شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر جون فاطمی

SHOPPING
speciaal sale
SHOPPING

از روئے قرآن یہ بات ہر شبے سے مبرا ہے کہ دین میں نہ تو جبر کی گنجائش ہے اور نا ہی کسی انسان کے قتل کا کوئی جواز موجود ہے( مگر یہ کہ ریاست کی قائم کردہ عدالت کسی سنگین جرم پر کسی شخص کو سزائے موت دے )۔

اب آتے ہیں حالیہ قتل کے واقعے کی جانب ۔۔ حالیہ قتل لا قانونیت و مذہبی جنونیت کی بد ترین مثالوں میں سے ایک ہے جس کو عقل و شعور کے کسی بھی منطقی زاویے سے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا ۔۔۔

یہاں یہ نکتہ قابل فکر ہے کہ رحمت اللعلمین کے مصداق ختمی المرتبت حضرت محمد ص کے اسوہ کامل کی روشنی میں بھی ایسے کسی واقعہ میں
قتل کا نہ تو کوئی ثبوت موجود ہے اور نہ ہی کوئی جواز ۔۔۔ ایسے میں ملا پرست احباب جو روایات پیش کرتے نظر آتے ہیں ان میں سے زیادہ تر ضعیف ہیں اور باقی مانندہ پر علما و محققین و محدثین کی آرا میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔۔۔

لہٰذا اگر کوئی گستاخ هو ، زندیق هو ، مرتد هو یا کوئی بھی اسلام مخالف نظریہ رکھتا هو ، تو کسی طور بھی کسی عام مسلمان کو اس کے قتل کا حق حاصل نہیں ہے مگر یہ کہ اسلامی ریاست کے زیر انتظام عدالت مذکورہ معاملے میں کوئی فیصلہ صادر کرے ۔۔لہٰذا علم دین ، عامر نزیر ، ممتاز قادری سمیت حالیہ خالد بہر حال ماورائے عدالت قتل کے سنگین جرم کے مرتکب ہوئے ہیں

اب ذی شعور مسلمانان پاکستان سے سوال یہ ہے کہ کیا رحمت اللعلمین ، خاتم النبین حضرت محمد ص آج ہمارے درمیان موجود ہوتے تو مذکورہ بالا اشخاص کے ایسے اقدامات پر مسرت کا اظہار فرماتے یا پھر برہم هو کر اس لا قانونی کارروائی پر ان اشخاص پر حد جاری کرتے ؟

یقیناً و لاریباً وہ بعد الذکر رویہ ہی اختیار کرتے ۔۔

مگر افسوس صد افسوس کہ ہمارے بظاہر اعلی تعلیم یافتہ احباب یہاں جس جہالت ، لا علمی ، بے شرمی و بے غیرتی سے اس ماورائے عدالت قتل کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں یہ خطرناک حد تک پریشان کن بات ہے جو ماضی کی طرح مستقبل میں بھی مذہبی جنونیت کو ہوا دے کر معاشرے میں عدم توازن پیدا کرنے کا سبب بنے گی

SHOPPING

جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *