف برخاست کرتے ہوئے براہِ راست ماوارئے عدالت قتل کا چلن اختیار کیا ،جو آج خیر سے اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ اب زندہ انسان ہی غائب کر دیے جاتے ہیں ۔ تشدد زدہ متورم لاشے اچھال پھینک دیے جاتے ہیں ۔ قومی وطبقاتی جبرکے خلاف ، رجعت پرستی کے خلاف ، جمہور اور جمہوریت کے لیے اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے بلند ہونے والی ہر آواز کو گلے میں ہی دبا دینے کے لیے جبر کے یہ حربے بلوچستان سے لے کر سندھ اور پختونخوا میں آئے روز آزمائے جاتے ہیں اور طویل عرصے سے سیاسی ،سماجی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل ،جبری گمشدگیوں اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔

کامریڈ نذیر عباسی کا قتل اس نوآبادیاتی نظام کا تسلسل تھا جس نے آج ہولناک صورتحال اختیار کر لی ہے۔ اس کا جرم یہ تھا کہ وہ اپنے عہد کی سب سے بڑی سچائی میں یقین رکھتا تھا ،وہ ایک واقعی کھرا مارکسسٹ ،لینن اسٹ تھا جس نے نا صرف مزدوروں، کسانوں ،کچلی ہوئی سماجی پرتوں کی نجات کی جدوجہد میں عملی حصہ لیا بلکہ اس کی پاداش میں اپنے آدرشوں پر قائم رہتے ہوئے جان کا نذرانہ بھی پیش کیا ۔کامریڈ نذیر عباسی کی شہادت کے محض ایک دہائی بعد وہ سرخ اتحادِ شوروی بھی بکھر گیا جو اس کا آئیڈیل تھا ،اس کے محبوب انقلابی اساتذہ اوررہنماؤں مارکس ، اینگلز ،لینن اور اسٹالین کے زمیں بوس مجسموں پر کھڑے ہو کر سوویت یونین اور مشرقی یورپ سے ایشیا ، افریقہ اور جنوبی امریکا تک میں اشتراکیت کی ”موت“ کے اعلانات کیے گئے ۔پارٹیوں کے نام بدلے، جھنڈے بدلے بڑے بڑے جغادری کمیونسٹ یا تو سوشلزم سے توبہ تائب ہو کر مشرف بہ سرمایہ داری ہوگئے یا عینیت پرستی کی اتہاہ گہرائیوں میں دھنستے چلے گئے ۔اس سلسلے میں کسی کو روشنی کی کرنیں سرمائے کے قحبہ خانوں سے پھوٹتی نظر آئیں تو کوئی بیچاری شاعری کو سجدے کراتے ہوئے کارل مارکس کی داڑھی اور کوٹ سے الجھنے لگا ۔کسی نے مارکسی فلسفے کی مرمت کا ” گراں بار “ اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھا لیا تو کوئی لٹھ لیکر کامریڈ جوزف اسٹالین پر چڑھ دوڑا ۔ترمیم پسندی اور انحرافات نے ایسے ایسے نادر روزگار نظریاتی عجوبوں کو جنم دیا جو بصدِ شوق یہ تو فرماتے کے سوشلزم ختم ہو گیا ہے لیکن ’بچا کیا ہے؟۔۔

اس سوال کے جواب پر کل اور آج بھی زبانوں کو لقوہ مارتا ہے کہ جس نظامِ زری کی کامیابی کے ڈھنڈورے پیٹے گئے اس کی تعفن پھیلاتی لاش میں زندگی کی رمق ڈالی جائے بھی تو کیسے؟ ۔

خیر تاریخ کا وہ دور بھی گزر گیا آج پھر دنیا بھر میں مارکسسٹ ،لینن اسٹ قوتیں بے شمار کامرانیوں اور عارضی ناکامیوں کو اپنے دامن میں سمیٹے اپنے تاریخی فریضے کی سمت پیش رفت کر رہی ہیں ۔لیکن آج کے نوجوان انقلابیوں کو یہ امر بخوبی یاد رکھنا چاہیے کہ ” شہید نذیر عباسی کا راستہ ہمارا راستہ “کا صرف نعرہ لگانا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے انقلابی کردار اور شخصیت جس کی اساس فکروعمل کی اکائی پر تھی ،کو اپنا کر ہی منزل پر ڈیرے ڈالے جا سکتے ہیں۔گزشتہ کچھ دہائیوں سے جہاں انقلابی تحریکوں میں کئی ایک بیماریاں در آئی ہیں ان میں سے ایک فکروعمل کا بُعد بھی ہے ۔اگر کسی نے مارکسزم،لینن ازم کو بخوبی پڑھا ہے ،اسے جذب کیا ہے لیکن وہ عملی جدوجہد میں شریک نہیں ہوتا یا تحریک میں رہتے ہوئے خود پر وہ ڈسپلن لاگو نہیں کرتا جسے کامریڈ اسٹالین فولادی ڈسپلن یعنی وہ شعوری ڈسپلن کہتے تھے جو سب سے پہلے ایک انقلابی خود پر لاگو کرتا ہے تو ایسا فرد نظریاتی طور پر مارکسسٹ ہو سکتا ہے لیکن وہ ایک کمیونسٹ انقلابی ہر گز نہیں ہے۔اگر انقلابی علم آپ کو عمل کے میدان میں متحرک نہیں کرتا ،آپ کو پارٹی اور محنت کشوں، ہاریوں ،مظلوم قوموں، کچلی سماجی پرتوں کے ساتھ نہیں جوڑتا تو یہ آزاد خیالی ہے مارکسزم ،لینن ازم نہیں۔

کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے ان دو شہید رہنماؤں کامریڈ حسن ناصر اور کامریڈ نذیر عباسی سمیت وہ سارے کامریڈز جنھیں ہم یاد کرتے ہیں ان کی عظمت اسی امر میں پنہاں تھی اور ہے ان کے صرف اذہان ہی انقلابی فکر وفلسفے سے منور نہیں تھے بلکہ وہ ایک انقلابی شانِ بے نیازی اور سادہ طرز زندگی کے ساتھ میدانِ عمل کے شہسوار تھے ۔کامریڈ حسن ناصر عرشی طبقے میں پیدا ہوئے لیکن انھوں نے مزدوروں کی جدوجہد ان کے ساتھ انھی کے رنگ میں ڈھل کر کی۔ کامریڈ نذیر عباسی تو خیر پیدا ہی محنت کش طبقے میں ہوئے تھے ،ان کی ساری زندگی انقلابی سادگی کے ساتھ انقلابی فکروعمل کا نمونہ تھی۔طالبعلمی کے زمانے میں ون یونٹ کے خلاف تحریک میں متحرک رہے ،سندھی زبان میں ووٹر لسٹ شائع کرانے کی تحریک کا آغاز کیا ،پارٹی میں شامل ہوئے تواس کی ذیلی تنظیم ”سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن“ کے ایک سرگرم کارکن کی حیثیت سے سامنے آئے یہاں تک کہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر مرکزی مجلس عاملہ کے سیکرٹری جنرل مقرر کیے گئے ۔ انھوں نے بیک وقت بہت سی ذمہ داریاں نبھائیں ، وہ ٹنڈوالہیار یونٹ کے سیکریٹری تھے اور سچل سرمست کالج کے طالبعلم بھی لیکن گزر بسر کی خاطر شام کے اوقات میں ایک چنگی ناکہ پر ملازمت بھی کرتے تھے۔

صرف یہی نہیں بلکہ انھوں نے شہر میں میونسپل کے محنت کشوں کو بھی منظم کیا اوران کی یونین کے ساتھ ملکر جدوجہد کرتے رہے، عورتوں کے فرنٹ پر متحرک رہے جب کہ سندھ یونیورسٹی ان کی سرگرمیوں کا مرکز رہی۔طالبعلموں میں طالبعموں جیسا ، مزدوروں میں مزدوروں جیسا ، ہاریوں میں ہاریوں جیسا رہنا یہ تھی وہ کمٹمنٹ اور سادگی جس میں تصنع کا نام ونشان تک نہیں تھا ، اس میں کہیں خود نمائی نہ تھی کہ اس کے پیچھے ان کا علم ،انقلابی تربیت اور کمٹمنٹ کار فرما تھی ۔آج حکمران طبقات کی جماعتوں نے سیاست کو جس طرح کا کھیل تماشا بنا دیا ہے اس میں ایسی انقلابی سادگی کو لوگ مذاق سمجھتے ہیں اور آپ کو ایسے ایسے ”برانڈڈ انقلابی “ نظر آئیں گے جنھیں عمل سے کوئی علاقہ نہیں اور وہ محض گپ بازی اور ہوائی قلعوں کو ہی انقلاب سمجھتے ہیں. مزدوروں، کسانوں کی جدوجہد سے کوسوں دور عالی شان کوٹھیوں میں “علمی فکری مباحث” اور مظلوم قوموں کی جاری شاندار جدوجہد پر “چپ شاہ” کا روزہ یا پھر ان کی مخالفت میں “نظریاتی لفاظی” پر مبنی عین قابض کے موافق نقطہ نظر ان کی پہچان ہے۔بلاشبہ آج کے انقلابی نوجوانوں کے لیے کامریڈ نذیر عباسی کے افکار، انکی شخصیت ،کردار اور طرزِ زندگی ہی ایک آئیڈیل ہے اور ہونا چاہیے۔

بہرحال شادی کے کچھ ہی عرصے بعد کامریڈ پارٹی کی ہدایت پر ” سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن“ کی جانب سے پٹ فیڈر بلوچستان کے ہاریوں کی تحریک میں کام کرنے چلے گئے جہاں ایک بھوک ہڑتال کے دوران ان کی شریک حیات کامریڈ حمیدہ گھانگرو گرفتار ہوئیں اور انہیں تین ماہ تک بلوچستان کی مچھ جیل میں پابندِ سلاسل رہنا پڑا ،اس دوران نذیر عباسی بھی گرفتار ہوئے اور کوئٹہ کے قلی کیمپ بھیج دئیے گئے۔ان کی گرفتاری کے خلاف ہائی کورٹ میں حبسِ بے جا کی درخواست داخل کی گئی اور ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا ۔چھ ماہ بعد فاشسٹ فوجی ٹولے کی جانب سے انھیں اس وارننگ کے ساتھ رہا کر دیا گیا کہ ”اگر آئندہ سیاسی سرگرمیوں میں گرفتار ہوئے تو جان سے جاؤگے“ ۔کامریڈ نذیر عباسی جن افکار کا پرچارک تھا اس میں گرفتاریاں اور جان سے گزر جانا کوئی نئی بات نہیں تھی سو اپنی رہائی کے بعد وہ زیر زمین چلے گئے اورایک سچے اور سیماب صفت انقلابی کی مانند اپنے فرائض بخوبی سر انجام دیتے رہے۔

30 جولائی 1980کو انھیں کراچی میں گرفتار کیا گیا وہ اس وقت ” مشتاق“کے فرضی نام سے روپوش تھے۔کراچی کے فوجی عقوبت خانے میں دس دن بے رحمانہ اور انسانیت سوز تشدد کے نتیجے میں 9اگست1980کو وہ عشاق کے قافلے میں اپنا نام لکھوا گئے ۔ یہ قتل اس وقت کے فوجی آمر ضیاءالحق اور گورنر جنرل ایس،ایم عباسی کی ایما پر آئی ایس آئی کے لیفٹیننٹ کرنل( بعد ازاں بریگیڈئیر) امتیاز احمد عرف بلا اور اسکے دیگر ساتھیوں نے کیا تھا ۔کامریڈ نذیر عباسی کی شہادت کے بعد ان کے انقلابی رفقاء اور شریک حیات کامریڈ حمیدہ گھانگرو نے انصاف کے حصول کے لیے انتھک جدوجہد کی لیکن جس سماج کی بنیاد ہی ناانصافی پر رکھی گئی ہو وہاں انصاف کا حصول کیا معنی رکھتی ہے؟. نذیر عباسی، حمید بلوچ، ایاز سموں، ادریس بیگ، عبدالرزاق جھرنا، ادریس طوطی طبقاتی، قومی اور جمہوری جدوجہد کے کتنے ہی روشن نام تھے جنھیں ضیاء آمریت کا عفریت نگل گیا۔

کامریڈحسن ناصر کو قتل کرنے والے شاہی قلعے کے فوجی اجرتی قتل بھی اپنی یاداشتوں میں اس قتل کا اعتراف کر چکے ہیں جبکہ نذیر عباسی کے قاتل بریگیڈئیر امتیاز بِلا بھی ٹیلی ویژن پر اس قتل کا برملا اعتراف کر چکا ہے مگر یہ کیس ری اوپن ہونا ابھی باقی ہے جو کہ ہمارا دیرینہ مطالبہ ہے ۔نذیر عباسی دار پر سرافراز رہا مگر یہ داستان ابھی ختم نہیں ہوئی اس کا آخری باب ہنوز باقی ہے۔مزدوروں، کسانوں اور مظلوم قوموں کی جہدِ آزادی اس داستان کا آخری باب رقم کرے گی اور وردی پوش غنڈوں کو، اس نو آبادیاتی نظام کے گل میخوں کوکہیں جائے پناہ نہیں ملے گی

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *