بلوچی روایتی کھانا: تباھگ۔۔عبدالحلیم

بلوچ قوم کی ثقافت اور رسم و رواج بہت سی روایتوں کے امین ہیں، ان میں روایتی کھانے بھی غیرمعمولی درجہ رکھتے ہیں۔ ان روایتی کھانوں میں “تباھگ” جیسا منفرد اور روایتی کھانا بھی شامل ہے۔

تباھگ بکرے یا دنبہ کے گوشت کو سکھانے کے بعد کھانے میں استعمال ہوتا ہے۔ بلوچوں میں “تباھگ” تیار کرنے کی روایت قدیم زمانہ سے موجود ہے۔

اس حوالے سے نوجوان قلمکار یلان زعمرانی کہتے ہیں کہ “تباھگ” بنانے کا رواج بلوچ قوم میں شروع سے موجود ہے اور یہ رواج قدیم زمانہ سے چلا آ رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سننے میں آیا ہے کہ پشتون قبائل بھی “تباھگ” تیار کرتے ہیں جسے لاندی کہا جاتا ہے۔ لاندی پشتو بولی سے نکلا لفظ لگتا ہے. لیکن بلوچوں کے ہاں “تباھگ” بنانے کا رواج ان کے ارتقائی زمانہ سے پیوستہ ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ “تباھگ، بنانے کا عمل زیادہ تر ان علاقوں میں پائیدار ہوتا ہے جہاں کا موسم گرم ہو مگر وہاں ہوا میں نمی کا تناسب کم ہو۔ سردیوں کے موسم میں “تباھگ” سات یا دس دن تک تیار ہو جاتا ہے۔ اگر موسم گرم ہو تو یہ پانچ یا دس دن تک تیار ہوتا ہے۔ جن علاقوں میں نمی زیادہ پڑتی ہو یا وہاں ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ پایا جاتا ہے تو ان علاقوں میں “تباھگ” بنانے کا عمل پائیدار ثابت نہیں ہوتا۔”

تباھگ کیسے تیار کیا جاتا ہے؟

تازہ گوشت کے مختلف حصوں کو کاٹ کر الگ کیا جاتا ہے۔ تباھگ کی تیاری میں جو اجزائے ترکیبی استعمال ہوتے ہیں، ان میں نمک اور اناردانہ شامل ہوتے ہیں۔ اناردانہ اور نمک کو ایک ساتھ پیس کر گوشت پر لگایا جاتا ہے۔

ان اجزائے ترکیبی کو گوشت میں جذب ہونے کے لیے گوشت کو کچھ دیر کے لیے ایک جگہ پر رکھ دیا جاتا ہے۔ جب یہ اجزا پوری طرح گوشت میں جذب ہو جاتے ہیں تو گوشت کو سُکھانے کے لیے اسے اونچی جگہ ٹانگ دیا جاتا ہے۔ نمک اور انار دانے گوشت کو خراب ہونے نہیں دیتے۔

گوشت کو عموماً چبوترے یا برآمدے کے سامنے ٹانگ دیا جاتا ہے یا اسے کھلی ہوا میں بھی اونچی جگہ پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جب گوشت پوری طرح خشک ہو جاتا ہے تو اس کو حسبِ ضرورت اتار کر کھانے کے لیے استعمال میں لایا جاتا ہے۔

تباھگ دیرپا رہتا ہے۔ گوشت کو گلنے سڑنے سے بچانے کے لیے “تباھگ” سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ پرانے زمانہ میں جب گوشت کے خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا تھا تو لوگ اس تدبیر کو اختیار کر کے نہ صرف اپنی خوراک محفوظ بنا لیتے بلکہ اس روایتی کھانے سے بھی لطف اندوز ہوتے۔ “تباھگ” مہینوں تک استعمال کے قابل رہتا ہے۔

ایک خیال یہ بھی ہے کہ پرانے زمانہ میں جب سہولیات موجود نہیں ہوتی تھیں تو لوگ اپنی خوراک محفوظ بنانے کے لیے “تباھگ” بنانے کے عمل سے استفادہ حاصل کرتے جس سے ان کی خوراک مہینوں اور سالوں تک کار آمد رہتی تھی۔

موجودہ زمانہ میں گوشت کو محفوظ بنانے کے لیے برقی آلات ایجاد ہو چکے ہیں جس سے “تباھگ” کی تیاری کے رواج میں کمی آئی ہے۔ لیکن یہ ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔

بلوچستان میں اب بھی “تباھگ” بنانے کا رواج موجود ہے۔ باقی بلوچستان کے علاوہ مکران میں بھی “تباھگ” شوق سے تیار کیا جاتا ہے۔ خصوصاً عیدِ قربان کے موقع پر “تباھگ” کا شوق سے اہتمام کیا جاتا ہے۔

تباھگ دال اور چاول کے ساتھ کھایا جاتا ہے، لیکن زیادہ تر لوگ “تباھگ” کو دال کے ساتھ کھانے کا شوق رکھتے ہیں۔ “تباھگ” کا اپنا الگ اور لذیذ ذائقہ ہوتا ہے جو منہ میں پانی بھر دیتا ہے۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *