آبنائے۔۔اقتدار جاوید

آنکھ کے آبنائے میں
ڈوبا مچھیرا نہ جانے
فلک تاز دھارے میں
گاتی ‘ نہاتی ہوئی سرخ لڑکی کی جاں
اس مچھیرے میں ہے
لڑکی کے گیتوں میں
لنگر انداز کشتی ہے ‘
لہروں کی کروٹ ہے ‘
ساحل کا پھل ہے ‘
مچھیرے کی تازہ جوانی ہے ‘
مستی بھرا نیلا پانی ہے

Advertisements
merkit.pk

لڑکی امنڈتی ھوئی وقت کی دھار ہے
جس کے ریلے سے
محشر بپا کرتی لہریں نکلتی ہیں
لڑکی سمندر ہے
گہرے سمندر کی گھمبیر خاموشی’
پانی سے اڑتی ہوئی ڈاریں’
چکنے کنارے
ہر اک چیز لڑکی کے گیتوں کے اندر ہے
لڑکی’پرندہ ھے ۔۔۔۔۔۔۔ آبی پرندہ
سمندر کے بے انت سینے پہ
اڑتا ھے صدیوں سے
صدیوں سے لمبی معمر چٹانوں سے جڑتا ہے
مڑتا ھے واپس
سمندر کے بے انت پھیلاو کی سمت
لڑکی کوئی معجزہ ہے
سمندر میں جونہی اترتی ہے
پانی کو رنگین کرتی ہے
لہروں کی چادر اٹھا تی ہے
موتی بناتی ھے
موتی بناتے ھوے گیت گاتی ہے
لڑکی کے گیتوں کے معنی
فقط اس مچھیرے پہ روشن ہیں
جو آنکھ کے آبنائے میں ڈوبا پڑا ہے!

tripako tours pakistan
  • merkit.pk
  • merkit.pk

اقتدار جاوید
کتب- ناموجود نظمیں غزلیں 2007 میں سانس توڑتا هوا 2010. متن در متن موت. عربی نظمیں ترجمه 2013. ایک اور دنیا. نظمیں 2014

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply