قاتل انسان، انسان مقتول ۔۔۔ معاذ بن محمود

ایک انسان نے ایک اور انسان کو مار ڈالا۔ بنیادی ترین خبر اتنی ہی ہے۔ اس کے اوپر فقط سنسنی ہے۔ قتل کی وجہ ایک اورسنسنی ہے۔ مبینہ محرک رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وصلم کا خواب میں آکر حکم دینا ہے کہ خالد تم فلاں بندے کو قتل کردو۔

پچھلے فقرے میں رحمت اللعالمین جان بوجھ کر مستعمل رہا۔ میں رحمت اللعالمین اور قتل دونوں کو ایک ہی سانس میں استعمالکرتے ہوئے شدید ترین شرمندگی محسوس کرتا ہوں لیکن کیا کیا جائے کہ قاتل کا مؤقف یہی تھا۔ یہ میری بدقسمتی ہے کہ میرا ہممذہب جاگتے ہوئے اپنے رسول ص کے سراپا رحمت ہونے سے زیادہ رسول ص کی جانب سے خواب میں آکر قتل کرنے کے حکمپر یقین رکھتا ہے۔ میری بدقسمتی ہے کہ میں اور قاتل ایک ہی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ میری بدقسمتی ہے کہ مجھے غیر مسلموںکے سامنے اپنے ہم مذہبوں کے امن پسند ہونے کا دعوی کرتے ہوئے قاتل جیسے کرداروں پر خاموش ہونا پڑتا ہے۔ خیر شرمندگی توجانے کس کس بات پر ہوتی ہے۔ جانے دیتے ہیں۔

ریاست کے بھونڈے مذاق پر مفصل رونا پھر کبھی کے لیے رکھتے ہیں۔ فرات کے کنارے کتے کی موت والی مثالیں دینے والےحکمران انسانوں کی کتوں والی موت پر خاموش رہتے ہیں۔ ابھی کے لیے اسی فقرے کو مختصر گریہ سمجھ لیجیے۔ کیا فرق پڑتا ہے جوایک فرد مارا گیا۔ اتنے سارے کروڑ افراد ہیں۔ کوئی نیا پیدا ہوجائے گا یوں سرعام گولیاں کھانے واسطے۔ میں اور آپ اگر قتلہونے سے بچ بھی گئے تو یوں ہی اپنے دل کے پھپھولے تو باہر نکالتے ہی رہیں گے۔

میں ایک پراجیکٹ کے سلسلے میں کشمیر کے پاکستان والے حصے المعروف آزاد کشمیر میں واقع کیل کے سفر پر رواں تھا۔ دوران سفرنیلم کے نیلگوں پانی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایک عسکری بھائی نے سگریٹ کا گہرا کش لیتے ہوئے میری معلومات میں اضافہ کیااور بتایا تھا کہ اس علاقے میں خود کشی کا ارادہ کرنے والا دریائے نیلم میں چل پڑتا ہے۔ اس مقام پر دریا کی گہرائی زیادہ نہیں تاہمنصف تک پہنچتے ہوئے یا تو خود کش ٹھنڈ سے مر جاتا ہے یا اس پار سے بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے مارا جاتا ہے۔ ریاستپاکستان میں نبوت کا دعوی بھی قریب قریب اسی قسم کی خودکشی ہے۔ ایک جانب آئین کی رو سے سزائے موت ہے تو دوسریجانب ناموس رسالت کے مجاہدین کی غیر آئینی بندوقیں ہیں۔ ایسے دعوے دار کے ساتھ جو ہو سو ہو لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہکیا کوئی ذی شعور شخص پرسکون حالت میں بیٹھ کر ایسا دعوی کر سکتا ہے؟ میرا خیال ہے نہیں۔ آپ اپنی عقل کے مطابق جوابدینے میں آزاد ہیں۔

دوسری جانب خواب اور بشارت کا قصہ بھی دلچسپ ہے۔ صحاح ستہ کی متفقہ حدیث کے مطابق شیطان کبھی کسی کے خواب میںنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وصلم کا روپ نہیں دھار سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو خواب میں نبی ص نظر آئے تو وہواقعی نبی کریم ص ہی تھے۔ اس پر مزید بات کرنا نامناسب ہے کیونکہ میں مختصر ہوتے دائرہ اسلام کے اندر رہنا پسند کرتا ہوں۔ نیزمیرے بھی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ تاہم سیف زون میں رہتے ہوئے اتنا سوال ضرور اٹھانا چاہوں گا کہ کیا شیطان کسی کےذہن میں یہ گمان پیدا کر سکتا ہے کہ اس نے خواب میں نبی کریم ص کو دیکھا؟ نیز اس بات کی کیا گارنٹی ہے یا ثابت کرنے کا کیاطریقہ ہے کہ ایسا دعوی کرنے والا جھوٹا نہیں۔ مزید یہ کہ کیا ایسے خواب کسی دماغی بیماری کا نتیجہ ہو سکتے ہیں؟ فی الوقت میں اپنیرائے جواب دینے کی صورت میں پڑنے والی مغلظات کے حق میں محفوظ رکھتا ہوں۔

اس ضمن میں ایک اہم اور قابل بحث دلیل عدالت کی جانب سے کی جانے والی تاخیر ہے۔ کچھ لوگوں کے مطابق ایسے مقدماتکے فیصلے میں تاخیر کے سبب لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ اگر اس دلیل کو درست مانا جائے تو پھر سزائے موت کےدیگر مقدمات میں تاخیر بھی کسی ایک فریق کی جانب سے ماورائے عدالت قتل کا باعث بننی چاہئے۔ مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ایسے میں عدالت کی جانب سے مبینہ تاخیر کو بطور جواز پیش کرنا میرے نزدیک غلط ہے۔

مقتول کا قتل دو سال سے جاری مقدمے کی تیرہویں پیشی کے دوران پیش آیا۔ مزید برآں مقتول تھا بھی پولیس کی حراست میں۔ان حقائق سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ مقتول کی بابت قانون حرکت میں رہا۔ جہاں تک عدالت کی جانب سے قصداً تاخیر کامعاملہ ہے تو میں یہ تو نہیں کہنا چاہوں گا کہ یہ جان بوجھ کر دی جانے والی غلط تاویل ہے تاہم میرے نزدیک یہ ایک غلط تاثر ضرورہے۔ آپ سزائے موت کے کسی بھی مقدمے کو دیکھ لیں کم سے کم عمومی دورانیہ دو سے تین سال ملے گا جبکہ اوسط دورانیہ پانچسے چھ سال تک چلا جاتا ہے۔ توہین رسالت کے مقدمات چونکہ حساس نوعیت کے ہوتے ہیں جن پر بین الاقوامی اداروں کینظریں بھی جمی ہوتی ہیں نیز ریاست کے بارے میں تاثر بھی دنیا بھر کو جاتا ہے لہذا ان مقدمات کا طویل ہوجانا قدرتی فعل ہے۔ریاست کے اس آئین کے مطابق جو قاتل اور مقتول سمیت مجھ پر اور آپ پر سب پر لاگو ہے، کسی بھی مقدمے کا دو سال کھینچناغیر آئینی نہیں البتہ خود جج بن جانا کلی طور پر غیر آئینی حرکت ہے۔ اس کے بعد مکرر عرض ہے کہ سزائے موت پر منتج ہونے والےمقدمات کا اوسط دورانیہ پانچ سے چھ سال تک ہے۔ کم سے کم دورانیہ دو سے تین سال ہوتا ہے۔ اس میں ماضی میں ہوئے توہینرسالت کے مقدمات کے ججز کا قتل شامل کر لیں، بوجہ خوف ججز کا معذرت کر لینا بھی شامل کر لیں، پھر جھوٹی گواہیاں بھی اورایک سے دوسری دوسری سے تیسری عدالت میں موجود اپیل کا حق بھی تو یہ اور طویل ہوجاتا ہے۔ اتنی ہی تاخیر عاشق رسول پر چلنے والے قتل کے مقدمے میں بھی اپنی جگہ کھڑی میرا اور آپ کا منہ چڑاتی رہے گی۔

سوال یہ ہے کہ اگر قتل کا ہر مقدمہ پانچ چھ سال چلتا ہے تو توہین رسالت سے متعلقہ مقدمات میں ہی ماورائے عدالت قتل کیوںہوتے ہیں؟ اگر جذباتیت صرف توہین رسالت کے کیس میں سامنے آتی ہے اور چونکہ توہین رسالت خالصتا ایک مذہبی معاملہ ہے تواسے مذہبی جذباتیت کیونکر نہ کہا جائے کہ باقی معاملات میں ماورائے عدالت قتل شاذ دیکھنے کو ملتے ہیں؟ اور اگر دیگر معاملات میںایسے قتل شاذ دیکھنے کو ملتے ہیں جبکہ توہین رسالت کے معاملے میں اکثر یہی ہوتا ہے تو پھر اسے مذہبی جنونیت کیونکر نہ کہا جائے؟ اوراگر یہ مذہبی جنونیت ہے تو ہم سال ۲۰۲۰ میں کس جانب رواں ہیں؟

اپنی رائے کا اظہار آپ کا بھی حق ہے اور میرا بھی۔ آپ قاتل کو غازی بنا کر اس کی عظمت کے قصیدے پڑھنے میں بھی آزادہیں اور مقتول کے ساتھ ہوئے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کو بھی آزاد ہیں۔ تاہم اگر آپ ماورائے عدالت قتل کے مخالف ہیںتو اس قتل پر جواز فراہم کرنا آپ کے شایان شان نہیں۔ آپ نے اگر مگر بھی کرنی ہے اور مذمت بھی تو یہ کچھ عجیب ہے۔ باقیمیں کیا میری بساط کیا کہ آپ پر تنقید کروں۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”قاتل انسان، انسان مقتول ۔۔۔ معاذ بن محمود

  1. میری آپ سے استدعا ہے کہ سب سے پہلے آپ مذہب کی تعریف کریں کہ آپ کے یہاں مذہب کسے کہتے ہیں؟
    پھر ازراہ کرم درج ذیل کے بارے میں اپنا نقطہ نظر بیان کریں۔
    1.اللہ2. انبیاءو رسل 3. آسمانی کتابیں 4. فرشتے 5.قیامت یا یوم آخرت 6. جزا اور سزا 7. جنت و دوزخ۔
    بہت بہت شکریہ۔

Leave a Reply to ابوبکر صدیق جواب منسوخ کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *