غزل۔۔اقتدار جاوید

یہ دریا ہے کوئی کہ پانی پانی گفتگو ہے
ہوا کی ساحلوں سے بادبانی گفتگو ہے

سمندر تیری لہریں ہیں کہ زیریں اور زبریں
سمندر تیری ساری بے کرانی گفتگو ہے

اکٹھے کر رہی ہے مامتا کومل سے تنکے
شجر سے شاخچوں کی آشیانی گفتگو ہے

یہ ڈھلتی چھاؤں ہے قسمت سے ہاتھ آتے ہیں اشعار
کہ دولت کی طرح یہ آنی جانی گفتگو ہے

الگ ہیں باغ میں رنگوں کی مستعمل زبانیں
پرندے کے گلے کی سرخ گانی گفتگو ہے

بنایا ہے انہی لفظوں کو جیسے چھاج چھلنی
کہ صحراوں کے دن کاٹے ہیں چھانی گفتگو ہے

گلی کوچوں میں خاموشی کا برپا ہے کوئی شور
کہ شہروں سے یہی نقل ِ مکانی گفتگو ہے

چھلک اٹھتی ہے راجوں اور مہاراجوں کے آگے
کسی کی رنگ زا نیندوں کی رانی گفتگو ہے

جو میں اپنی طرف سے تازہ تازہ کہہ رہا ہوں
کسی میرے ہی جیسے کی پرانی گفتگو ہے!

Avatar
اقتدار جاوید
کتب- ناموجود نظمیں غزلیں 2007 میں سانس توڑتا هوا 2010. متن در متن موت. عربی نظمیں ترجمه 2013. ایک اور دنیا. نظمیں 2014

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *