امردان ۔۔ مختار پارس

میں اپنی آنکھیں تیرے ہاتھوں پر رکھ آیا ہوں۔ اب ان آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پڑھ لو کہ ان میں کیا لکھا ہے۔ نظریں چار کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ تم کیا پڑھنا چاہتے ہو۔ کسی جھوٹ کی تلاش میں ہو تو تمہیں مایوسی ہو گی کہ آنکھیں دروغ گوئی سے کام نہیں لیتیں۔ سچ جاننا چاہتے ہو تو بہت ہمت چاہیے۔ ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے کے بعد جس نے پہلے آنکھ جھپکی تو عالمِ ماہ و فیہا کے وہ لمحاتِ نشاط پھر دستیاب نہ ہونگے۔ سورج کے دروازے پر مٹیالی قباؤں والے بادل گدا بن کر بیٹھے ہوں تو کرنیں دیر سے نکلتی ہیں۔ روشنی پھوٹتی ضرور ہے مگر انتظار کے بعد۔ جو آنکھ منتطر نہ ہو، وہ آشوبِ زمانہ کو نہیں سمجھ سکتی ہے اور نہ ہی وہ وارفتگی کے سکوت کی سکت رکھتی ہے۔ چشم، روشن ہی اس وقت ہوتی ہے جب روح شاد ہوتی ہے۔ روح کو چین اسوقت آتا ہےجب آندھیاں چلتی ہیں اور کھڑکیاں اور دروازوں کے پٹ زور زور سے کھل کر بند ہوتے ہیں۔ ایسا وقت بھی آتا ہے جب آنکھیں بند ہو جائیں تو تب بھی نظر آتا رہتا ہے۔

پہلا سچ یہ ہے کہ مجھے تم سے محبت ہے اور اس پرستش کی بنیاد امردان ہے۔ امر یہ ہے کہ ہم نہیں تھے مگر اب ہیں۔ تیری ابتدا ‘نہیں’ سے پہلے ہوئی اور میری ‘ہاں’ کے بعد۔ آسمان سے اتارے ہوۓ خوابوں میں کتابوں میں کچھ لکھتے ہوۓ فرشتوں کی زبانی تم نے مجھے میرے ہونے کی نوید سنائی۔ محبت ایک سے ہوتی ہے اور تو ایک ہی تھا۔ تیرے ساتھ میں نے سویرے سویرے چہچہاتی چڑیوں کے نغمے سنے جو مجھے اور تمہیں دیکھ کر دیوانی ہوئی جاتی تھیں۔ تیرے سنگ میں نے بہتی ندی کا پانی دیکھا جو برفیلے پہاڑوں سے چلتے چلتے کسان کی کیاری میں آ کر باسمتی میں رکتا تھا۔تیرے رخ کے رنگوں کو میں نے گلابوں میں شرماتے دیکھا۔ کتنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں مجھ کو ملیں جو میں نے کبھی نہ دیکھی تھیں۔ اتنے میٹھے پھل کھاۓ کہ لبِ شیریں دادِ دہن کے ہی ہو کر رہ گئے ۔ پہاڑوں پر گیا تو انہی چوٹیوں اور گہرائیوں کا ہو گیا اور سمندروں نے کھینچا تو مدوجزر میں کششِ ماہِ تمام میں فنا ہو گیا۔ تیرا کتنا احسان رہا کہ تو نے مجھے میرے نہ ہونے سے پیدا کرکے اپنے جیسا کر دیا اور اپنے جیسا کر کے پھر سے ناموجود کر ڈالا۔

tripako tours pakistan

دوسرا سچ یہ ہے کہ سب مٹی ہے اور اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس آگ کو جو اس خاک کے سینے میں جل رہی ہے، ٹھنڈا ہوتے ہوتے اربوں سال اور لگیں گے۔ اتنے سالوں جل کر بھی یہ مٹی سونا نہیں بنے گی۔ تیرے گیسو، تیرا سراپا کب تک میرا ساتھ دے سکتا ہے۔ قہقہے چند لمحوں بعد تنہائی کے گھپ اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں۔ قافلے آگے بڑھ جاتے ہیں تو مسافروں کو ڈھونڈنے کوئی نہیں آتا۔ موت کی دستک آئے  تو ہمراہی رستہ بھول جاتے ہیں۔ پانی سوکھ جاتا ہے، زمین بنجر ہو جاتی ہے، کوہسار لرز لرز کر گرتے ہیں۔ صحراؤں میں گدھ بے نام و نشان منازل کی طرف جانے والے قدموں کے نشان ڈھونڈتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ تیری دلفریب مسکراہٹ مجھے درد سے ماورا کر دے گی مگر کب تک؟ تیری محبت کا احساس ضرور لافانی ہے مگر ایک دن مجھے مر جانا ہے۔ تیری آواز نے بھی خاک کے ہتھیار تھام رکھے ہیں، وہ کہاں مجھے روکنے پر قادر ہیں۔ مگر فکر مباش کہ مجھے مر کر بھی تیری طرف ہی لوٹنا ہے۔ خاک کو ہوا میں بھی اڑاؤ تو ادھر ہی جاۓ گی جدھر زورِ ہوا ہو گا۔ یہ خاک ہے جو تیری طرح پاک ہے؛ ایکدن یہ تیری تلاش میں تجھ تک ضرور آۓ گی۔

تیسرا سچ یہ ہے کہ یہ تشنگی ہی زندگی ہے۔ جسے مراد مل گئی، وہ ختم ہو گیا۔ یہاں کسی کو مقام و قیام میسر نہیں کہ عالمِ ہست و نیست کا ذرہ ذرہ گردش میں ہے۔ منزل تو مقتل ہے جو کہیں اور جانے کے قابل نہیں رکھتی۔ اصل مقدر راستہ ہے جو بس چلتے رہنے پر مجبور رکھتا ہے۔ جو تیرے راستے پر چل نکلا اس سے بڑا دھنی کون ہو گا۔ تو ملے نہ ملے، تیری لگن مسافروں کے رگِ جاں میں سوز و سازِ زندگی پھونکنے کےلیے کافی ہے۔ رستے صاف ہوں تو اور مشکل ہو جاتے ہیں۔ آسانی جفا پر مائل کرتی ہے اور عطائیں امتحان لیتی ہیں۔ نعمتوں کو قبول کرکے آزمائیشوں پر پورا اترنے والے ہی صالح کہلانے کے حقدار ہیں۔ جو بھنورے صرف باغِ بہار میں منڈلاتے نظر آئیں، انہیں صحرانوردی کے دوران سنی جانے والی آوازِ جرس کی موسیقیت کی کیا خبر !

Advertisements
merkit.pk

میری حقیقت یہ ہے کہ میں نے دریا کے اس پار جانا ہے اور اس سے پہلے خود کو ایک ناؤ بنانا ہے۔ ہر لکڑی، ہر تختہ پانی پر نہیں تیر سکتا۔ اس پار وہی کشتی جا سکے گی جو خود کو کناروں کی خواہش کے بغیر لہروں کے حوالے کر دے گی۔ طوفان لہجے نظریات کو پاش پاش کر دیتے ہیں؛ اس لیے جس کو سمجھ آ جاتی ہے اور جو اس بات کو آگے سمجھانا چاہتا ہے وہ خاموش ہو جاتا ہے۔ اس کےلیے چکاچوند، چاندنی اور چاشنی کچھ معانی نہیں رکھتی۔ وہ مار دے یا وار دے، اسکی مرضی، جس سے محبت کی جاتی ہے، اس سے پھر تکرار نہیں ہوتی۔ میں دریا ہوں اور مجھے سورج کو اپنے پانیوں میں لرزتی کرنوں کے ساتھ ڈوبتے دیکھنا ہے۔ میں سورج ہوں اور مجھے پانیوں پر نچھاور ہونا ہے۔ میں پانی ہوں اور مجھے ہر آنکھ سے بہنا ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مختار پارس
مقرر، محقق اور مصنف، مختار پارس کا تعلق صوفیاء کی سر زمین ملتان سے ھے۔ ایک عرصہ تک انگریزی ادب کے استاد رھے۔ چند سال پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک کرنٹ افیئرز کے پروگرام کی میزبانی بھی کی ۔ اردو ادب میں انشائیہ نگار کی حیثیت سے متعارف ھوئے ۔ان کی دو کتابیں 'مختار نامہ' اور 'زمین زاد کی واپسی' شائع ہو چکی ھیں۔ ادب میں ان کو ڈاکٹر وزیر آغا، مختار مسعود اور اشفاق احمد جیسی شخصیات سے سیکھنے کا موقع ملا۔ ٹوئٹر پر ان سے ملاقات MukhtarParas@ پر ھو سکتی ھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply