محبت اک الوہی جذبہ۔۔شاہد محمود ایڈووکیٹ

آج محبت کا لفظ بہت عام ہو گیا ہے اور محبت اتنی ہی نایاب ۔۔۔۔ وقتی رفاقت، کسی ادا یا حسن کی کشش، ہوس، حرص، مستی، اشتہا، ہوائے نفس کے زیر اثر مشتعل ہونے والے جذبات اور کارستانیوں کو “محبت” کے مقدس لبادے میں خوشنما بنا کر پیش کئے جانے کی بھونڈی کوشش کی جاتی ہے۔ روزمرہ گفتگو، نثر، شاعری و میڈیا میں اس بات کا چلن ابلیسی قوتوں کا ایسا جال ہے جس میں پھنسا کر محبت جیسے پاکیزہ الوہی جذبے کو آلودہ کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے جب کہ محبت نہیں بلکہ ہمارا من آلودہ ہو جاتا ہے اور سکون کی بجایے بے سکونی دل میں گھر کر لیتی ہے۔
“آج کل کی محبت” بڑی غریب سی اصطلاح ہے کیونکہ محبت ازل تا ابد پر محیط ایک ایسا بے کراں پاکیزہ سمندر ہے جس میں غوطہ لگانے والے امر ہو جاتے ہیں۔
ایک کہانی محبت کی آپ کو سناتا چلوں۔ شجاع نامی ایک پانچ سال کے لڑکے کے گھر کے پاس چھوٹا سا ایک جنگل تھا جس میں درخت، پرندے اور چھوٹے جانور اٹکھیلیاں کیا کرتے تھے ۔۔۔۔ ایک دن کھیلتے ہوئے شجاع نے دیکھا کہ آندھی آنے کی وجہ سے ایک چھوٹے درخت کا تنا زخمی ہو کر دہرا ہو گیا تھا۔ شجاع نے اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اس درخت کی پٹی کر دی ۔۔۔ شجاع کو وہ درخت غمگین لگتا تو وہ اس درخت کو چوم کر اسے پیار کرتا اور گھنٹوں اس کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتا۔ شجاع کے دوست بھی وہاں آ جاتے اور شجاع کے ساتھ مل کر کھیلتے ۔۔۔ بچے زخمی درخت کے ساتھ جھولنے کی کوشش کرتے تو شجاع انہیں منع کرتا
۔۔۔ شجاع کی فطرت سے یہ بے لوث محبت تھی کہ درخت ٹھیک ہو گیا لیکن شجاع بارہ تیرہ سال کی عمر میں بھی اسکول جاتے ہوئے اور واپسی پر اس درخت کے پاس آ کر ویسے ہی اسے چومتا ہے اور درخت کا تنا بھی ایسے ڈھل گیا ہے جیسے اس کے چومنے کا جواب دیتا ہو اور باقی درخت اس سے اوپر کی طرف پروان چڑھ گیا ہے۔
بس یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ محبت دیالو ہوتی ہے دینا جانتی ہے۔ کسی چیز پر قبضہ کرنا یا کسی چیز کو حاصل کر لینا نہیں بلکہ کسی چیز کی فلاح و بہبود و نشو و نما محبت کا مطمع نظر ہوتا ہے اور محبت ایک ایسا خوبصورت جذبہ ہے کہ جتنا بانٹتے جاو، اسے جتنا تقسیم کرو یہ اس سے زیادہ ضرب کھا کر آگے بڑھتا جاتا ہے اور آپ کے پاس کئی گنا بڑھ کر واپس آتی ہے۔ کائنات محبت کا وسیع سمندر ہے اور محبت کرنے والے اس میں مل کر امر ہو جاتے ہیں ۔

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *