نوآبادیاتی اثرات اور ہمارا سماج۔۔سیدہ ہما شیرازی

گاڑی درختوں کے درمیان سے چلتی ہوئی شہر میں داخل ہو رہی تھی ،مجھے کسی بھی شہر میں داخل ہونے کا اندازہ اُسی لمحے ہو جاتا جب میری آنکھیں گاڑی میں نصب شفاف شیشے سے جھونپڑی اور جھگیوں کی بستیوں کا نظارہ کرتیں، جس کے بعد میں شعوری طور پر سمجھ جاتی ہوں  کہ شہر اب دور نہیں ۔یہ معاملہ تقریباً ہر شہر میں جانے پر پیش آتا ،مجھے اس بات کا ادراک شدت سے ہوا کہ ہر شہر میں نوآبادیاتی سوچ شدت سے موجود ہے، بلکہ میں یوں لکھوں تو بہتر ہوگا کہ پورے پاکستان میں اِسی سوچ کا راج ہے، جو نوآبادیاتی دور کا تحفہ ہے، لیکن اب نوآبادکاروں کی شکل بدل گئی ہے ،اِنکی حکمتِ عملیاں جدید طرز میں ڈھل گئی ہیں لیکن مقصد نہیں بدلا۔

انگریزوں کی آمد سے پہلے مغل بادشاہ کے دور میں طبقاتی تقسیم کا احساس شہروں میں بالکل موجود نہ تھا، جو آج کے دور کے انسان کی زندگی کی تلخ اور تکلیف دہ حقیقت بن چکا ہے، آج شہروں کو کئی حصوں میں بانٹ دیا گیا ہے یہ تقسیم بھی دولت اور بڑائی کی بنیاد پر کی گئی ہے، شہر کے اچھے اور سہولیات سے مالامال علاقے بڑے اور مالدار لوگوں کو سونپ دیے گئے ہیں، آج کے دور میں مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیز کا قیام اور انسانوں کی یہ تقسیم حقیقت میں نوآبادیاتی سوچ کی عکاسی کی بہترین مثال ہے ،جبکہ باقی علاقے اس سے کم درجہ یعنی مڈل کلاس کے لیے مختص کر دیئے گئے ہیں، اور ستم ظریفی کا یہ حال ہے کہ غریب لوگوں سے شہر میں رہنے کا حق چھین لینے کے بعد اِن کے لیے جھونپڑیوں اور جھگیوں کی بستیاں قائم کر دی گئی ہیں، جس میں وہ اپنے احساسِ کمتری ،بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے ساتھ زندگی سے جنگ کرتے ہوئے مر جاتے ہیں لیکن ہمارا دین اور مذہب بڑے عہدے کی بنیاد پر فضیلت دینے کا حکم تو ہر گز نہیں دیتا۔۔۔ بلکہ یہاں تو معیار تقویٰ ہے۔۔۔ لیکن ہم مسلمان ہیں اور مذہب ہمارے ہاں صرف ا انتہاپسندی کی حدوں کو توڑنے ،لوگوں کی جانوں کو لینے ،نفرت اور انتشار پھیلانے ،دین کو اپنے مفاد کے حصول کے لیے استعمال کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مجھے اکبر کے چند اشعار یاد آرہے ہیں کس قدر سچا اور کھرا انسان تھا وہ

شیخ ہوں شہر میں اور کیمپ میں سیّد ہوں

یہ کیا جس میں مل جل کے رہیں سب وہی بستی اچھی —

کیمپ میں پاتا ہوں یاروں کو جو دن کو بیشتر

یہ اثر ہے اصطبل کا ورنہ خر کوئی نہیں

یہاں کیمپ سے مراد شہر کے وہ علاقے ہیں جہاں نو آبادکاروں کا طرز معاشرت ہے اور شہر سے مراد جسے ہم پرانا شہر کہتے ہیں ،اصطبل سے مراد ہندوستانی کردار کی بستی ہے ،جو انگریز راج ہی نے پیدا کی۔ اکبر جیسے حساس اور دور اندیش آدمی نے اُسی وقت بھانپ لیا تھا کہ مستقبل میں کیا کیا خرابیاں ان اقدامات سے پیدا ہونگی، انہوں نے نہ صرف ان خرابیوں کا رونا رویا بلکہ مستقبل میں ان کی تباہ کاریوں پر بھی ماتم کیا، جس کے اظہار سے اُن کی شاعری بھری پڑی ہے لیکن آج کی طرح اُس دور میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے مسلسل اکبر کو رد کیا کیونکہ ان لوگوں کی مثال کنؤ ے کے مینڈک کی سی تھیں ۔ وہ ظاہری اور کھوکھلے سماجی اقدامات اور روایات پر خوش بہت خوش تھے وہ ان کھوکھلی تبدیلیوں کے نتائج سے بے خبر تھے گاڑی اب شہر میں داخل ہو چکی تھی۔

بد قسمتی سے مجھے اس بار بھی ایک سوسائٹی میں موجود گھر میں ہی جانا تھا میرا غم شدت اختیار کرگیا لیکن ہر بار کی طرح اس بار بھی مجبور تھی وہاں جانا ضروری تھا وہ دو گھنٹے اذیت سے بھرپور گزارنے کے بعد جب واپسی کی راہ لی تو میرے ذہن میں کئی سوالات گردش کر رہے تھے ،میں اگلی نسلوں کے لئے فکرمند تھی، اگر آج حالات ایسے  ہیں ،تو نہ جانے کچھ سالوں کے بعد یہ سماج کیسی صورت حال اختیار کر جائے۔ ۔۔جس کا تصور ہی میرے لیے ناقابل برداشت ہے ہماری نسلیں اُسے جھیلیں  گی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *