مرا پیمبر ﷺ عظیم تر ہے۔۔جمال خان

پروفیسر کے بارے میں پورے شہر میں یہ بات مشہور تھی کہ ان کے منہ سے اکثر اللہ رسول اور مذہب کے بارے میں گستاخانہ کلمات ادا ہوتے رہتے ہیں ۔۔ ان کا ایک ملازم تو باقاعدہ اس خوف میں مبتلا تھا کہ اپنے صاحب کے اس “گناہ عظیم” کی پاداش میں ایک دن پورا گھر زمین بوس ہوجائے گا اور وہ بھی پرفیسر کے ساتھ مٹی کے ڈھیر میں دفن ہوجائے گا ۔پروفیسر نے زندگی کا ایک طویل عرصہ یورپ اور امریکہ کی اعلیٰ  یونیورسٹیوں سے اعزازی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد وہاں بطور پروفیسر پڑھاتے ہوئے گزارا تھا ۔

پروفیسر سے میری جب کبھی بھی ملاقات ہوتی تو اکثر ان کے ہاتھ میں یا تو کسی بڑے مغربی فلسفی،مفکر اور دانشور کی کتاب دیکھتا یا پھر کانوں کے ساتھ لگا ہیڈ فون اور ہاتھ میں پکڑا فون— اور پوچھنے پر کہ کیا سن رہے ہیں تو بڑے فخر سے بتاتے کہ اس وقت وہ اپنے کسی پسندیدہ مغربی فلسفی کا یو ٹیوب سے لیکچر یا اس کی کوئی آڈیو بک سماعت فرما رہے ہیں ۔۔اور پھر اگلے لمحے ہی ہیڈ فون کو کانوں سے اتار کے میری طرف بغور دیکھتے ہوئے کہتے ،میاں میں تو سوچتا ہوں کہ اگر ہماری اس دنیا میں رسل،برگساں،نطشے، روسو،والٹئر، گوئٹے،ہیگل، کانٹ ،فرائیڈ، ڈیکارٹ کنفیوشس،زرتشت، نیوٹن، افلاطون،سقراط جیسے انسان دوست اور عظیم لوگ نہ ہوتے تو کیا یہ دنیا رہنے کے قابل تھی ؟؟؟۔۔۔ اور پھر اگلے لمحے چہرے پر گہری سنجیدگی طاری کرتے ہوئے ہمیشہ کی طرح مجھے نصحیت کرتے ہوئے یہ کہنا نہ بھولتے ،پتا نہیں تم جیسا بھلے مانس آدمی سب کچھ جاننے سننے کے باوجود میرے ساتھ گفتگو کے دوران اپنی تان آخر میں آکر پھر سے خلفائے راشدین اور “حاکم مدینہ” کے طرز زندگی اور طرز حکومت کے ساتھ جوڑ کر مغرب کے ان بڑے دماغوں کے اس عظیم فکری کام کو،جس نے پوری انسانیت پر احسان عظیم کیا، رد کرنے پر تلے رہتے ہو۔ میں ان کی یہ بات سن کر ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوئے کہتا سر! میرے خیالات بارے آپ کی جو رائے ہے اس کے جواب میں میرا کل بھی یہ کہنا تھا اور آج بھی کہتا ہوں کہ آپ کے ان پسندیدہ ” بڑے لوگوں” کے نظریات ،تعلیمات افکار اور اقوال کے بارے میں، میں جتنا زیادہ گہرائی میں جاکر   مطالعہ کرتا ہوں اتنا ہی زیادہ میرا اس بات پر کامل یقین بڑھتا جاتا ہے کہ اس پوری کائنات کے تمام بڑے دماغ سارے کے سارے مل کر بھی میرے آقا کریم ﷺ کی تعلیمات اور فکر کی گرد کو بھی نہیں چھوسکتے۔

اکثر ایسا ہوتا کہ پروفیسر میرے اس جواب کے بعد منہ میں بڑبڑاتے ہوئے یہ کہہ کر غصے سے آگے بڑھ جاتے” کہ تم جیسےمولویوں سے تو بندہ کبھی منہ ہی نہ لگائے تو بہتر ہے ۔۔۔پتا نہیں تم لوگ کس مذہب ،خدا اور پیغمبر کی بات کرتے ہو۔۔ میاں ! ان دقیانوسی خیالات سے اب تو باہر آجاؤ! اور تسلیم کر لو کہ ان انسان دوست مغربی دانشوروں اور فلسفیوں کی تعلیمات اور فکر کے بغیر تو یہ دنیا اپنا وجود ھی قائم نہیں رکھ سکتی تھی۔۔۔مگر اس روز شاید موسم کچھ زیادہ ہی گرم تھا کہ اس دفعہ تو میرا آخری جملہ مکمل ہوتے ہی وہ مجھ پر چڑھ دوڑے۔۔۔۔۔
میاں ! اگر تمھیں اتنا ہی مان ہے نا “اپنی ان” نامور ہستیوں” پر تو پھر کل ہی مجھے میرے گھر آکر ملو کہ — تم جو ہر وقت یہ راگ الاپنے رہتے ہو نہ کہ ” محمد” (ﷺ )جیسا کوئی کبھی نہ اس دنیا میں تھا ،نہ ہے اور نہ ہی کبھی ہوگا ۔۔ تو، آجاؤ کل میرے پاس تاکہ  میں تمھاری اس خوش فہمی کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر ہی ڈالوں۔۔اور پھر جب ان کے آخری الفاظ میرے کانوں میں پڑھے تو میں نے بھی شدت جذبات سے ان کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے پرجوش آواز میں کہا ۔۔ سر اس مرتبہ فیصلہ ہو ہی جانا چاہیے ۔۔میں کل مقررہ وقت پر حاضر ہوجاؤں گا ۔۔۔۔۔دوسرے دن وقت مقررہ پر میں پروفیسر کی بڑی سی لائبریری میں ان کے سامنے موجود تھا ۔۔دونوں جانب سے مسکراہٹوں کے ہلکے سے تبادلے کے بعد انہوں نے ایک لمحے ضائع کئے بغیر بولنا شروع کیا (اس دوران میں ان کے سامنے رکھی میز پر ” کنفیوشس، نطشے اور ڈیکارٹ کی شخصیت کے بارے میں حال ہی میں چھپنے والی تین کتابوں پر ایک نظر ڈال چکا تھا) اور مجھے یہ بات سمجھنے میں ایک لمحہ نہیں لگا کہ وہ مکمل تیاری کرکے  بیٹھے  ہیں ۔۔پروفیسر نے بھی شاید میری نظروں کا تعاقب کر لیا تھا اور ایک کتاب اٹھاکر کہا چلو میں ان ہی تین شخصیات سے شروع کرتا ہوں ۔۔۔ اور پھر تم مجھے بتانا کہ کیا واقعی یہ عظیم لوگ نہیں تھے جنھوں نے اپنے افکار خیالات اور نظریات سے اس دنیا کو رہنے کے قابل بنایا ۔ دیکھو نطشے کیا خوبصورت بات کرتا ہے کہ، بھلا آج کا انسان کس خدا کے وجود کی تلاش میں ہے ۔۔انسان تو “سپر مین” ہے وہ جو بھی کرنا چاہےجس وقت چاہے، اس کے اندر اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ تن تنہا اپنی ساری مشکلیں سارے بڑے کام سر انجام دے سکتا ہے ۔۔بھلا اب اسے خدا ( اگر وہ کہیں ھہے ) تو اس کی مدد کی ضرورت کیو ں ہے؟؟ پھر بولے ۔

اب دیکھو نا کنفیوشس سمیت زرتشت ،بدھا، رسل گوئٹے جیسوں نے تو کیا کیا موتے پروئے ہیں اپنی خوبصورت باتوں کے اور انسانوں کو امن ومحبت سے رہنے اور ایک دوسرے کے دکھ درد کو محسوس کرنے کے لئے کیا خوبصورت تعلیمات دیں ۔۔ اور پھر مزید پرجوش لہجے میں کہا،ذرا دیکھو تو کیسے افلاطون روسو تھامس مور, مارکس ” ایڈم سمتھ٫ جیسوں نے اس دنیا کو ایک مثالی دنیا بنانے کے لئے کیا کیا عظیم کارنامے سر انجام دئیے ہیں ۔۔جوں جوں صاحب اپنے پسندیدہ ” مغربی اور مشرقی ” دانشوروں اور فلسفیوں کے کارنامے بیان کرتے جارہے ہیں ، اتنا ہی ان کا جوش وخروش ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا۔ انہوں نے مجھے ان تمام انسان دوست فلسفیوں کے چیدہ چیدہ نظریات اور فرمودات بھی انتہائی پرجوش انداز اور جھومتے ہوئے انداز میں سنائے ۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ مذہب ،خدا اور نبیوں کے بارے میں اپنے مخصوص خیالات کے پرچار کو بھی جاری رکھتے ہوئے جب مجھے یہ طعنہ دیا کہ ۔۔ مولوی ذرا یہ تو بتاؤ ۔۔۔ کہ کوئی ایک بھی ایسی شخصیت پیدا ہوئی تمھاری ” -وہ کیا کہتے ہو تم جاہل لوگ  جسے ” مسلم اُمہ” ہاں—- مسلم اُمہ میں  اور ساتھ ہی ایک زوردار طنزیہ قہقہہ بھی فضا میں بلند کیا ۔–میں نے ان کے قہقہے کو بڑے تحمل سے برداشت کرتے ہوئے کہنا شروع کیا، صاحب آپ بول چکے، اب مجھے بھی اسی طرح صبر وتحمل سے سنیے گا ،جیسے میں نے آپ کو سنا ہے۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آپ نے اپنے پسندیدہ علم ودانش کے جن معماروں کا ذکر کیا ہے ان میں سے اکثریت کے لئے میرے دل میں بھرپور احترام اور عقیدت موجود ہے اور یقیناً ان لوگوں کے خیالات اور نظریات نے دنیا کے لاکھوں انسانوں کو فائدہ پہنچایا ہے ۔ مجھے بھی ان علم دوست لوگوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے ۔۔۔۔ مگر جناب! میں پھر بھی یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ آپ کے ان تمام انسان دوست فلسفیوں مفکروں کا سارا علم ساری فکر ساری تعلیمات میرے آقا کریم ﷺ کے تو صرف ایک ہی اس عظیم اور لافانی خطبے کے آگے حقیر نظر آتا ہے جسے دنیا ” خطبہ حجۃ الوداع” کے نام سے جانتی  ہے ۔۔ ابھی میں نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ صاحب کے چہرے پر ناگواری کا تاثر ابھرتے فوراً دیکھا۔۔ ۔۔مگر وہ ضبط کرتے ہوئے مجھے ٹوکنے سے اپنے آپ کو باز رکھنے میں کامیاب رہے ۔

میرے آقا کریم ﷺ نے لاکھوں کے مجمعے کے سامنے وہ مشہور تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جو تمام اسلامی تعلیمات کا نچوڑ اور حقوق و فرائض کا ابدی و عالمی منشور اعظم ہے۔ یہ خطبہ مسلمانان عالم کے ساتھ ساتھ پوری انسانیت کے لیے ابدی آئین اور ابدی پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ خطبہ آج بھی اسی اہمیت کا حامل ہے جتنا چودہ سو سال قبل تھا۔ غرض یہ کہ خطبہ حجۃ الوداع سمندر کو کوزے میں سمو دینے کے مترادف ہے۔میں جب اس خطبے کے چیدہ چیدہ نقاط کو پڑھتا ہوں تو یہ کہنے میں مجھے کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ اگر آج اقوام متحدہ اس تاریخی خطبے کو اپنے منشور کا حصہ بنالے تو اس پورے سیارے پر امن و آشتی کا قیام ، امیر غریب کا فرق ،طبقاتی نظام کا خاتمہ، انصاف کی فراہمی، بھائی چارے ، حکمران عوام کے خادم ، بھوک غربت افلاس ، جنگی جنون کا شرطیہ خاتمہ ،چار سوں پیار ومحبت کے نغمے گونجنا شروع ہوجاہیں ۔۔۔

میں نے پروفیسر کے چہرے کے تاثرات پہلی مرتبہ کچھ بدلے دیکھے اور آنکھوں میں ہلکے سے تجسس کی جھلک دیکھی ۔ میں نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا۔۔۔سر آپ کے مغربی مفکر بات کرتے ہیں عفو درگزر کی ، برداشت کی صبر وتحمل اور استقامت کی ۔سر میں آپ سے کہتا ہوں کہ اس میدان میں بھی میرے آقا کریم ﷺ ساتوں آسمانوں کی بلندیوں پر نظر آتے ہیں ۔۔پورے عالم انسانیت کے صبر وتحمل عفو و درگزر کی سرحدیں جہاں ختم ہوتی ہیں میرے آقا کریم ﷺ کی سرحد وہاں سے شروع ہوتی ہے ۔یہ جملہ جس پُرجوش انداز سے میری زبان سے ادا ہوا پروفیسر کرسی سے تقریباً اچھلتے ہوئے بولے۔۔۔ کیسے کیسے ؟؟ تم اتنا بڑا دعویٰ  کس بنیاد پر کرگئےہو؟۔ مجھے اس حوالے سے کوئی مثال ،کوئی واقعہ  سناؤ۔

میں نے پھرجب انہیں بوڑھی عورت کا آپ پر ہر روز کچرے اور گندگی سے بھری ٹوکری پھینکنے والے واقعے سے لیکر مکہ مکرمہ میں ان تمام جانی دشمنوں کو ایک لمحے میں معاف کرنے کے واقعات سنائے تو پروفیسر کی آنکھیں حیرت سے مزید پھیلتے دیکھیں۔۔۔ اور پہلی دفعہ انہوں نےبدلے ہوئے لہجے میں کہا ۔۔پلیز ! بولتے رہو۔۔۔
میں نے پھر کہا! اب دیکھیے کہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ میں آج سے صرف 50 سال پہلے تک سیاہ رنگت والوں کے ساتھ نفرت کا یہ عالم تھا کہ وہ بسوں میں گورے کے ساتھ سفر نہیں کرسکتے ۔۔ گورے کے علاقے میں جا نہیں سکتے ،جس ہوٹل میں گورے کھانا کھا رہے ہوتے وہاں داخلہ ممنوع تھا ۔ کاش آپ اپنی زندگی میں کبھی میرے آقا کے اس تاریخی ” خطبے”کو بھی ایک مرتبہ پڑھ لیتے تو۔ آپ بات کرتے ہیں انقلاب فرانس سے “انسانی آزادیوں کے آغاز کی “انقلاب فرانس سے بہت پہلے میرے آقا کریم ﷺ نے اس خطبے میں فرمایا تھا لوگو!کسی عربی کو عجمی پر کسی عجمی کو عربی ہر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے پر گورے کو کسی امیر کو غریب پر اور کسی غریب کو امیر  پر کوئی برتری حاصل نہیں ،ہاں ۔۔۔ برتری صرف ایک چیز پر ہے کہ کوئی کتنا متقی انصاف پسند اور پرہیزگار ہے۔ آپ میرے آقا کی عظمت کا کیا پوچھتے ہیں ۔۔ نرم گرم خانقاہوں اور اپنے آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر مساوات ،انسانی حقوق ، معاف کرنے ، برداشت کرنے، اعلی اخلاق اپنانے ،مسکینوں یتیموں بوڑھوں پر شفقت کرنے، صبر بھائی چارے کے لیکچر دینا اور سفید کاغذ پر سیاہ قلم سے لکھتے جانا، ایک بات مگر عملی طور پر تمام اعلی اخلاقی پیمانے پر جس طرح میرے آقاﷺ نے عمل پیرا  ہوکر دکھایا پوری انسانی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔صاحب آپ مغربی مفکروں ،کنفیوشس بدھا وغیرہ کے عدم برداشت دوسروں کو معاف کرنے کا فلسفہ مجھے سناتے ہیں میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ کے پسندیدہ دانشوروں کے صاف ستھرے جسموں پر کسی نے راہ چلتے گندگی سے بھری ہوئی ٹوکریاں کبھی پھینکی ہیں ؟  کیا کسی کو اتنے پتھر مارے گئے کہ سارا بدن خون میں نہا گیا ہو؟ لیکن ان میں سے کسی ایک نے بھی اس کا جواب مسکراہٹ اور جاؤ میں نے تمہیں معاف کیا ،جیسے جملے سے دیا ہو ؟ ان میں سے کسی کی آنکھوں کے سامنے اسکے پیارے چچا کا کلیجہ چبایا گیا ہو ؟؟ کیا ان میں سے کسی کے خاندان کا معاشی بائیکاٹ کیا گیا کہ ان کو جھکایا جاسکے ؟؟آپ کے عظیم انسان دوست فلسفیوں میں سے کتنوں نے جلاوطنی کا دکھ سہا ہوگا؟۔۔آپ کے بہت سے انسان دوست فلسفی ” غلامی ” کو جائز سمجھتے تھے ۔۔میرے نبی ﷺ کے تربیت یافتہ عمر فاروق  رض کا ایک جملہ آپ کے سارے دانشوروں کے علم پر بھاری ہے ۔۔ ” ارے جنھیں ان کی ماؤں نے آزاد جنا ہے تمہیں ان کو غلام بنانے کی جرات کیسےہوئی۔۔۔کیا آپ کے مفکروں نے کبھی اپنی سگی بیٹی کے ہاتھ کاٹنے کی قسم کھائی ہے ؟

ساری عمر جن لوگوں نے آپ کو بے انتہا تکلیفیں دیں ، اس کے جواب میں میرے آقا ﷺنے جو ایک مختصر جملہ ادا کیا ۔۔کیا ان میں سے کسی ایک کو بھی خدا نے یہ تاریخی جملہ کہنے کی توفیق دی جب آقا نے فتح مکہ کے موقع پر اس ڈرے سہمے مجمعے کے سامنے کہا تھا جو اس ڈر سے کانپ رہے تھے کہ آج محمدﷺ ہم سے بدلہ لیں گے  ۔۔
وہ الفاظ کیا تھے ۔۔۔
“آج تم پر کوئی الزام نہیں تم آزاد ہو”

اگلا جملہ ابھی میرے منہ سے ادا ہونے ہی لگا تھا کہ پروفیسر شدت جذبات سے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔ آنسوؤں کی   برسات ان کی آنکھوں سے جو بہنا شروع ہوئی تو پھر اگلے 15 منٹ تک رکی نہیں ۔ انہوں نے مجھے اتنے زور سے اپنے سینے کے ساتھ لگایا کہ مجھے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا ۔۔ آقا کریم ﷺکی محبت سے سرشار میرا اپنا چہرہ بھی  آنسوؤں سے تر ہوگیا تھا ۔۔۔۔

بس اس کے بعد  میرے کانوں میں پروفیسر کے یہ جملے ہمیشہ کے لئے امر ہوگئے ۔۔
” ہاں میں آج یہ بات تسلیم کرتا ہوں کہ ” یہ دنیا اس وقت تک امن ومحبت کا گہوارہ نہیں بن سکتی جب تک محمدﷺ کی تعلیمات پر مکمل طور پر عمل پیرا نہیں ہوا جاتا،ہاں آج میں بھی تمھاری طرح اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہوں کہ ساری دنیا کے بڑے دماغ ایک طرف اور محمدﷺ کی شان ایک طرف ۔۔۔۔صاحب اپنی ہچکیوں اور آنسوؤں کی رو میں مسلسل یہ جملہ بولتے جارہے تھے ۔ محمدﷺ تیرے صدقے تیرے قربان ۔۔۔۔محمد ﷺ تیرے صدقے تیرے قربان ۔۔میں نے دیکھا کہ دورازے کے پیچھے کھڑا ان کا ملازم اپنے صاحب کی” کایا پلٹ” دیکھ کر شدت جذبات سے اسی جگہ سجدے میں چلا گیا تھا ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *