کورونا کے بعد دنیا بدل جائے گی؟۔۔اسلم اعوان

اس امر میں اب کوئی شبہ باقی نہیں رہا کہ کورونا وباءکے تدارک کے لئے نافذ کئے گئے ہمہ گیر لاک ڈاون نے مجموعی طور پہ عالمی سماج کی ہیت بدل ڈالی اور دنیا بھر کے سیاسی نظریات،فلسفیانہ اصول اور سماجی رویّوں میں گہری تبدیلیوں کے آثار ہویدہ ہونے لگے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ ماضی کی ساری روایات اورکم و بیش چار ہزار سالوں پہ محیط انسانی تجربات کا مجموعی سرمایا بے معنی ہو جائے گا،گویا انسانوں کو اپنی ذہنی وراثت کے تسلسل سے دستبردار ہونا پڑے گا اور عہد جدید کا ریاستی تمدن مشینی انداز میں انسانی معاشروں کو کنٹرول کرنے کی قوت حاصل کر کے روایتی سیاسی آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق جیسے رومانوی تصورات کو ریاستی مفادات کے تابع کر لے گا۔تیزی سے بدلتے ہوئے اسی تناظر میں اگر ہم گروہی کشمکش میں الجھی اپنے خطہ کی سیاست پہ نظر ڈالیں تو ہمیں انتہائی غیر محسوس انداز میں سارے اندرونی و بیرونی سیاسی تضادات مٹتے نظر آئیں گے جو کسی بھی نئے سیاسی تمدن کی تشکیل کا سبب بن سکتے ہیں۔لاک ڈاون کے نفاذ کے ساتھ ہی ہماری داخلی سیاسی کشمکش کی شدت میں بتدریج کمی واقع ہوئی اور زندگی کا اجتماعی دھار قدرے پُر سکون انداز میں بہنے لگا،اپوزیشن کا متنوع کردار معدوم ہو گیا بلکہ اب تو اپوزیشن والوں کی بات پر سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ بھی دھیان نہیں دیتے،ایسا لگتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں کسی بالادست قوت کے محور میں گھومنے پہ مجبور ہیں۔قومی سیاست میں تضادات کو بڑھانے والی وہ مذہبی جماعتیں بھی کسی پُراسرارخاموشی کی دھند میں ڈوب گئیں جو بالخصوص جنوبی ایشائی اور بالعموم عالمی سیاست کی حرکیات میں موثر کردار ادا کرتی نظر آتی تھیں،حتیٰ کہ مملکت کی تزویری حکمت عملی کے ٹول کے طور پہ بروکار آنے والے عسکری اور نیم عسکری گروہوں کا جاہ و جلا بھی ماند پڑ گیا۔بہت جلد،جنوبی ایشیا میں ایٹمی جنگ کے”فلاشنگ پوائنٹ“ یعنی کشمیر ایشوکو بھی ایسی تزویری اصلاحات کے تابع کرلیا جائے گا جس کا سرچشمہ اعلی درجہ کی سیاسی مہارت کے علاوہ پیپرین،کوہیان اور میکی ویلین اصلاحاتی حکمت عملی کے اصول ہوں گے،اسی پالیسی شفٹ کی بدولت نت نئے خیالات کی کونپلیں کھلیں گی جو ایسے تجزیاتی علوم کے لاتعداد جہتیں پیدا کرنے کا محرک بنیں گی جو ان معاملات میں نئے اداکاروں کی شمولیت کی راہ ہموار بنا دیں گے،کشمیر ایشو میں چین کی تلویث اسی پیراڈائم شفت کا نتیجہ ہو سکتی ہے گویاکشمیر کے منجمد ایشو بارے کئی ایسی نئی سوچیں پروآن چڑھیں گی،جو اس ایشو سے جڑے تمام تنازعات کے حل کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔شاید اسی لئے تمام تر تلخیوں کے باوجود بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات معمول کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں۔اس وقت افغان گورنمنٹ کو انڈیا کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولت فراہم کرنے کے علاوہ انڈین جاسوس گلبھوشن کو قانونی سہولیات کی فراہمی کا فیصلہ بھی ہوا کے رخ کی پتا دے رہا ہے۔ابھی کل ہی وزیراعظم عمران خان نے بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے اس کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی،جو سنہ 1971 میں متحدہ پاکستان کے حامی بنگالی مسلمانوں کو جنگی جرائم کی پادش میں سزائیں سنانے کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ادھر غیرمعمولی تجارتی مقابلہ کے باوجود وسیع تر عالمی مفادات کے تحت امریکہ اور چین،دونوں،جنوبی ایشیا میں نئی اسٹریٹیجک اصلاحات کی حمایت کر سکتے ہیں۔علاقائی طاقتیں ملک کے اندر جامع اصلاحات کی حوصلہ افزائی کےلئے بھی پرجوش نظر آتی ہیں تاکہ یہاں ایک جدید فلاحی ریاست کے تصور کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔چنانچہ اس وقت کچھ بنیادی نوعیت کی اصلاحات کو ممکن بنانے کی خاطر حکومتی ادارے وفاق المدارس کے تعلیمی بورڈ سے دینی مدرسوں اور اس میں پڑھنے والے طلبہ کی فہرست مانگ رہے ہےں،اگلے چند ماہ میں شاید مدارس و مساجد بارے کسی متوازن پالیسی پہ ریاست اور جید علماءکرام کے مابین اتفاق رائے حاصل کر لیا جائے گا۔لاریب،انتہائی تیزی سے ترقی پاتی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی طاقت نے عالمی تعلقات کے طور طریقوںاور اکیسویں صدی کے طرز حکمرانی کو بدل دیا ہے،ایک محتاط اندازے کے مطابق اگلے چند سالوں میں ترقی یافتہ ممالک میں ڈھائی ارب سے زیادہ انٹرنٹ استعمال کرنے والے شہری نئے تقاضوں کے ساتھ ابھریں گے جو موجودہ سماجی ڈھانچہ اور سیاسی تمدن کو نسلی تفریق اور عمیق گروہی انتشار میں مبتلا کر دیں گے،یہی غیرمعمولی شعوری پھیلاو انکی سوچ کو ملکی حدود اور قومی مفادات سے ماورا کر دے گا،چنانچہ اب تمام ممالک کو امکانات کے نئے دریچے کھولنے کے ساتھ ساتھ اپنی نئی ٹیکنالوجی پالیسی بنانا پڑے گی،جس کی گونج ہمیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی حالیہ اَبرزویشن میں بھی سنائی دیتی تھی۔تاہم ان اصلاحات کے لئے ایک ایسا غیر روایتی میکنزم پروآن چڑھانا پڑے گا جس کے رواں عمل کے اندر جدید سٹیٹ کرافٹ کی خود کار تشکیل ممکن ہو سکے گی تاکہ سیاسی و نظریاتی آمور پہ کم سے کم تنازعات پیدا ہوں۔اِسے ہم ایک قسم کی فطرت انسانی پہ قابو پانے کی کاوش کہہ سکتے ہےں۔شاید اب جدید ریاستیں غیر اعلانیہ طور پہ خود کو اس مقام ربوبیت پہ فائز کرنے جا رہی ہیں،جس کی آرزوئیں ماضی کی متعدد حکمراں طاقتیںکر چکی ہیں،اِس دورِ جدید میں چونکہ کسی فرد کے لئے خدائی مقام حاصل کرنا ممکن نہیں رہا اس لئے ریاست کا وہ کمپلکس ڈھانچہ جس کا ہر فرد خود بھی حصہ ہوتا ہے اور جسے کسی فرد یا گروہ کے لئے براہ راست باطل ثابت کرنا ممکن نہیں ہوتا،وہی اب قانونی اتھارٹی اور اجتماعی مفادات کو جواز بنا کر باآسانی اپنی مطلق حاکمیت کا قلادہ لوگوں کے گلے میں ڈال سکتا ہے۔خاص طور پہ ریاستوں کا وہ مربوط عالمی نظام جو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی قوت سے مزّین اور زمینی وسائل پہ کامل تصرف رکھتا ہو لوگوں کے افکار و نظریات اور مذہبی عقائد کو ریگولیٹ کرنے کی جسارت کر سکتا ہے۔بلاشبہ، اس وقت ریاست کا ادارہ اپنی قوت وحشمت اور تصرف و اختیار کے بام عروج پہ آن پہنچا ہے اور یہی حتمی غلبہ دراصل اس کے اختتام کا آخری مرحلہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔تاہم بے سمت اضطرابی قوت سے بہرور یہ ڈیجٹل معاشرے بھی کسی ریاست کے اندر غیر معمولی ہلچل تو پیدا کر سکتے ہیں لیکن اجتماعی حیات کو مقصدیت میں مربوط کرنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ماضی قریب میں بھی ہم نے دیکھا کہ سماجی ابلاغ کے انہی طاقتور ذرائع نے کئی ممالک کی قومی سیاست اور عالمی تعلقات کی نزاکتوں پہ غیر معمولی اثر تو ڈالا لیکن یہ نظریاتی،جمہوری اور ترقی پسندی کا متبادل نہیں بن سکے،ابھی حال ہی میں بہار عرب اور مصر و تیونس میں بے پناہ عوامی اضطراب پیدا کرنے کے باوجود انفارمیشن ٹیکنالوجی وہاں کسی اصولی نظریہ کی نشو و نما ممکن نہیں بنا سکی۔قصہ کوتاہ،کیا یہ دنیا اب،جارج آرویل کے مشہور ناول،اینمل فارم،کی تمثیل میں ڈھل جائے گی؟اگرچہ اس تصور کو عملی جامہ پہنانا ممکن نہیں ہو گا لیکن اس عہد کے ریاستی شعور کو اس جسارت سے روکنا بھی ناممکن ہے۔ مشہور فلسفی سپائی نوزا نے کہا تھا کہ،ریاست کو شہری کے ذہن پہ جتنا کم اختیار ہو گا اتنا ہی دونوں کے حق میں مفید ہو گا،مملکت کا اقتدار جب اجسام و افعال سے بڑھ کر انسانوں کے افکار اور روح تک جا پہنچے تو انسانی سماج کی نشو ونما ختم اور ریاست برباد ہو جاتی ہے“ لیکن مغرب کی ترقی یافتہ اشرافیہ سپائینوزا کی سوچ کو غلط ثابت کرنے کا تہیہ کئے بیٹھے ہے، وہ ایک میکانکی تمدن کے قیام کی خواہش کی عملی جامہ پہنانے کے لئے ہر حد عبور کرنے پہ کمر بستہ دیکھائی دیتی ہے۔بلاشبہ،صرف فطرت ہی اپنی تدبیر مخفی سے کائنات کی ہر چیزکو ریگولیٹ کرسکتی ہے،لہذا تمام تر قوت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود انسانی زندگی کے مقامی دھارے کو اس وسیع کائنات کے اجتماعی نظام سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply