یہ نچلا حصّہ مرے بدن کا(ایک منظوم مکالمہ)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ترے لڑکپن کا شہد

اے میرے سر میں بیٹھے ہوئے تشخّص

جو قطرہ قطرہ ہی بنتا رہتا تھا میرے خلیوں کی پوٹلی میں

نمود ِ عہد شباب کی صبح کا ستارہ

وہ رزق سورج کا

اب کہاں ہے؟

مجھے تو کچھ سوجھتا نہیں ہے

مگر میں اتنا تو کہہ ہی سکتا ہوں

(جھوٹ سچ کے عذاب میں ڈوبتا، ابھرتا)

سنو ،مرے جسم میں رواں ، میرے پاک سیرت لہو، یہ قصہ

شروع کرتا ہوں میں تمہارے ہی نام سے

لو سنو یہ اپنی کتھا کہ اس میں تو تم ہی تم ہو۔۔۔

جو جسم کے میرے نچلے حصے پہ اب بھی قابض ہو

بادشاہت سمجھ کے اپنی

وہ تم ہی تھے جو شروع ِ عہد ِ شباب سے اس پہ حکمراں ہو

وہ سون رنگی ، چمکتی چِڑیا کے آشیانے کا کل اثاثہ

جو میری میراث تھی لڑکپن کی ۔۔ کیسے بچتی؟

کہ میں تو لکھ لُٹ تھا

جب لٹایا تو لُٹ گیامیرا سب اثاثہ

پکی ہوئی فصل چُگ گئیں پنچھیوں کی ڈاریں

حسیں قطاریں

دھوآں دھوآں کھیت

اُجڑے اُجڑے بریدہ ڈنٹھل ہی رہ گئے

شہد قطرہ قطرہ ٹپک گیا پوٹلی سے۔۔

سورج کا رزق

دن کے غروب ہونے سے قبل ہی صرف ہو گیا

اب دھواں دھواں ہے

جو بچ گیا ہے

وہ ایک کارِ زیاں ہے

بے رِزق خالی کاسہ ہے۔۔۔

رائگاں ہے

تھا ایک انساں میں ایک حیواں

تمہارے تن کا یہ نچلا حصہ

تو ایک حیواں تھا، غیر ناطق

جو “ہست” کی دلدلوں میں

تب تک

پھنسا ہوا ایک ایسا وحشی تھا ۔۔۔

جو ودیعت ہوا تھا تم کو

ہزاروں صدیوں کے

ارتقا میں

جمود کے ایک خاص لمحے سے

عمل “نہ ہونے” سے “ہونے” تک کا

تو اب مکمل ہی تھا، مگر اس کے بعد “ہونے ”

سے

بننے” تک کی

زقند

اک جست یا چڑھاؤ ، بلند و بالا

وہ نا رسیدہ ہبوط ِ آدم سے

یعنی حیواں کی نچلی منزل سے

اس کے سر تک ، دماغ تک۔۔۔

مادیت سے “مَیں” تک!

یہ” عینیت “تھی کہ “روحیت” تھی

مگر جب اس نے

تمہیں دلاسہ دیا کہ تم اک بشر ہو ، اک فرد، نوع ِ انساںہو

اپنی اِنسی شناخت رکھتے ہو۔۔۔مختلف ہو مویشیوں سے

تو پھر ضرورت ہی کیا تھی اس کی؟

اسے اسی طرح سونے دیتے”

کہ پاسبان ِ عوقل انسان

مجھے ذرا سوچنے دو، بھائی

کہ تم مرے تن کا نچلا حصہ ہو، جو دھرتی ماں سے جُڑا ہوا ہے

کہ میں تو اونچا ، ہوا سے کھُل کھیلتا ہوا لطافت کا ایک جوہر ہوں

توکیا لطافت میں اور کثافت میں کوئی رشتہ نہیں ہے؟ سوچو

مجھے یہ لگتا ہے کہ میرے تن کا یہ نچلا حصہ

بمعنی، “تم “، میرا نصف بخرہ

جو معصیت کے مہیب غاروں میں گر گیا تھا

تھا ایک انساں میں ایک حیواں

درست کہتے ہو، میرے ہمسر

مجھے بھی لگتا ہے، میں وہی ہوں

جسے کوئی دیو عین عہد ِ شباب میں

اپنے غار کی تیرگی میں محبوس کر گیا تھا

جسے گنہ کا گھنا اندھیرا

خود اپنےخوں میں امڈتی آتش کا رقص۔۔۔

گردش کا شور و غوغا

وہ عشق پیچاں کی بیل جیسے گُتھے ہوئے خواب

قہوہ رنگت گداز کولھوں کے ۔۔۔

لمس ابریشمی ملائم، بھرے بھرے سے گلابی ہونٹوں کا

لذتیں لہر لہر بن کر ابھرتی جھاگوں کی

اندھی کھایئوں میں ڈوب جانے کی خواہشیں

عکس جھالروں کے

ہوس کی بارش کے گرم چھینتے

وسیلے جسموں کے قرب کے، انبساط ِ تن کے

بہت ستاتے تھے

اچھے لگتے تھے

پاسبان ِ عقولِ انسان

درست ہے یہ

صحیح کہتے ہو ۔۔۔نچلا حصہ ہی اس بدن کا

جو سانجھی میراث ہے ہماری

جو ذات بھی، کائنات بھی ہے

مرا ہی اپنا

اٹوٹ حصہ تھا، میں ہی تھا، میرا اپنا “مَیں” تھا

اگر میں حیواں کی پہلی منزل سے

ارتقا کے

ہزار زینوں پہ چڑھتا چڑھتا

وجود کی ایک ایک منزل

پھلانگ کر ، عہد منصبی کے

کسی بھی آئندہ “کل” کی جانب رواں دواں ہوں

تو مجھ کو حیواں سے بُغض کیا ہے؟

کہ ارتقا کی یہ پہلی منزل

مری رگ و پے میں

جسم کے ریشہ ہائے مُو میں

رچی ہوئی ہے

بسی ہوئی ہے

یہ میرا” کل” ہے ، جو میرے “حاضر” کا” آج” بھی ہے

مرے “گذشتہ” سے آج “پیوستہ”میرا ماضی ہی

میرے تن کا وہ نچلا حصہ ہے

کہ جس کو جھُٹلا کے

جس سے ڈر کر

جسے کہیں کانٹ چھانٹ کرنے کے بعد ۔۔۔۔
نفی و رد کے تاریک چاہ میں پھینک کر میں اس

ادھورے تن کو لیے ہوئے کیسے جی سکوں گا؟

کورس

یہ نچلا دھڑ اپنے ساتھ رہنے دو

اپنا حصہ ہے، اپنا “مَیں” ہے

کہ اپنے حیواں کی پہلی منزل سے چلنے والا

کہ اپنے “انساں” کی سیڑھیوں تک پہنچنے والا

ہمارا جوہر تھا۔۔۔شہد کا قطرہ قطرہ ہم تھے

کہ اپنے حیواں سےاپنے انساں کی سیڑھیوں تک

وہاں سے آگے

وہ منصب َ نسل جو فرشتوں سے بالا تر ہے

ہماری آمد کا منتظر ہے

وہی ہمارے قدیم جوہر کے تیسرے آخری قدم کا

امین ہو گا

ہمیں خبر ہے

کہ آنے والوں کو، دشت ِ امکاں میں

اک نئے نقش پا کے ابدی وجود کا بھی!

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *