تبلیغی جماعت اور خواب۔۔حافظ صفوان محمد

تبلیغی جماعت اور خواب…

.
خواب گوئی ایک فن ہے جو قدیم الایام سے چلا آ رہا ہے۔ آج کل ہر کوئی خواب سنائے چلا جا رہا ہے تو ایک ایسا انسان اپنے خواب کیوں نہ سنائے جسے خواب میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت تھانوی اور مولانا محمد یوسف کاندھلوی تک کی زیارت ہوچکی ہے اور لیڈی ڈیانا سے لے کر بے نظیر تک بھی اس کے خوابوں کو پریشان کر چکی ہیں۔ ذرا دل تھام کر سینے۔

میں نے تبلیغی جماعت کے ساتھ پہلا سہ روزہ فروری 1982 میں لگایا جب میں آٹھویں جماعت میں تھا۔ میرے والد عابد صدیق صاحب اور کئی تبلیغی بزرگوں نے اپنے بچوں کو ساتھ لے کر یہ سہ روزہ لگایا تھا جس کی تفصیلات ایک الگ مضمون میں لکھ چکا ہوں۔ یہ وہ زمانہ تھا جس کے فوراً بعد ملک کے ماحول کو سیاسیایا اور مذہبایا گیا اور 1984 کے اسلامی ریفرنڈم کا ڈول ڈالا گیا۔ اس ریفرنڈم کے زمانے ہم سکول کے بچے بزمِ ادب کے پیریڈ میں نظامِ اسلام کے نفاذ کے لیے خوب تقریریں کیا کرتے تھے اور روزانہ صبح اسمبلی میں بھی نظامِ اسلام کی برکتوں پر تقریر ہوتی تھی جس کا اختتام لب پہ آتی ہے اور سایۂ خدائے ذوالجلال پہ ہوتا تھا۔ ان دنوں مجھے خواب میں گھوڑے اور تلواریں نظر آتی تھیں اور میں سوتے ہوئے “آخری چٹان” کے ڈائیلاگ بولا کرتا تھا۔

تبلیغی بیانات میں ان دنوں تشکیل کے وقت مہدی کا لشکر تیار ہونے کی ترغیب دی جاتی تھی۔ مولانا محمد اسلم صاحب کی آواز اب بھی میرے کانوں میں زندہ ہے: “ماشاءاللہ ماشاءاللہ مہدی کا لشکر تیار ہو رہا ہے۔” مولانا کا انتقال 1984 میں ہوا تھا۔

انہی دنوں والد صاحب نے مجلس صیانۃ المسلمین کے اجلاسوں میں جانا آنا شروع کیا تو گھر میں حکیم الامت حضرت تھانوی کے مواعظ سنے پڑھے جانے لگے اور مسیح الملک مولانا مسیح اللہ خان اور عارف باللہ ڈاکٹر عبدالحئی عارف وغیرہ کا ذکر کثرت سے ہونے لگا۔ مولانا تھانوی بھی بکثرت خواب میں نظر آتے۔ حضرت تھانوی سے محبت اور ان کے خوابوں میں تشریف لانے کی ایک وجہ ان کا وہ فرمان تھا کہ “اگر کہیں معلوم ہو کہ لڑکا لڑکی میں بات بڑھ چکی ہے تو مناسب ہو تو دونوں کی شادی کرا دی جائے اور اپنی ناک کے مسئلے کی وجہ سے دو زندگیاں خراب نہ کی جائیں۔”

اس کے فوراً بعد سپاہِ صحابہ کا زمانہ آگیا۔ میں ایک جماندرو دیوبندی اور خاندانی تبلیغی جو 1980 سے لے کر 1983 تک شیعاؤں کے 10 محرم کے جلوس میں شربت پلایا کرتا تھا، سپاہِ صحابہ میں شامل ہوکر شیعہ کافر کے نعرے لگانے لگا، یہاں تک کہ ایک بار 313 سرفروشوں کے کفن پوش جلوس میں بھی شامل ہوا۔ امام خمینی کا انتقال ہوا تو وہ مجھے خواب میں جہنم میں جلتے نظر آئے۔ الحمد للہ شیعہ کا کفر واضح ہوگیا۔ جو نہ مانے وہ بھی… 😂😂

کالج کا ابتدائی زمانہ تھا۔ تراویح میں قرآن بھی سنانا، تبلیغی بیان اور شبِ جمعہ و سہ روزے اور سپاہِ صحابہ ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ تبلیغ میں وقت لگانے والے ایک بہاول پوری بزرگ جو انہی ایام میں بچوں سمیت کنیڈا “ہجرت” فرما گئے تھے، بتایا کرتے تھے کہ جس طرح قادیانیوں کو کافر قرار دلایا گیا ہے اسی طرح تبلیغی جماعت والے سپاہِ صحابہ میں شامل ہوکر پہلے شیعاؤں کو کافر قرار دلوائیں گے اور پھر قبر پرست بریلوی مشرکوں کو۔ (ان کو اس ہجرت کا حکم نبی کریم علیہ السلام نے خواب میں دیا تھا اور اونٹاریو میں سکونت کا بھی ارشاد فرمایا تھا۔) مجھ سمیت کالج کے کئی لڑکوں کو خواب میں امام مہدی بھی نظر آئے جن کے بارے میں مشہور تھا کہ کسی دیوبندی مدرسے میں پڑھ رہے ہیں۔ لوگ ڈھونڈتے پھرتے تھے کہ کوئی سید ہو جس کے باپ کا نام عبداللہ اور ماں کا نام آمنہ ہو تو اسے ابھی پکڑ کے مہدی بنا دیں۔ 20 نومبر 1979 مطابق یکم محرم 1400ھ کو خانہ کعبہ پر حملہ کرکے کئی دن عبادات بند کرانے والے منحوس جہیمان کے مہدی ہونے کے دعوے کا واقعہ لوگوں کے ذہنوں میں ان دنوں بالکل تازہ تھا۔

جنرل ضیاءالحق کے جہاز کے حادثے کے بعد جب میں 1989 میں قائدِ اعظم یونیورسٹی داخل ہوا تو رفتہ رفتہ تبلیغی رنگ چڑھنا شروع ہوا۔ پھر زکریا یونیورسٹی ملتان آیا تو یہاں تبلیغ کے رنگ میں پوری طرح رنگا گیا۔ مجھے خواب میں مولانا محمد یوسف علیہ الرحمہ کی زیارت ہونے لگی۔ میں نے یہ کیفیت اپنے والد صاحب سے عرض کی تو وہ مجھے مولانا محمد احمد انصاری صاحب کے پاس لے گئے۔ مولانا نے پورے احوال لینے کے بعد فرمایا کہ تم بزرگوں کے اقوال سنانے کے بجائے قرآن کی آیات سنایا کرو، تبلیغ میں اپنی کرامات اور بزرگوں کے واقعات تو وہ سنائے جسے قرآن نہ آتا ہو۔ میں نے مولانا کی نصیحت پہ عمل کیا اور پھر کبھی کوئی تبلیغی بزرگ میرے خواب میں نہیں آیا۔

ان دنوں تبلیغ کے بیانات میں اکثر سننے میں آنے لگا کہ تبلیغ کا کام مولانا محمد الیاس علیہ الرحمہ پر روضۂ رسول میں مراقبے کے دوران خواب میں منکشف ہوا تھا۔ ایک بار ڈاکٹر مظہر محمود قریشی کی موجودگی میں لاہور میں بھائی سلطان صاحب سے یہ سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ یہ بات غلط ہے کہ تبلیغ کے کام کی ترتیب خواب میں منکشف ہوئی ہے۔ منبر سے یہ بات نہیں کرنی چاہیے ورنہ لوگوں میں ایک غلط چیز پھیل جائے گی۔ میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ اگر تبلیغ کا کام خواب میں منکشف ہوا تھا تو اس کی ترتیب کبھی کچھ اور کبھی کچھ کیوں ہوتی ہے اور اس کے لیے ماہانہ اور ہفتہ وار مشورے کیوں ہوتے ہیں؛ اگر ایک چیز خدا کی طرف سے اتری ہے تو اُسے اپنی صورت و ہیئت میں حتمی ہونا چاہیے۔ اور خدا کی طرف سے نازل شدہ چیز پر مشورہ چہ معنی؟ کیا نمازوں کی تعداد اور نماز میں رکعتوں کی تعداد کا مشورہ روزانہ صبح کے تبلیغی مشورے میں ہونا چاہیے؟

یہ اندازاً اوائل 1997 کی بات ہے جب میں نے ملفوظات مولانا محمد الیاس علیہ الرحمہ کا انگریزی ترجمہ شروع کیا جس کے لیے اجازت مولانا محمد منظور نعمانی سے کچھ ہی عرصہ پہلے لی تھی۔ 1999 میں مولانا علی میاں سے ملاقات ہوئی تو اس ترجمے کے سلسلے میں کئی باتیں ہوئیں۔ انھوں نے مولانا الیاس کی سوانح عمری “مولانا محمد الیاس اور ان کی دینی دعوت” میں تبلیغی کام کی ابتدا کا نہایت تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے تاہم خواب والی بات کا رد نہیں لکھا۔ میرے دریافت کرنے پر انھوں نے فرمایا کہ میں نے اپنے ابتدائیے میں اس سوانح کے مآخذ کو ذکر کیا ہے اور وہی کچھ لکھا جو مواد مجھے مولانا کے خطوط اور ان کے خاندان کے اہم لوگوں سے ملا۔

رائے ونڈ کے 1997 والے سالانہ اجتماع کے دوران شدید بارش ہوئی جس پر کئی پوسٹیں اور مضمونوں میں لکھ چکا ہوں۔ اس اجتماع کے بارے میں ایک معروف مرحوم بزرگ کو خواب میں بتایا گیا کہ دہشت گردوں نے اجتماع میں بم دھماکے کرنا تھے لیکن خدا نے بارش بھیج کر ان کے ارادوں کو ناکام کیا اور کئی بم تو بارش کے پانی میں تیرتے ہوئے ملے۔ ان کا یہ خواب بہت مشہور رہا اور جگہ جگہ سنایا جاتا تھا۔ بہت لوگوں کو یہ یقین تھا کہ یہ بارش ہوئی ہی اس لیے تھی کہ اجتماع میں بم نہ پھٹیں۔

اس سے بہت پہلے 10 اپریل 1988 کو اوجڑی کیمپ راول پنڈی میں ہونے والے دھماکوں اور ان میں مرنے والے شہریوں اور شہید ہونے والے فوجیوں کے بارے میں کئی لوگوں کو خواب آئے جو بہت زور شور سے سنائے اور بے حد عقیدت سے سنے جاتے تھے۔ وجہ یہ بھی تھی کہ جن فوجیوں نے بچے کھچے بم ہٹائے اور علاقہ کلیئر کیا انھوں نے روزے رکھ کر یہ کام کیا تھا۔ دروغ بر گردنِ خواب گویان۔

بھائی عبد الوہاب صاحب کو بیان کرتے ہوئے اونگھ ہی نہیں باقاعدہ نیند آجاتی تھی اور ان کے خراٹے سارا مجمع سنتا تھا۔ یہ بات بھی سنی کہ فلاں دن عبد الوہاب صاحب بیان کرتے ہوئے سوگئے تو انھیں خواب میں نظر آیا کہ فلاں فلاں دہشت گرد رائے ونڈ مرکز میں بم دھماکوں کے لیے آگئے ہیں۔ وہ فوراً جاگے اور ان لوگوں کو بموں سمیت گرفتار کرا دیا۔

ڈاکٹر مظہر محمود قریشی اور ڈاکٹر محمد نواز صاحب وغیرہ اس قسم کی تبلیغی کارگزاریوں سے سخت جزبز ہوتے تھے کہ فلاں کو خواب میں پیسے نظر آئے یا فلاں کو خواب میں اشارہ ہوا کہ فلاں شخص کی مدد کی جائے، یا فلاں جماعت کے لیے غیب کے خزانوں سے کھانے اترنے لگے۔ وغیرہ۔ میں یہی سوچتا ہوں کہ اگر اس قسم کے خواب پیٹ کی خرابی یا دماغی خلل کی وجہ سے نہیں آتے بلکہ خدا کی طرف سے آتے ہیں تو کیا خدا اپنی مخلوق کا یا روپوں پیسوں کا محتاج ہوگیا ہے کہ فلاں فلاں کام کے لیے اتنے اتنے پیسے فلاں کو دیے جائیں؟

ایک بڑے تبلیغی مرکز میں ایک معروف عالم نے تفصیلی خواب سنایا کہ ہماری جماعت آبادی سے بہت دور تھی۔ ہمارے پیسے گم گئے۔ بہت پریشانی ہوئی۔ ہم نے صلوٰۃِ حاجت پڑھی۔ امیر صاحب نے بہت لمبی دعا کرائی۔ ان کو خواب آیا کہ فلاں درخت کے پاس رقم پڑی ہے۔ جتنی آپ کی تھی اتنی لے لیں اور باقی رہنے دیں۔ ہم لے آئے۔ بعد میں جا کے دیکھا تو وہاں کچھ نہ تھا۔

واضح رہے کہ تبلیغ کے کام کو معجزوں سے جوڑنا غلط ترتیب ہے۔ مولانا محمد الیاس دعا فرمایا کرتے تھے کہ یا اللہ اس کام کو معجزوں کرامات کی بنیاد پر مت چلانا۔ خواب میں کسی کو فلاں بندہ نظر آیا کہ اس کی مدد کرو یا فلاں جگہ رقم پڑی ہے اسے اٹھا لو، تو یہ خواب اگر فی الواقع نظر آیا بھی ہے تب بھی اس پر عمل ناجائز ہے۔ صرف نبی کا خواب حجت ہے، بڑے سے بڑے امتی کا خواب بھی حجت (یعنی کسی عمل یا شہادت کے لیے دلیل) نہیں ہے۔ بالفرض کہیں رکھی رقم کا کشف ہو بھی گیا ہے تب بھی چونکہ وہ رقم آپ کی ملکیت نہیں ہے لہٰذا استعمال تو دور کی بات، شرعًا تو آپ اسے چھو بھی نہیں سکتے۔

ویسے ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خواب میں پیسوں کا پتہ خدا نے صرف تبلیغی جماعت والوں کو کیوں بتایا، کروڑوں غریبوں سے خدا کو کیا بیر ہے کہ ان کی جائز ضرورت پوری نہیں کرتا؟

خوب یاد رکھنے کی بات ہے کہ بنیادی اسلامی عقائد سے متصادم اس قسم کے خواب سنانے والے اور ان کا تذکرہ کرنے والے لوگ سخت بھول میں مبتلا ہیں اور سہل انگار نکھٹوؤوں کو مزید بے عملی کی تربیت دیتے اور اس کی ذہن سازی کرتے ہیں۔ یہ لوگ تبلیغ کے بنیادی کلام “خدا سے سب کچھ ہونے کا یقین” کی نفی کرتے ہیں۔ غضب خدا کا، سنت تو یہ ہے کہ رسولِ خدا کو جب بھی ضرورت پڑی تو دعا مانگنے کے بعد اولًا اپنے پاس سے کچھ کیا یا کسی سے قرض لیا نیز ضرورت اجتماعی تھی تو چندے کی اپیل کی، جب کہ یہ لوگ دعا مانگ کر خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ حضرت علی کے گھر میں ضرورت پیدا ہوئی تو آپ نماز و دعا کے بعد گھر سے تلاشِ معاش میں نکلے تھے نہ کہ خواب دیکھنے کے لیے سوگئے تھے۔

مجھے تو وہ بہت بڑا مولوی نہیں بھولتا جو حرمِ کعبہ میں بیٹھ کر ان شاءاللہ تک کہے بغیر یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ پاکستان میں بہت خیر و برکت نازل ہوگی۔ اب چونکہ تبلیغی مولوی جھوٹ نہیں بول سکتا اور نہ اپنے پاس سے کچھ کہتا ہے اس لیے یہی کہنا مناسب ہوگا کہ حضرت نے یہ بات انورٹڈ کاماز میں ارشاد فرمائی تھی ورنہ چیزوں کی قیمتیں دوگنا ہوجانے کو خیر و برکت کہنا فتورِ دماغی کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے؟

واضح بات ہے کہ دین مکمل ہوچکا ہے اور اب صرف قرآن و سنت باقی ہے۔ اگر کسی بھی شخص کو آنے والا خواب کوئی شرعی حجت ہوتا تو حضرت عمر کو خواب میں محروم الارث کا اور آیاتِ رجم وغیرہ کی خبر کر دی جاتی۔ اگر فلاں حضرت کو خواب میں فلاں حضرت آکر مدرسے کی جائیداد کی تقسیم کا حکم دے سکتے ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن میں وراثت کے احکام اب منسوخ ہوگئے ہیں؟

واضح رہے کہ یہ بہت بڑی جرات ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ اسے یا فلاں کو خواب میں فلاں شخص آیا ہے اور اس نے یہ یہ کرنے کو کہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا خدا اپنی مخلوق کے لیے کوئی آسانی پیدا کرنے یا رہنمائی دینے کے سلسلے میں فلاں شخص کا محتاج ہوگیا ہے؟ کیا فلاں شخص کو خواب میں کوئی بات بات بتاکر خدا نے اس کے بطور پیغام بر مبعوث ہونے کا عملی اظہار نہیں فرما دیا؟ اور اگر خدا نے فلاں بیماری یا فلاں وبا کا کوئی علاج کسی شخص پر خواب میں نازل کیا ہے تو یہ صرف 15 فیصد مسلمانوں کے لیے کیوں کیا ہے، کیا خدا نے اپنی 85 مخلوق کو بے آسرا چھوڑ دیا ہے؟ اگر خدا نے اب بھی خواب ہی کے ذریعے انسانیت کی رہنمائی کرنی ہے تو اِس خواب کے لیے فلاں فلاں مسلک کے مولوی کا یا کسی ٹٹ پونجیے کا انتخاب کیوں، کیا ٹرمپ خدا کا بندہ نہیں ہے اور کیا یہ خواب اُس کو نہیں دکھایا جاسکتا تاکہ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے پوری دنیا کی انسانیت کو یکساں فائدہ ہو؟

خواب اگر نبی کا ہے یا قرآن میں لکھا ہے تو وہ حجت ہے جیسے قربانی سے متعلق حضرت ابراہیم کا خواب ورنہ ہر انسان کا خواب ایک ذاتی واردات ہے جس کا تعلق صرف ایک انسان سے ہے اور وہ وہی ہے جس نے خواب دیکھا۔ اگر کسی کو بہت سچے خواب بھی نظر آ رہے ہیں تو یہ اس کی اپنی کیمسٹری ہے جس کی بنیاد پر کوئی شرعی یا فقہی حکم یا قانون نہیں بنایا جاسکتا اور نہ کوئی فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ شدید کنسرن یا تعلق کی وجہ بیوی بچوں یا ماں باپ وغیرہ سے متعلق کچھ نظر آجائے تو الگ بات ہے ورنہ یہ بات ممکن نہیں کہ خدا کسی سے اس کی رعیت کے سوا کسی کا سوال کرے۔ کسی کو پوری قوم یا ساری انسانیت کے لیے کوئی ہدایت کس طرح دی جاسکتی ہے جب کہ اس سے اس کا سوال نہیں ہونا؟ دوسروں کے لیے استخارہ کرنے والے جھوٹے بھی یہیں سے پکڑے جاتے ہیں۔ لوگوں کو جھوٹ بولتے شرم نہیں آتی کہ خدا نے انھیں فلاں کام کہا یا پیغام دیا ہے، یا پھر یہ Hallucinations ہیں۔ دونوں صورتوں میں ایسے لوگوں کے سائے سے بھی بچنا چاہیے۔ حد نہیں ہوگئی کہ خدا کو اپنی بات پہنچانے کے لیے فلاں مسلک کے فلاں شخص کی ضرورت پڑگئی ہے۔ خدا نہ ہوا، نعوذ باللہ فلاں مسلک کا سٹی ناظم ہوگیا۔

القصہ میر باقر علی داستانگو کے بعد میر شاطر علی خوابگو نہ صرف پیدا ہوا ہے بلکہ کثیر الاولاد بھی ہے۔ ایک انڈسٹری کھلی ہوئی ہے اپنی مرضی کے خوابوں کی تعمیر اور ان کی من پسند تعبیر کی۔ آرڈر پہ مال بنوائیے اور تھوک کے حساب سے بیچیے۔ ایکسپورٹ کوالٹی اسلامی خواب صرف یہیں دستیاب ہیں۔

اس موضوع کو اس لطیفے پہ ختم کرتا ہوں جو نجم السحر نے کل سنایا۔ کہتی ہے کہ ہم جب چھوٹے تھے تو ایک مرتبہ ہماری کزن نے ہم سے کہا کہ قربانی سے پہلے والی رات میں قربانی کے جانور کو خواب میں چھریاں نظر آتی ہیں۔ ہمیں بڑی حیرت ہوئی مگر ہم چونکہ اچھے بچے تھے اس لیے سنا اور مان لیا اور چپ ہوگئے۔ یہی بات جب آج ہم نے اپنے بچوں کو بتائی تو تیسرے نمبر والا ارحم بولا: ماما آپ کو یہ بات بکرے نے بتائی؟

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *