چاہِ یوسفؑ۔۔ڈاکٹر اظہر وحید

قرآنِ کریم نے حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے کو احسن القصص بتایا گیا ہے۔ یہ ایک اساطیری داستان نہیں بلکہ ٹھوس اور مستند تاریخ ہے۔ یہ واقعہ اسلام ، نصرانیت اور یہودیت کی مشترک میراث ہے۔ اُردو ادب میں بہت سے استعارے یہاں سے مستعار لیے گئے ہیں۔ چاہِ یوسف سے برادرانِ یوسف تک اور زنان ِ مصر سے زندانِ مصر تک اُردو اَدب کے محاوروں اور تلمیحات کے ذخیروں کو زرخیز کرتے رہے ہیں۔ صبر ایوبؑ کی طرح گریۂ یعقوبؑ بھی اُردو ادب میں بے مثل تلمیح ہے، بچپن میں ایک شعر یاد کروایا گیا تھا
؎ صبرِ ایوب کِیا، گریۂ یعقوب کِیا
کیا کیا نہ ترے ہجر میں محبوب کِیا
چاہِ یوسف ؑ کے حوالے الطاف حسین حالی کا شعر بھی اُردو ادب میں ضرب المثل ہے:
آرہی ہے چاہِ یوسف ؑ سے صدا
دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت
آج کل سورۃ یوسف ؑزیرِ مطالعہ ہے، بحکمِ مرشد قرآن بغیر تفسیر کے پڑھتا ہوں۔ قرآن کے بطون بے شمار ہیں۔ ہر باطن کے اندر ایک اور باطن کا دروازہ کھلتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ایک جگہ پڑھا تھا کہ اس کتاب میں تمہارا تذکرہ ہے۔

ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے سورہ یوسفؑ میں رہروانِ حق، سالکانِ طریقت کا تذکرہ اپنے تمام تر اسباق کے ساتھ موجود ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی ایسی خداداد خوبی ہے‘ جو اہل ِ خاندان میں موجود نہیں، یعنی اگر آپ کسی خوبی میں یوسف مثال ہیں تو جان لیجیے کہ اپنے بھائی بندوں کے حاسدانہ رویے کا شکار ہوسکتے ہیں، عین ممکن ہے آپ کو گمنامی کے اندھے کنوئیں میں گرا دیا جائے، نظر انداز کرنا بھی چاہِ یوسف ؑمیں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ برادرانِ یوسفؑ تو ایسے ہی بدنام ہیں‘ خواہرانِ یوسف کا محاورہ غالباً اس لیے زبان زدِ عام نہ ہو سکا کہ اُس زمانے میں خواتین پسِ پردہ ہوتی تھیں، اور یوں بھی یہاں پردہ دَری نہیںٗ پردہ داری مقصود ہے۔ اپنے باپ کی توجہ حاصل کرنے کیلئے… آپ کو مرکز ِ نگاہ بننے سے روکنے کیلئے خیر خواہی کی آڑ میں آپ کو گھر سے دُور رکھا جا سکتا ہے۔ عین ممکن ہے‘ آپ کو دعوت ہی نہ دی جائے اور گھر میں یہ مشہور کر دیا کہ آپ کو مصروفیت نام کا بھیڑیا نگل گیا ہے۔ آپ کے نام پر قصداً جھوٹ بولا جا سکتا ہے۔مرشدی حضرت واصف علی واصف ؒ کی غزل کا ایک شعر ملاحظہ کریں:
اب جاں سے گزرنے کا ہے اِک مرحلہ باقی
رشتوں کی اذیت کا سفر کاٹ چکا ہوں

خاندان میں باہمی تعلقات میں شکست و ریخت کی وجہ حسد ہوتی ہے یا پھر اَنا۔۔۔۔ اَنا کے ٹکراؤ میں رشتے کچل دیے جاتے ہیں، اور حسد کی آگ فطری محبت کو ختم کر دیتی ہے ۔ حسد کے بارے میں احادیث میں درج ہے کہ حسدحاسد کی نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ یعنی حاسد نیک بھی ہو سکتا ہے، پابندِ صوم وصلوٰۃ ہو سکتا ہے، لیکن شومئی قسمت اُس کی نیکیاں اس کے حسد کی وجہ سے برباد ہو جاتی ہیں۔ لکڑی جب تک آگ سے دُور ہے، ایک پائیدار چیز قرار دی جاتی ہے، اس سے فرنیچر سے لے کر چوکھٹ اور دروازے تک تعمیر ہوتے ہیں، مخلوقِ خدا کے کام آتے ہیں اور دیکھنے میں دیدہ زیب ہوتے ہیں… لیکن آہ! آگ کی ایک لپٹ اِس قیمتی اثاثے کو دیکھتے ہی دیکھتے کوئلہ بنا دیتی ہے۔

قصہ میں درج ہے کہ بھائیوں نے قافلے والوں کے ہاتھ جناب ِ یوسف ؑ کو چند درہموں میں بیچ دیا۔ مصر پہنچنے پر عزیزِ مصر انہیں منہ مانگی قیمت دے کر  گھر لے آتے ہیں اور اپنی اہلیہ سے کہتے ہیں کہ اسے بہت عزت و اکرام سے رکھنا ، عین ممکن ہے ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں۔ باب العلم صاحب ِ نہج البلاغہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان ہے کہ جسے اپنے چھوڑ دیں‘ اسے غیر اپنا لیتے ہیں۔ یوسف ِ وقت کیلئے دیارِ غیر میں ذی مقام لوگوں کے دلوں میں مقام بنایا جارہا ہے، انہیں تاویل الاحادیث کا علم دیا جا رہا ہے، یعنی چیزوں کی حقیقت تک پہنچنے کی حکمت عطا کی جاتی ہے۔ چشمِ فلک کیا منظر دیکھتی ہے‘ وہ یوسفؑ جسے اپنے ہاں محبت کے قابل نہ سمجھا گیا‘ دیارِ غیر میں اس کی قدر دانی کا یہ عالم ہے کہ عزیزِ مصر کو عزیز ہے، اور زلیخا اس پر فدا ہوئی جاتی ہے۔ حسن ِ یوسفؑ کی جلوہ سامانی کہ مصر پہنچنے سے پہلے ہی زُلیخا کے خواب وخیال میں جلوہ گر ہے۔ کسی نوجوان نے ایک بزرگ سے کہا‘ حضرت! آج کل زلیخائیں بہت ہیں‘ مردِ دانانے جواب دیا‘ میاں ! تم یوسف بن جاؤ! سنّت ِ یوسفؑ یہی ہے کہ ” معاذ اللہ” کہہ کر دعوت کی بجائے ملامت قبول کرلی جائے۔ خواب ، خیال اور عمل کا کس قدر حسین امتزاج ہے ‘قصۂ یوسفؑ، زلیخا کی دعوت سے انکار ٗیوسفؑ کو مقامِ بالا پر متمکن کر گیا۔۔اور دوسری طرف عشقِ مجاز سے عشقِ حقیقی تک پہنچنے کی منزل زُلیخا کا مقدر ہوئی۔

سالک ِ راہ ِ حق کے راستے میں ایک اور آزمائش بھی آتی ہے۔ اسے کوئے ملامت سے گزارا جا سکتا ہے۔ پاک بازی اور راست بازی کے باوجود اُس پر کذب اور بے راہ روی کابہتان لگایا جا سکتا ہے‘ اسے جھوٹے الزام میں پابند ِ سلاسل کیا جا سکتا ہے۔لیکن وہ کوچۂ عصیاں میں آباد ہونے کی نسبت گوشۂ گمنامی میں بسر کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ بھی ریاضت کا ایک باب ہے۔ اس باب سے پامردی سے گزرنے کے دوران ہی میں اُسے ماوارئی علوم سے متصف کر دیا جاتا ہے۔ یہاں سے کرامت کا باب شروع ہو جاتا ہے۔ عوام الناس اُس کی شخصیت کی ایک نئی جہت سے متعارف ہوتے ہیں۔ چاہِ کنعان سے زندانِ مصر تک سارا سفر دراصل حکمت و دانائی اور علم سے روشناس کروانے کی حسین رُوداد ہے۔ واقعات اتنے اہم نہیں ہوتے ‘اِن واقعات سے ملنے والے نتائج اہم ہوتے ہیں ٗ جو ظاہر و باطن کی دنیا کو بدل ڈالتے ہیں۔ ایک عام آدمی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر فوراً ردّعمل پر اْتر آتا ہے۔ وہ انتقام کی راہ لیتا ہے یا پھر شکوہ و شکایت کاراستہ اختیار کر لیتا ہے۔

قدرت رکھنے کے باوجود انتقامی کاروائی سے اجتناب کرنا پیغمبروں کی سنت ہے۔ قدرت ِ کاملہ نے جناب ِ یوسف ؑ کو ودیعت کیے گئے علم و حکمت کی ایک جھلک جب شاہی ایوانوں میں بیٹھے اربابِ حل وعقد کو دکھلائی تو وہ اپنے خزانوں کی چابیاں اُن کے ہاتھ میں دینے پر مجبور ہو گئے۔ یہ سب کچھ ماورائی طریق پر ہوتا چلا گیا۔ شاہِ مصر کسی دلیل اور تبلیغ سے متاثر نہ ہوا تھا، نہ کسی جلسے جلوس نے وہاں کچھ کام کیا ٗ بلکہ بادشاہ ِ مصراپنے ہی دیکھے گئے ایک خواب کی تعبیر سننے کے اشتیاق میں اَسیر یوسف کی زلف کا اَسیر ہوا۔ اس کے خواب کا جواب موجود علم و ہنر پر دسترس رکھنے والوں کی دسترس میں نہ تھا۔ جب جناب ِ یوسفؑ کو تخت ِ اختیار پر متمکن کیا گیا تو انہوں نے اپنے الہامی علم کی تاثیر سے زمینی معاملات درست کرنے شروع کر دیے۔ آسمانی علم جب زمینی معاملات پر دسترس حاصل کر لے تو اسے انقلاب کہتے ہیں۔۔دینی انقلاب!

اختیار کی قدرت پانے کے بعد اپنے اختیار کو مزاجِ قادرِ مطلق کے مطابق استعمال کرنا ہی اللہ کا رنگ اختیار کرنا ہے… اور” اللہ کے رنگ سے بہتر اور کس کا رنگ ہو سکتا ہے”۔۔۔” لاتثریب علیکم الیوم” سنت ِ یوسفیؑ بھی ہے اور سنتِ محمدیؐ بھی۔ فتحِ مکہ کے موقع پر رسولِ رحمتﷺ نے اہلِ مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا ‘کیا تمہیں معلوم ہے آج میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں؟ مفتوحین و محجوبین نے ملتجی انداز میں کہا کہ آپؐ کی ذات کریم ہے۔ رسولِ کریمﷺ نے فرمایا کہ آج میں تمہارے ساتھ وہی سلوک کرنے والا ہوں ٗجو میرے بھائی یوسف ؑنے اپنے بھائیوں سے کیا تھا، اور وہ یہ کہ آج تمہارے لیے کوئی سزا نہیں۔ عفو درگزر کے یہ نقوشِ قدم سالکینِ طریقت کا نصابِ زیست ہیں۔
مرشدی واصف علی واصفؑ کی ایک معروف نعت کے اشعار ہیں :
جنہیں تیرا نقشِ قدم مِلا وہ غم ِ جہاں نکل گئے
یہ میرے حضورؐ کا فیض ہے کہ بھٹک کے ہم جو سنبھل گئے
تو ؐ مصوری کا کمال ہے ، تو ؐ خدا کا حسنِ خیال ہے
جنہیں تیراؐ جلوہ عطا ہوا‘ وہ ترےؐ جمال میں ڈھل گئے

فیض ِ مصطفویؐ جسے عطا ہوتا ہے، زندگی میں اس کا رویہ عام لوگوں سے مختلف ہو جاتا ہے، اس کا عمل اور ردّ عمل عام نہیں رہتے۔ وہ خوف و حزن سے آزاد تو ہوتے ہی ہیں نقوشِ قدم پر چلنے کے فیض سے جمالِ مصطفویؐ ان کے قول و کردار سے عیاں ہونے لگتا ہے۔ پس ! جسے شانِ کریمی ملتی ہے ‘ وہ معاف کرنے میں فراخ دل ہو جاتا ہے، اس کیلئے معاف کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
چاہِ یوسف ہو‘ یا پھرشعبِ ابی طالب۔۔سبق یہی ملتا ہے کہ صبر، استقامت اورتوکل الی اللہ ہر مشکل کی سبیل ہو جاتی ہے۔ چاہِ یوسفؑ سے ابھرنے والی صدا کی بازگشت ابھی تک حساس دلوں کو مرتعش کر رہی ہے… شعب ِ ابی طالب کے محصورین نے اپنے عزم اور استقامت سے رہتی دنیا تک تمام عالم ِ انسانیت کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *