ترکی اماراتی تنازع ہے کیا؟۔۔ڈاکٹر ندیم عباس

طاقت کی اپنی نفسیات ہوتی ہے، جیسے ہی کسی ملک کے پاس مالی وسائل کی بہتات ہوتی جائے اور اس کے دفاع کے لیے مضبوط فوج بھی کھڑی ہو جائے تو تنازعات کا جنم لینا اس کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور ترکی کے وسائل میں پچھلے کچھ عرصے میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس سے انہوں نے اپنے بارڈرز سے باہر دیکھنا شروع کیا ہے۔ ترکی موجودہ طاقت کے ساتھ ساتھ اپنے چھ سو سالہ ماضی کے گھمنڈ میں مبتلا ہے اور متحدہ عرب امارات اپنی دولت، امریکی حمایت اور عرب قومیت کا زعم رکھتا ہے۔ اس سب کے ساتھ ساتھ خطے کے مسلمان ممالک بین الاقوامی سازشوں کا شکار ہو کر غیر مستحکم ہوگئے اور وہاں خانہ جنگیاں شروع کرا دی گئیں۔ یہ حالات اپنی طاقت کے اظہار کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں اور ساتھ انہی حالات میں دوسرے ممالک میں قدم جمانے کا موقع ملتا ہے۔ ترکی اور متحدہ عرب امارات نے ایسا ہی کیا، جس سے ترکی اور متحدہ عرب امارات میں تنازعات نے جنم لیا۔

ترکی کے وزیر دفاع حلاسی آکر کے مطابق امارات دہشتگرد تنظیموں کی مسلسل حمایت کرکے ترکی کو نقصان پہنچا رہا ہے، لیبیا اور سیریا میں اماراتی اقدمات ترکی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے مناسب جگہ اور وقت پر مناسب جواب دینے کی بات کی ہے۔ اس کے جواب میں متحدہ عرب امارات وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ترکی عربوں کے معاملات سے دور رہے، ترکی کو کالونوازم کے دور کی زبان کا استعمال نہیں کرنا چاہیئے، اب وہ دور تاریخ کا حصہ ہے، ریاستوں کے درمیان تعلقات دھمکیوں سے نہیں بنتے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ایک سوال کا جواب جان لینا بہت ضروری ہے کہ کیا یو اے ای اپنی آزاد خارجہ پالیسی رکھتا ہے۔؟ متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی سعودی عرب کی ایک طفیلی ریاست اور امریکہ کی جی حضوری پر ہی مشتمل رہی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں چند معاملات ایسے ہوئے ہیں، جن سے یہ تاثر ابھرا ہے کہ امارات کی اپنی پالیسی ہے، جیسے یمن میں اس نے الگ سٹینڈ لیا، اپنا الگ گروپ بنایا، اسی طرح اپنی افواج بھی ایک فیصلے کے مطابق وہاں سے نکال لیں۔ ایک اور اہم بات یو اے ای نے 2018ء میں سیریا میں اپنی ایمبیسی کھولنے کا اعلان کیا، یہ سعودی اور امریکی منشا کے ظاہراً خلاف تھا۔

متحدہ عرب امارات ترکی کے مقابلے میں بار بار عرب قومیت کا ذکر کرتے ہیں تو کیا حقیقت میں بھی ایسی قوت موجود ہے؟ عرب دنیا کو بعض ماہرین ایک متھ سمجھتے ہیں، جس کے پیچھے عرب لگے ہوئے ہیں، حقیقت میں وہ سب الگ الگ ہیں۔ عرب قومیت کو ایک سیاسی نعرے کے طور پر لیا جاتا ہے، جسے جمال عبدالناصر نے خوب استعمال کیا اور بعد میں اسرائیل کے سامنے سرنگوں ہوگیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ چند ریاستیں عرب قوم پرستی اور اسلامی امہ کا نام اپنی ریاستوں کے استحکام اور اپنی خارجہ پالیسیوں کی کامیابی کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ترکی میں جب بغاوت ناکام ہوئی، اس وقت سے لے کر اب تک امارات نے ہر معاملے میں ترکی کی مخالفت کی ہے۔

ترکی اماراتی اختلاف کہاں ہے؟ اس وقت سب سے بڑا تنازع لیبیا میں چل رہا ہے، جہاں امارات خلیفہ حفتر کی حمایت کر رہا ہے۔ جو مسلسل دارالحکومت کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ خلیفہ بنیادی طور پر وار لارڈ ہے، جسے امارات نے ایک مہرے کے طور پر لیبیا میں استعمال کیا ہے۔ خلیفہ نے خود ساختہ لیبین نیشنل آرمی کے نام سے تنظیم کھڑی کی ہے، جسے عرف عام میں ایل این اے کہا جاتا ہے۔ یہ ترائی پولی پر قبضے کے لیے بار بار حملے کرتی ہے۔ اقوام کی سرپرستی میں تشکیل پانے والے قومی مفاہمت کی حکومت جسے فیاض السراج چلا رہے ہیں، اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فیاض السراج کی سپورٹ ترکی، اٹلی اور قطر کر رہے ہیں، جبکہ خلیفہ کی حمایت میں عرب امارات، فرانس، سوڈان، سعودی عربیہ اور مصر شامل ہیں۔ تیل کی دولت سے مالا مال افریقہ کے اس اہم اسلامی ملک کو ہر دو لوٹنے کوشش کر رہے ہیں۔ امارات کا کردار دیگر تمام مالک سے زیادہ متحرک ہے اور ترکی بھی اپنی فورسز براہ راست جنگ میں اتار چکا ہے، اس طرح دونوں ممالک براہ راست تنازع کے فریق بن گئے ہیں۔

امارات کو ترکی سے جو بڑا شکوہ یا خطرہ ہے، وہ ترکی کا اخوان المسلمین کی مسلسل حمایت کرنا ہے۔ سعودی عرب اور امارات کی بادشاہتوں کو جس منظم تحریک سے خطرہ ہے، وہ اخوان ہی کی ہے۔ اخوان الیکشن کی بات کرتی ہے اور یہی ان ممالک کے لیے سب سے بڑی دشمنی کی بات ہے۔ ویسے تو ترکی بھی امریکی اتحادی ہے اور اس کے سپاہی نیٹو کے پلیٹ فارم کے ذریعے امریکی مفادات کی حفاظت کرتے ہیں، مگر امارات پر امریکی نوازشات بہت زیادہ ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے تو ہر امریکی حکم پر امارات بغیر سوچے سمجھے اور اپنے مفادات کی پرواہ کیے ہوئے ہاں کہتا ہے۔ دوسرا یہ امریکی افواج کے لیے خطے کو کنٹرول کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے، جہاں سے امریکی خطے میں مداخلت کرتے ہیں۔ شہید جنرل قاسم سلیمانیؒ کو شہید کرنے والے ڈرون بھی اطلاعات کے مطابق امارات سے ہی اڑے تھے۔

ترکی اور امارات شام میں بھی مدمقابل کھڑے ہیں، ترکی شام میں براہ راست موجود ہے اور شام کے ایک بڑے علاقے پر قابض ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ عرب امارات ترکی کی سیریا میں مداخلت کا ناقد ہے۔ اس کی وجوہات ابھی ہمارا موضوع نہیں ہے، مگر یہاں بھی ترکی اور امارات مدمقابل ہیں۔ 2019ء کی ایک رپورٹ کے مطابق عرب امارات نے شام کی ترکی کے مقابل حمایت کی تھی۔ یمن میں ترکی کی پالیسی اقوام متحدہ کی پالیسی کے تابع رہی ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ ترکی اپنے پاوں ہر جگہ نہیں پھیلانا چاہتا تھا، مگر اب صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔

سیریا اور لیبیا میں ملنے والی محدود کامیابیوں اور سلطنت عثمانیہ کے گھمنڈ میں ترکی یمن میں اپنے پتے کھیل رہا ہے یا کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ زمین پر کیا صورتحال ہے، اس حوالے سے آزاد تجزیہ نگار تو مختلف رائے دیتے ہیں، مگر یو اے ای کی پروپیگنڈا سائٹس مسلسل ترکی ترکی کھیل رہی ہیں۔ اب لگ یوں رہا ہے کہ ترکی بھی باب المندب پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے۔ یمن میں ترکی الاصلاح پارٹی اور الاخوان کی حمایت کر رہا ہے اور ویسے بھی یہ اس کے فکری اتحادی ہیں۔ یمن کے صوبے شبوا میں ایک تربیتی کیمپ ترکی اور قطر کے تعاون سے قائم کیا گیا ہے۔ یہاں امارات کا کردار پہلے منصور ہادی کی حمایت تھا، پھر انہوں نے ساوتھ یمن کی علیحدگی کی تحریک چلانے والوں کو سپورٹ کیا، جنہوں نے الگ ہونے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔

ترکی اماراتی تعلقات میں سردمہری اور لفظی جنگ پاکستان کو بھی متاثر کر رہی ہے، اس کا اندازہ آپ چند ماہ پہلے بائیکاٹ یو اے ای کی مہم سے لگا سکتے ہیں، جو مسلسل کئی دنوں تک ٹویٹر پر چھائی رہی۔ یہ مہم ترکی کی کامیاب میڈیا پالیسی کی عکاس تھی کہ بظاہر پاکستان عربوں کے قریب ہونے کے باوجود یہاں اتنے بڑے پیمانے پر امارات کے خلاف کمپین چلی۔ اسی لیے سعودی عرب نے کافی عرصہ پہلے ترک میڈیا پر پابندی عائد کر دی تھی، تاکہ اپنی نوجوان نسل کو ترکی کے سیاسی ورژن سے بچایا جا سکے۔ دونون ممالک اپنے اپنے پتے بڑی ہوشیاری سے کھیل رہے ہیں، مگر زمین پر بہنے والا خون دوسرے ممالک کے عام مسلمانوں کا ہے، جن کا ان دونوں کی سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، مگر وہ ان کے اختلافات کا خمیازہ ضرور بھگت رہے ہیں۔

Avatar
ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *