قربانی کی فضیلت اور ہمارے رویے ۔۔۔۔ رعنا اختر

قربانی ایک اہم عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے ۔ یہ عبادت صرف اس امت میں نہیں بلکہ پہلی امتوں پہ بھی رائج تھی ، ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم ہے ” ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی تاکہ وہ چوپایوں کے مخصوص جانوروں پر اللہ تعالیٰ کا نام لے جو اللہ نے عطا فرمائے ۔
عید الاضحیٰ  عظیم قربانی کی یاد میں منائی جاتی ہے ۔ جو کہ  حضرت ابرہیم علیہ السلام نے اپنی چہیتی اولاد حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی رضا و خوشنودی کے لیے اللہ کی  راہ میں قربانی کے لیے پیش کیا ۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ابرہیم علیہ السلام کی پہلی اولاد تھے ۔ جو  اللہ تعالیٰ نے حضرت ابرہیم علیہ السلام کو بڑی دعاؤں کے بعد  عطا کی ، پھر امتحان کے طور پہ اللہ نے اسی اولاد کی قربانی مانگ لی ۔

حضرت ابرہیم علیہ السلام ہر رات ایک خواب دیکھا کرتے تھے ، لہٰذا اس خواب کو سچا کرنے کے لیے روز صبح اٹھتے ہی اللہ کی راہ میں اونٹ قربان کر دئیے جاتے تھے ۔ لیکن وہ خواب ہر رات کو دکھائی دیتا تھا جس میں ان کو اپنی خاص چیز اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا اشارہ دیا جاتا تھا ۔ پھر  حضرت ابرہیم علیہ السلام سمجھ گئے اللہ کس چیز کی مجھ سے قربانی چاہتا ہے ۔ ایک دن اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اپنے خواب کے متعلق بتایا تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا بابا جان آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لیے اپنا خواب پورا کریں  ، آپ مجھے ثابت قدم پائیں  گے ۔ لہذا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی آنکھوں پہ پٹی باندھی اور انہیں قربان کرنے کے لیے زمین پہ لیٹا دیا ۔ جب گردن پہ چھری رکھی تو اللہ کی طرف سے آواز آئی اے ابراہیم تو  نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ,”ہم نیک لوگوں کو ایسے ہی بدلہ دیتے ہیں ”

ہم نے تمہاری قربانی قبول فرمائی لہذٰا اپنے پاس کھڑے مینڈھے کو اسماعیل کی جگہ قربان کر دو۔ اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آزمایا اور وہ اس آزمائش پہ پورا بھی اُترے ۔ اس قربانی کو اللہ نے اتنی عظمت عطا کی کہ  اسکو یاد گار بنا دیا اور ہر صاحبِ  استطاعت پہ اسے فرض قرار دے دیا ، کہ وہ سنت ابراہمی احسن طریقے سے ادا کرے ۔ عید الاضحیٰ  کے موقع پہ ہر صاحب استطاعت اللہ کی راہ میں جانور کی قربانی کرتا ہے ۔

اس میں قربانی کا اصل فلسفہ بتایا گیا ہے کہ    محض قربانی کر کے خون بہا کے ہم اللہ کی رضا کو حاصل نہیں کر سکتے ، نہ ہی گوشت اور خون کی اللہ کو ضرورت ہے ۔ اللہ تو ہمارے دلوں کی پرہیز گاری کو دیکھتا ہے ۔ کہ کس طرح خوش دلی و محبت اور احترام سے ہم نے ایک قیمتی چیز اللہ کی رضا و خوشنودی کے لیے اللہ کی راہ میں قربان کر دی ۔

قربانی ایک اہم اور دینی فریضہ ہے اسے نہایت سادگی سے ادا کرنا چاہیے اسے بوجھ یا تاوان نہ سمجھا جائے ۔ اس کے اہتمام میں ریاکاری کو ذرا بھی شامل نہ کرے ۔ جانور کی خریداری اور گوشت کی تقسیم تک کے معاملات شریعت کے مطابق ہونے چاہئیں ۔ بہر حال ان ساری چیزوں پہ غور فکر کرنا ہو گا قربانی عبادت ہے اسے خلوص دل سے ادا کرے تاکہ اللہ کی بارگاہ میں قبول ہو ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *