رائے احمد خان کھرل شہید رح۔۔شاہد محمود ایڈووکیٹ

برصغیر پاک و ہند کی دھرتی پہ جنم لینے والا، دیومالائی شہرت والے بہادر انسان رائے احمد خان کھرل کا نام دنیا بھر میں آزادی کی جنگ لڑنے والوں کے دلوں میں آج بھی دھڑکتا ہے۔ رائے احمد خان کھرل نے برصغیر پاک و ہند میں غاصب انگریز کے قبضے کو للکارا اور دھرتی ماں کے لئے ایسے لڑا کے کیا اپنے، کیا پرائے، خود انگریز، انگریز کی قید میں موجود معزول مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر اور کارل مارکس وغیرہ بھی رائے احمد خان کھرل شہید کی شجاعت کی داد دئیے بغیر نہ رہ سکے۔ تحریک آزادی کا ہیرو رائے احمد خان کھرل راوی کنارے انگریز کے فرستادہ لارڈ برکلے کے ساتھ بھرپور جنگ کر کے راوی کنارے بستی جھامرہ میں ابدی نیند سو گیا۔

مغل بادشاہ عالمگیر نے رائے احمد خان کھرل کے اجداد کو گوگیرہ میں جھامرہ کی جاگیر عطاء کی تھی، اور انگریز کے اس علاقے میں آنے سے ڈیڑھ صدی پہلے سے وہ اس علاقے کے رئیس اور سردار تھے۔ دریائے راوی لاہور سے ملتان کی طرف بہتا ہے اس لحاظ سے دریا کے بائیں کنارے پر نیلی بار کا علاقہ ہے جس میں اوکاڑہ، پاکپتن اور ساہیوال آتے ہیں، یہ علاقہ اس وقت ملتان ڈویژن میں تھا، اب یہ ساہیوال ڈویژن میں ہے، دریا کے دائیں کنارے پر اس وقت کا لائل پور اور موجودہ فیصل آباد ڈویژن واقع ہے اس علاقے کو ساندل بار کہتے تھے۔ اوکاڑہ سے فیصل آباد روڈ پر بیس کلومیٹر پہ بنگلہ گوگیرہ واقع ہے جو اسوقت انگریز سرکار کے ڈسٹرکٹ منٹگمری کا ہیڈکوارٹر تھا اور اس کے بالمقابل دریا کے اس پار موضع جھامرہ ہے جو رائے احمد خان اور کھرلوں کا آبائی مسکن تھا، انگریز یہاں آ گئے تو رائے احمد خان کھرل اپنے قبیلے والوں سے مل کر انگریز کے خلاف مزاحمت کا منصوبہ بنایا۔
اس زمانے کے حالات کی بابت جناب پروفیسر سعید بُھٹہ صاحب رقم طراز ہیں کہ:
“گورے دی کامن سینس تے آزاد بندے دی سینس وچ لکھاں کوہاں دے پاڑے ہن، اوہدی کامن سینس ایہا ہا کہ ایس دیس وچوں دولتاں دے ڈھگ اکٹھے کیتے ونجن تے ایس کان غلاماں دی کنھی اتے گوڈا اینج منڈھیا ہا کہ ہر گل اتے آکھن جیہڑی نیت امام دی اوہا اساڈی”۔

اور اس مقصد کیلئے غاصب، قابض، ظالم، جابر، عیار و مکار و بے شرم و کٹھور دل و انسانیت کے نام پہ غلیظ دھبہ انگریز نے اپنے مقرر کردہ اہلکاروں کو اندھے اختیار دے رکھے تھے تا کہ برصغیر پاک و ہند کے لوگوں کو دبا کے رکھا جا سکے اور برصغیر پاک و ہند جیسی سونے کی چڑیا کے وسائل برطانیہ منتقل کر کے برطانیہ کی تعمیر و ترقی میں استمعال کر سکیں۔ رائے احمد خان کھرل کے علاقے میں ان اہلکاروں کے اوپر انگریزوں کا اسسٹنٹ کمشنر لارڈ برکلے تعینات تھا۔ اسی دوران جب سقوط دہلی کے افسوس ناک واقعہ کے بعد دہلی اور میرٹھ میں انگریز راج کے خلاف بغاوت برپا ہوئی، تو لارڈ برکلے نے رائے احمد خان کھرل کو بلایا اور بغاوت کچلنے کے لئے افرادی قوت اور گھوڑے مہیا کرنے کا تقاضا کیا اور بدلے میں برطانیہ سرکار سے بڑا اہم سرکاری اعزاز دلوانے کا لالچ دیا۔
لیکن آفرین ہے دھرتی ماں کے بہادر سپوت رائے احمد خان کھرل پر جس نے انگریز کے فرستادہ اسسٹنٹ کمشنر کو جواب دیا کہ؛
“ہم کبھی بھی، کسی بھی حال میں اپنے گھوڑے، عورت اور زمین کسی کے حوالے نہیں کرتے”۔

رائے احمد خان کھرل نے اسسٹنٹ کمشنر لارڈ برکلے کو صاف انکار کیا اور واپس اپنے گاؤں جھامرہ چلے آئے۔ اسی دوران لارڈ برکلے نے گوگیرہ اور اس کے ارد گرد نیلی بار اور ساندل بار میں ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔
رائے احمد خان کھرل جو اپنے علاقے اور لوگوں کے مفاد کے لئے ہمیشہ جدوجہد کرتے رہے تھے، انگریز کی چیرہ دستیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور 26 جولائی 1857ء کو رائے احمد خان کھرل نے اپنے جانباز ساتھیوں کے ہمراہ گوگیرہ جیل پر حملہ کیا اور انگریز کے قید کردہ تمام باغیوں کو رہا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔ اس معرکے میں انگریز کو بھاری جانی نقصان ہوا اور رائے احمد خان کھرل اور ان کے ساتھی راوی کنارے جنگلات میں روپوش ہو گئے۔ غلیظ ترین غاصب قوم کے بدتر از خنزیر لارڈ برکلے نے ایک عیارانہ چال چلی اور رائے صاحب کے اہل خانہ کو یرغمال بنا کر گوگیرہ لے گیا، یہ اطلاع ملنے پر رائے صاحب نے گرفتاری دیدی لیکن وٹووں اور دیگر قوموں کے احتجاج سے علاقے میں شورش برپا ہونا شروع ہوئی تو انگریز سرکار کو ڈر لاحق ہوا کہ اس علاقے میں بھی بغاوت ایک نیا رخ اختیار کر جائے گی اور بات گلی محلوں تک بڑھ جائے گی تو کنٹرول کرنا مشکل ہو گا۔ اس لئے رائے احمد خان کھرل کو انگریز سرکار نے دباو میں آ کر رہا کر دیا۔
رہائی کے بعد رائے احمد خان کھرل اور ان کے جانباز ساتھیوں نے انگریز کے خلاف گوریلا کاروائیاں شروع کر دیں اور کمالیہ، چیچہ وطنی اور ساہیوال تک کے سارے علاقے میں تین ماہ تک انگریز سرکار کا ناطقہ بند کئے رکھا اور پھر ایک فیصلہ کن جنگ کا منصوبہ ترتیب دیا۔
غلیظ ترین غاصب قوم کے بدتر از خنزیر لارڈ برکلے، جو کل تک دہلی و میرٹھ میں برپا جنگ آزادی کچلنے کے لئے اپنی غاصب انگریز سرکار کی مدد کرنے میں جانفشانی سے جتا ہوا تھا، اب اسے اپنے علاقے پر قبضہ قائم رکھنے کیلئے مدد کی سخت ضرورت پڑ چکی تھی۔ اس لئے برکلے کی درخواست اور علاقے کی صورتحال دیکھ کر ملتان اور لاہور سے دس عدد فوجی دستے گوگیرہ روانہ ہوئے جن کی کمان کرنے والوں میں درج ذیل افسروں کے نام ملتے ہیں؛
کرنل جان، کیپٹن چیمبرلین، کیپٹن سنو، کیپٹن اینڈریو، لیفٹننٹ مائکل، لیفٹننٹ ، کیپٹن بللئک وغیرہ، اسسٹنٹ کمشنر برکلے خود اور ان کی پشت پر نگرانی و منصوبہ سازی کے لئے مشہور جنرل منٹگمری، ملتان اور لاہور کے انگریز کمشنران اور گوگیرہ کے ڈپٹی کمشنر بھی موجود تھے۔ اتنی بڑی منصوبہ بندی، تیاریوں اور کاروائی کی نوعیت سے رائے احمد خان کھرل اور ان کے جانباز ساتھیوں کی جدوجہد کا اندازاہ لگایا جا سکتا ہے جنہوں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تین ماہ میں تلمبہ، سرائے سدھو، قبولہ، پاکپتن، کمالیہ، پنڈی شیخ موسٰی، سید والہ، ہڑپہ، چیچہ وطنی، شورکوٹ، جھملیرا، ساہوکا اور بہاولنگر کے پاس بہتے ہوئے دریائے ستلج کے کناروں تک انگریز سرکار کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا اور رائے احمد خان کھرل کے ساتھ شامل آزادی کے متوالوں کی تعداد بڑھتے بڑھتے ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی اور ان علاقوں میں آزادی کی تحریک دن بدن زور پکڑتی جا رہی تھی۔ ستمبر تک رائے احمد خان کھرل کی قیادت میں مجاہدین آزادی کی انگریز کے خلاف گوریلا کاروائیاں جاری رہیں۔ انگریز کی فوجی تیاریوں اور طاقت کو دیکھتے ہوئے رائے احمد خان کھرل نے علاقائی سرداروں و سرکردہ مجاہدین کے اکٹھ میں انگریز فوج کے خلاف بڑی کاروائی شروع کرنے فیصلہ کیا۔ اس اکٹھ میں کمالیہ کے سرفراز کھرل اور دیگر بہت سے سردار شامل تھے، رائے احمد خان کھرل اکٹھ میں شرکت کے بعد واپس جھامرہ آئے اور حملے کیلئے دریا پار اترنے کی تیاری کرنے لگے لیکن دوسری طرف سرفراز کھرل اور جیوے خان مخبری کرنے رات گئے بنگلہ گوگیرہ میں ڈپٹی کمشنر کے پاس پہنچ گئے ۔۔۔۔۔
رائے احمد خان کھرل نے آدھی رات کو ملاحوں سے کہا، ساری کشتیاں ملنگ والے پتن پہ کھینچ لاؤ۔ رائے احمد خان کھرل کے ساتھی سارنگ نے کہا، رائے جی سامنے انگریز فوج توپ خانے کے ہمراہ مستعد کھڑی ہے وہ جھامرے کو گولا باری سے تباہ کر دیں گے۔ رائے احمد خان کھرل کے چند دیگر ساتھیوں نے بھی سارنگ کی رائے کی حمایت کی۔ لیکن رائے احمد خان کھرل نے سارنگ کے جواب میں مجاہدین سے کہا، سب سے پہلے میرا بیٹا اللہ داد کشتی پر سوار ہوگا، پھر میں خود کشتی میں سوار ہوں گا تا کہ کل کو کوئی یہ نہ کہے کہ رائے احمد خان نے ہمیں مروا دیا اور خود کنارہ کر گیا۔ لائل پور کے قریب سے رڑانے گاؤں کی جج قوم بھی رائے احمد خان کھرل کی حلیف تھی، اس قوم کے شیر خان جج نے کہا، رائے صاحب آپ کا لڑکا کوئی لوہے کا تو ہے نہیں جو توپ کا وار روک لے گا، ہم سارے جج اس پتن پر لڑ مریں گے اور زندگی بھر یہ ججاں والا پتن کہلائے گا، یہ کہ کے شیرے جج نے اللہ داد کو کشتی سے اتار دیا۔ 16 ستمبر 1857 کی رات جب بنگلہ پہنچ کر مجاہدین نے حملہ کیا تو غداروں کی مخبری کی وجہ سے انگریز بھی مقابلے کے لئے تیار تھا۔ انگریز فوج نے توپ خانے سے مجاہدین پر گولا باری شروع کر دی۔ کچھ مجاہدین شہید ہوگئے، اس صورتحال میں وٹو، کھرل، جوئیے، فتیانے، ترہانے، وہیوان، جج، جنجوعے، سیال اور کئی قومیں جو رائے احمد خان کھرل کے ساتھ کھڑی تھیں ان کا کہنا یہ تھا کہ انگریز کے ضلعی ہیڈکوارٹر میں لڑائی مشکل ہے، لہذا ایک بار کسی طرح انگریز کو کھلی جگہ پر لے آئیں تو پھر ہماری تلوار زنی کے جوہر دیکھنا۔
مجاہدین پیچھے ہٹ کر “نورے کی ڈل” نامی جگہ پر چلے گئے، باقی سپاہ بھی وہیں پہنچ گئی، پرانے دور میں دیسی بیج کی بدولت فصلوں کے قد انسانی قد سے اونچے ہوتے تھے، باجرہ جوار گنا چھ سے سات فٹ اور گندم چار فٹ تک اونچی ہوتی تھی جبکہ اس علاقے کی جنگلی جھاڑیاں جنہیں “ون” کہتے تھے، وہ بھی انسان کے چھپنے کیلئے کافی ہوتی تھیں۔ غلیظ ترین غاصب قوم کے بدتر از خنزیر لارڈ برکلے کی فوجیں ان کا پیچھا کرتے ہوئے کھگھراں والے پل تک جا پہنچیں لیکن انہیں کوئی مزاحمت کار کہیں بھی نظر نہیں آرہا تھا، کوئی مسافر وہاں سے گزرا تو اسے کھرل سمجھ کے پکڑ لیا گیا، دوران تفتیش اس نے بتایا کہ ہماری تو خود کھرلوں کے ساتھ دشمنی ہے، آپ مجھے چھوڑ دیں تو میں انہیں تلاش کر کے دے سکتا ہوں۔
غلیظ ترین غاصب قوم کے بدتر از خنزیر برکلے کی اجازت ملنے پر مُستا نام کا یہ بندہ سیدھا نورے کی ڈل پہنچا اور رائے صاحب کو انگریزی فوج کی ساری پوزیشن سمجھا کر واپس نکل گیا، رائے صاحب کے حکم پر مجاہدین نے فصلوں اور جھاڑیوں سے چھپتے چھپاتے برکلے کی فوج کا گھیراؤ کر لیا، اس موقع پر رائے صاحب نے مجاہدین سے کہا، میرے شیر بہادر ساتھیو بے جگری سے لڑنا۔ اس حملے میں انگریز کے نوے کے قریب فوجی مارے گئے تو انگریز پسپا ہو گیا اس کے بعد اگلا معرکہ تین دن مسلسل چلا، انگریز نے اپنی بھاگتی ہوئی فوج کو کئی بار دوبارہ لڑنے پر آمادہ کیا مگر ہر بار منہ کی کھائی، مجاہدین توپوں کے سامنے آئے بغیر پیادہ فوج اور گھوڑ سواروں کو گھات لگا کر مار رہے تھے، اس صورتحال میں انگریزی فوج نے دستی بموں کا استعمال شروع کیا مگر مجاہدین اچانک وار کرکے سرعت کے ساتھ جگہ بدل لیتے تھے، یہ جنگ نورے کی ڈل تک محدود نہیں رہی بلکہ گشکوری کے جنگل سمیت ہڑپہ تک میدان جنگ بنا ہوا تھا، جہاں جہاں تک لڑائی کی خبر پہنچتی وہاں وہاں سے لوگ میدان میں اترتے چلے گئے اور فوجی چوکیوں پر حملے کرتے گئے۔ اس وقت کے میدان جنگ کی صورتحال کو سمجھنا ہو تو اسے تین دائروں میں دیکھنا ہوگا، پہلا یہ کہ لاہور، سے پاکپتن، قبولہ، ملتان، کمالیہ، جھامرہ سے واپس لاہور تک ایک بڑا دائرہ کھینچا جائے تو یہ لڑائی کا بڑا میدان تھا جس میں سوالاکھ مجاہدین اور انگریزی فوج کی دس کمپنیاں مختلف جگہوں پر موجود تھیں، جیسے کہ لیفٹیننٹ نیوائل دریائے ستلج کے پاس کھڑا تھا اور لیفٹیننٹ چیشٹر گشکوری کے جنگل کی طرف تھا۔ اس بڑے دائرے کے اندر ایک چھوٹا دائرہ اور بنا لیں جو گوگیرہ، چیچہ وطنی، کمالیہ کے گرد بنتا ہے اس علاقے میں تیس ہزار مجاہدین اور سرکاری نفری موجود تھی، اس کے اندر ایک تیسرا چھوٹا دائرہ بھی لگائیں جو گوگیرہ، گشکوری اور نورے کی ڈل کے گرد بنتا ہے، اس مرکزی دائرے میں تین ہزار سے زائد مجاہدین اور سرکاری نفری موجود تھی اور اصل جنگ شدت کے ساتھ اس مرکزی دائرے میں ہی برپا تھی پھر باہر کے دائرے میں زرا کم اور اس سے باہر کے بڑے دائرے میں مزید کم، تاہم لڑائی تینوں دائروں میں شروع ہو چکی تھی جو رائے احمد خان کھرل کی شہادت کے بعد بھی جاری رہی۔
غلیظ ترین غاصب قوم کے بدتر از خنزیر فنانشل کمشنر تھابرن کے بقول “احمدخاں کھرل اور اس کے ساتھیوں نے تین ماہ تک ساہیوال سے ملتان تک کا راستہ روکے رکھا”۔
پنجاب میوٹنی گزٹ میں تحریر ہے کہ “یہ لوگ ڈھول پیٹتے ہوئے حملہ آور ہوتے ہیں اور بڑی بہادری کے ساتھ انگریزی کمک پہنچنے سے پہلے انگریز فوجوں سے ہتھیار چھین کر غائب ہوجاتے ہیں”۔
تھابرن لکھتا ہے کہ “یہ لوگ نڈر اور چالاک گوریلوں کی طرح کاروائیاں کرکے سرعت کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جاتے”۔

غلیظ ترین غاصب قوم کے بدتر از خنزیر میجر رابرٹس لکھتا ہے؛
“جب ہم دریا کے کنارے پر پہنچے تو باغی نے دوسری جانب کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ وہ انگریزوں کا وفادار نہیں صرف دلی کے مغل بادشاہ کے تابع ہے، جب انگریزی فوج دریا سے گزر کر دوسری طرف پہنچی تو رائے احمد خان کھرل چھاپہ مار کمانڈر کی طرح غائب ہوچکا تھا”۔
منٹگمری گزیٹئیر میں لکھا ہے کہ “احمد خان ایک دراز قد، بہادر، ذہین اور حیرت انگیز شخص تھا جس کی قیادت میں گوگیرہ جو ڈسٹرکٹ منٹگمری کا ہیڈ کوارٹر تھا جس میں پاکپتن، ساہیوال اور اوکاڑہ کے علاقے شامل تھے اس کی عوام انگریز کے خلاف جمع ہوگئی تھی”۔
تاریخ دان کیوو براؤن Cave Browne کے مطابق معرکہ گشکوری میں تین سے پانچ ہزار لوگ شامل تھے، جو قد آدم جھاڑیوں میں چھپے ہوئے تھے، چیف کمشنر پنجاب کے سیکریٹری برانڈرتھ نے لکھا ہے کہ چالیس سے پچاس میل کے ایریا میں بیس سے تیس ہزار باغی پھیلے ہوئے تھے، ایک دوسرے سیکریٹری رچرڈ ٹمپل نے لکھا ہے کہ لاہور سے ملتان تک سوا لاکھ باغی سرگرم عمل تھے، اوپر لڑائی کے تین دائرے اسی بنیاد پر بیان کئے گئے ہیں۔
مجاہدین کے پاس، نیزے بھالے، تلواریں اور چند سو بندوقیں بھی موجود تھیں، انگریزوں کا زیادہ نقصان اس وقت شروع ہوا جب مرنے والی فوج کی بندوقیں اور اسلحہ بھی مجاہدین کے ہاتھ لگنا شروع ہوا، دست بدست لڑائی میں مجاہدین بھی شہید ہوئے ۔۔ آخر دس محرم الحرام کا دن آ ن پہنچا۔ اس دن جمعہ تھا اور تاریخ تھی 21 ستمبر 1857 جب گشکوری کی جنگ میں رائے احمد خان کھرل شہید ہو گئے۔ رائے احمد خان کھرل نے دوپہر کے وقت آخری بار انگریزوں کو للکارا لیکن میدان میں کوئی حرکت نہ ہوئی، انگریزی فوج بڑی تعداد میں ماری جا چکی تھی اور باقی سہم کر ڈیڑھ کوس پیچھے ہٹ چکی تھی، مجاہدین کے دستے اپنے اپنے علاقے سے سرکاری فوج کا صفایا کر کے واپس پلٹتے گئے، رائے احمد خان کھرل نے اپنے ساتھیوں سے کہا ہم نماز کے بعد نکلیں گے اور شام تک جھامرے کی طرف اپنے خفیہ ٹھکانے پر پہنچ جائیں گے۔ رائے احمد خان کھرل نے وضو کیا اور ظہر کی نماز ادا کرنے لگے، ان کے ساتھ سردار سارنگ اور پانچ چھ دیگر مجاہدین بھی موجود تھے۔ غلیظ ترین غاصب قوم کے بدتر از خنزیر لارڈ برکلے آٹھ دس سپاہیوں کے ساتھ علاقے کا جائزہ لینے ایک بار پھر آگے بڑھا تو ایک سپاہی نے رائے احمد خان کھرل کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا، برکلے نے گولی چلانے کا حکم دے دیا، دھاڑے سنگھ، گلاب سنگھ بیدی اور کھیم سنگھ بیدی نے گولیاں چلائیں، نماز کی دوسری رکعت چل رہی تھی جب رائے احمد خان کھرل کو دو گولیاں لگیں اور وہ زمین پر آ رہے، سردار سارنگ اور باقی ساتھی بھی اس حملے میں شہید ہو گئے ک اور غلیظ ترین غاصب قوم کے بدتر از خنزیر برکلے نے رائے احمد خان کھرل شہید رح کا سر اتروا کے نیزے پر رکھا اور اپنے ساتھ لے گیا۔

سعید بھٹہ صاحب لکھتے ہیں؛
”مڑ نماز پڑھدا ہویا ہی مصلے دے اتے شہید ہوگیا، کافر جیویں پیر امام حسینؑ دا سر اتار کے لے گئے ہان نا ایویں احمد خان دا سر نیزے اتے ٹنگ کے انگریج لے گئے ہان”۔

لارڈ برکلے بعد ازاں اپنے سپاہیوں سمیت مجاہدین کے ایک حملے میں واصل جہنم ہوا۔

غلیظ ترین غاصب قوم بدتر از خنزیر انگریزوں نے مجاہدین کی ہمت توڑنے کے لئے رائے احمد خان کھرل شہید کا سر چھ دن تک نیزے پر لٹکائے رکھا اور مختلف علاقوں میں گھماتے رہے۔ رائے احمد خان کھرل شہید کے سر کے اردگرد سخت پہرہ تھا۔ سر رات کو جہاں رکھا جاتا وہاں بھی سخت پہرہ ہوتا۔ انگریز رائے احمد خان کھرل شہید رح کے سر کو برطانیہ بھیجنا چاہتا تھا۔ کہتے ہیں انگریز کا ایک مقامی سپاہی اسی علاقے کا تھا اور وہ رائے احمد خان کھرل شہید کے پاس بھی آتا جاتا تھا۔ اس کے خواب میں رائے احمد خان کھرل آئے اور کہا “میں اس دھرتی کا بیٹا ہوں لیکن انگریز میرا سر دنیا کو دکھانے کے لئے برطانیہ بھیجنا چاہتا ہے، تم میرا سر مجھے واپس کر جاؤ۔” ، سپاہی سخت اضطراب میں تھا، دوسرے اور تیسرے دن بھی سپاہی کو یہی خواب نظر آیا تو اس نے یہ خدمت بجا لانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے ایک مٹکا لے کر اس کا منہ کھلا کیا اور رائے احمد خان کھرل شہید رح کا سر مبارک مٹکے میں رکھ کے اوپر سے کپڑا باندھ کے رائے احمد خان کھرل شہید کی قبر کے پاس دفن کر آیا لیکن یہ بات اس نے رائے احمد خان کھرل کے خاندان کو نہیں بتائی تا کہ بات نکلنے سے اس کے لئے مشکل نہ بن جائے۔
رائے احمد خان کھرل شہید رح کے پوتے کو ان کے روحانی پیشوا نواب کہہ کر بلاتے تھے، ان کا کہنا تھا، اصلی نواب تو یہی ہیں۔ 1968 میں نواب علی محمد خان نے اپنے دادا رائے احمد خان کھرل شہید رح کے مزار کی تعمیر شروع کی۔ جب رائے احمد خان کھرل رح کی قبر مبارک کے اردگرد چوکھٹا کھڑا کرنے کے لئے کھدائی شروع ہوئی تو کدال ایک مٹکے پر جا لگی تو اس مٹکے کو احتیاط سے باہر نکالا گیا۔ اس میں حضرت رائے احمد خان کھرل شہید رح کا سر مبارک تھا جو 110 سال گزرنے کے بعد بھی آنکھیں، داڑھی، چہرہ سمیت صحیح سلامت اور تروتازہ تھا۔ لوگوں نے بھرپور زیارت کی، نواب علی محمد خان نے دوبارہ اپنے دادا رائے احمد خان کھرل شہید رح کا جنازہ خود پڑھایا اور سر کو جسم کے ساتھ دفن کر دیا۔

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *