مارکس اور ہندوستان

کارل مارکس
ہندوستان میں برطانوی راج کے آئندہ نتائج سے اقتباس
لندن : جمعہ ، 22 جولائی 1853
اس مراسلے میں ہندوستان کے متعلق اپنی معر وضات کا خلاصہ پیش کرنا چاہتا ہوں ۔

ہندوستان میں برطانوی اقتدار آخر قائم کیسے ہو گیا ؟–مغل اعظم کے اقتدار اعلیٰ کو مغل صوبیداروں نے پاش پاش کیا ۔ صوبیدار وں کی قو ت کو مرہٹوں نے توڑا (21 ) مرہٹوں کی قوت کو افغانوں نے ختم کیا اور ا س وقت جبکہ سب ایک دوسرے کے خلاف جنگ آزما تھے برطانیہ جھپٹ کر پہنچ گیا اور ان سب کو زیر کر لیا ۔ یہ ایک ایسا ملک تھا جو نہ صرف ہندوؤں اور مسلمانوں میں بلکہ مختلف قبیلوں اور مختلف ذاتوں میں بھی تقسیم تھا ۔ یہ ایک ایسا سماج تھا جس کا چوکھٹا ایک قسم کے توازن پر ٹکا ہوا تھا اور یہ توازن اس سماج کے اراکین کے درمیان ایک عام باہمی تنفر اور بنیادی مغائرت کا نتیجہ تھا ۔ ایسے ملک اور سماج کے مقدر میں بھلا مفتوح ہونا نہیں تو اور کیا لکھا تھا ؟

اگر ہم ہندوستان کی گزشتہ تاریخ کے متعلق کچھ بھی نہ جانتے تب بھی کیا یہ اہم اور ناقابل تردید حقیقت کافی نہ ہوتی کہ اس وقت بھی ہندوستان کو اسی کے خرچ پر رکھی ہوئی ہندوستانی فوج نے انگریزوں کا حلقہ بگوش بنا رکھا ہے!۔ لہٰذا ہندوستان کی تقدیر میں مفتوح ہونا لکھا تھا اور اس کی تمام تر گزشتہ تاریخ اس کے بار بار مفتوح اور زیر ہوتے رہنے کے سوا اور کچھ بھی نہیں ۔ہندوستانی سماج کی کوئی تاریخ ہی نہیں ہے ، کم از کم اس کی کوئی ایسی تاریخ تو قطعی نہیں ہے جو لوگوں کے علم میں ہو ۔ ہم جس چیز کو ہندوستانی سماج کی تاریخ کہتے ہیں وہ در اصل ان یکے بعد دیگرے آنے والے مداخلت کاروں کی تاریخ ہے جنہوں نے اس بے مزاحمت اور غیرمتغیر سماج کی جامد اور ساکن بنیاد پراپنی سلطنتیں تعمیر کیں ۔ لہٰذا سوال یہ نہیں ہے کہ انگریزوں کو ہندوستان فتح کرنے کا حق تھا یا نہیں ، بلکہ سوال دراصل یہ ہے کہ کیا ہم برطانیہ کے فتح کیے ہوئے ہندوستان پر ترکوں یا ایرانیوں یا مغلوں کے مفتوح ہندوستان کو ترجیح دیں ؟
انگلستان کو ہندوستان میں ایک ہی سلسلے کے دو مشن انجام دینے ہیں : ایک تحزیب کا اور دوسرا تعمیر نو کا۔ قدیم ایشیائی سماج کو ختم کرنا اور ایشیا میں مغربی سماج کے لئے مادی بنیادیں قائم کرنا ۔

وہ عرب، ترک ، تاتاری اور مغل جنہوں نے باری باری ہندوستان پر دھاوا بولا تھا ، جلد ہی ہندوستانی رنگ میں رنگ گئے ۔ بربری فاتح ، تاریخ کے ابدی قانون کے مطابق خود اپنی رعایا کی برتر تہذیب کے مفتوح ہو گئے ۔ برطانوی لوگ پہلے برتر فاتح تھے اور اسی وجہ سے ہندو تہذیب کی ان تک رسائی نہیں ہو سکتی تھی ۔ انہوں نے دیسی برادریوں کو توڑ کر ، دیسی صنعت کی جڑ اکھاڑ کر اور دیسی سماج کی ساری عظیم اور سرفراز و بلند چیزوں کو خاک میں ملا کر اس تہذیب کو تباہ و برباد کیا ۔ہندوستان میں ان کی حکومت کے تاریخی صفحات اس تباہی اور تحزیب کے علاوہ مشکل ہی سے کسی اور چیز کا تذکرہ کرتے ہیں ۔ حیا ت نو بخشنے کا کام کھنڈروں کے ڈھیر کے پیچھے مشکل ہی سے دکھائی دیتا ہے ، تاہم یہ کام شروع ہو گیا ہے ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *