• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • توہینِ رسالت، اسلام ، قانون اور ہمارے رویے۔۔ڈاکٹر محمد شہباز منج

توہینِ رسالت، اسلام ، قانون اور ہمارے رویے۔۔ڈاکٹر محمد شہباز منج

کوئی کمزور و نحیف نظمِ ریاست و حکومت بھی ایسا نہیں ہوگا ، جس میں متاثرفریق کو ملزم سے از خود نپٹنے کی اجازت دی گئی ہو؟کوئی بھی نظم کسی بھی درجے میں اس کی اجازت دے کر ایک دن بھی نہیں چل سکتا، اسلام تو سب سے بڑھ کر اصول و ضوابط اور قانونی تقاضوں کا لحاظ رکھنےکا دعوے دار ہے۔صاف بات ہے کہ متاثرفریق کا ازخود انصاف لینا اور ریاست و قانون کا اسے انصاف دینا ایک دوسرے کی ضد ہیں۔اگر متاثر فریق کو از خود انصاف لینے کی اجازت دے دی جائے ،تو نظم و قانون ایک بے معنی شئے ہو جائے گی ۔جو شخص متاثر ہو گا وہ خود ہی ظالم سے نپٹ لے گا ۔ یہ چیزکبھی انصاف نہیں لا سکتی! مظلوم بدلے کے وقت ظالم بن جاتا ہے۔ قبائلی معاشرت میں بدلے اور انصاف کے حصول کے اسی نوع کے طریقے رائج رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ان میں مدام تباہیاں اور جنگیں رہیں ،اور کبھی امن کی زندگی میسر نہ آ سکی۔ان تباہیوں ہی نے لوگوں کو قائل کیا کہ کہ نظم و قانون اور ریاست و حکومت ہونی چاہیے، جو غیر جانبداررہ کر لوگوں میں ظلم کے خاتمے اور انصاف کی فراہمی کے لیے کام کرے ۔

ہمارے ملک میں توہینِ رسالت پر سزائے موت کا قانون موجود ہے۔اس کے ہوتے ہوئے کسی کو یہ حق کسی طرح نہیں پہنچتا کہ وہ توہینِ رسالت کے ملزم کو از خود سزائے موت دیدے۔کہا جاتا ہے ، قانونی تقاضے پورے نہیں ہوتے، عدالتیں کوتاہی کی مرتکب ہیں، لوگوں کو بروقت انصاف نہیں ملتا! اگر قانون کو ہاتھ میں لے کر خود انصاف لینے کے لیے یہ جواز ہے، تو اس شخص کے لیے کیوں نہیں جس کے باپ،بھائی،بیٹے وغیرہ کو ظلماً قتل کر دیا گیا، اوروہ عدالتوں میں انصاف کے لیے رلتا پھر رہا ہے! وہ کیوں نہ اپنا حساب خود چکا لے؛وہ لوگ کیوں مجرم ٹھہرائے جائیں جو اپنے اہلِ خانہ اور بچوں کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ریاست کا قانون ماننے سے انکار کر دیں اورریاستی اداروں ،فورسز اور اپنےمزعومہ ملزموں سے خود بدلہ لینا شروع کر دیں۔ یہ ٹی ٹی پی وغیرہ گروہ اسی دعوے کے ساتھ نظام کے مقابل کھڑے ہوئے تھے کہ یہ نظام انصاف فراہم نہیں کرتا، ریاست کی طرف سے لوگوں پر ظلم کیا جاتا ہے، لہٰذا ہم اسلامی اصولوں کے مطابق انصاف کو یقینی بنانے اور اسلامی نظام کو نافذ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں، سوال یہ کہ پھر ایسے لوگوں کا عمل اور ان کو سپورٹ کرنا کیوں کر غلط قرار دیا جا ئے؟ ان کے حق میں یہ دلیل کیوں نہیں دی جا سکتی کہ انھوں نے اسلام کی روشنی میں ریاست کی  بے انصافی کے خلاف حق کا آوازہ بلند کیا ؟

اگر عدالتی پروسیجر میں پڑنے کے سبب بڑے او ر با اثر ملزموں کے اپنے اثرو رسوخ کی وجہ سے سزا سے بچ رہنے کے اندیشے کے تحت توہینِ رسالت کے ملزم کو ذاتی حیثیت میں قتل کرنا جائز کہا جائے تو بااثر قاتلوں اور ظالموں کے ٹرائل میں پڑ کر چھوٹ جانے کے خدشے کی وجہ سے ایک مقتول کے غریب اور بے سہاراورثا اور مظلوموں کے اس سے خود انصاف لینے کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کو کس دلیل کی بنا پر ناجائز کہا جائے گا؟

کہا جاتا ہے ججوں کے انصاف کرنے کی کیا گارنٹی ہے؟ وہ مختلف مصلحتوں وغیرہ کے تحت ملزم کو چھوڑ دیتے ہیں۔چلیں معاملے کے نسبتاً زیادہ جذباتی پہلو کے پیش نظر ہم یہاں یہ بات نہیں کرتے کہ ایسا تو دیگر بھی بہت سارے کیسوں میں ہوتا ہے ، وہاں متاثر فریق کو قانون ہاتھ میں لینے پر معاف کیوں نہ رکھا جائے! ہماری عرض یہ ہے کہ کیا ہمارے ملک کے جج مسلمان نہیں اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے ویسی ہی عقیدت و محبت کے حامل نہیں، جس طرح کوئی بھی مسلمان ہو سکتا ہے ۔کیا وہ توہینِ رسالت ثابت ہونے پر بھی ملزم کو قانون کے مطابق سزا دینے پر تیار نہیں ہوں گے! اور بالفرض وہ سزا دینے سے جان بوجھ کر گریز کرتے ہیں، تو انھیں کیا اللہ کے حضور پیش نہیں ہونا، اور اپنے اعمال کا حساب نہیں دینا! مزید برآں اگر کوئی جج ملزم کو چھوڑ دیتا ہے، تو مدعی کا کوئی قصور نہیں ۔اس کا کام ایک قانونی نظم کے اندر معاملے کو قانون کے نوٹس میں لانا اور اس کے ثبوت پیش کرنا تھا، فیصلہ کرنا نہیں۔وہ شرعی اعتبار سے اپنی استطاعت اور دائرہ  اختیار سے باہر کی چیز کے لیے ذمہ  دار ہی نہیں اور نہ شرعا ً اس سے اس بابت سوال کیا جا ئے گا کہ فلاں شخص کو اگر عدالت نے سزائے  موت نہیں دی تھی تو تم نے کیوں نہیں دی ؟اپنے دائرہ استطاعت میں اس کی جو ذمہ  داری تھی وہ ادا کر چکا ، اور اللہ نے چاہا تو حشر کے دن اس کا اجر پائے گا۔وہ اس وجہ سے بالکل گنہگار نہیں کہ اس نے توہین کے ملزم کو قتل کیوں نہیں کیا ؟ نہ ہی معاشرہ اس کے لیے گنہگار ہے۔اس فرد اور معاشرے کاکام معاملے کو ریاست اور عدالت کے نوٹس میں لانا تھا۔اب معاملہ حکومت و عدالت کے ساتھ متعلق ہو گیا ہے ،جج نے اگر فیصلہ جان بوجھ کر غلط دیا ، تواللہ کی عدالت سے اس کی سزا پائے گا اور اگر اس کی تحقیق میں ملزم مجرم ہی ثابت نہ ہوا، تو اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا ،چاہے وہ ملزم فی الواقع مجرم ہی کیوں نہ ہو ۔اس لیے کہ جج کا کام ثبوت اور ظاہر کے مطابق فیصلہ کرنا ہی ہوتا ہے۔اورحدیث میں رسول اللہ ﷺ نے واضح فرما دیا ہے کہ قاضی کا ملزم کو چھوڑ دینے میں غلطی کرنا اس سے بہتر ہے کہ وہ سزا دینے میں غلطی کرے۔اگر ملزم فی الواقع مجرم ہو ، لیکن وہ ہوشیار و چالاک ہو اور قانون کو طرح دے جائے تو بھی فیصلہ ظاہر کے مطابق ہی ہو گا، ملزم عدالت سے چھوٹ جائے گا، اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہو جائے گا۔

مشہورحدیث ہے کہ تم میں سے دو لوگ میرے پاس اپنے معاملے کو فیصلے کے لیے لاتے ہیں ۔ایک بڑا چرب زبان ہے اور اپنی چرب زبانی کی بنا پر مجھ سے بغیر حق کے فیصلہ اپنے حق میں کروا لیتا ہے، تو وہ یہ مت سمجھے کہ عنداللہ بھی چھوٹ گیا ہے ،اس نے دوسرے کا حق مار کر اپنے پیٹ میں آگ بھری ہے۔اس حدیث سے واضح ہوتا کہ جج کو فیصلہ ظاہری شواہد پر دینا ہوتا ہے۔اسےجان بوجھ کر کبھی غلط  فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، لیکن ہر کیس میں اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ درست فیصلہ ہی کرپائے ۔ایسی صورت میں معاملہ اللہ کی عدالت میں پہنچ جاتا ہے۔لیکن فیصلہ نافذ وہی ہوگا جو عدالت نے کر دیا ہے۔ہاں اگر متعلقہ عدالت سے بڑی عدالت موجود ہو تو وہاں اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

حالیہ پشاور واقعے سے متعلق بعض ویڈیو پیش کی جا رہی ہیں، کہ دیکھیں جی مقتول نبوت کا دعوی ٰ کر رہا ہے اور خود کو ظلی ، بروزی نبی کہہ  رہا ہے، تو اس میں ثبوت تو واضح ہے، لیکن یہاں پھر وہی غلطی ہے کہ ویڈیو دیکھ کر یا کسی بھی قطعی سے قطعی ثبوت کے باوجود آپ خود فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں ، ان سارے دلائل کے ذریعے عدالت ہی کو قائل کرنا ہوگا، عدالت جب تک قائل نہیں ہوتی ، جتنے بھی مرضی ثبوت ہوں ، ملزم مجرم قرار نہیں پائے گا۔ ذراکسی ایسے کیس کو دیکھیے کہ کسی کے عزیز از جان رشتے دار کو کوئی شخص اس کے سامنے مار دیتا ہے ، اس کے پاس ویڈیو بھی موجود ہے، تو کیا وہ اسے خود قتل کر سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں! اسے عدالت ہی کو قائل کرنا پڑے گا۔ مزید برآں پشاور والے ملزم کے حوالے سےیہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس نے توبہ کر لی تھی، اور اس کی توبہ کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے۔ ا ب اس کی کون سی بات اور کیوں قبول کرنی ہے؟ اس کو مسلمان تصور کیا جائے یا گستاخ وغیرہ؟ عدالت کو ہر پہلو دیکھنا ہوتا ہے، لیکن جذباتی لوگوں اور دین کے نادان دوستوں کے سامنے ایک ہی پہلو ہوتا ہے، اور وہ اسی پر خود فیصلہ کرنے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ جو بھی صورت ہو ہمارے نزدیک یہ بات شریعت کی رو سے بالکل واضح   ہے کہ  ملزم کا جرم عدالت ہی نے طے کرنا ہے، اور فیصلہ بھی اسی کا نافذ ہوگا ، چاہے وہ آپ کے نزدیک غلط ہی کیوں ہو۔

مدعی کے مسلمان اورایک غیر مسلم کے مقابلے میں متعلقہ مقدمے میں سچا ہونے کے باوصف فیصلہ اس کے خلاف آنے سے شریعت کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی ، نہ ہمارے اسلاف کو ہوتی تھی ،آج کے حاملین ِ شریعت کو بھی پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ہر آدمی سے اس واقعے سے واقف ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اپنے زمانۂ خلافت میں یہودی نے جب آپ کی زرہ چرائی تھی اور معاملہ آپ کے قاضی کے سامنے پیش ہوا تھا، تو قاضی کے فیصلے پر آپ کا ردعمل کیا تھا؟ قاضی نے کہا تھا کہ حضرت علی کے پاس ثبوت ناکافی ہیں، لہٰذا فیصلہ یہودی کے حق میں دیا جاتا ہے۔ اب دیکھیے اس بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا کہ حضرت علی یہودی کے مقابلے میں جھوٹ بول رہے ہیں !قاضی کو بھی معلوم تھا کہ حضرت علی جھوٹ نہیں بول سکتے۔پھر بھی فیصلہ اس نے یہودی کے حق میں دے دیا۔ مزید دیکھیے، اپنا ہی قاضی درست اور سچا ہونے کے باوجود فیصلہ خلیفہ کے خلاف دے رہا ہے، ہمارے عاشقانِ رسول وصحابہ ہوتے تو قاضی کو وہیں قتل کر دیتے کہ یہودی کے مقابلے میں شیرِ ِ خدا کو جھوٹا سمجھ رہے ہو، لیکن شیرِ خدا کا ردعمل کیا تھا؟ آپ نے فیصلے کو قبول کر لیا کہ عدالت نے اپنی تحقیق میں جو سمجھا ہے ، وہی نافذ ہوگا ، چاہے میرے نزدیک یہودی جھوٹا ہی ہے۔ گویا فیصلہ درحقیقت غلط تھا ، لیکن عدالتی اصول کے مطابق یہ فیصلہ نہیں ہو سکتا تھا، لہٰذا آپ نے قانون  کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے ہی قاضی کا اپنے خلاف فیصلہ جو فی الواقع درست بھی نہیں ،خوش دلی سے قبول کر لیا۔ یہ ہے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے والوں اور اسلام کے ہیروز کا رویہ، اب اس کا آج کے نام نہاد محبان و غازیانِ اسلام کے رویوں سے موازنہ کر کے آپ خود دیکھ لیں۔
ایک اور بات لوگ اکثر کہتے ہیں کہ جی دیکھیں عدالتیں سزا ہی نہیں دیتیں، اب تک کتنے ملزموں کو سزا دی گئی ۔ یہ بھی شریعت کے منشا سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ ایسے لوگوں کے نزدیک شریعت کو لوگوں کو سزائیں دینے کا شوق ہے، حالانکہ شریعت کا منشا اس کے برعکس ہے؛ وہ لوگوں کو جہاں تک ممکن ہوسزا سے بچانا چاہتی ہے۔ اگر شریعت کو ملزموں کو ہر حال میں سزا دے کر ہی خوشی ہوتی ، توملزم کے لیے صفائی،ثبوت اور گواہیوں وغیرہ کا جھنجھٹ رکھا ہی نہ جاتا؛ بس کسی پر الزام سامنے آتا اور اس پر سزا نافذ کر دی جاتی۔شریعت کا تو منشا واضح طور پر اس کے الٹ دکھائی دیتا ہے۔اس نے سزاؤں کے معاملے میں ایسی شرطیں رکھ دیں ہیں کہ بعض دفعہ جرم کا ثبوت محال لگتا ہے۔مثلاً زنا کے معاملے میں ثبوتِ جرم کے لیے شرط ہے کہ چار لوگوں نے سرمے دانی میں سلائی کی مانند یہ فعل ہوتے دیکھا ہو، اور وہ اس کی گواہی دیں۔سوال یہ ہے کہ قرائن کے پیش نظر ایک دو یا تین کی گواہی ماننے میں کیا حرج تھا؟ مثلاً ایک دو یا تین  تک لوگوں نے اور وہ بھی سرمے دانی میں سلائی کی طرح فعل ِزنا ہوتے دیکھا ہو، اور وہ گواہی بھی دیں تو بھی شرعاً ملزم کو سزا نہیں دی جا سکے گی۔ سوال یہ ہے کہ اس سے کیا جرم ثابت نہیں ہو سکتا؟ بالکل ہو سکتا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ شریعت نے شرائط کو اتنا سخت کیا ہی اس لیے ہے کہ ملزم کا معاملہ حتی الامکاں اللہ کے سپرد ہو جائے۔شریعت کو یہ امر پسند نہیں کہ زنا کے ملزم لائے جاتے رہیں اور شریعت ہر وقت کوڑے برساتی اور سنگسار کرتی رہے!اس کی خواہش ہے کہ لوگ اس کی تعلیمات کے اخلاقی و روحانی طور پر قائل ہوں نہ کہ سزاؤں سے ڈر ڈر کے۔ شک کی بنا پرحد کے ٹلنے کا فقہی اصول بھی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ شریعت دراصل لوگوں کی اصلاح ان کے جسم کے ذریعے نہیں بلکہ روح کے ذریعے کرنے کو پسند کرتی ہے۔سزا دینا اس کی ضرورت اور مجبوری ہے، خوشی اور دل لگی نہیں۔عجب ستم ظریفی ہے کہ جس شریعت کی خوشی لوگوں پر سے سزائیں ٹالنے میں ہے، ہم اسے سزائیں زبردستی نافذ کر کے خوش کرنا چاہتے ہیں:
تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

قانونِ توہینِ رسالت کا دفاع اور توہینِ رسالت کے ملزم کو قانون کو ہاتھ میں لے کر قتل کرنے والے شخص کا دفاع دو یکسر متضاد باتیں ہیں۔اگر کسی بھی شخص کو ذاتی حیثیت میں توہینِ رسالت پر سزاکا اختیار ہے، تو قانون کی ضرورت ہی کیا ہے!جو شخص جہاں بھی توہین ہوتی دیکھے یا محسوس کرے گا، معاملے کا فیصلہ کر لے گا۔کیس کو جلدی نپٹانے اور موقعے پر انصاف کرنے کے لیے تو خود “انصاف” کرنے والی یہ صورت زیادہ آئیڈیل ہے۔ قانونی موشگافیوں کے اندیشے کا شکار ہونے کے لیے کیوں بلاوجہ قانون قانون کی رَٹ لگائی جائے اور اس کا دفاع کیا جائے؟ دینِ اسلام تو ایک طرف کیا کسی ہلکے پھلکے قانونی نظام کے نام پر بھی اس سے زیادہ غیر معقول بات کا قائل ہو ا جا سکتا ہےکہ قانون کسی کو سزا دے دے تو بھی ٹھیک ہے اور اگر متاثرفریق موقع پاکر خود ہی انصاف کر لے تو بھی ٹھیک ہے،نظم ِ ریاست و قانون کو حق نہیں کہ اس کے اقدام پر اعتراض کرے۔فیاللعجب۔

کہا جا تا ہے کہ توہینِ رسالت پر ردعمل کا معاملہ دیگر کیسوں اور ان پر متاثرین کے ردعمل سے مختلف ہے ۔لیکن اس صورت میں بھی متاثر فریق کو از خود اقدام کا حق دینے کے بجائے اس بات پر زور دینا چاہیے کہ قانون ِ تو ہین رسالت کو موثر بنایا جائے تاکہ لوگ قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔اس لیے کہ   آپ نظام انصاف و قانون پر جتنی چاہے تنقید کریں ، ان کو ٹھیک کرنے کے لیے، جو بھی کردار پُر امن طریقے سے آپ ادا کر سکتے ہیں کریں ، لیکن آپ کے پاس یہ اختیار کسی صورت نہیں کہ کسی بھی ملزم کو خود سزا دیں ۔مکرر عرض ہے کہ قانون پر عمل درآمد میں کمزوریاں کسی بھی لحاظ سے ذاتی حیثیت میں اقدام کا جواز نہیں بن سکتیں۔مزید برآں کسی کے لیے مخصوص حالات میں اپنے کسی عزیز کا قتل یا اپنی کسی عزیزہ کا ریپ وغیرہ کسی شخص کے بارے میں توہینِ رسالت کے سنے سنائے معاملے سے زیادہ سنگین اور تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔اس صورت میں اس کا بدلے کی غرض سے ازخود اقدام کا حق بدرجہ اولی تسلیم کیا جانا چا ہیے۔آپ کس دلیل کی بنیاد پر کہیں گے کہ توہین رسالت کے الزام پر کسی کو از خود قتل کرنے والا تو حق بجانب ہے اور اپنی بہن یا بیٹی کے ریپ پر ملزم کو از خود قتل کرنے ولا مجرم ہے! یہ کہنا ایک لحاظ سے معقول کہا جاسکتا ہے کہ جذبات کی شدت کو سمجھتے ہوئے عدالتوں اور اداروں کو چاہیے کہ توہینِ رسالت کے کیس کو دیگر کیسوں سے زیادہ اہمیت دیں ،اور انصاف کے تقاضے جلد از جلد اور ترجیحاً پورے کیے جائیں۔اگرچہ یہاں بھی یہ سوال ہوگا کہ جس کے جذبات کی شدت دوسرے کیسوں میں زیادہ ہو ،وہ اسی زمرے میں کیو ں نہیں آئے گا! بیٹی اور بہن کے ریپ پر ملزم کو قتل کرنے والے کے جذبات کی شدت کم ہے کیا ! اسے خود انصاف کا حق کیوں نہ دیا جائے؟

اگر یہ شرط رکھی جائے کہ جب تک قانون پر موثر عمل درآمد کی صورت پید ا نہیں ہوتی توہینِ رسالت کے ملزم کے قاتل سے درگزر کرنا چاہیے،تو یہ شرط اس لیے غلط ٹھہرے گی کہ ایسا عبوری دور کبھی ختم نہیں ہوگا اور کبھی بھی یہ بات نہیں منوائی جا سکے گی کہ اب قانون پر موثر عمل درآمد ہو رہا ہے ،لہذا اب مذکوہ نوعیت کے ملزموں کو رعایت نہیں ملے گی۔ لہٰذایہ کہنا کہ جب تک انصاف کا بول بالا نہیں ہوتا، عدالتیں سزائیں نہیں دیتیں ، غازی یو ں ہی بدلہ لیں گے، ایک بالکل نامعقول بات ہے۔ یاد رکھیے وہ دور کبھی نہیں آئے گا ، جب ہر فیصلہ ہر بندے کی مرضی سے ہو گا۔یہ چیز ہمیشہ سے موجود ہے اور ہمیشہ رہے گی کہ جس کو فیصلہ اپنی مرضی یا تصور کے خلاف نظر آئے گا وہ کہے گا کہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے؛ انصاف کا نظام بانجھ ہے وغیرہ وغیرہ۔سو حل یہی ہے کہ ماوراے عدالت کسی بھی کارروائی کو کسی بھی ‘اگر ‘،’مگر’،’چونکہ’، چنانچہ’ کے بغیر ہر حال میں غلط اور جرم قرار دیا جائے۔

آں جنابﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانب سے توہینِ رسالت کے مجرموں کو دی گئی سزائے موت نظم و قانون اور ریاست کے تحت آتی ہے ۔پھر ان کی طرف سے تو ملزموں کو موقع دینے اور باز آجانے پر معاف کر دینے کی بھی بکثرت مثالیں ملتی ہیں۔ان کے اسوے سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ کوئی اپنی انفرادی حیثیت میں جس کو جب چاہے ،توہینِ رسالت کے الزام میں قتل کر دے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ کے حوالے سے ذاتی حیثیت میں اقدام سے متعلق جو بعض روایات ملتی ہیں ، کہ فلاں شخص کو انھوں نے از خود یا فلاں صحابی نے اپنی لونڈی کو از خود قتل کر دیا تو ایسے اقدامات کو یا  تو اس   حوالے سے قانونی تصور کرنا چاہیے کہ آں جناب ﷺ نے خود اس پر نکیر نہ کر کے یا انھیں برداشت کرکے قانونی بنا دیا اور یا سمجھ لینا چاہیے کہ یہ اقدامات استثنائی ہیں اور استثنا سے قانون ثابت نہیں ہوتا۔ حضورﷺ اور مختلف صحابہ رضی اللہ عنہم کے مختلف اعمال کے حوالے سے بہت سی استثنیات ملتی ہیں ،جو خاص افراد کے لیے اور محدود تناظر کی حامل ہیں،ساری امت اور اس کے تمام افراد کے لیے نہیں ہیں، اور نہ ہی آفاقی ہیں کہ انھیں قیامت تک ہر شخص کے معاملے تک ممتد قرار دیا جائے۔ کتنی ہی مثالیں ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ عمل میرے ساتھ خاص ہے ، دیگر امتیوں کے لیے نہیں اور یہ بھی کہ فلاں رعایت میرے فلاں صحابی کے لیے ہے، سب امت کے لیے نہیں ، سو اگر کسی صحابی نے کوئی عمل کیا تو اس کا ہر حال میں سب امت کے لیے اور قیامت تک لیے نمونہ ہونا ضروری نہیں ، بہ طور ِ خاص جب ایسے کسی عمل کی مخالفت میں قرآن وسنت کے اور بہت سے دلائل موجود ہوں ۔ہماری عام مذہبی ذہنیت کا عجیب المیہ ہے کہ بعض استثنائی مثالوں کو لے کر اس پر ساری شریعت کا مدار رکھ لیتی ہے ،لیکن اس کے برعکس شریعت کے عام اور معلوم ومعروف اصول و قانون کو یکسر نظر انداز کر دیتی ہے۔شریعت کا یہ اصول مسلمہ ہے کہ کسی فرد کو مجرم ثابت ہونے پر عدالت ہی سزا دے سکتی ہے ، اور یہ وہ اصول ہے، جو قرآن و حدیث سے بھی واضح ہے اور عہدِنبویﷺ و خلفاے راشدین رضی اللہ عنہم کے ملزموں سے متعلق فیصلوں اور عدالت و قضا کی مسلسل اور ان گنت کارروائیوں سے بھی۔مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ ہمارے بعض عاقبت نااندیش مذہبی سکالرزکے نزدیک بعض صحابہ کے انفرادی فیصلے تو ابدی قانون ہیں ،لیکن قرآن و حدیث کے بیسیوں فرامین اور نبی اکرمﷺ اور خلفاے راشدین کے مسلسل اور ان گنت عملی فیصلے کوئی شرعی ضابطہ ہی نہیں۔
ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے
خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھیے

مسلم سلطنتوں میں توہین ِ رسالت پر سزا کے حوالے سے ایک نمایاں تاریخی واقعہ قرطبہ کے ان مسیحیوں کی سزا ے موت کا ہے ، جن کو مسیحیوں کے یہاں “شہداے قرطبہ”(Martyrs of Cordoba) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ان لوگوں نے مسلمانوں کے سامنے بازاروں میں توہینِ رسالت کی ،لیکن مسلمانوں نے ان کو از خود قتل نہیں کیا، بلکہ مسلم عدالت نے ان کو سزاے موت دی۔ان سے متعلق یہ بھی آتا ہے کہ انھیں موقع دیا گیا اور توہین سے باز آنے کا کہا گیا تھا۔جب انھوں نے منع کرنے کے باوجود اور تکرار کے ساتھ توہین کی تو عدالت نے سزائے موت دی۔

ذاتی حیثیت میں ایسے قتل کو سند ِجواز عطا کرنا سوسائٹی کو انارکی اور تباہی کی طرف دھکیلنا ہے۔کیا دینی قوتوں کو سامنے کی یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ یہ چیز تو ان کے اپنے کاز کو نقصان پہنچانے والی ہے۔اس نوع کے مواقف اپنانے کے نتیجے میں اہل ِ مذہب کو نشانہ تنقید بنایا جاتا ، سینکڑوں سال پہلے کے معاشروں کے باشندے کہا جاتا ،دقیانوسی اور معاشرے اور حالات سے ناواقف ، جذبات کی رو میں بہہ کر اور معروضی حالات کو نظر انداز کر کے آرا قائم کرنے والے اور سوسائٹی کے امیچور عناصر باور کیا جاتا ہے،قانونِ توہینِ رسالت کے خاتمے کے لیے آواز اٹھائی جاتی ہے ؛کہا جاتا ہے کہ مذہبی لوگ مذہب کے نام پر اپنے مذہبی یا سیاسی مخالفین سے انتقام لینے کے مرتکب ہوتے ہیں ۔نتیجتاً اسلام مذاق بنتا؛ لوگ مذہبی لوگوں کے حوالے سے افرادِ معاشرہ کے عدمِ تحفظ کا شکار ہونے کا تصور قائم کرتے اور اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ایسے احساسات سے مملو ہوجاتے ہیں کہ :
جانے کب، کون ،کسے مار دے کافر کَہہ کر
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

آج کل کے اس نوع کے کیسز میں غازی علم الدینکی کی مثال بھی غیر متعلق ہے ۔اس لیے کہ اس دور میں نہ مسلمانوں کی ریاست تھی اور نہ قانون تو ہینِ رسالت موجود تھا۔پاکستان کی مسلم ریاست نے یہ قانون اسی تناظر میں تو بنایا تھا کہ کوئی مسلمان نبی آخر الزمان ﷺ کی شان میں گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتا۔لہذا اس امر میں ریاست خاموش یا غیر جانبدار نہیں رہ سکتی، اسے ایسے ملزم کو خود ہی سزا دینے کا بندو بست کرنا ہوگا،ورنہ لوگ خود اقدام کریں گے، جس کے نتیجے میں سوسائٹی اور نظمِ ریاست کو نقصان پہنچے گا۔اب دو صورتیں ہیں : یا تو یہ تو نام نہاد عاشقانِ رسول قانون توہینِ رسالت کا دفاع کر لیں ، یا ماورائے عدالت قتل کرنے والوں کا؛دونوں چیزوں کا بیک دفاع ممکن نہیں۔ جب آپ کسی قانون کو بنواتے اور اس کو تسلیم کرتے ہیں، تو پھر اسی کے تحت آپ کو سزا دلوانی پڑتی ہے، اس میں یا اس کے نفاذ میں کوئی خرابی نظر آئے تو اس کو نظم و قانون کے اندر رہتے ہوئے درست کرنے کی کوشش کرنی پڑتی ہے، نہ کہ اس سے بالا بالا اپنی مرضی سے فیصلے کر کے لوگوں کو مرضی کی سزائیں دینی ہوتی ہیں۔آپ اپنے طور پر سزا دیں گے ،تو گویا اس قانون پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہوں گے۔جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اگر آپ کا خیال ہے کہ عدالتیں یہ قانون نافذ کرنے میں ناکام ہیں، تو اس کو ختم کرا دیں۔ اس کی جگہ کوئی اور قانون لے آئیں یا یہ فیصلہ کر لیں کہ اس معاملے میں ہر فرد کو آزادی حاصل ہے ، وہ جہاں توہین ہوتی محسوس کرے ، ملزم کا موقع پر کام تمام کر دے۔ مکرر عرض ہے کہ جلدی انصاف حاصل کرنے کا تو پھر یہی طریقہ ہے۔ قانون اور نظام کے اندر تو دیر بھی ہوتی ہے، پروسیجر بھی ہوتاہے اور عدالتوں اور ججوں کی کوتاہیاں بھی آڑے آ جاتی ہیں۔ اگر کچھ کر سکتے ہیں تو یہ کریں۔ لیکن یہ بات کسی صورت درست قرار نہیں دی جا سکتی کہ آپ کا بنوایا ہوا، پسند کیا ہوا اور ملک میں رائج و نافذ قانون بھی ہو اور اس کے برابر میں آپ کا اپنا قانون بھی ہو ، اپنی عدالت بھی ہو، جس میں آپ جس کو قصور وار سمجھیں ، سارے نظام اور قانون پر لات مارتے ہوئے ، اپنا فدائی بھیج کر قتل بھی کر وا لیں۔

اور آخر میں یہ بھی عرض کر دوں کہ یہ جو ڈرامہ کیا جا تا ہے کہ فلاں کو حضورﷺ نے خواب میں آکر کہا کہ فلاں کو قتل کر دو، یہ انتہائی فضول اور بے ہودہ بات ہے۔ شریعت کا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ ایسے خواب کسی چلتے پھرتے لونڈے کے تو درکنا کسی ولی کے بھی قابلِ قبول نہیں۔جس خواب میں کوئی بھی ایسی بات بیان کی گئی ہو، جو شریعت کے واضح احکام کے خلاف ہو ، وہ خواب جھوٹ اور فریب ہے۔ مزید برآں علما ہی نہیں اولیاے امت کا بھی اجماعی نظریہ ہے کہ کسی کا خواب اگر درست بھی ہو تو وہ فقط اس کے اپنے لیے حجت ہے یا اپنے کسی ایسے ذاتی معاملے کی حد تک ہو سکتا ہے، جس کا اثر کسی دوسرے پر نہ پڑتا ہو، چہ جائیکہ  کوئی لونڈا اٹھ کر کہے کہ مجھے خواب میں حضورﷺ نے فلاں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایسا اگر ولی بھی کہے، تو بھی شرعاً اس کا کوئی اعتبار نہیں ۔(اس میں ضمناً یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ولی ہم کسی آدمی کو اس کی ظاہری نیکی و پارسائی کے سبب ہی کہتے ہیں، وہ کوئی مامور من اللہ نہیں ہوتا اور نہ ہمارے پاس یہ جاننے کا کوئی پیمانہ ہے کہ فلاں نیک آدمی جس کو ہم ولی سمجھتے ہیں وہ واقعی اللہ کے نزدیک بھی اتنا ہی نیک یا پسندیدہ ہے یا نہیں، جب اس کے معاملے میں اللہ سے تعلق کی نوعیت ہی کو ہم نہیں سمجھ سکتے تو اس کے کسی کشف یا نظریے کو شریعت پر حاکم کیسے مان سکتے ہیں) شریعت کے فیصلے تمام علما اور اولیا کے مطابق شریعت کے ظاہری اصول و ضوابط کے مطابق ہی ہوں گے۔(یہ بات مختلف صوفیہ کی کتب میں بھی عام دیکھی جا سکتی ہے۔)اس لیے کہ اگر شریعت کو کشف و الہام پر چھوڑ دیا جاتا ،تو یہ تماشا بن جاتی ، جو چاہتا کسی کشف کا دعوی کر کے ایک نیا مسئلہ شریعت میں داخل کر دیتا ، لہٰذا شرعی فیصلے شریعت کے انھی ظاہر ی اصولوں کی روشنی میں کیے جا ئیں گے ، جو اللہ کے آخری نبی نے آخری شریعت میں مکمل طور پر پیش کر دیے ہیں۔

Avatar
ڈاکٹر شہباز منج
استاذ (شعبۂ علومِ اسلامیہ) یونی ورسٹی آف سرگودھا،سرگودھا، پاکستان۔ دل چسپی کے موضوعات: اسلام ، استشراق، ادبیات ، فرقہ ورانہ ہم آہنگی اور اس سے متعلق مسائل،سماجی حرکیات اور ان کا اسلامی تناظر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”توہینِ رسالت، اسلام ، قانون اور ہمارے رویے۔۔ڈاکٹر محمد شہباز منج

  1. Had the auther read the book “Namus e Rasool SAW aur qanun e tauheen e risaalat” by advocate Muhammad Ismail Qureshi, he would have found answers to all his doubts.
    There are two major flaws in Dr Manhaj’s analysis. 1. No crime is comparable in gravity to the heneous crime of blasphemy may it be killing of a person’s whole family air may it be rape of his daughter.
    2. Can Dr Manhaj tell How many people have so far been convicted of blasphemy and punishment of how many actually convicted of this crime has actually been implemented so far?
    Can he also throw some light on pressure from the west regarding release of blasphemy convicts and all along the proceedings of such cases and why? It will only be foolish if all such factors are ignored.
    Lastly if Dr sahib is so concerned about this particular issue and has been writing books upon books gust to favour blasphemy convict, which otherwise cast doubts, he could have held discussions with experts on the subject to find an answer.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *