چلغوزہ

دو دہائی پہلے کا قصہ ہے جب ستمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی ہمارے ابا جان ہر دوسرے دن شہر جاتے اور دو تین بڑے بڑے شاپر خشک میوہ جات کے خریدکر گھر لے آتے جنہیں امی حضور الماری میں بند کر کے تالا لگا دیتیں۔ اس ڈر سے کہ کہیں ہم میں سے کوئی چھپ چھپا کر چٹ ہی نہ کر جائے کچھ۔۔سب بہن بھائی بے صبری سے شام کا انتظار کرتے عشا ء کی نماز کے بعد کھانا کھایا جاتا جس کے بعد سب بڑے کمرے میں جمع ہوتے اور امی حضور سب کو مونگ پھلی،انجیر،پستہ،خوبانی اور جناب ِ محترم بلکہ محترمہ چلغوزہ صاحبہ برابر برابر تقسیم کرکے دیتیں ،یہ ہر روز کا معمول ہوتا۔
چلغوزے ہمیشہ سے ہی باقی میوہ جات کی نسبت مہنگے رہے ہیں اور آج کے وقت میں تو اچھا کھاتا پیتا بندہ بھی چلغوزہ خریدنے سے پہلے ایک بار سوچتا ضرور ہوگا کہ پھاپے کُٹنی مہنگائی نے ہی جان جلائی ہوئی ہے اور ہم جیسوں کے لیئے تو ویسے ہی یہ دور کا ڈھول ثابت ہوا ہے جو بہت سہانا سنائی پڑتا ہے، لیکن اصل میں قریب کہیں بجے تو سر پھٹنے اور کان سائیں سائیں کرنے لگتے ہیں۔فیس بک پر ایک پوسٹ دیکھ کر خیال گزرا کہ شاید جناب کو عورت ہمیشہ مہنگی ہی پڑی ہوگی اس لیئے اسے دور حاضر کے سب سے مہنگے میوے “چلغوزہ” سے تشبیہ دے دی۔آج عورت کے پردے اور بے پردگی کی مثال چلغوزے سے دی گئی ہے کل اس کی جسمانی ساخت کی مثال مونگ پھلی سے دے دی جائے گی اور کوئی نازک سی قدرتی حسن سے مالا مال حسینہ کو دیکھ کر “پیس”اور”آئٹم”کہہ کر آوازے نہیں کسے جائیں گے بلکہ۔۔واہ کیا چلغوزہ ہے یا پھر کمال کی مونگ پھلی ہے یار ،کہا جا ئے گا اور گانا کچھ یوں ہوگا “لڑکی ہے یا چھڑی ہے،چلغوزے سی کھڑی ہے”۔اور رشتہ دیکھنے آئی ندیدی خاتون پورا سموسہ اپنے منہ میں ٹھونسٹتے ہوئے پتلی دبلی لڑکی کو دیکھ کر یوں گویا ہوگی، ماشا اللہ میرے بیٹے کو ایسی ہی مونگ پھلی پسند ہے۔
اور اسی وقت کسی دوسرے گھر میں مفتہ اڑاتی رشتے والی مائی لڑکے والوں کی ڈیمانڈ یوں بیان کر ے گی، لڑکے والے بالکل تیار ہیں انہیں ایسا ہی چلغوزہ چاہیے تھا۔ بس بہن تم ہا ں کرو اورلڑکی کے کالے رنگ کی وجہ سے انکارکچھ ایسے ہوگا، معاف کرنا باجی،لڑکے کی بہنوں کا کہنا ہے کہ تمھارا چلغوزہ کچھ زیادہ ہی جلا ہوا ہے سو ہماری طرف سے انکار ہی سمجھو ،اور شادیوں کے موقع پردلہن کے آنے پر جو اک کہرا م سا مچ جاتا ہے کہ دلہن آگئی،دلہن آگئی وہ کچھ یو ں ہوگا چلغوزہ آگیا،چلغوزہ آگیا یا پھر ارے بھئی جگہ بناؤہماری مونگ پھلی کا سسرال میں پہلا دن ہے۔
امید واثق ہے کہ اک دن ریوڑی بھی اس دوڑ میں شامل ہو جائے گی جب محبوب گوری چِٹی محبوبہ کی تعریف کرتے ہوئے کہے گا کیا ریوڑی جیسا منہ ہے تمھارا۔بھاڑے کے عاشقوں کی بھی موجیں لگ گئیں ہیں جو حقیقت میں کسی طرحدار دوشیزہ کے پاؤں کی مٹی بھی نہیں چھو پاتے اور خود ساختہ ہجر میں جل جل کر املوک جیسے ہوجاتے ہیں وہ بھی دل کے پھپھولے پھوڑنے کو سرِ شام ہی رضائیوں میں منہ دے کر کرینہ اور سنی لیون کو اپنے ٹوٹے پھوٹے پان کی پیک سے لتھڑے دانتوں سے چبا چبا کر کھا رہے ہو نگے (چلغوزے اور مونگ کی صورت)۔
اب حق تو یہ بنتا ہے کہ مردوں کو ڈوکے اور کول ڈوڈے سے تشبیہ دے دی جائے لیکن پھر بھی حق ادا نہ ہوگا کہ ہمارا خیال ہے یہ ڈوکے اور کول ڈوڈے سے زیادتی کے مترادف ہے اور وہ دن بھی دور نہیں جب ایک ماڈرن ماں بیٹی کو یوں سرزنش کرے گی “تمھیں کوئی اور نہیں ملا تھا کیا؟یہ کس سنگھاڑے کے چکر میں پڑ گئی ہو “خیر جناب بات نکلتی ہوئی کچھ زیادہ ہی دور چلی گئی ہے اگر کسی سنگھاڑے۔۔اوہ میرا مطلب ہے کسی بھائی کی دلآزاری ہوئی ہو تو میرا ذمہ اوس پوس۔۔کیوں کہ یہ تو پہلے سوچنا چاہیے تھا نا۔
ویسے کیوں کہ صاحب ِ پوسٹ نے اپنے الفاظ واپس لے لیئے ہیں اس لیئے ہماری اس تحریر کو بس ایک مزاحیہ خاکہ تصور کیا جائے اور کسی بھی منفی خیال پر سوچ کا پھاٹک کھول کر مزید سوالات کو جنم جنم کی میلی چارد نہ اوڑھائی جائے۔

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *