آم، ساون بھادوں، جاپان اور سورج کا انڈہ۔۔شاہد محمود

کنواریاں کہتی ہیں:

راجہ کی آئے گی بارات
خوشیوں کی ہو گی برسات

کنوارے کہتے ہیں:

ہم تم ہوں گے
ساون ہو گا رقص میں سارا جنگل ہو گا

اور

سہاگنیں گنگناتی ہیں:

تری دو ٹکیاں کی نوکری میرا لاکھوں کا ساون جائے

کہتے ہیں پرانے وقتوں میں جاپان کے ایک جنوبی برفانی علاقے کیوشو پر اک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ہمارا تمھارا تو ہے خدا بادشاہ۔
تو جناب جو کیوشو کا بادشاہ تھا اک دن وہ اپنی بیویوں کی لڑائی سے تنگ آ کر سیر سپاٹے کرنے اور پنجاب کے میدانوں میں خوبصورتی دیکھنے اپنے لشکر کے ہمراہ نکلا اور منزلوں پر منزلیں طے کرتا ملتان کے نواح میں پہنچا، تو ساون بھادوں کا موسم عروج پہ تھا۔ بادشاہ کے لشکر نے ایک سر سبز مقام پر پڑاؤ  ڈالا لیکن موسم کی شدت اور حبس سے ٹھنڈے علاقے کا بادشاہ انتہائی کوفت میں تھا۔ بادشاہ نے اپنے مشیروں سے کہا کہ واپسی کا سفر شروع کرنا چاہیے کہ اس موسم سے بیویوں کی لڑائی کم تکلیف دہ ہے۔ اسی دوران بادشاہ کو گانے کی آواز سنائی دی۔ بادشاہ نے آواز کی سمت دیکھا تو ایک چرواہا جو صرف ایک دھوتی باندھے اپنی بکریاں چرا رہا تھا، کوئی پیلی سی تھیلی منہ کو لگاتا، کچھ چوستا، خوشی سے کچھ گنگناتا آر پھر یہی عمل دہراتا حبس و موسم کی شدت سے بے نیاز بکریوں کی دیکھ ریکھ میں مگن تھا۔ بادشاہ کو اس شدید حبس والے موسم میں ایک خوش باش مطمئن شخص کو دیکھ کر حیرت ہوئی۔ اس کے حکم پر اس کے کارندے چرواہے کو بلا کر بادشاہ کی خدمت میں لے آئے۔
بادشاہ نے پوچھا یہ بتاؤ  اس علاقے کا سب سے اچھا موسم کون سا ہے اور تم اتنے خوش کیوں ہو؟

چرواہا مسکرایا اور گویا ہوا: بادشاہ سلامت یہی موسم تو سب سے اچھا ہے دیکھیں ناں کیسے رسیلے آم کھانے کو ملتے ہیں اور اپنے تھیلے سے کچھ آم نکال بادشاہ کی خدمت میں پیش کئے۔ بادشاہ نے آم پہلی مرتبہ دیکھے اور اپنے خادم کو آم دھو کر پیش کرنے کا حکم دیا تو جب خادم آم لایا تو چرواہے نے کہا بادشاہ سلامت میں تو گنوار چرواہا ہوں اس لئے چلتے پھرتے آم چوستے ہوئے کھا رہا ہوں آپ اپنے خادم سے کہیں اس کی قاشیں کاٹ کر آپ کی خدمت میں پیش کرے۔ خادم بادشاہ کے حکم پر آم کی قاشیں کاٹنے لگا تو اس دوران بادشاہ چرواہے سے پوچھ بیٹھا کہ بتاؤ  تمھارے اس علاقے کا سب سے بُرا موسم کون سا ہے، چرواہے نے بُرا جھٹ جواب دیا: “یہی” ۔۔۔۔ یہ سننا تھا کہ بادشاہ کو لگا چرواہا اس کا مذاق اڑا رہا ہے۔ بادشاہ نے ناراض ہو کر اپنے کارندوں سے کہا: اس چرواہے کو درخت ساتھ باندھ دو اور اس وقت تک نہ چھوڑنا جب تک یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ موسم کے بارے میں جو کچھ اس نے کہا وہ درست ہے۔

بادشاہ کی طبعیت حبس کی وجہ سے بے چین تھی کہ اس کا خادم آم کی قاشیں لے کر اس کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ادھر بادشاہ نے رسیلے میٹھے آم کی قاش منہ میں رکھی ادھر قدرت مہربان ہوئی اور ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا آیا جس کے بعد بوندا باندی شروع ہوئی اور حبس کا زور ٹوٹ گیا اور جلد ہی ٹھنڈی ہوا کے ساتھ رم جھم بارش شروع ہو گئی۔ ام کھانے اور ٹھنڈی ہوا و بارش سے بادشاہ و اس کے لشکر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ بادشاہ نے چرواہے کو پھر بلایا اور کہا: موسم کے بارے میں تمہاری بات درست ثابت ہوئی یہ بتاؤ  کیا نام ہے اس موسم کا؟ چرواہے نے عرض کی:بادشاہ سلامت یہ ”ساون بھادوں“ ہے، اس موسم میں ”گورے کالے کا فرق مت جاتا ہے اور ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے:
”بھادوں بد رنگ، گورا چٹا ہکو رنگ“ ۔

بادشاہ مسکرایا اور گویا ہوا اس سفر میں تو میرا رنگ بھی متاثر ہوا ہے۔ البتہ جیسے میں اپنے ملک کا بادشاہ ہوں ویسے یہ پھل آم پھلوں کا بادشاہ ہے۔ آم کھلانے کی خوشی میں ہم تمھیں منہ مانگا انعام دیتے ہیں بس تم اس پھل کے کچھ پودوں کا ہمارے لئے انتظام کر دو۔ چرواہے نے ہوچھا: بادشاہ سلامت آپ کے ملک میں “ساون بھادوں” کا موسم ہوتا ہے تو بادشاہ نے کہا نہیں۔ وہاں تو سارا سال برف جمی رہتی ہے تو چرواہے نے جواب دیا عالی جاہ یہ پھل ساون بھادوں کا انعام ہے۔ آم و ساون بھادوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ برف پوش پہاڑوں میں تو یہ آم کا پودا نہیں پروان چڑھے گا۔ لیکن بادشاہ کے حکم پر اس کے مشیروں نے کچھ آم کے پودے ہمراہ لئے اور واپسی کا سفر شروع کیا اور لگے آم کے پودے کو پہاڑوں میں پروان چڑھانے کی ترکیب نکالنے اور سنا ہے کہ پھر وہ سالہا سال و نسل در نسل کے تجربات کے بعد کیوشو کے برفانی پہاڑوں میں آم اگانے میں اور آم کھانے میں کامیاب ہو ہی گے۔ دنیا کا یہ مہنگا ترین جاپانی آم “میازکی آم” کہلاتا ہے۔ انتہائی بلندیوں اور مشرق میں پیدا ہونے والے اس ام کو سورج کا انڈا بھی کہتے ہیں۔ اس کی مزید تفصیلات کے لئے آپ Miyazaki mangoes لکھ کر گوگل پر سرچ بھی کر سکتے ہیں پر گوگل والوں کو بنیادی کہانی نہیں پتا تو وہ میں نے آپ کو سینہ گزٹ کہانی سنا دی۔ سائنس و سائنسدانوں کی منطق و کہانیاں وہ جانے اور ان کام ۔۔۔۔ آپ مزے سے آم چوپیں ۔۔۔ اور عید میٹھی کریں ۔۔۔۔۔ سلامتیاں، ڈھیروں پیار اور محبت بھری پرخلوص دعائیں۔

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *