چاہے گھنگرو ٹوٹ جائیں۔۔محمد اسلم خان کھچی

SHOPPING

پاکستان میں جب لوٹا کریسی شروع ہوئی تو اس وقت مجھے کچھ زیادہ سمجھ بوجھ نہیں تھی۔ گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان جو آج کل ایمرسن کالج کے نام سے جانا جاتا ہے، اس میں دو پارٹیوں کی سیاسی سرگرمیاں عروج پہ تھیں۔ پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن اور جماعت اسلامی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنی یونینز قائم کی ہوئی تھیں۔ن لیگ یا مسلم لیگ کا نام و نشان تک نہ تھا۔ اسلام سے کوئی خاص رشتہ نہیں تھا تو قرعہ فال جماعت اسلامی کی بجائے پیپلز پارٹی کے نام نکلا اور کچھ دوستوں سمیت پی ایس ایف میں شمولیت اختیار کر لی۔ سیاسی سرگرمیاں کیا تھیں، بس لڑائی مار کٹائی اور قتل و غارت تھی۔ بھٹو مرحوم نے سیاست میں نفرت کا کچھ ایسا بیج بویا تھا کہ معصوم سٹوڈنٹ ایک دوسرے کی جان کے پیاسے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے کچھ نامی گرامی سٹوڈنٹس اس نفرت کی بھینٹ چڑھ گئے جس میں میرے ایک بہت ہی پیارے دوست ولایت اللہ رندھاوا اور افتخار حسین شہید ہو گئے۔ اس نفرت بھرے ماحول کو دیکھتے ہوئے ہم دوستوں نے ایک نئی سیاسی یونین بنانے کی ٹھانی اور (VSF) ویلجرز سٹوڈنٹس فیڈریشن کےنام سےسیاست کا آغاز کیا لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ سٹوڈنٹ سیاست کا عرصہ بہت کم ہوتا ہے، اسی طرح ہم بھی کالج میں اپنا وقت پورا کرنے کے بعد چلے گئے۔ بعد میں کبھی خبر ہی نہیں لی کہ کیا بنا اور یونین کا انجام کیا ہوا۔
لیکن اس سے کم از کم سیاست سے دلچسپی ضرور پیدا ہوگئی۔۔۔

لوٹا۔۔۔ لوٹا۔۔۔ یا لوٹا کریسی کے نعرے اس وقت سنے گئے جب میاں نواشریف صاحب نے چھانگا مانگا سے اپنے سنہری بزنس بمعہ سیاسی مستقبل  کا آغاز کیا۔ پہلے تو  لوٹےکی سمجھ نہیں آئی لیکن تھوڑا غور کرنے کے بعد اندازہ ہو گیا کہ ان سیاسی دغابازوں   کو لوٹا کیوں کہتے ہیں۔

اب تو خیر   لوٹے   بڑے جدید اور چوڑے پیندے والے ہیں لیکن اگر چند سال پہلے کے لوٹوں پہ نظر ڈالی جائے تو  پتا چلتا ہے کہ ان کے پیندے بہت چھوٹے تھے۔ مٹی کے بنے ہوئے لوٹے تھے۔ تھوڑا سا پانی ڈالتے ہی ادھر اُدھر لڑھک جاتے تھے اس لئے ان کو یا تو پکڑ کے رکھنا پڑتا تھا یا انہیں پانی سے مکمل بھر کے رکھنا پڑتا تھا۔۔

چونکہ   سیاسی لوٹے   بھی ادھر اُدھر لڑھکتے رہتے تھے اس لئے لڑھکنے کی مناسبت سے انکا نام بہترین ثابت ہوا۔ پہلے پہل تو یہ لوگ شرما جاتے تھے لیکن وقت کے ساتھ انکی شرم و حیا سب ختم ہو گئی اور اب تو یہ حالت ہے کہ وہ بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ ہاں میں   لوٹا   ہوں کیونکہ جو جتنا زیادہ لڑھکنے والا لوٹا ہے اسے اتنا ہی بڑا عہدہ ملتا ہے۔

پہلے تو صرف سیاسی لوگوں پہ الزام تھا کہ یہ   لوٹے   ہیں لیکن اب سیاسی لوگوں کے ساتھ صحافی بھی اس خوبصورت کیٹیگری میں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کا مظاہرہ  کچھ روز پہلے ایک نامور صحافی عمران خان صاحب کے پروگرام میں نظر آیا۔ جس میں موصوف نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار صاحب کی کرپشن پہ بھرپور  روشنی ڈالی ۔

مجھے عمران صاحب کے اس پروگرام پہ کوئی اعتراض نہیں۔ یہ انکا حق ہے کہ وہ موجودہ حکومت پہ ڈٹ کے تنقید کریں ۔ صحافی کا کام ہی سچائی کو سامنے لاناہے لیکن حیرانی اس بات کی ہے کہ چند دن پہلے بزدار صاحب کی کارکردگی کے گُن گانے والا آج ان کی کرپشن کی داستانیں سناتے ہوئے منہ سے جھاگ نکال رہا تھا ۔ مجھے عمران صاحب کے اس رویے پہ بڑی حیرت ہوئی کہ اچانک ایسا کیا ہو گیا کہ بزدار صاحب دو دن میں   کرپشن کنگ   بن گئے اور کرپشن کی داستان بھی ایسی کہ سن کے اس اینکر کی بوکھلاہٹ اور عقل پہ ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے ۔لگتا ہے دال میں کچھ کالا ہے۔ اسی   کالے  کو   چِٹا   کرنے کیلئے تھوڑے  عقل کے گھوڑے دوڑائے کہ اچانک ایسی کیا تبدیلی آئی کہ پل بھر میں دوست دشمن میں تبدیل ہو گئے۔
اچانک دماغ میں ایک جھماکا ہوا اور کچھ منظر آنکھوں کے سامنے لہرانے لگے۔

تھوڑا سوچنے سے اندازہ ہوا کہ اچانک اس بدلنے والی کہانی کے پیچھے کون ہو سکتا ہے۔

ذرا پیچھے جائیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ جب بزدار صاحب کو وزیر اعلیٰ بنانے کا اعلان ہوا تو ملک میں ایک بھونچال آگیا۔کروڑوں روپے خرچ کر کے ایئر ٹائم خریدا گیا اور بزدار صاحب کو مسلسل 5 گھنٹے تک قاتل ڈیکلئر کیا جاتا رہا۔ بالآخر اسلام آباد کے   خان صاحب   کی شٹ اپ کال پہ لاہور کے ایک   خان صاحب   جو بیچارے شیروانی بھی سلوا چکے تھے اور پچھلے ایک ماہ سے بیوروکریسی سے مبارک بادیں بھی وصول کر رہے تھے ۔شٹ اپ کال سے جوش سے ہوش میں آئے اور تب ٹی وی چینل سے بزدار صاحب کی جان چُھوٹی۔

آج کل بھی کچھ ایسا ہی منظر چل رہا ہے۔جیسے ہی بزدار صاحب کو تبدیل کرنے کی بات ہوتی ہے۔ ٹی وی کے  چمچے کرچھے   اپنی چھریاں تیز کر کے بزدار صاحب پہ چڑھ دوڑتے ہیں اور وہ بھلا مانس شریف آدمی خاموشی سے   ٹکر ٹکر   ان لوگوں کی شکلیں دیکھتا رہتا ہے۔

جب سے بزدار صاحب کی تبدیلی کی خبریں زیر گردش ہیں۔ اس وقت سے  چوہدری برادران  نے بھی درزیوں کو الرٹ کر رکھا ہے۔ ویسے تو الرٹ کرتے کرتے دو سال گزر گئے لیکن اب شاید سیاست کے ڈبل شاہ   مزید انتظار کرنے کی اذیت سے نہیں گزرنا چاہتے ۔چوہدری برادران بڑا دلچسپ کھیل کھیل رہے ہیں۔ وہ نہ بزدار صاحب کو وزیر اعلیٰ دیکھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی کسی اور کو   دلہا  بنے دیکھنا چاہتے ہیں۔امید تھی کہ بارات میں لٹایا ہوا   نوٹ   انکی جھولی میں آ کے گرے گا لیکن اس بار مقابلہ ایک نہ جھکنے والے انسان سے ہے جس نے آج بزدار صاحب کو چوہدری برادران سے ملاقات سے بھی روک دیا۔واقفان حال بتاتے ہیں کہ سازشوں کے جال اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں۔

چوہدری برادران ابھی تک تو انتظار کرتے رہے لیکن اب انتظار مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے ۔ اس لئے ان کیلئے ضروری ہے کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف ایک فائنل سٹروک کھیلا جائے اور اس بار انہوں نے  اوور   عمران صاحب کو ٹرانسفر کیا ہے انہیں شاید اب بھی یہ لگتاہے کہ وہ   بادشاہ گر    ہیں۔ بزدار صاحب کے جانے کے بعد وہی   بادشاہ   بنیں گے۔
لیکن ایسا نہیں ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ بزدار صاحب تبدیل نہیں ہوں گے لیکن بالفرض اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو کم از کم چوہدری برادران شیروانی نہیں پہنیں گے۔
شیروانی کیلئے چوہدری نثار اور یاسر صاحب موزوں ترین امیدوار ہیں۔۔
اب کرپشن کی طرف آتے ہیں کہ بزدار صاحب نے کرپشن کیا کی۔۔۔۔ کہ اپنے بھائی عمر بزدار صاحب کو آؤٹ آف ٹرن پروموشن دی۔

یقین کیجیے عمران صاحب کی بات پہ ہنسی آگئی۔
میرے بھائی عمران صاحب کو پہلے پوری معلومات لینی چاہیے تھی کہ بارڈر ملٹری پولیس کا سسٹم کیا ہے ؟
وہاں  تعیناتی  کیسے ہوتی ہے ؟
وہاں پروموشن کیسے ہوتی ہے ؟
قبائلی سرداروں کا بارڈر ملٹری پولیس میں عمل دخل کیا ہوتا ہے ؟
ہر قبیلے کے سردار کا بارڈر ملٹری پولیس میں کتنا استحقاق ہے ؟
یہ سب لکھنے سے پہلے عمران صاحب کو بارڈر ملٹری پولیس ایکٹ 1904 ,سیکشن 5 پڑھنا چاہیئے تھا۔ شاید وہ شرمندگی سے بچ جاتے۔۔۔

دوسرا الزام عمران صاحب نے یہ لگایا ہے کہ طاہر بزدار صاحب کو سیاست میں ان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اتنے بھونڈے الزامات پہ بس افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔۔
عمران بھائی سے سوال ہے کہ طاہر بزدار صاحب سیاست کیوں نہ کریں
کیا وہ پاکستان کے شہری نہیں؟
کیا وہ کوئی غیر ملکی ہیں جو پاکستان میں سیاست نہیں کر سکتے؟
سیاست انکا حق ہے چاہے وہ چیئرمین بنیں ,ایم پی اے بنیں یا پرائم منسٹر  ۔
آپ یا ہمیں کیا حق پہنچتا ہے کہ ہم انکی سیاست پہ اعتراض کریں۔

نوازشریف صاحب کے 17 فیملی ممبران بڑے بڑے سیاسی عہدوں پہ فائز تھے لیکن اس وقت تمام اینکرز کو سانپ سونگھ گیا تھا لیکن اب اگر چیف منسٹر کا بھائی سیاسی سرگرمیاں شروع کرتا ہے تو اینکرز کو   مرگی   کے دورے پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ غریب عوام کے نام نہاد ابھرتے ہوئے لیڈر جناب جمشید دستی صاحب نے اسمبلی اجلاس میں نواز شریف کی کرسی کے پاس کھڑے ہو کے چند نعرے لگا دیئے۔ بس پھر   یار بیلیوں  نے مظفر گڑھ نہیں پہنچنے دیا۔۔۔ ایسی   کْٹ   لگائی کہ غریبوں کا   نورِ  گُل   سرگودھا میں چیختا چلاتا معافیاں مانگتا رہا۔ اللہ بھلا کرے کسی جسٹس کا۔ جس نے نام نہاد شریفوں سے اس بیچارے کی جان بخشی کروائی۔ اس دن سے اسکی زبان پہ تالا لگا ہے لیکن کبھی کبھی شریفوں کا غصہ پی ٹی آئی پہ ضرور نکال دیتا ہے۔
بزدار صاحب کے خلاف عمران صاحب کی نام نہاد کرپشن کمپین سے لگتا ہے کہ اچھی   بولی   لگی ہے۔کیونکہ یہ پاکستان ہے اور پاکستان میں   سب بِکتا ہے۔

SHOPPING

بزدار صاحب کی تبدیلی کی افواہیں زوروں پہ ہیں لیکن ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔۔ جب تک پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ وزیر اعلیٰ بزدار صاحب ہی رہیں گے۔
اور ویسے بھی اگر ایمانداری سے جائزہ لیا جائے تو پنجاب کو ایک بہترین وزیر اعلیٰ ملا ہے جو باتیں نہیں کرتا صرف کام کرتا ہے
لیکن چونکہ ہم غلام قوم ہیں۔ ہمیں بڑے بڑے لوگوں کی حکمرانی اور ان کے سائے میں رہنا پسند ہے۔
میں نے تو فاروق لغاری صاحب مرحوم کو بھی بینظیر بھٹو کی گاڑی کے پائیدان پہ لٹکے دیکھا ہے،آج کوئی قریشی آجائے، کوئی شریف آ جائے، کوئی جرنیل آ جائے۔۔۔ کوئی گیلانی آ جائے۔
وہ کام کرے نہ کرے۔۔۔ہم دم ہلاتے ان کے آگے پیچھے ناچتے پھریں گے
چا ہے ناچتے ناچتے ہمارے گھنگرو ہی ٹوٹ جائیں۔

SHOPPING