جانوروں کے جنسی استحصال کی جدلیات۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

یقیناً قارئین کی اکثریت خواہش کرے گی کہ کاش یہ تحریر نہ پڑھی ہوتی کیونکہ اِس موضوع سے متعلق حقائق خاصے تلخ ہیں۔ جبکہ معلومات کا افشاء ہونا بھی اہم تاکہ اِن قبیح امور پہ حَد جاری ہو سکے۔ امریکہ میں جانوروں کے حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق انٹرنیٹ پہ ایسے گروپ موجود ہیں جن کے ممبران کی تعداد لاکھوں میں ہے، یہ ZOOs کہلاتے ہیں، یہ نہ صرف جانوروں کے ساتھ مباشرت کے طریقے اور اُن کی آسانی کے لیے دیگر ‘مفید’ معلومات کا اشتراک کرتے ہیں بلکہ ‘جنسی تشدد’ کے لیے جانوروں کا قیمتاً لین دین بھی کرتے ہیں۔ اِس تنظیم کے مطابق انٹرنیٹ پہ ایک خاص وقت میں نو سو  سے زائد ایسے گروپ موجود و متحرک ہوتے ہیں۔

مزید دلخراشی یوں بھی ہے کہ انسانی بستیوں میں سیکس ٹورازم کے خلاف شعور و تحریک ابھی مکمل طور پر شروع ہی نہ ہوئی تھی کہ اِس کے بعد انسانوں نے باقاعدہ طور پر جانوروں کے ساتھ جنسی لُطف کشید کرنے کے لیے سیاحتی سفر شروع کر دئیے۔ مثلاً ڈنمارک نے animal sex tourism کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے اِس کے خلاف قانون سازی کی ہے۔ رائٹرز کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ ڈنمارک کے جانوروں کے معالجین کے مطابق سترہ فیصد بیمار جانور جن کا انہوں نے علاج کیا ،انسانوں کے ہاتھوں جنسی تشدد کا نشانہ بنے تھے۔ واشنگٹن کی مشہور پروفیسر جینی ایڈورڈ کے مطابق جانوروں کا جنسی استحصال کرنے والے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، گھریلو تشدد، بالغوں کی عصمت دری ، خواتین کیساتھ بدسلوکی، عوامی مقامات پہ فھاشی یہاں تک کہ قتل جیسے قبیح جرائم میں بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ جانوروں کے جنسی استحصال کی اطلاعات شاذ و نادر ہی سامنے آتی ہیں لیکن در حقیقت یہ ہماری سوچ سے کہیں زیادہ ہے اور یہ ممکنہ طور پر دنیا کے کسی بھی خطے میں ہو سکتا ہے۔ حالیہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے سات سالوں میں جانوروں کے جنسی استحصال کے الزام میں گرفتاریوں کی تعداد میں 600 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر ایسے مجرموں کی اکثریت سفید رنگت اور درمیانی عمر کے مردوں پہ مشتمل ہے لیکن حالیہ برسوں میں خواتین اور ایسے جوڑوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو اِس جرم میں ملوث پائے گئے۔ اَسی سالہ انسان کے ہاتھوں کسی جانور کا استحصال بھی اسی دنیا کا واقعہ ہے۔ جبکہ جانوروں کا جنسی استحصال کرنے والوں کی تعداد کا 28 فیصد یہ عمل ایک سے زائد بار کرتا ہے۔ نو فیصد واقعات میں جانور کی موت ہو جاتی ہے۔

جانوروں کی طرف جنسی رغبت رکھنے والوں اور اُن کا جنسی استحصال کرنے والوں کو کسی مذہب، کسی رنگ و نسل، کسی زبان و ثقافت سے جوڑنا احمقانہ کام ہو سکتا ہے۔ ٹیکساس، آسٹریلیا، ہوائی جزائر، جاپان اور فن لینڈ جیسی دنیا بھر کی دسیوں ریاستوں میں جانوروں کیساتھ جنسی فعل جرم نہیں ہے۔ جبکہ بہت سی ریاستوں نے گذشتہ ایک دہائی سے اس عمل کو جرم ماننا شروع کیا ہے۔ سنہ 2013ء کو ڈیلی میل نے ایک فیچر شائع کیا جس میں جرمنی کے جانوروں کے جنسی استحصال کے لیے باقاعدہ براتھل (چکلوں) کی موجودگی بارے بتایا گیا۔

سترویں صدی کے بعد سے خصوصاً یورپی، ہندوستانی اور جاپانی فحش نگاری میں جانوروں کے ساتھ مختلف نوعیت کی جنسی سرگرمیوں کی مثالیں موجود ہیں۔ ہندوستانی کلاسک میں ایک خوبصورت ہاتھی کے ساتھ عورت کو جنسی بنیاد پہ جوڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے یا مشہور جاپانی آرٹسٹ ہوکوسائی کی “فشرمین کی بیوی” میں ایک عورت کو بے تاب آکٹپس کے ساتھ جنسی تعلقات دکھایا گیا ہے۔ اسی طرح یونانی دیوتا زیوس کو بھی جانور کے ساتھ جنسی تعلق میں دکھایا گیا ہے۔ اسی طرح اٹلی کی ایک غار جس کی عمر آٹھ ہزار سال قبل مسیح ہے میں جانوروں کے ساتھ انسانوں کے جنسی فعل کی تصاویر موجود ہیں۔

جانوروں کی طرف جنسی رغبت یا اُن کا استعمال کرنے والوں کے نفسیاتی تجزیہ کے دوران معلوم ہوا کہ یہ لوگ جسمانی اور جنسی عدم استحکام، جذباتی اور جنسی ناپائیداری، جذباتی لگاؤ میں دشواری، کم خود اعتمادی جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ بچپن میں برے معاشرتی سلوک کا بھی سامنا کیا ہوتا ہے۔ یہ لوگ حوصلہ افزائی کے بھوکے، طمانیت کی تسکین میں تاخیر برداشت نہ کر سکنے والے جارحیت پسند ہوتے ہیں۔ جبکہ اِن کی اکثریت بے نظم و ضبط کو پسند نہیں کرتی۔ نینسی فرائیڈ کی مشہور کتاب my secret garden جس میں عورت کی جنسی نفسیات کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ اِس کتاب میں خواتین کی 190 جنسی خواہشات کا تجزیہ کیا گیا جس میں 23 ایسی خواہشـات ہیں جس میں جانوروں کی طرف رغبت ہوتی ہے۔

بہرحال جانوروں کے ساتھ انسان جنسی رغبت کیوں محسوس کرتا ہے ایک الگ سوال ہے، جبکہ جانوروں کے ساتھ انسان مباشرت کیوں کرتا ہے، پہلے سے بالکل مختلف سوال ہے۔ اس میں ملوث لوگ خود کو سامنے نہیں لاتے لہذا اُن کو ٹیسٹ کیس بنا کر تجزیہ کرنا بھی ناممکن کے برابر مشکل ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق جانوروں کے ساتھ جنسی عمل کرنے والے مردوں کی 12 فیصد تعداد اور عورتوں کی 7 فیصد تعداد ایسی ہے جنہیں مباشرت کے لیے انسانی ساتھی دستیاب نہیں تھا۔ باقی لوگوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے شوق کے مارے یہ کام کیا۔ جبکہ ایسے لوگوں کی اکثریت پرامید بھی ہے کہ دنیا کچھ عرصے کے بعد اُن کے اِس عمل کو جرم نہیں سمجھے گی۔ دنیا بھر کے ماہرین نفسیات اس بات پہ متفق ہیں کہ یہ ایک نفسیاتی عارضہ ہے۔ آیا ایسے لوگوں کو مریض سمجھ کر اُن کا علاج کرکے انکو اِس عمل سے روکا جا سکتا ہے یا اِس عمل کو روکنے کے لیے باقاعدہ قانون سازی ثمرآور ہو گی؟ یہ سوال ابھی تشنہ ہے کیونکہ یہ بحث تو ابھی شروع ہوئی ہے منطقی انجام باقی ہے۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *