پِنجرہ ( چار دِلوں کی داستان )3،آخری قسط۔۔سید علی شاہ

اشعرڈرائیور سے کہہ کر واپس دفتر جانے کی بجائے گھر ہی آ گیا اور سیدھا اپنے کمرے میں پہنچ کر اندر سے کمرہ بند کر لیا ۔۔
شام کو ساجدہ آئی تو اس نے پوچھا کہ کیا ہوا تھا دفتر سے جلدی کیوں آ گئے تھے تو اس نے طبیعت خرابی  کا بہانہ بنا دیا ۔

اشعر اگلے روز بھی دفتر نہ گیا ۔ مگر پھر اُسے تیسرے دن منیجر صاحب کا فون آیا کہ کچھ دیر کے لئے آ سکتے ہو تو آ جاؤ کافی کام پینڈنگ پڑے ہیں ۔
وہ دفتر پہنچا تو سب کچھ معمول کے مطابق تھا ،کوئی خاص بات اسے نظر نہیں آئی ورنہ وہ سوچ رہا تھا کہ جس اندا ز میں اس نے نوشین سے بات کی ہے وہ ضرور کچھ نہ کچھ کرے گی، مگر اسے اطمینان ہو گیا اور اس نے اگلے دن سے روٹین کے مطابق دفتر جانا شروع کر دیا ۔

ابھی اسے دفتر جاتے چار دن ہی ہوئے تھے کہ ساجدہ نے بتایا کہ مینجر صاحب نے مجھے بلا کر کہا ہے کہ بیگ صاحب اپنی بیٹی نوشین کی شادی اشعر سے کرنا چاہتے ہیں ۔
یہ بتاتے ہوئے ساجدہ کی خوشی دیدنی تھی کہ اتنے بڑے بزنس مین  کا داماد بن جائے گا میرا بھائی، مگر اسے اصل واقعہ کا علم نہ تھا ۔

اشعر نے انکار کرکے اس کی ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا پھر بھی وہ بھائی کی محبت میں اور بھائی کی خوشی کی خاطر جا کر منیجر صاحب کو انکار کر آئی ۔

اس کی زبان سے انکار سن کر منیجر صاحب بھی بہت حیران ہوئے اور اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اشعر کو سمجھاؤ مان جائے مگر ساجدہ نے کہہ دیا کہ آپ ہماری طرف سے معذرت کر لیں ۔

آج جب وہ آفس پہنچی تو اسے یہ پیغام ملا کہ آپ دونوں بہن بھائیوں کو نوکری سے برخواست کر دیا گیا ہے اور انہوں نے ان دس لاکھ کی واپسی کا بھی کہہ دیا جو عمارہ کی شادی کےلئے دفتر سے قرض لیا تھا ابھی اس میں سے ایک لاکھ کے قریب ہی تنخواہوں سے کٹوایا گیا تھا ، اور اب جب نوکری نہیں ہوگی تو باقی کا نو لاکھ کیسے واپس کریں گے ۔۔؟
———————–
ساجدہ آنکھوں میں آنسو لئے اشعر کے ساتھ باہر کی طرف جا رہی تھی اور اشعر کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سب کو چیخ چیخ کر بتا دے کہ ہمیں کِس جرم کی سزا دی جا رہی ہے ۔۔
یہ جُرم نہ کرنے کی سزا ہے ۔۔

اشعر اور ساجدہ گاڑی لے کر گھر پہنچے تو دونوں کے اُترے چہرے دیکھ کر افشین گھبرا گئی ۔۔
دو تین دن گھر گزارنے کے بعد ساجدہ نے کِسی اور جگہ جاب کے لئے اپلائی کرنا چاہا تو اشعر نے روک دیا کہ آپا بس اب آپ نے بہت محنت کر لی اب آپ بیٹھیں میں کماسکتا ہوں ۔

ساجدہ کے بہت اصرار کے بعد وہ اتنا مانا کہ آپ باہر نہ جائیں میں آپ کو یہیں کمپیوٹر پر آڈٹ کا کام لا دیا کروں گا آپ وہ میرے ساتھ کروا لیا کریں ۔۔
اشعر نے اپنے دوستوں کو کہہ کر نوکری کے لئے کوششیں تیز کر دیں ۔

سجل گاؤں سے واپس آ چکی تھی اور اسے سارے واقعے کا علم بھی ہو چکا تھا مگر اشعر سجل سے ملنے سے کترا رہا تھا حالانکہ وہ دو بار گھر بھی آئی اور ساجدہ سے ملی مگر اشعر نہ ہی اُس کا فون سُن رہا تھا اور نہ اس سے رابطہ کر رہا تھا ۔۔

اشعر کی کوشش تھی کہ کوئی اچھی نوکری مل جائے اور سب سے پہلے وہ مرزا وقار بیگ کا قرض اتار دے ۔

نوکری کے لئے مارے مارے پھرتے اُسے بیسواں دِن تھا کہ اچانک اُس کے فون پر ایک میسج آیا ،یہ میسج بینک کی طرف سے تھا اور میسج میں لکھا تھا کہ اُس کے اکاؤنٹ میں دس لاکھ روپیہ جمع کروایا گیا ہے ۔۔

اُس نے بینک فون کیا تو معلوم ہوا کہ صاعقہ انڈسٹریز کے آفیشل اکاؤنٹ سے رقم ٹرانسفر ہوئی ہے وہ بہت پریشان ہوا کہ کہیں مجھے کسی سازش میں نہ پھنسایا جا رہا ہو ۔۔
اُس نے ساعقہ انڈسٹریز کے منیجر صاحب کا نمبر ملایا تو پہلی بیل پر ہی انہوں نے کال ریسیو کر لی جیسے انہیں اُس کے فون کا ہی انتظار تھا ۔۔

حال احوال پوچھنے کے بعد ساجد نے پیسوں کا پوچھا تو منیجر صاحب نے اسے بتایا کہ یہ بیگ صاحب کی ہدایت پر تمہارے اکاؤنٹ میں اور ساجدہ کے اکاؤنٹ میں دس دس لاکھ ٹرانسفر کیا گیا ہے اور بیگ صاحب تم دونوں سے اپنے گھر ملنا چاہتے ہیں جب جانا چاہو چلے جانا وہ گھر ہی ملیں گے ۔۔

اشعر کے بار بار پوچھنے پر بھی منیجر صاحب نے کچھ نہ بتایا، فقط اتنا کہا کہ بیگ صاحب سے مل ضرور لینا اور ساجدہ کو بھی ساتھ لے کر جانا ۔

اشعر فوراََ گھر پہنچا اور ساری بات ساجدہ کو بتائی ، ساجدہ کے علم میں نہیں تھا کہ اُس کے اکاؤنٹ میں بھی کوئی رقم ٹرانسفر کی گئی ہے ، جب انہوں نے بینک فون کرکے پوچھا تو وہاں سے تصدیق کی گئی ہے، کہ  دس لاکھ روپیہ آج دس بجے کے قریب صاعقہ انڈسٹریز کے اکاؤنٹ سے ٹرانسفر ہوا ہے ۔۔
اشعر اس سب کو سازش گردان رہا تھا جبکہ ساجدہ کا کہنا تھا کہ کوئی اور وجہ ہے ، اور اصل وجہ مرزا وقار بیگ سے مل کر ہی معلوم ہو گی ۔
———–
شام چار بجے کے قریب ساجدہ نے منیجر صاحب کو فون کیا وہ بہت شفقت سے بولے اور ساجدہ کو بیگ صاحب کی طرف جانے کا مشورہ دیا اور کہاکہ وہ زیادہ تر گھر ہی ہوتے ہیں تم لوگ کسی بھی وقت چلے جانا ۔۔

ساجد ہ اور اشعر نے گاڑی مرزا وقار بیگ کی کوٹھی کے باہر روکی تو چوکیدار نے گیٹ کھول دیا اور گاڑی اندر ہی لانے کے لئے کہا ۔

اندر کار پورچ میں پہلے ہی سے پانچ گاڑیاں موجود تھیں جیسے کوئی مہمان آئے ہوئے ہوں ۔اشعر پہلے یہاں آ چکا تھا جبکہ ساجدہ پہلی بار آئی تھی اور وہ گردن اُٹھائے عالیشان بنگلے کو دیکھ رہی تھی ۔
اچانک اندر سے سعید صاحب نکلے اور ساجدہ کے سر پر ہاتھ پھیر کر پیار دیا اور اشعر کو گلے لگا لیا ۔
“اندر چلو بیگ صاحب انتظار کر رہے ہیں “۔۔
سعید صاحب شفقت بھرے انداز میں بولے ۔
وہ دونوں سعید صاحب کی معیت میں اندر ڈرائنگ روم میں پہنچ گئے ۔
ساجدہ کی آنکھیں اتنا عالی شان ڈرائنگ  روم دیکھ کر پھٹی جا رہی تھیں جبکہ اشعر اسے اشارے سے نیچے دیکھنے کو کہہ رہا تھا ۔

ابھی وہ دونوں صوفے پر بیٹھے ہی تھے کہ مرزا وقار بیگ صاحب آگئے وہ دونوں بے اختیار بیگ صاحب کے احترام میں اُٹھ کھڑے ہوئے ۔۔
“بیٹھو بیٹا بیٹھو  “۔۔
بیگ صاحب نے اشعر کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سعید صاحب کو اشارہ کیا تو سعید صاحب باہر چلے گئے ۔۔

” میں تم دونوں سے مل کر معافی مانگنا چاہتا تھا ۔ میں نہیں جانتا تھا کہ اصل بات کیا ہے اور نہ ہی میں نے تمہیں نوکری سے برخواست کیا تھا یہ سب نوشین کا کیا دھرا تھا “۔۔
سعید صاحب کے باہر جاتے ہی بیگ صاحب جیسے پھٹ پڑے اور وہ دونوں آنکھیں پھاڑے پھاڑے اتنے بڑے بزنس مین کو دیکھ رہے  تھے جو ان کے سامنے گڑگڑا رہا تھا ۔

حالانکہ اگر مرزا وقار بیگ چاہتے تو ان جیسے پچاس لوگوں کوقیمت دے کر خرید سکتے تھے مگر ان کا اس طرح کا برتاؤ اشعر اور ساجدہ کی سمجھ سے باہر تھا ۔۔
ساجدہ نے درمیان میں بولنے کی کوشش کی مگر الفاظ اُس کی زبان پر آکر رُک گئے اور یہی حال اشعر کا تھا ۔۔

” تم حیران ہو گے کہ میں نے تمہیں ایسے کیوں بلایا اور تمہارے اکاؤنٹ میں پیسے کیوں ڈلوائے “۔۔
بیگ صاحب نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔

“میرے رشتے داروں میں میرے قریب ترین صرف دو انسان ہیں ایک میری سگی بیٹی جو میری ساری امپائر کی اکلوتی وارث ہے اور دوسرے سعید صاحب ، جو میرے رشتے دار تو نہیں لیکن عزیزوں سے بڑھ کر انہوں نے مجھے عزیز رکھا “۔۔

” آج سعید صاحب تو میرے ساتھ موجود ہیں مگر میری بیٹی میرے پاس نہیں ہے “۔۔
مرزا وقار بیگ کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں ۔

ساجدہ کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں اور اُس نے دونوں ہتھیلیوں سے اپنی آنکھوں کے کنارے صاف کرتے ہوئے اشعر کی طرف دیکھا تو اشعر نے گھبرا کر پوچھا کہ کیا ہوا نوشین کو ؟؟

” تم لوگوں کے جانے کے دوسرے دن ہی اُس نے ڈرگ کی زیادہ ڈوز لے لی  اور بے ہوش ہوگئی تو سعید صاحب نے ایمبولینس  بلوائی اور مجھے کال کی تو میں بھی پہلی دستیاب فلائٹ سے پاکستان واپس آیا ۔  مجھے پہلی بار معلوم ہوا تھا کہ نوشین ڈرگ کی عادی ہے اور اس کی حالت بہت خراب تھی “۔۔

“اللہ نے کرم کیا اور وہ بچ گئی مگر اب وہ کومہ کی کیفیت میں رہتی ہے اُس کی ڈرگ کا علاج چل رہا ہے کبھی کبھی مکمل ہوش میں ہوتی ہے تو باتیں کر لیتی ہے “۔۔

” کل وہ ہوش میں آئی تھی تو مجھے تم لوگوں کے بارے میں بتایا اور مجھے کہا کہ میری آخری خواہش سمجھ کر ان دونوں کو واپس لائیں میں اُن دونوں سے معافی مانگنا چاہتی ہوں “۔۔

مرزا وقار بیگ کی آنکھوں کے بند  ٹُوٹ چُکے تھے اور سیل رواں تھے ، ساری دولت ، سارا مرتبہ آنسوؤں کے ساتھ بہہ گیا تھا ۔ اس وقت ڈرائنگ روم میں کوئی سیٹھ کوئی نوکر نہ تھا، کوئی مالک، کوئی ملازم نہ تھا، بس انسان تھے تین انسان جِن میں سے ایک مکمل ٹُوٹا اور بکھرا ہوا تھا ۔

اشعر اور ساجدہ اپنی جگہ سے اُٹھے او ر مرزا وقار بیگ کے قریب جا کر رُک گئے ۔
اشعر نے بیگ صاحب کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا کہ سر ہمارے دِل میں کوئی بات نہ تھی اگر کُچھ غبار تھا بھی تو مجھ اکیلے کے دل میں تھا مگر آپی کا دل بالکل صاف ہے آپ کی طرف سے،
اور اب میرے دل میں سے بھی سب غبار جاتا رہا ہے ۔۔

آپ ہمیں نوشین کے پاس لے چلیں ہم اسے بھی یقین دلا دیں گے کہ ہمارے دلوں میں آپ کے لئے کوئی کدورت نہیں ہے ۔۔

مرزا وقار بیگ اُٹھے اور نوشین کے کمرے کی جانب بڑھ گئے ۔ اشعر اور ساجدہ بھی اُن کے پیچھے پیچھے تھے ۔ انہوں نے دروازہ کھولا تو اندر پورا کمرہ کسی مہنگے ہسپتال کا وارڈ لگ رہا تھا اور دو نرسیں وہاں موجود تھیں ۔

ایک طرف بیڈ پر نوشین لیٹی ہوئی تھی اس کے  منہ پر چھوٹا سا کنٹوپ نما آلہ لگاہوا تھا جو ساتھ رکھی مشین سے منسلک  تھا ۔ نوشین کی آنکھیں بند تھیں ۔
ساجدہ اور اشعر مرزا وقار بیگ کے ساتھ نوشین کے کمرے میں ایک گھنٹے کے قریب بیٹھے رہے مگر اُسے ہوش نہ آیا ۔

مرزا وقار بیگ کا کہنا تھا کہ اس کا کوئی پتا نہیں کہ اگر ہوش آئے تو دن بھر ہوش میں رہے ورنہ تین چار دن بھی بے ہوش رہتی ہے ۔۔

مرزرا وقار بیگ نے ساجدہ کو اپنی ڈیوٹی پر واپس جانے کی درخواست کی اور اشعر کو کراچی کا سٹی ہیڈ بنا نے کی آفر کی جو دونوں نے بخوشی قبول کر لی مگر اشعر نے اکاؤنٹ سے پیسے واپس لینے کو کہا تو مرزا وقار بیگ نے ان پیسوں کو اُن دونوں کا ایڈاونس بونس قرار دے دیا ۔۔۔
——-
نوٹ یہ واقعہ بالکل حقیقی ہے بس تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے،
کہانی کے سارے کردار اب بھی موجود ہیں ، مرزا وقار بیگ نے ساجدہ سے نکاح کر لیا ہے جبکہ نوشین ٹھیک ہونے کے بعد پھر سے ڈرگ کی عادی ہوگئی ہے اور ایک بار پھر اُس کا علاج چل رہا ہے ۔
سجل کی شادی گاؤں میں ہی اُس کے کسی کزن سے ہوگئی تھی جبکہ اشعر آجکل کمپنی کے دبئی آفس میں ہے اور ابھی تک شادی نہیں کر سکا ۔

سیّدمحمدفیصل
سیّدمحمدفیصل
ایک عام پاکستانی جو اپنے دین اور اپنے وطن سے بے انتہا محبت کرتا ہے ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *