فرید الدین عطار سے خوشہ چینی(نور کیا ہے)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

نور کیا ہے۔۔

بھاپ سی اٹھتی ہے میرے ذہن کے تحت الثرا سے
دھند کا محلول بادل
الکحل کی نشہ آور گرم چادر سا
مجھے چاروں طرف سے ڈھانپ کر للکارتا ہے
گہری نا بینائی کے عالم میں آنکھوں کے دیے بجھنے سے پہلے
ڈھونڈھ لو وہ روشنی جو کھو چکے ہو

روشنی؟
میں دھند کے کمبل کو اوڑھے
ٹھوکریں کھا تا ہوا
کچھ کچھ سنبھلتا
روح کی گہرائی میں سوئے ہوئے ’آکاش ‘۔۔۔یعنی
پانچویں عنصر کے قطرے سے بس اتنا پوچھتا ہوں’روشنی کا چہرہ مہرہ
نور کی شکل و شباہت
کس طرح دیکھوں ۔۔۔
مرے اے جوہرِ یکتا کہ میں تو
اپنی روح الاصل کو
اس عالمِ ناسوت میں آنے سے پہلے
کھو چکا ہوں؟
مجھ کواتنا تو بتاؤ
نور کیا ہے”؟‘‘

اور میں معمول کی مانند سو جاتا ہوں
اتنا پوچھ کر
اُن سب ، عظیم المرتبت علمائے دیں سے
جن کے ارشادات کو میں
عمر بھر پڑھتا رہا ہوں

’چاند دیکھو۔۔‘‘ ایک عالم بولتا ہے
نورِ حادث ہے، یہ مانگے کا اجالا۔۔”
عارضی ہے
اس کا منبع، یعنی سورج، سوکھ جائے
تو بھی یہ ا تاریک کرّہ
روشنی کو خود ترستا
طے شدہ ، گردش کی راہوں
پر بھٹکتا ہی رہے گا
گویا نور ِ عارضی نا مستقل ہے
موت ہی اس کا مقدر ہے ہمیشہ
جسم ہے یہ آدمی کا
چلتا پھرتا
جاگتا جیتا ہوا خاکی بدن ہے
تیرگی اس کے مقدر میں لکھی ہے۔

“روح متجلیٰ، مجرد نور کی اک قاش ہے….

اب دوسرے عالم کی باری آئی، تو وہ بول اٹھا،
سُن ارے نادان۔۔۔علمِ ذات ، یعنی
ذہن کا جوہر مجرد نور ہے
جس کی وساطت سے شعوری، لا شعوری صورتیں
ازلی اندھیروں سے نکل کر
روشنی میں جلوہ گر ہوتی
شہود و کشف پاتی ہیں ہمیشہ
روشنی باہر کی
یعنی چاند تاروں کی
ہیولیٰ ہے، فقط اک عکس ہے نور مجرد کا ۔۔
بعید الاصل۔۔ بالکل عارضی ہے

’’کیا کوئی ایسا وسیلہ ہے کہ جس سے
اپنے نورِ عارضی یا
ٹھوس مادہ (جسم) کو نورِ مجرد میں سمو دوں؟

دفعتاً ہی نیند میں ڈوبے ہوئے پوچھا ۔۔
جواباً یہ صدا آئی ۔۔
’’وسیلہ؟ ہاں، یقیناً ہے
اگر تم سیکھ لو، تو
عشق، رغبت،
جاذبیت
نقطۂ جذب و کشش ہی
وہ وسیلہ ہے
جسے ہم سب مراتب سے برتتے ہیں
کہ اپنے ٹھوس مادہ
(جسم) کو نورِ مجرد (روح) کے نزدیک لائیں
تا کہ (جزوی ہی سہی!) ایسا تعلق بن سکے
دائم نہ ہوکر بھی
کسی صورت میں قائم تو رہے اس زندگی میں

نور، (جزوی ہی سہی ۔۔) لیکن
مجھے اتنا بتائیں ، پیر و مرشد
کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی اپنے نور عارضی کو
یعنی اپنے ٹھوس مادہ (جسم) کو
اُس آخری حد تک منّور کر سکے
اور اس کی
خاص معیت میں ہی
بالاخر غریقِ رحمتِ اقنوم ہو جائے..
کہ نورِ عارضی نورِ منور کی کوئی ضد تو نہیں ہے؟

ایک چُپ۔۔
بالکل خموشی
گنگ ، نا گویا تھے سب ملائے مکتب
عالم و فاضل، معلم
صرف اتنا اک اشارہ سا ملا

سن، عزیزم”
ستیہ پال آنند، ہم تیری طرح ہی
واقفِ علمِ الہی ہیں، مگر ہم
لوذعی عالم نہیں ہیں
بودھ، شُد بُد
پیش آگاہی ، ہمہ دانی فقط
علمی مہارت کا نتیجہ تو نہیں ہے
داستان و پاستان و فلسفہ ۔۔۔تعلیم یا تدریس
تو آغاز ہے اک لمبی تیرتھ یاترا کا
جس پہ تم بھی
اورہم بھی چل رہے ہیں۔
کب ، کہاں، کیسے کوئی علم ِ الہی
یا “حضوری نور” تک پہنچے گا ۔۔
ہم کب جانتے ہیں ؟
ہاں، قیاساً یہ صحیح الاصل ہے
(جو تم نے پوچھا ہے)
کہ نورِ عارضی نورِ منور کی کوئی ضد بھی نہیں ہے
اس کا ہی عنصر ہے، اک مدھم سا خاکہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نظم کے لیے شیخ ابو سعید ابوالخیر، حکیم سنائی، فرید الدین عطار، مولانا رومی، سوامی وویکا نند، سوامی رام تیرتھ کے علاوہ کچھ دیگرعلما اور شعرا سے استفادہ کیا گیا ہے۔ خصوصی طور پر خواجہ فرید الدیں عطار کے تصوف کے راستے میں گنوائے گئے سات مراحل (وادی ء  طلب، وادئ ء عشق، وادی ء  معرفت، وادی ء  استغنا، وادی ء  توحید، وادی ء  حیرت اور وادی ء  فنا پر غور و خوض کے لیے کچھ ہمعصر دوستوں کے خیالات سے استفادہ کرنا ضروری سمجھا گیا۔ تصوف اور بھگتی تحریک کے حوالے سے’’عشق یا نقطۂ جذب و کشش ‘‘کے لیے سوامی رام تیرتھ کے خیالات بیش بہا ثابت ہوئے۔

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *