بلی پر جنسی تشدد اتنی بڑی بات نہیں۔۔ذیشان نور خلجی

کوئی چوری چکاری جیسی واردات ہو یا چھوٹی موٹی جرائم پیشہ سر گرمی، اس حوالے سے شیدا ہمارے علاقے کا ایک پرانا کردار تھا۔ کبھی کسی کی بکری کھول لی تو کبھی کسی کے نلکے کی ہتھی اکھاڑ لی۔ جو کچھ نہ بن پڑا تو یار کا کوٹھا تو سلامت ہے نا، سو مسیت گئے اور ٹونٹیوں پر ہاتھ صاف کر آئے۔
ایک دن کی بات ہے پنڈ کے چوک میں مجمع لگا ہوا تھا۔ میں بھی سب کام کاج بھلا کے ہجوم میں گھس گیا کہ دیکھوں تو، آخر ماجرا کیا ہے؟ کیا دیکھتا ہوں، آگے محترمی و مکرمی شیدا صاحب بیٹھے ہوئے ہیں، لوگوں نے اب کی بار جنہیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہے اور وہ بھی گاؤں کی واحد جنازہ گاہ کا واحد پنکھا چوری کرتے ہوئے۔
شیدے کے ساتھ تو جو ہونا تھا سو ہوا، لیکن میں بہت ملال کا شکار تھا کہ اسے اللہ کے گھر سے چوری کرتے ہوئے بھی شرم نہ آئی۔
شام کو چوپال میں میاں جی سے سامنا ہوا تو میں نے کہہ دیا کہ آج کل زمانہ ہی خراب ہو چکا ہے لوگوں کو مرن مسیت سے بھی چوری کرتے ہوئے شرم نہیں آتی۔ میاں جی کا ماتھا ٹھنکا، کہنے لگے پتر ! اس نے چوری کی، پھر وہ اللہ کے گھر سے کرے یا بندے کے گھر سے، بات تو ایک ہی ہے۔ یہ چونکہ معمول سے ہٹ کر بات ہے اور تمھارے اندر کا عقیدہ ہے اس لئے اللہ کے گھر کی تقدیس میں تم وہاں کی چوری کو قبول نہیں کر پا رہے۔ ورنہ اس چوری میں اور پنڈ کی کسی دوسری چوری میں کوئی خاص فرق نہیں۔ اور اس چوری میں وہ اللہ کا مجرم ہے جس کی اسے معافی مل سکتی ہے جب کہ دوسری کسی چوری میں وہ بندے کو جواب دہ ہو گا جس کی معافی بھی کوئی نہیں۔
آج برسوں بعد یہ واقعہ دل کے نہاں خانوں سے نکل آیا جب بلی پر جنسی تشدد کی خبر سننے کو ملی۔ اس خبر کی تصدیق تو نہیں ہو سکی لیکن ہم بات آگے بڑھاتے ہیں۔ اس واقعے کو لے کر لوگ شدید غصے میں ہیں اور سیخ پا ہیں کہ نوجوان لڑکوں نے یہ کیا جانوروں سے بھی گری ہوئی حرکت کر دی، بلکہ کئی دنوں تک کرتے رہے۔ بات تو سچ ہے لیکن میرا ماننا ہے کہ یہ بھی معمول سے ہٹ کر ایک فعل ہے اس لئے ہائی لائٹ ہو گیا ورنہ یہ اتنی بھی بڑی بات نہیں۔
بڑی بات یہ ہے کہ ایک معصوم سی چودہ سالہ بچی، جس کی ماں بھی اس جہنم سے چھٹکارا پا چکی ہے، مسلسل کئی ماہ اپنے ہمسائیوں کے جنسی تشدد کا نشانہ بنتی رہی اور آخر کار حاملہ ہو گئی لیکن ان ذہنی مریضوں کا کوئی کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ فرض کریں ان کو عبرت ناک سزائیں مل بھی جاتی ہیں جو کہ الحمد للہ ہمارے یہاں ناممکن ہے کیوں کہ قانون بنانے والے ادارے انسانوں کے تحفظ کی بجائے مذہب کے تحفظ میں لگے ہیں۔ پھر بھی ہم فرض کر لیتے ہیں ایسا کچھ ہو جاتا ہے۔ لیکن اس بچی پر جو قیامت گزری ہو گی وہ جو پل پل جیتی، پل پل مرتی ہو گی، اس کا مداوا کون کرے گا؟ اور کیا اپنی باقی ماندہ زندگی وہ عزت سے گزار پائے گی؟ کیوں کہ اس نے اس معاشرے میں زندگی گزارنی ہے جس کے باسی ایدھی مرحوم کو زنا کا پروموٹر کہتے تھے۔ لیکن یہ اتنی بھی بڑی بات نہیں بڑی بات تو یہ ہے کہ کچھ خدا داد بے شرم لوگوں کا کہنا ہے بچی اتنا عرصہ یہ سب کرواتی رہی تو لازمی اس کی رضا بھی شامل ہو گی۔
دوستو ! بلی سے زنا اتنی بھی بڑی بات نہیں کہ اس پر لکھا جائے۔ بڑی بات یہ ہے کہ ایک دینی مدرسے میں قرآن پاک سیکھنے کے لئے آئے ہوئے معصوم سے طالب علم کو بجائے قرآن پاک کا علم دینے کے، اس پر اپنی ہوس پوری کی جاتی رہی اور سینکڑوں دفعہ زنا کیا جاتا رہا۔ تب اس ننھے سے ذہن پر کیا بیتتی ہو گی؟ لیکن یہ بھی بڑی بات نہیں، بڑی بات تو یہ ہے کہ جب اس کی حالت غیر ہو گئی اور معاملہ ہائی لائٹ ہو گیا تو ایک جبہ دستار والے نامی گرامی عالم صاحب اس درندہ صفت استاد کی پشت پناہی پر اتر آئے۔ ہو سکتا ہے ان کا بھی یہی خیال ہو کہ اس جنسی بے راہ روی میں بچے کی رضا بھی شامل ہو گی۔
دوستو ! بلی پر جنسی تشدد واقعی اتنی بڑی بات نہیں۔ بڑی بات تو یہ ہے ایک لبرل سوچ رکھنے والے انگریزی میڈیم سکول کا ایک بھیڑیا نما استاد اپنی روحانی بیٹیوں کو ورغلاتا رہا اور جب بات ہائی لائٹ ہو گئی تو اسکول انتظامیہ کا موقف سامنے آ گیا کہ حقیقت میں لڑکیاں اس ٹیچر کو بدنام کرنا چاہتی ہیں اور ورغلا رہی ہیں۔ لیکن یہ بھی بڑی بات نہیں کیوں کہ ادارے کو اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لئے اپنے ملازم کا ہی دفاع کرنا تھا۔ بڑی بات یہ ہے کہ میرے جیسے ذہنی بیمار لوگ سوچنے لگے ہیں ضرور اس معاملے میں بھی لڑکیوں کا ہی قصور ہو گا کہ پہلے وہ مزے لیتی رہیں بعد میں واویلا کھڑا کر دیا۔
اس لئے دوستو ! دھیرج رکھیے۔ ان سب واقعات کے مقابلے میں بلی پر تشدد واقعی کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔ بلکہ ہمیں شکر ادا کرنا چاہئیے کہ اب کی بار پھر کوئی آدم کا بیٹا یا حوا کی بیٹی ان انسان نما درندوں کے ہاتھ نہیں لگے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *