مذہبی” جذبات”۔۔محمد منیب خان

بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا فرمایا۔ القرآن (۹۵:۴) یہ رب کا فرمان ہے کہ انسان کو بہترین ساخت میں بنایا گیا ۔ انسان اندرونی اور بیرونی ہر ساخت میں ہی بہتر ین ہے۔ انسان محض پیکر حُسن و جمال نہیں بلکہ مجسم حُسن خیال بھی ہے۔ انسان کاجہاں ظاہری پیکر ہے اور وہ اس کی نہ صرف نگہداشت کرتا ہے بلکہ اس کو بناتا سنوارتا بھی ہے ایسے ہی انسان کا ایک باطنی پیکرہے۔ کسی بھی انسان کا فکر و خیال اس کے باطنی پیکر کا بنیادی جزو ہے۔ جس طرح انسان ظاہری پیکر کی نہ صرف حفاظت کرتا ہےبلکہ وہ زندگی کے مختلف ادوار   میں جسمانی ارتقا کے مراحل سے گزرتا ہے ایسے ہی فکری ارتقا بھی انسان کی ساخت کا حصہ ہے۔

انسان کی ظاہری ساخت ہاتھ، پاؤں، ٹانگیں اور دوسرے سب اعضا پہ مشتمل ہے۔ ایسے ہی انسان کی اندرونی ساخت میں فکر و خیال اور جذبات کا بہت بنیادی اجزا ہیں۔ جذبات و خیالات انسان کو فکری پراگندہ بھی کر سکتے ہیں اور ظاہر میں کسی ناپسندیدہ عمل کے سرزد ہونے کا باعث بن سکتے ہیں۔ جذبات کا ملغوبہ انسان کے اندر موجود ہے، خوشی، غم، غصہ، محبت، لطافت، مراق، وحشت،جمالیات وغیرہ وغیرہ۔ جس طرح انسان ظاہری ساخت کے لیے خوبصورتی کا متمنی ہے ایسے ہی اس کو اپنے فکر و خیال کو بہتربنانے اور اپنے جذبات کو سدھارنے(tame) کا کام بھی کرنا چاہیے۔

اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس لیے جس طرح یہ ظاہری تطہیر کا متقاضی ہے ایسے ہی فکری تطہیر کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ روز اوّل سے انسان کے اندر خیر و شر کے جذبات کو رکھ دیا گیا ہے۔ لہذا دین کی روشنی میں محض اپنے اعمال کا محاسبہ ہی مطمع نظرنہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنے فکر و خیال کی نگہداشت اور تطہیر بھی اسی روش پہ کی جانی چاہیے۔ بہکے ہوئے پراگندہ خیال کے بطن سے غلط عمل کی پیدائش ہوتی ہے۔ کوئی نیکی کا عمل ہو یا کسی نیک فکر کی ترویج، جہاں یہ دوسرے کے لیے کسی بھی اذیت کاباعث بن رہے ہوں تو اس کو ایک بار پھر اسلام کے بنیادی اصولوں کی کسوٹی پہ پرکھ لینا چاہیے۔ جذبات کی رو میں بہہ کر کوئی غلط عمل کسی فکری مغالطے کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت دین کا اہم ترین جزو ہے۔ لیکن اس محبت میں کوئی ایسا قدم اٹھانا جو اسلام کے تشخص کو مسخ کر رہا ہو۔ یقیناً اس عمل بارے اور اس عمل کے محرک جذبات بارے ایک بار پھر غور تدبر کرنے سے دین منع نہیں کرتا۔ دنیا اسوقت گلوبل ویلیج بن چکی ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ  فرمانے کے بعد اس گلوبل ویلیج میں تبلیغ کی ساری ذمہ داری امت پہ عائد ہوتی ہے۔ اب یہ امت محض امت نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی ایک داعی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ لہذا دعوت وتبلیغ میں ہمارا کردار وہی ہونا چاہیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔ ہمارا صبر، تدبر اور تفکر کسی دوسرے مذہب کےپیروکار سے زیادہ ہونا چاہیے۔ لیکن یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ داعی کا رتبہ امتی کا رتبہ ہے یہ دین میں ایسا کوئی نیا حکم نہیں جاری کر سکتا جیسا کسی بھی امت کا نبی یا پیغمبر کوئی حکم صادر کر سکتا ہو۔ البتہ اللہ کے دیے ہوئے احکامات پہ عمل کرناہی امتی اور داعی کا فرض ہے۔

قومی تاریخ ہو یا اسلامی تاریخ، یہ قطع و برید سے بچی نہیں رہی۔ واقعات مختلف زاویہ نظر سے بیان کیے جاتے رہے ہیں اور اب بھی بیان ہو رہے ہیں۔ لیکن کلام الہی آج بھی ہم میں ہر طرح سے محفوظ کتاب کے طور پہ موجود ہے۔ لہذا کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے جذباتکی تطہیر اور تصحیح بھی اس کتاب (قرآن) و سنت کی روشنی میں نہ کریں۔

ہمارے جذبات کتنے ہی نیک کیوں نہ ہوں کسی کے ایمان پہ شک کرنا تعلیمات رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں۔ اسلام کے ابتدائی دورمیں چار سو منافقین موجود تھے لیکن جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل تھا وہی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ فی زمانہ توسب مسلمان لغزشوں اور خطاؤں سے بھر پور ہیں۔ اور ہم لوگوں کی صحیح باتوں میں غلط مفاہیم پیدا کر کے ان کے لیے کفر کے فتو ے بانٹ رہے ہیں۔ ہم اپنے جذبات کی رو میں بہتے ہوئے دوسرے کی زندگیوں کو اجیرن بنا رہے ہیں۔ ہم بس آپس میں جھگڑا کر رہے یہ سوچے سمجھے بنا کہ ہمیں دین حنیف کی روشنی میں اپنے فکر و جذبات کو بھی ایسے ہی بہتر بنانا چاہیے جیسے دوسرے ظاہریا اعمال کو۔۔۔اس نے انسان کو ایک ذرا سی بوند سے پیدا کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے صریحاً وہ ایک جھگڑالو ہستی بن گیا۔ القرآن (۱۶:۴) “ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے۔القرآن  (۱۷:۵۴)

محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *