• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • فلسطین کی ضخیم تاریخ کی ڈیجیٹل منتقلی کا کارنامہ۔۔منصور ندیم

فلسطین کی ضخیم تاریخ کی ڈیجیٹل منتقلی کا کارنامہ۔۔منصور ندیم

فلسطین براعظم ایشیاء کے مغرب میں بحر متوسط کے جنوبی کنارے پر واقع ہے اس علاقے کو آج کل مشرق وسطیٰ بھی کہا جاتا ہے، شمال میں لبنان اور جنوب میں خلیج عقبہ واقع ہے،جنوب مغرب میں مصر اور مشرق میں شام اور اردن سے اس کی سرحدیں ملی ہوئی ہیں۔ جبکہ مغرب میں بحرمتوسط کا طویل ساحل ہے، فلسطین کا رقبہ حنفہ اور غزہ سمیت ۲۷ ہزار کلومیٹر پر مشتمل ہے۔

فلسطین کے طبعی جغرافیائی علاقوں میں فلسطین کا طویل ساحل جو ناقورہ سے لے کر رفح تک جنوب میں پھیلا ہوا ہے، سرفہرست ہے۔ جس کا عرض 16 سے 18 کلومیٹر تک ہے، اس ساحل کے مشہور شہروں میں طولکرم، خان یونس، رملہ، عکا، یفاء، یافا اور غزہ ہیں۔

آج اس کے بیشتر حصے پر اب اسرائیل کی ریاست قائم ہوچکی ہے۔ 1948 سے پہلے یہ تمام علاقہ فلسطین کہلاتا تھا۔ اس کا دارالحکومت بیت المقدس تھا جس پر سنہء 1967 میں اسرائیل نے قبضہ کر لیا۔ بیت المقدس کو اسرائیلی یروشلم کہتے ہیں اور یہ شہر یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں تینوں کے نزدیک مقدس ہے۔ مسلمانوں کا قبلہ اوّل بھی یہی تھا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی یہاں مدفون ہیں۔ علاوہ ازیں قدس کے پہاڑوں میں سب سے اونچا پہاڑ جبل طور ہے، جس میں بیت المقدس کا علاقہ واقع ہے، مسجد اقصیٰ اور قبة الصخرہ بھی اسی شہر کی زینت ورونق ہیں۔ میدانی علاقوں میں نقب اوراغوار کے علاقے شامل ہیں، اغوار فلسطین کا مشرقی علاقہ ہے، جسے دریا اردن کاٹتا ہے اور بحر میت بھی اس کے کنارے واقع ہے، اس علاقے میں اریحانامی شہر ہے،جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا کا قدیم ترین شہر ہے۔ فلسطین کو انبیاء کی سر زمین بھی کہا جاتا ہے ۔ انبیاء کی کثیر تعداد یہیں معبوث ہوئی ہے، فلسطین کی تاریخ کو سعودی عرب کی کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے عرب یونین کیٹلاگ میں یروشلم کی تاریخ کی سب سے بڑی دستاویز تیار کی ہے۔

اب تک میسر تقریبا ً فلسطینی تاریخ کے دو لاکھ 50 ہزار صفحات کو ڈیجیٹل پر منتقل کر کے سب کے لیے قابل رسائی بنا دیا ہے۔ یہ دستاویز اب کنگ عبد العزیز پبلک لائبریری (کے اے پی ایل) کے زیر انتظام ہر ایک کے لیے دستیاب ہے۔اس کارنامے کے لیے مشرق وسطی میں اقوام متحدہ کی جانب سے فلسطینیوں کی امداد اور ورکنگ ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کے تعاون سے یروشلم کی شریعت عدالت کے 820 دستاویزی ریکارڈ حاصل کر کے کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے اسے یکجا کیا ہے۔ ہر ریکارڈ 150 سے 500 صفحات پر مشتمل ہے جس میں فلسطینیوں کا ڈیٹا بیس موجود ہے۔ عرب یونین کیٹلاگ میں محفوظ شدہ دستاویزات میں کتابوں، نقشوں اور مسودوں میں ڈھائی لاکھ صفحات سے زیادہ کی تعداد ہے۔

یہ ضخیم یادداشت یروشلم کی تاریخ کا 1528 سے لے کر اب تک کا احاطہ کرتی ہے اور اقوام متحدہ کے یو این آر ڈبلیو اے نیٹ ورک پر دستیاب ہے۔ کنگ عبد العزیز پبلک لائبریری نے عرب یونین کیٹلاگ کے توسط سے یہ مواد حاصل کرنے میں تعلیمی پروگرام کے تکنیکی ماہرین سے بھی مدد لی ہے۔ لائبریریوں کو عرب اور اسلامی ثقافت کے بارے میں معلومات بہم پہنچانے کے لیے اس نیٹ ورک کا قیام عمل میں آیا ہے۔

کنگ عبد العزیز پبلک لائبریری کا بنیادی ستون عرب اور اسلامی ورثہ ہے۔ لائبریری میں کتابوں، دستاویزات اور نقشوں کا ایک بہت بڑا ڈیٹا بیس موجود ہے۔ اس میں ’الاقصیٰ ‘ کے عنوان سے مقدس مقامات، گنبد صغری اور مسجد اقصیٰ کی نایاب دستاویزات اور تصاویر کا ایک بڑا ذخیرہ بھی شامل ہے۔

کسی بھی معاشرے کی تاریخی تصاویر وہاں کے ورثے اور عالمی طور پر آثار قدیمہ کا حصہ ہیں اور یہ کہانیاں اور کارنامے وہاں کے حالات اور تاریخی جدوجہد کے بارے میں بتاتے ہیں۔

یہ ’دستاویزات، اصولی طور پر انسانیت اور تہذیب کا مظہر ہیں۔ یہ انسانی زندگی اور اس کی ہمیشہ کے لئے بہت سی خواہشات کا اظہار کرتی ہیں۔‘ کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے اپنے مختلف ثقافتی منصوبوں کے ذریعے عرب دانشورانہ تخلیقی صلاحیتوں کی دستاویز تیار کی ہے۔

اس میں30 لاکھ سے زیادہ کتب، روزنامے، دستاویزات، مخطوطات اور نادر تصاویر کا مجموعہ جمع کیا گیا ہے۔ تاکہ یہ قدیم ’دستاویزات انسانی تاریخی اور شناخت کے خاتمے سے بچنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔
یروشلم کے پرانے شہر سے سیکڑوں تصاویر اس ڈیجیٹل ڈیٹا میں موجود ہیں، جو اس دستاویزات کی ایک اہم شکل ہے۔

یہ ایک بہترین کام ہے جس کی مدد سے فطری آفات یا انسانی تنازع کی وجہ سے ہونے والی تباہی کی صورت میں اس ورثہ کو محفوظ رکھنے کا یہ سب سے اہم ذریعہ ثابت ہوگا ۔اس میں عمارتوں کی فوٹو گرافی، سجاوٹ، لوگوں کے لباس، معاشرے کے رواج اور رنگوں کا قابل اعتماد ریکارڈ تک پیش کیا گیا ہے جس کی وضاحت دیگر طریقوں سے مشکل ہوتی۔

’بصری دستاویزات کے ساتھ تحریری اور زبانی بلاگ کو فروغ دینے عرب معاشرے اور اسلامی تاریخ کا زیادہ واضح خاکہ حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔‘ 2009 میں یونیسکو کے تعاون سے میموری آف دی ورلڈ رجسٹر میں 10 ہزار سے زیادہ پرنٹس، 85 ہزارسلائیڈز اور فلسطینی عوام کی زندگی اور تاریخ پر مشتمل 70 سے زیادہ فلمیں شامل ہیں۔بلا شبہ  کنگ عبدالعزیز لائبریری کا یہ ایک گراں قدر کارنامہ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *