اٹلس میرے سامنے ہے۔۔اقتدار جاوید

اٹلس میرے سامنے ہے جس پر سات بّرِاعظموں کے ممالک جال در جال پھیلے ہوئے ہیں یہ بّرِ اعظم منجمد شمالی ہے یہ بّرِ اعظم جنوبی ہے یہ بّرِ اعظم یورپ ہے ۔یہ سات سمندر ہیں یہ بحر الکاہل ہے یہ بحر اوقیانوس ہے یہ دیوی گائیا اور دیوتا یورنیس کی اولاد ہے۔ یہ دنیا کا دوسرا بڑا سمندر ہے یونانی اسطور میں یہ اطلس کا بیٹا ہے۔یہ بّرِ اعظم ایشیا ہے دنیا کا سب سے بڑا بّرِاعظم۔ یہ بحر ہند ہے اور اس کے کنارے پر جالوں اور لکیروں کو چیرتا ہوا میرا پاکستان ہے۔اٹلس پر جگمگ کرتا میرا پاکستان میرے دل میں بستا پاکستان میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور مری روح کی جائے مسکن۔
مگر صورتِ احوال کچھ اور طرح کی ہے۔ یہ الف کا پاکستان ہے اس کی عزت کرو یہ ب کا پاکستان ہے اِس کی زیادہ عزت کرو۔ یہ اُس کا پاکستان ہے وہاں جانا منع ہے یہ اِس کا پاکستان ہے یہ شارع عام نہیں آپ غلط سائیڈ پر آ گئے ہیں یہاں دو لینز ہیں اِس لین پر آپ کا نہیں اُس کا حق ہے۔یہ دو طرفہ ٹریفک ہے آپ آ تو صحیح سمت سے رہے ہیں مگر آگے سڑک بند ہے یہ ڈیڈ اینڈ ہے۔یہاں سے مُڑنا منع ہے آپ اوپر سے چکر کاٹ کر آئیں یہاں سے جانا منع ہے اور وہاں سے آنا منع ہے۔یہ اُس کا ہے یہ اِس کا پاکستان ہے۔یہ سونے کا پاکستان ہے اور یہ ہمارا مٹّی کا پاکستان ہے مٹّی جس کی قَسم ساری قَسموں سے الگ ہے۔

جتنے لوگ اُتنے پاکستان ۔مگر میرا ایک ہی پاکستان ہے البتہ بہت سوں کے بہت سارے پاکستان ہیں۔ان کا قومی اسمبلی میں الگ پاکستان ہے سینیٹ میں اور ہے۔
پہلے یہ صرف مسلم لیگیوں کا پاکستان تھا پھر ریپبلکن والوں کا بنا اور باسٹھ والے اس کے مالک بن گئے۔درمیان میں ایک پر آشوب عہد آیا جب بیچارہ پاکستان کسی کا بھی نہ رہا پاکستان منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ ہو گیا۔پاکستان نو مین ہوا یا نو مین لینڈ ہوا تاریخ نے فیصلہ نہ کیا تو جغرافیے نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ کچھ عرصے کے لیے یہ سب کا پاکستان بن گیا۔جب یہ سب کا پاکستان کا بنا ایک آئین بھی بن گیا اور ہم ایک بھی ہو گئے۔پانچ سال کا عرصہ خواب کی صورت گذر گیا اور اب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو کہتا ہوں کہ ہماری تاریخ میں واقعی وہ پانچ سال کا عرصہ آیا بھی تھا کیا۔ایک خواب تھا یا خواب گوں کیفیت کوئی دھندلی سی شبیہہ تھی کہ اجلا چہرہ صبحِ کاذب کی دھندلاہٹ تھی یا کوئی کہر زدہ شام کوئی طلسم ضرور تھا۔

میں اور پاکستان جب بھی ملتے ہیں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں وہ مجھ سے بہت گلے شکوے کرتا ہے اس کے پاس اتنے دلائل ہیں کہ مجھے اس کے سامنے خاموش رہنے میں عافیت محسوس ہوتی ہے وہ مجھے خاموش دیکھ کر خوش ہوتا ہے ایک دوسرے سے مل کر ہم پاگلوں کی طرح ہنستے ہیں اور ہنستے چلے جاتے ہیں حتیٰ کہ آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں۔کچھ دیر کے لیے ہم خاموش ہو جاتے ہیں پھر اچانک ہم دونوں میں سے کوئی بات شروع کرتا ہے اور بات بالآخر لڑائی بلکہ ہاتھا پائی پر ختم ہوتی ہے اور دوبارہ پاگلوں کی طرح ہنسنے لگتے ہیں۔یہ ہمارا روز کا معمول ہے نہ ہم رونا بھولتے ہیں نہ لڑائی کرنا۔

پھر وہ مجھ سے غصے میں کہتا ہے میں تمہیں عدالت میں گھسیٹوں گا اور بتاؤں گا کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے تو میں اس سے کہتا ہوں جاؤ اور گواہی کی بھی ضرورت ہوئی تو میں ہی دوں گا اور تیرے حق میں دوں گا۔تاریخ کی عدالت میں ہم دونوں پیش ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے پر جرح کرتے ہیں اور جنہوں نے اپنے لیے اتنے پاکستان بنائے ہوئے ہیں اب ان کے ہنسنے کی باری ہے اور ہمیں باہم جرح کرتے ہوئے دیکھ کر وہ اتنا ہنستے ہیں کہ ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک اٹھتے ہیں کہ ایک اور پاکستان میں کچھ اور ہو رہا ہے۔

عمران خان نے دو سالوں میں کچھ بھی نہیں کیا ہے، نہیں بہت کچھ کیا ہے ابھی اسے عرصہ ہی کتنا ہوا ہے نہیں دوسال کا عرصہ کیا کم ہوتا ہے
نواز شریف کی کبھی پلیٹلٹس کم ہوئی تھیں، نہیں کم نہیں ہوئی تھیں۔ اس کو سٹیرائیڈز کی فل ڈوز دو، نہ دو، نواز شریف کے پلیٹلیٹس ایک فرضی نام محمد محفوظ کے نام سے ٹیسٹ کروائےگٸے تھے، نہیں کروائے گئےتھے۔اس فرضی نام پر نواز شریف کے پلیٹلیٹس کی تعداد پینتالیس ہزار تھی وہ اب بھی بیمار ہے نہیں وہ بیمار نہیں ہے، تحریکِ انصاف سے غیر قانونی فنڈنگ کی ہے اس کو روکو، نہ روکو ۔ زرداری نے پیسہ کھایا ہے اس سے نکلواؤ  پاپڑ والا اور فالودے والا کیس غلط ہے نہیں بالکل سچ ہے پی آئی اے میں غیر تربیت یافتہ پائلٹس ہیں نہیں ان کے لائسنسز درست ہیں ان کو ملازمت سے نکالنا درست ہے ، نہیں غلط ہے۔

یہ اتنے سارے یہ اپنا اپنا پاکستان رکھنے والے ایک پیج پر ہیں ہاں مجھےلگتا ہے یہ سارے ایک پیج پر ہیں اور اس شور شرابے میں صم بکم پاکستان اور گلیوں میں اپنے بنیادی حقوق کو ترستا ہوا پاکستانی البتہ ایک پیج پر ایک ہیں۔ اور ہم دونوں بیچارے آپس میں ہی باہم دست و گریبان ہیں اور اسی تُوتکار میں ایک صدی ہونے والی ہے۔
کوئی مجھے جوش کا کہا سناتا ہے۔
مڑ کر جو میں نے دیکھا امید مر چکی تھی
پٹڑی چمک رہی تھی گاڑی گزر چکی تھی!
میں اپنا پاکستان ڈھونڈتا ہوں قائد اعظم کا پاکستان میرا پاکستان عام آدمی کا پاکستان مگر وہ مجھے کہیں بھی کسی جگہ بھی نظر نہیں آتا اٹلس تو میرے سامنے ہے۔

Avatar
اقتدار جاوید
کتب- ناموجود نظمیں غزلیں 2007 میں سانس توڑتا هوا 2010. متن در متن موت. عربی نظمیں ترجمه 2013. ایک اور دنیا. نظمیں 2014

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *