• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • عنوان : عبد الماجد دریا آبادی کی علمی خدمات اور تفسیر کی خصوصیات و امتیازات (قسط دوم)۔۔عروج ندیم

عنوان : عبد الماجد دریا آبادی کی علمی خدمات اور تفسیر کی خصوصیات و امتیازات (قسط دوم)۔۔عروج ندیم

خصوصیات و امتیازات :

تحریری خصوصیات :

عبد الماجد دریا آبادی کے اسلوب بیان خاص خوبی ایجاد و اضتصار ہے۔ مختصر مختصر جملوں کی سادگی ان کی تحریر کا سب سے نمایاں وصف ہے۔ وہ سیدھے سادے لفظوں میں اور بے تکلفانہ لہجے میں لکھتے تھے۔ ان کی عبارت چست اور متحرک ہوتی۔ وقت کی قدر کے خیال نے عبدالماجد دریابادی کی تحریروں میں بھی امتیاز حاصل کرلیا تھا۔ وہ تمہید میں وقت ضائع کئے بغیر جو بات بھی کہنا چاہتے تھے اسے شروع کر دیتے تھے۔ عبدالماجد دریا آبادی جس موضوع پر بھی لکھتے اپنی انفرادیت کو برقرار رکھتے ہوئے طرزتحریر بھی ویسا ہی اختیار کرتے جو موضوع سے مناسبت رکھتا ہو۔ مثال کے طور پر مذہبی تحریروں میں انداز عالمانہ ہوتا ہے، فلسفیانہ اور تحقیقی مضامین میں وہ ایک فلسفی اور محقق کی شان برقرار رکھتے ہیں۔ غرض یہ کہ ہر ماحول کو اسی کی حالت پر قائم رکھتے ہوئے مفہوم کو نہایت آسانی سے ذہن نشین کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں1؎_

عبدالماجد دریابادی نے علم و دانش کے سرمائے سے دل اور دماغ آباد کیا، غوروفکر کی عادت ڈالی، حکمت و ہدایت کی پرتوں اور سلوٹوں کا بھری نظر اور گہری نگاہ سے جائزہ لیا اور جس نتیجے تک پہنچے انہیں کاغذ پر محفوظ کر دیا۔ وہ پوری زندگی علم و تحقیق، فکر و نظر کے سمندر سے موتی چنتے رہے اور سادہ الفاظ میں اچھی ترتیب و ترکیب کے ساتھ صفحات پر جڑے اور دلوں پر نقش کرتے رہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ لفظوں کو چن چن کر چن رہے ہیں، نگینہ کی طرح جڑ رہے ہیں اور کاغذ پر ہی نہیں، دل میں لفظوں کا تاج محل کھڑا ہو رہا ہے2؂۔

ع                دریا کے کنارے تو ہے توہین محبت،

ہم تاج محل دل میں ہی تعمیر کریں گے۔

ان کی تحریر گورکھ دھندہ نہیں معلوم ہوتی۔ ہمیشہ سلجھے ہوئے خیالات اور نظریات کو آسان ترین طرز میں پیش فرمایا ہے۔ اس لیے ہر تحریر جادو اثر اور دل نشیں ہے۔  آپ بڑی سی بڑی بات کو تعجب انگیز نکتہ رسی اور اختصار کے ساتھ بیان فرمادیتے تھے۔ ہر بات کو نہایت روشن اور ظریفانہ نزاکت کے ساتھ اس طرح بیان فرمادیتے تھے کہ اکبر الہ آبادی کی یادتازہ ہوجاتی تھی۔ جو بات بھی کہتے ہیں سوچی سمجھی اور  غور کی ہوئی ہوتی تھی3؂۔ مولانا ماجد کی تحریر کا کمال تو یہی ہے کہ ان کے اسلوب میں اردو کا کوئی بھی صاحب اسلوب انشاءپرداز ان کا شریک، ہمسر، نذیر اور ممائل نہیں۔ فلسفہ اخلاق کی پیچیدہ تہوں سے لے کر قرآن مجید کے جان بخش اسرار و رموز کی گہرائیوں تک انہوں نے اپنے ذہن اور لشپ قلم کو دوڑایا ہے4؂۔

مرثیہ نگاری کی خصوصیات :

مولانا عبدالماجد دریاآبادی کے مرثیے مختلف خصوصیات کے حامل ہیں۔ ان کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان سے خود مولانا کی شخصیت پر روشنی پڑتی ہے۔ انہوں نے “ماں کے قدموں پر”  جو مرثیہ لکھا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی والدہ مرحوم  کس قدر پاکیزہ اور مقدس ہستی تھیں۔  ان کے بارے میں وہ لکھتے ہیں:

“نماز کی پابندی کا نہیں نماز کے ساتھ عشق کا یہ عالم تھا کہ اس دور میں اکابرین میں بھی بس چند ہی مثالیں ایسی ملیں گے۔ اشراق، چاشت، تہجد کا تو وہ اہتمام کے ہم جیسوں کو تو فرض کے لیے بھی شاید ہی نصیب ہو۔ یہ سن وسال اور تہجد کا یہ التزام کے کسی موقع میں بھی ناغہ نہ ہونے پائے۔ گرمیوں کی مختصر راتیں کہ فجر تک بھی نیند پوری ہونا مشکل۔ یہ ابھی لیٹی نہیں کہ ابھی تہجد کے لئے اٹھ بیٹھیں۔  چلے کے جاڑے پڑ رہے ہیں۔ صبح ہونے پر لحاف سے نکلنا سوار ہے اور یہ رات کے ایک بجے دو بجے اور تین بجے تہجد کے لئے وضو کر رہی ہیں”۔

اس بیان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مولانا موصوف کی والدہ ماجدہ کی قدر مذہب کی پابندی تھیں۔ اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ مولانا صاحب نے نہایت مقدس، پاکیزہ اور مذہبی ماحول میں پرورش پائی تھی، جس کا اثر ان پر تاحیات قائم رہا۔

ان مرثیوں سے مولانا عبدالماجد کی ایک اور خوبی پر روشنی پڑتی ہے۔ وہ ایک عالم و فاضل، مشہور و معروف اور مذہبی انسان ہوتے ہوئے بھی منکسر مزاج تھے۔ ان کی انکساری کا ثبوت یہ ہے کہ وہ افضل حسین قوال سے بھی ربط ضبط رکھتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں:

“قوال کا ذکر اور وہ بھی صدق کے صفحات میں” جی ہاں۔  صدق عالموں اور زاہدوں عابدوں کا پرچہ کب ہے۔ نامہ سیاہ صدق نویس خود ہی ایک عامی اور عاصی ہے۔  اپنے ہم جنسوں کا ذکر چن چن کر کرتا ہے۔”

مولانا ایک سنی مسلمان تھے مگر وہ نہایت منصف مزاج تھے۔ اگر ان کو شیعہ حضرات میں بھی خوبیاں نظر آتی تھی تو ان کا ذکر وہ نہایت فراخ دلی سے کرتے تھے5؂۔

نثری اسلوب اور طنز نگاری کی خصوصیات:

یہ امر مسلم ہے کہ مولانا عبدالماجد دریا بادی اپنے دور کے منفرد صاحب طرز انشا پرداز تھے۔ گزشتہ ٧۵ برس سے زائد مولانا عبدالماجد کی اِدھر اُدھر کتب و رسائل میں منتشر سچ اور صدق میں محفوظ نثر عالیہ کو ابھی تک یکجہ اور محفوظ نہیں کیا گیا ہے۔ مقالات ماجد، انشائے ماجد، نشریات ماجد اور متعدد دیگر تصانیف میں محض ان کا خطر پیش کیا گیا ہے۔ ورنہ ان کی بیشتر عالمانہ، ادیبانہ اور فلسفیانہ ادبی اور ہلکی ہلکی شوخ وشنگ تحریریں نہ ابھی تک انتخاب کی گئی ہیں اور نہ ہی یکجا۔ صدقِ جدید کے یہ نامور مدیر بےباک ترجمان مشرک تھے۔ اکبر الہ آبادی، مولانا شبلی نعمانی اور علامہ اقبال کی عظیم روایات کا تسلسل انہوں نے نہ صرف برابر قائم رکھا ہے بلکہ اس سے آگے بھی بڑھایا ہے۔ ان کے یہاں قوم و ملت کا بڑا گہرا درد تھا۔ جس نے ان کے قلم کو بی لاگ، نڈر اور باغی بنا دیا تھا۔ حریت فکر ان کے یہاں سرفروشی کی حد تک تھی۔ وہ ایک انتہائی جری اور بے باک ادیب و صحافی تھے۔ ان کے ایک ناقد نے لکھا ہے کہ ان کے طنز میں خشونت ہے۔  شاید کسی بھی طنز نگار کو اس سے زیادہ خراج تحسین پیش نہیں کیا جا سکتا۔ خشونت ہی دراکی و بےباکی کی وہ منزل ہے جو طنز نگار کو بہت مقبول بناتی ہے۔ خشونت کی نمو حریت فکر سے ہوتی ہے۔ جو ہمارے اردو ادب میں تقریباً نہ ہونے  کے برابر ہے6؂۔

صاحب صدق کا نثری اسلوب موضوع کے عین مطابق ہوتا تھا۔ اپنی مذہبی، دینی تحریروں اور تفسیر قرآن میں ان کا انداز عالمانہ وقیع اور پر شکوہ ہوتا تھا۔ لیکن سلاست کے ساتھ عالمانہ، فلسفیانہ اور تحقیقی مضامین ایک عالم، ایک فلسفی یا ایک محقق کی شان تصنیف وہ برقرار رکھتے تھے۔ اپنی ادبی و صحافتی تحریروں میں وہ سادگی و سلاست سے کام لیتے تھے۔ ان کے نپے تلے جچے چھوٹے چھوٹے حملے برحستبہ فقرے،  محاورے، اشعار اور مصرعے۔ تراکیب اور بولتے ہوئے رواں دواں الفاظ۔ پھر الفاظ بھی کیسے کہ جو الفاظ جہاں رکھ دیے ہٹائے نہیں ہٹ سکتے۔ انگستری میں نگینے کی طرح چمکتے ہیں۔ ان کی نثر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ عبارت نہایت چست اور متحرک ہوتی ہے۔ یہاں شوخی و تازگی ہے۔ تراوٹ وہ جدت ہے۔  ندرت و ایجاز ہے۔ طباعی ہے حکیمانہ اُپچ ہے۔ سرخی ایسی جمائی جاتی ہے کہ طبیعت پھڑک اٹھے۔ چٹکی ایسی ہوتی ہے کہ بے اختیار تڑپنے والے والے کی زبان سے واہ واہ سبحان اللہ نکل جائے۔ اظہار مدّعا میں ایسے بے باک اور منہ پھٹ کے دوسرا جو دل میں سوچتے ڈرے وہ ان کی خنجر قلم کی نوک پر دھری رہتی ہے۔ اس نثر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ نثر نگار کے پیچھے ہاتھ باندھ کر چلتی ہے۔ یہ جدھر اور جیسے چاہیں اسے موڑ دیتے ہیں۔ اس نثر میں شگفتگی و شادابی ہے۔ سادگی اور روانی ہیں۔ یہ نثر دل میں جاکر بیٹھ جاتی ہے یا اس کے دھماکے دل اور دماغ میں محسوس ہوتے ہیں۔ اس میں کسک، اثر اور دمھک ہے۔ یہ بالکل ان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اپنے پڑھنے والے کو جہاں چاہیں خوش یا اداس کر دیں یا سوچنے اور  سردھننے پر مجبور کردیں۔  اگر تحریر ادبی ہے تو لہجہ انتہائی شیریں۔ لیکن تحریر اگر صحافتی ہے تو اس میں لہجہ احتجاجی۔ بلند اور شوخ  ہوتا ہے7؎_

تفسیری خصوصیات :

عبدالماجد کو روایتی دینی اداروں کے بجائے جدید عصری اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کیننگ کالج لکھنؤ سے فلسفہ میں بی اے آنرز کی ڈگری حاصل کی جو اس وقت بہت بڑی علمی معراج تھی۔  انہوں نے ابتدا سے انگریزی کی تعلیم پائی اور مطالعے کے ذوق نے ان کو جویائے علم سے دریائے علم بنادیا۔ افلاطون، ارسطو،  مل، ہیوم،  اسپنسر رسل اور بریڈلے جیسے فلسفیوں کے مطالعے نے ان کو عقلیت پسند بنا دیا۔ مگر ان انسانی فلسفوں میں ایک بیدار ذہن کو تشفی کہاں ملنے والی تھی ؟ سوالات اتنے تھے اور ان کی نوعیت ایسی تھی کہ ان کے جوابات معاشرتی روایات اور مروجہ مذہبی تعلیمی روایات میں نہیں ملتے۔ چناچہ انہوں نے مذاہب کا مطالعہ شروع کیا اور دنیا کا کوئی قابل ذکر مذہب ایسا نہ تھا جس پر انہوں نے گہرائی سے غور و فکر نہ کیا ہو، اور پھر ایک دن حق ان پر آشکارا ہو گیا۔  ہر چند کے وہ انیسویں صدی کے ایک روایتی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے تھے، مسلم معاشرے میں پلے بڑھے، لیکن مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ وہ موروثی مسلمان نہیں تھے بلکہ اسلام کی حقانیت ان پر وسیع مطالعے اور استدلال کی بدولت منکشف ہوئی تھی۔ بے شک وہ مسلمان گھرانے کے فرد تھے اور ان کو اسلام سے فطری لگاؤ ضرور رہا ہوگا۔ مگر ان کے اندر حق گوئی، بے باکی اور جرات کی وہ عالی صفات بھی بدرجہ اتم موجود تھیں جن سے اللہ تعالی نے ہم جیسے موروثی مسلمانوں کے مقابلے میں نو مسلمانوں کو زیادہ فراخی سے نوازا ہے۔ ان کا جذبہ ایمانی ان کو کچھ کر گزرنے پر آمادہ کرتا تھا اور انہوں نے شہادت حق کا فریضہ اپنے قلم سے ادا کیا، یا یوں کہیے کہ جہاد بالقلم کی سچی تعبیر پیش کی۔ انہوں نے اپنے قلم کا سفر مضمون نویسی سے شروع کی اور تاریخ، فلسفہ اور عمرانیات پر معتدد گرانقدر کتابیں تصنیف کیں، لیکن ان کا شاہکار کتاب ربانی کا ترجمہ اور تفسیر ہی ہے؂8۔

عبد الماجد دریابادی کے علم و فضل کا انتہائی کمال یہ ہے کہ وہ باقاعدہ مسٹر سے مولانا بن گئے جبکہ انہوں نے نہ کسی دینی مدرسے میں تعلیم حاصل کی نہ کسی بڑے عالم سے احادیث و فقہ اور تفسیر کا درس لیا۔ ایسی مثالیں تو کثرت سے ملتی ہیں کہ دینی علوم کی باقاعدہ تحصیل کے بعد ایک عالم دنیوی علوم میں بھی مہارت حاصل کر لیتا ہے لیکن ایسی مثالیں بہت کم ملیں گی کہ ایک شخص  جس نے ابتدا سے عالم شباب تک باضابطہ دینی تعلیم حاصل نہ کی ہو بلکہ مذہب کی مخالفت پر کمر بستہ رہا ہوں پھر اچانک وہ دینی علوم میں بھی اتنی مہارت حاصل کر لے کے علماء نہ صرف اس کو اس صف میں جگہ دی بلکہ وہ اس صف میں نمایاں اور ممتاز حیثیت حاصل کرلے۔ عبد الماجد دریابادی کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے جب مذہب کی طرف رخ کیا تو اپنے ذوق و شوق اور محنت و لگن سے برسوں کا سفر دنوں میں طے کرلیا۔ مولوی صاحبان عام طور سے کسی ایسے شخص کو اپنی جماعت میں شامل نہیں کیا کرتے جس نے کسی دینی مدرسے میں تعلیم حاصل نہ کی ہو لیکن عبدالماجد دریابادی ایک ایسے شخص ہیں جن کو مولوی صاحبان نے باقاعدہ عالم تسلیم کیا۔ ڈاکٹر اقبال کی طرح عبد الماجد دریابادی نے بھی مغربی علوم سے بےحد استفادہ کیا اور اسے مذہب کی حمایت میں بڑی حکمت کے ساتھ استعمال کیا۔ ایک صحافی اور ایک دانشور کی حیثیت سے وہ اپنے گرد و پیش کے حالات و کوائف و ماحول سے پوری طرح واقف تھے۔ انہوں نے خاص طور پر جدید تعلیم یافتہ طبقے کی رہنمائی کی۔ اسلامی تعلیمات کو اس کی اصلی شکل و صورت میں نہایت موثر اور دلنشیں انداز میں پیش کرنے کی مسلسل کوشش کی۔ مذہبی فرقوں کے تنازعات کی اعلانیہ مذمت کی۔  چونکہ وہ جدید علوم سے بخوبی واقف تھے اس لئے جدید علوم کے ارتقاء کے ساتھ جو نئے نئے مسائل پیدا ہوئے ان کے پیش نظر قرآن کی تعلیمات کی تشریح کی۔ اس کے ساتھ ساتھ احادیث نبوی اور اسوہ صحابہ کو اس ڈھنگ سے پیش کیا جس کو جدید تعلیم کے پروردہ طبقہ نے قبول کیا۔ وہ چونکہ فلسفہ اور منطق کے عالم تھے اس لئے انہوں نے عقلی دلائل سے بھی مذہبی صداقتوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور اپنی بے شمار تحریروں کے ذریعے بڑی اہم گتھیوں کو سلجھایا9؂۔

قرآن پاک کے ترجمے بہت سے حضرات نے کئے لیکن ہر شخص جانتا ہے کہ ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ اسی وقت قابل قدر ہو سکتا ہے جب مترجم دونوں زبانوں کا ماہر اور ان کے صرفی و نحوی نکات پر اسے عبور حاصل ہو۔ مولانا موصوف اردو زبان (خصوصاً مستند لکھنوی دبستان کی) کے ماہر تھے۔ اس کی نوک پلک سے بخوبی واقف تھے۔ اس لیے بلا وصف اس کے کہ قرآن پاک کے کئ اچھے اچھے ترجمے ماضی قریب اور بعید میں ہو چکے ہیں۔ لیکن تفسیر ماجدی زبان و بیان کے اعتبار سے فی زمانہ آخری ترقی یافتہ شکل کہی جا سکتی ہے۔ آپ نے اس کائنات کی بہترین کتاب و جامع کتاب اور اس کی تعلیمات کو عام تک پہنچانے اور ان کے دلوں میں اس کی افادیت و اہمیت کا خیال رکھنے کے لیے ہدایات کوشش کی10؂۔

مولانا عبدالماجد کے تفسیری کارناموں کی روشنی میں ان کی عارفانہ و واعظانہ نگاری، تبصرے کی بصیرت افروزی اور حق آموزی کا صدق دل  سے اعتراف کرنا ہی پڑتا ہے۔ اس مفسر قرآن نے اپنے مخصوص انداز بیان، اسلوب تحریر اور طرز ادا کے ذریعے نکات قرآنی کو بڑی خوبی کے ساتھ واضح فرمایا ہے۔ مولانا عبدالماجد کی آیات قرآنی کی تفسیر پڑھ کر یہ محسوس ہوتا ہے اور حدیث نبوی کی تشریح یا  حکایات و واقعات عالم کی تفصیل پڑھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ مولانا کا محبوب مقصود نگارش پندو نصیحت ہے یا تفہیم رموز شریعت11؂۔  مولانا عبدالماجد کو بحیثیت مفسر قرآن ہمیشہ قدرومنزلت کی نظروں سے دیکھا جائے گا۔ انہوں نے قرآن کریم کے نکات بڑے دلپذیر انداز میں بیان کئے ہیں۔ اس تفسیر والے مشاغل اور اس کی تکمیل کے بارے میں وہ یوں رقمطراز ہیں کہ،

“دھن رفتہ رفتہ خدمت قرآن کی سمائی اور بخت و نصیب کی خوبی در تک جبیس سائی کے لیے لے آئی۔ پچھلی تعلیم پر نظر جاتی ہے تو کبھی تو ہنسی آ جاتی ہے اور کبھی کبھی اپنے پر شدید نفریں ملامت ابھر آتی ہے۔ اس دور میں کبھی اس کا تصور بھی نہیں آ سکتا تھا کہ کبھی رازی،  زمخشر،  قربی اور آلوسی کی جوتیوں میں جگہ نصیب ہو گی۔ اب دعا اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے اگر ہے تو یہی کہ جتنی گھڑیاں بھی حیات ناپائیدار کی باقی ہیں سب اسی خدمت میں گزارے اور وقت موعوز جب آئے تو بندہ کو اس کی بندگی میں مصروف پائے”12 ؂۔

ترجمہ کے بعد اب ایک نظر مولانا دریابادی عبداللہ کے تفصیلی نوٹس پر ڈالتے ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے، اس ترجمہ و تفسیر کا مقصد دراصل مستشرقین کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا تدراک ہے۔ اس ضمن میں جتنی بھی کوششیں ہوئی ہیں ان میں اس کاوش کو نہایت اہم مقام حاصل ہے۔ اس کا سبب اس کا اسلوب استدلال ہے۔ مغرب کو جواب دینے کا جو طریقہ افضل ترین ہوسکتا ہے مولانا دریابادی نے اسی کو تیار اختیار ہے۔ انہوں نے اپنی بات کو منوانے کے لئے زور بیاں کا سہارا نہیں لیا ہے بلکہ علمی استدلال کو بروئے کار لائے ہیں، اوئے یہ استدلال اکثروبیشتر یورپی مفکرین کے حوالے سے پیش کیا ہے جن کی علمی حیثیت مخاطبین کی نظر میں واقیع ہے۔  انہوں نے نہایت خوبی سے قرآن پر اہل مغرب کے اعتراضات کا تار پود بکھیر دیا ہے اور ہر اس موضوع پر، جس کو بہانا بنا کر نظام اسلام کو بد نام کیا جاتا ہے، سائنس، فلسفہ، تاریخ اور عمرانیات وغیرہ علوم کے ممتاز مغربی مفکرین کے حوالے سے مسکت جواب دیا ہے۔ ان موضوعات میں طلاق، کثرت ازدواج ترکہ جیسے معاملات شامل ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ان موضوعات کو منتخب کرکے ان کے عقلی جوابات کے لیے مولانا دریابادی کی تفسیر القرآن کی طرف رجوع کیا جانا چاہئے13 ؂۔

اس میں شک نہیں کہ مترجم علیہ الرحمتہ نے خوب عرق ریزی کی ہے۔ قرآن کو پہلے بخوبی سمجھنے اور پھر اسے انگریزی کے قالب میں ڈھالنے میں بھرپور کوشش کے باوجود بہرحال یہ دعوی نہیں کیا جا سکتا کہ کلام الٰہی کو کسی دیگر زبان میں ان تمام خصوصیات کے ساتھ بیان کیا جاسکتا ہے جو اللہ کے کلام میں موجود ہیں۔ زیادہ سے زیادہ جو بات ہم کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ قرآن کے مطالب کو سمجھنے کے لئے یہ ترجمہ ان لوگوں کے لئے بڑا قیمتی سرمایہ ہے جو براہ راست عربی نہیں جانتے14؂۔

تصنیفات:

عبدالماجد دریاآبادی کو طالب علمی کےزمانہ سے ہی تصنیف و تالیف کا شوق تھا۔ انہوں نے بہت چھوٹی عمر میں مضمون نگاری شروع کر دی تھی۔ وہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک بے تکان لکھتے رہے۔  انکی تصنیف و تالیف کی مکمل موضوعاتی فہرست حسب ذیل ہے۔

ادبی موضوعات:

١) مقالات ماجد۔  تاج آفس بمبئی۔ دوسرا ایڈیشن عشرت بک ڈپو لاہور نے چھاپا۔

٢) انشائے ماجد (جلد اول) نسیم بک ڈیو لکھنو۔

٣) انشائے ماجد (جلد دوم) نسیم بک ڈیو لکھنو۔

۴) انشائے ماجد یا لطائف ادب۔  ادارہ انشائے ماجدی کلکتہ۔

۵) مضامین عبدالماجد۔ ادارہ اشاعت اردو حیدرآباد۔

٦) اقبالیات ماجد۔  اقبال اکیڈمی۔ حیدرآباد۔

٧) اکبر نامہ یا اکبر میری نظر میں۔ انوار بک ڈیو لکھنو۔

٨) زود و پشیماں (ڈرامہ) الناظر بک ایجنسی لکھنو۔

٩) تغزل ماجدی( شاعری) مولانا عبدالماجد دریاآبادی اکیڈمی لکھنو۔

١٠) نشریات ماجد۔  خاتون منزل لکھنو۔

آپ بیتی و سوانح :

١١) آپ بیتی۔ مکتبہ فردوس لکھنو۔

١٢) چند سوانحی تحریریں۔ مولانا عبدالماجد دریاآبادیا کیڈمی لکھنو۔

١٣) حکیم الامت۔ نقوش و تاثرات۔  دارالمصنفین اعظم گڈھ۔

١۴)  محمد علی ذاتی ڈائری کے چند ورق (جلد اول) دارالمصنفین اعظم گڈھ۔

١۵) محمد علی ذاتی ڈائری کے چند ورق (جلد دوم) دارالمصنفین اعظم گڈھ۔

١٦) محمود غزنوی۔ وکیل بک ٹریڈنگ ایجنسی امرتسر۔

١٧) اردو کا ادیب اعظم۔ ادارہ انشائے ماجدی کلکتہ۔

١٨) معاصرین۔  ادارہ انشائے ماجدی کلکتہ۔

١٩) وفیات ماجدی یا نشری مرثئے۔  مولانا عبدالماجد دریابادی اکیڈمی لکھنو۔

فلسفہ و نفسیات :

٢٠) فلسفہ جذبات۔ انجمن ترقی اردو ہند۔

٢١) فلسفہ اجتماع۔ انجمن ترقی اردو ہند۔

٢٢) فلسفہ کی تعلیم گزشتہ اور موجودہ۔ الناظر بک ایجنسی لکھنؤ۔

٢٣) فلسفیانہ مضامیں۔ الناظر بک ایجنسی لکھنؤ۔

٢۴) مبادی فلسفہ۔(جلد اول)  دارالمصنفین اعظم گڈھ۔

٢۵) مبادی فلسفہ۔(جلد دوم)  دارالمصنفین اعظم گڈھ۔

٢٦) ہم آپ (پاپولر سائیکلوجی) ہندوستانی اکیڈمی الہ آباد۔

٢٧) غذائے انسانی۔ وکیل بک ٹریڈنگ ایجنسی۔ امرتسر۔

٢٨) فرائض والدین۔ نولکشور بکڈپو لکھنو۔

سفر نامے :

٢٩) تاثرات دکن۔ بہادریار جنگ اکیڈمی کراچی۔

٣٠) سفر حجاز۔ نسیم بک ڈپو لکھنو۔

٣١) ڈھائی ہفتہ پاکستان میں یا مبارک سفر۔ صدق جدید بک ایجنسی لکھنو۔

٣٢) گیارہ سفر یا سیاحت ماجدی۔  ادارہ انشائے ماجدی کلکتہ۔

مذہبیات اور متعلقات :

٣٣) تفسیر ماجدی۔ تاج کمپنی لاہور۔

٣۴) تفسیر ماجدی(جلد اول) مجلس تحقیقات و نشریات اسلام لکھنو۔

٣۵) اعلام القرآن یا قرآنی شخصیتیں صدق جدید بک ایجنسی لکھنو۔

٣٦) الحیوانات فی القرآن۔ ندوة المعارف بنارس۔

٣٧) بشریت انبیاء۔ صدق جدید بک ایجنسی لکھنو۔

٣٨) تصوف اسلام مطبع معارف اعظم گڈھ۔

٣٩) تمدن اسلام کی کہانی۔ انجمن اسلامی تاریخ و تمدن علی گڈھ۔

۴٠) جدید قصص الانبیاء کے چند ابواب۔ مجلس اسلامیات، اسلامیہ کالج پشاور۔

۴١) مسائل و قصص۔ ادارہ اشاعت اردو حیدرآباد۔

۴٢) مردوںکی مسیحائی، ادارہ ٧ اشاعت اسلام حیدرآباد۔

۴٣) مشکلات القرآنی یا قرآنی مطالعہ بیسویں صدی میں اسلامک ریسرچ فاونڈیشن مدارس۔

۴۴) قتل مسیح سے یہود کی بریت۔ اسلامی مشن لاہور۔

۴۵) نورانی جہیز۔ مجلس نشریات اسلام کراچی۔

۴٦) یتیم کا راج۔  کتب خانہ انجمن ترقی اردو ہند۔

۴٧) سچی باتیں۔ دکن پبلشرز۔ حیدرآباد

خطبات :

۴٨) خطبہ صدارت مجلس استقبالیہ آل انڈیا خلافت کانفرنس لکھنو۔

۴٩) ندوہ کا پیام ندولوں کے نام۔ ادارہ فروغ اردو لکھنو۔

۵٠) خطبات ماجدی۔  ادارہ انشائے ماجدی کلکتہ۔

۵١) تمدن اسلام کا پیام۔  بیسویں صدی کے نام ادارہ ادبیت دہلی۔

۵٢) پیام امن۔ دارالمصنفین اعظم گڈھ۔

۵٣) تاریخ اخلاق یورپ(جلد اول) انجمن ترقی اردو ہند۔

 تراجم و تالیفات :

۵۴) تاریخ اخلاق یورپ(جلد اول) انجمن ترقی اردو ہند۔

۵۵) تاریخ تمدن(جلد دوم ) علی گڈھ انسٹی ٹیوٹ علی گڈھ۔

۵٦) تاریخ یورپ برائے انٹرمیڈیٹ۔  دارالطبع جامعہ عثمانیہ حیدرآباد۔

۵٧) مقالات برکلے۔ دارالمصنفین اعظم گڈھ

۵٨) مناجات مقبول، صدق جدید بک ایجنسی لکھنو۔

۵٩) ناموران سائنسی۔ میکملن۔ اینڈ کمپنی کلکتہ

٦٠) منطق استخراجی و استقرائی، دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ حیدرآباد۔

٦١) چہل حدیث ولی اللہمی۔ صدق جدید بک ایجنسی لکھنو۔

٦٢) بحرالمحبت، دارالمصنفین اعظم گڈھ۔

٦٣) تحفہ خسروی۔ اودھ بک ایجنسی دریاآباد۔

مرتبات و مکتوبات :

64) خطوط مشاہیر۔ تاج کمپنی لاہور۔

65) فیہ ما فیہ۔ دار المصنفین اعظم گڈھ۔

66) مکاتب اکبر۔ دار المصنفین اعظم گڈھ۔

67) مکتوبات سلیمانی(جلد اول) صدق جدید بک ایجنسی لکھنؤ۔

68) ) مکتوبات سلیمانی(جلد دوم) صدق جدید بک ایجنسی لکھنؤ۔

69) مکتوبات ماجدی (جلد اول) ادارہ انشائے ماجدی کلکتہ۔

70) مکتوبات ماجدی (جلد دوم) ادارہ انشائے ماجدی کلکتہ۔

71) رقعات ماجدی، بی، سی، ایچ سوسائٹی کراچی۔

72) دی سائیکلوجی آف لیڈر شپ۔ ٹی فشران ون۔ لندن۔

73) قرآن حکیم تفسیر و ترجمہ۔ تاج کمپنی لاہور۔

انگریزی میں :

74) ہولی قرآن ودھ ٹرانسلیشن۔ تاج کمپنی لاہور۔

75) تفسیر القرآن (نظر ثانی شدہ) جلد اول۔ اکیڈمی آف اسلامک ریسرچ اینڈ پبلیشرز۔ لکھنؤ۔

76) تفسیر القرآن (نظر ثانی شدہ) جلد دوم۔ اکیڈمی آف اسلامک ریسرچ اینڈ پبلیشرز۔ لکھنؤ۔15؂

وفات :

وسط مارچ ١٩٧۴ء میں عبدالماجد دریاآبادی پر فالج کا حملہ ہوا جس سے وہ پوری طرح صحبت یاب نہ ہوسکے۔ علاج معالجہ سے مرض میں معمولی کمی واقع ہوئی۔ تکان محسوس ہونے لگی اور یادداشت پر بھی اثر پڑا۔ اسکے باوجود وہ اخبار کے لئے برابر کچھ نہ کچھ لکھتے رہے۔ اس دوران انہوں نے جو مختصر تحریریں یا خطوط لکھے وہ بڑی مشکل سے پڑھے جاسکے۔  ان کی دونوں آنکھیں فالج کے حملہ سے پہلے ہی بہت خراب ہو چکی تھیں۔ خصوصاً دائیں آنکھ جنوری ١٩٧٦ء میں لکھنو میں اسکا آپریشن ہوا جو کامیاب رہا۔ وسط اکتوبر ١٩٧٦ء میں وہ لکھنو میں اپنی قیام گاہ “خاتون منزل” میں رات کو کوٹھے پر گِر پڑے، جس سے انکے کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ اس حادثے نے انکی صحت پر اور برا اثر ڈالا۔ انتقال سے تقریباً ایک ہفتہ قبل دینوی امور سے تعلق بلکل قطع ہوگیا تھا۔ لکھنا پڑھنا بلکل چھوٹ گیا تھا۔ زیادہ تر غافل رہتے تھے لیکن  نمازوں کے وقت اکثر ہوشیار ہو جاتے تھے اور ہاتھ کان تک اٹھا کر پھر نیچے لاکر نماز کی طرح نیت باندھ لیتے۔ یہ کیفیت وفات سے کچھ قبل تک رہی۔ مالآخر ٦ جنوری ١٩٧٧ء کو علی الصبح ١/٢ ۴ بجے بقام خاتون منزل لکھنو میں انکا انتقال ہوگیا۔ نمازِ جنازہ انکی وصیت کے مطابق ندوةالعلماء میں مولانا ابوالحسن ندوی نے پڑھائی۔ بعد ازاں جنازہ دریاباد لے جایا گیا جہاں انکے مکان سے متصل حضرت مخدوم آبکش کے مزار کے قریب تدفین ہوئی16۔

مولانا رحمت اللہ  ایک عظیم شخصیت تھے اور انہوں نے بھرپور طریقے سے علم و ادب اور اصلاح فکر کے سلسلے میں خدمت انجام دی، ان جیسی شخصیت بالکل اس بات کا حق رکھتی ہے کہ اس کو نئی نسلوں کے سامنے بطور نمونہ پیش کیا جائے تاکہ نئی نسلوں کو اپنے اسلاف کے مقام بلند سے واقفیت ہو اور وہ ان کے نمونہ سے فائدہ اٹھا سکیں17؂۔

عنوان : عبد الماجد دریا آبادی کی علمی خدمات اور تفسیر کی خصوصیات و امتیازات (قسط اول)۔۔۔عروج ندیم

حوالاجات :

سلیم قدوائی، “عبدالماجد دریا آبادی”، نئی دہلی، ساہتیہ اکادمی، ١٩٩٨ء، ص ۲٦
مولانا مفتی عطاء الرحمن قاسمی، ” مولانا عبدالماجد دریا آبادی خدمات و آثار”، نئی دہلی، شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ، جون۲۰۰۶، ص ۱۲۳
ڈاکٹر عتیق الرحمن خاں، “مولانا عبدالماجد دریا آبادی حیات و خدمات”، حیدرآباد، پبلک پرنٹرس، مئی ۱٩٩۳ء، ص ۲٦
ایضاً، ص ۳٨
ایضاً، ص ١٧٩~١٨١
ایضاً، ص٧۲~
ایضاً، ص ٧۴
سلیم قدوائی، “عبدالماجد دریا آبادی”، محولہ بالا، ص ٨٦~٨٧
ایضاً، ص ٨٦~٨٧
ڈاکٹر عتیق الرحمن خاں، “مولانا عبدالماجد دریا آبادی حیات و خدمات”، محولہ بالا، ص ۱٥۲
ایضاً، ص ١٦٠~١٦١
ایضاً، ص ١٦٦
مولانا مفتی عطاء الرحمن قاسمی، ” مولانا عبدالماجد دریا آبادی خدمات و آثار”، محولہ بالا، ص ۳۲٩
ایضاً، ص ۳۲٧
سلیم قدوائی، “عبدالماجد دریا آبادی”، محولہ بالا، ص٩٥~٩٨
ایضاً، ص ۲۳
مولانا مفتی عطاء الرحمن قاسمی، ” مولانا عبدالماجد دریا آبادی خدمات و آثار”، محولہ بالا،ص ١٨~١٩