کچھوے نے بتایا۔۔ربیعہ سلیم مرزا

ایک دفعہ کا۔ذکر ہے۔برف پوش پہاڑوں کے بیچ ایک جادوئی جھیل تھی۔اسکا پانی روز سورج کے سنگ پہلے سنہرا ہوتا، بھر نارنجی ہوتے ہوتے، سبزی مائل نیلا ہو جاتا۔جب چاند اس خوبصورت آئینے میں جھانکتا، تو جھیل کا پانی شرما کراور نکھرجاتاشفاف ہو جاتا۔جھیل میں رہنے والی جل پریاں سطح آب پہ آتیں، کھیلتیں، شرارتیں کرتیں۔جھیل کی لہروں سے اٹھکیلیاں کرتیں، پانی ان سے سرگوشییاں کرتا جھیل جتنی خوبصورت تھی اسکا پانی بھی اتنا ہی خوشبو دار تھا۔جل پریوں کہ ملکہ گل نواز کی جادوئی سلطنت میں زمین کے اوپر اور نیچے دونوں جگہ کی عوام خوش اور مطمئن تھی۔
یہ سارا علاقہ، ملکہ گل نواز کا تھا، نیل جل پری اور سبز جل پری اسکی بیٹیاں تھیں۔
اہک دن، جب خوبصورت سنہری چاند نکلا۔تو جھیل کی سطح پر ہر سمت روشنی پھیل گئی ۔پر سکون لہریں روپہلی روشنی دیکھ کر خوشی سے امڈنے لگیں ۔ روشنی پانی سے چھن کر، جب جل پریوں تک پہنچی۔تو وہ اپنی سہیلیوں کے سنگ کھیلنے کو بے چین ہو گئیں ۔ملکہ گل نواز سے اجازت لے کر وہ سب سطح آب پر آ گئیں ۔آج انکا ارادہ، جھیل کی سیر کرنے کا تھا۔اچانک نیل جل پری بولی!
ہم نے اپنی جھیل کی تہ میں موجود جنگل تو دیکھا ہی نہیں ۔سنا ہے وہاں اتنے خوبصورت پھول کھلتے ہیں کہ شاذ ہی کہیں کھلتے ہوں ۔ اور یہ جو پانی سے خوشبو آتی ہے یہ بھی انہی پھولوں کی وجہ سے ہے۔سب سہیلیاں وہ جنگل دیکھنے کو بیتاب ہو گئیں ۔اس جنگل تک پہنچنے میں انہیں کافی سفر کرنا پڑا۔
ابھی جنگل کی شروعات ہی تھی کہ جل پریوں کو ہلکی ہلکی، ڈراونی سی سر گوشیاں سنائی دیں ۔تھوڑا اور آگے بڑھیں تو سرگوشیاں ایک منتر میں بدل گئیں ۔لگتا تھا کوئی چھپ کر منتروں کا جاپ کر رہا ہے۔اب وہ کافی آگے آ چکی تھیں۔اچانک نیل جل پری چلائی!
وہ دیکھو، وہاں ہیں پھول۔اور آگے بڑھ کر کچھ پھول توڑ لیے۔
پھول توڑنےنے کی دیر تھی کہ ارد گرد کے پانی میں ہلچل مچ گئی ۔اب منتر پڑھنے کی آواز بھی بند ہو گئی تھی ۔اچانک پانی میں ایک چھوٹا سا بھنور بنا اور ایک بوڑھی چڑیل خاضر ہو گئی اور سخت غصے میں کہنے لگی!
تمہاری اتنی جرات، کہ تم میرے جادوئی پھول توڑو۔
سبز جل پری نے جواب۔دیا۔یہ جھیل ہماری ہے۔اور اس میں موجود ہر چیز پہ ہمارا حق ہے۔بوڑھی چڑیل نے زور دار قہقہ لگایااور کہنے لگی۔!
نہیں اب یہ جنگل میرا ہے، میں یہاں کی ملکہ چڑیل ہوں ۔میں اپنے درخت کی کھوہ میں جاپ کر رہی تھی ۔اس لڑکی نے میرا جاپ توڑا ہے۔جسکی تمہیں سزا ملے گی۔یہ کہتے ہی اس نے پانی میں ہی زور دار چیخ ماری۔تو نیل جل پری سرخ پھول بن گئی ۔چڑیل نے پھول اٹھا کر بالوں میں لگا لیا اور غائب ہو گئی ۔
سبز جل پری سمیت ،سب جل پریاں بہت پر یشان ہوئیں ۔وہ سب تیزی سے تیرتے ہوئے ملکہ گل نواز کے محل پہنچیں اور سارا ماجرا گوش گزار کیا۔
ملکہ بھی سارا واقعہ سن کر پریشان ہو گئی اسنے فوراََ شاہی نجومی سفید بگلے کو طلب کیا۔تھوڑی دیر بعد، شاہی نجومی سفیدبگلہ اپنی لمبی داڑھی ہلاتا حاضر ہو گیا۔یہ بگلہ اتنا عمر رسیدہ تھا کہ اسکی چونچ کے نیچے ایک لمبی سفیدداڑھی اُگ آئی تھی۔ملکہ نے اسے نیل جل پری کا پتہ لگانے کا کہا۔
تھوڑی دیر سوچنے کے بعدبگلہ نجومی کہنے لگا،
“ملکہ عالیہ!
اگر ہمارے جنگل پہ بوڑھی چڑیل کا قبضہ ہے اور وہ وہاں جاپ کر رہی ہے تو یقیناََ نیل جل پری بھی وہیں ہو گی ۔ہو سکتا ہے وہاں اور لوگ بھی قید ہوں ۔میرا علم مجھے بتاتا ہے کہ صرف سبز جل ہری ہی اسے بچا سکتی ہے۔”
سبز جل پری نے ماں کا چہرہ دیکھا تو جانے کو تیار ہو گئی ۔
ملکہ نے بہت روکا، پہلے ہی ایک بیٹی چڑیل کی قید میں ہے، دوسری بھی پھنس گئی تو۔؟
سبز پری نے ماں کو تسلی دی اور سفر پہ روانہ ہو گئی ۔
پہلے پہل تو اسکا دل گھبرایا پھر اسنے کان لگا کر پانی کی سر گوشیاں سنیں ۔لہریں اسے رستہ بتا رہی تھیں ۔اسے دل کو کچھ حوصلہ ہوا۔اور وہ تیزی سے سفر کرنے لگی۔سبز پری، جب اس جگہ پہنچی جہاں نیل پری غائب ہوئی تھی، وہاں اب کچھ نہ تھا۔وہ دل مضبوط کر کےتھوڑا اور آگے بڑھی، تو ایک چھوٹی چٹان میں سے روشنی پھوٹتی دکھائی دی۔
سبز پری نے دیکھا، چٹان میں بنے ایک طاقچے میں ایک کچھوا آسن جمائے بیٹھا ہے۔اور اسکے سر پہ ایک خوبصورت تاج بھی چمک رہا تھا۔اچانک کچھوے نے آنکھیں کھولیں اور سبز پری سے مخاطب ہوا۔!
“تمہاری بہن بوڑھی چڑیل کے قبضے میں ہے، اگر تم اسکے گلے میں پڑی پھولوں کی مالا توڑ دو گی تو۔نیل پری اپنی اصل شکل میں آجائے گی۔اور بوڑھی جادوگرنی مر جائے گی۔”
“آپ کون ہیں؟ ” سبز پری نے پوچھا!
“میں ملک فارس کا شہزادہ اوربوڑھی چڑیل کا قیدی ہوں ۔اسنے کئی لوگوں اور جانوروں کو قید کیا ہوا ہے۔اسکے مرتے ہی ہم آذاد ہو جائیں گے، میرے بوڑھے ماں باپ میرا انتظار کر رہے ہیں ”
اسکی بات سنتے ہی سبز جل پری نے پھر سے سفرشروع کر دیا۔
اب جنگل اور اندھیرا دونوں گہرے ہو رہے تھے۔اچانک سبز جل پری کو منتروں کی ہلکی ہلکی گنگناہٹ سنائی دی۔آواز کا پیچھا کرتے کرتے سبز جل پری ایک غار میں داخل ہو گئی ۔
سامنے ہی بوڑھی چڑیل آنکھیں بند کیے ایک منتر پڑھ رہی تھی۔سبز جل پری خاموشی سے آگے بڑھی اور چڑیل کے گلے میں پڑا پھولوں کا ہار کھینچ کر توڑ دیا۔
بوڑھی چڑیل نے زوردار چیخ ماری اور پانی میں گھلنے لگی۔سبز پری نے جھپٹ کر سرخ پھول اٹھایا اور غار سے باہر نکل آئی ۔باہر آتے ہی سرخ پھول نیل جل پری میں بدل گیا اور دونوں بہنیں گلے لگ گئیں ۔واپسی کے سفر میں انہیں ایک آدم زاد شہزادہ نظر آیا، وہ بھی جل پریوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔سب اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے ۔ملکہ گل نواز نے دونوں بیٹیوں کو صحیح سلامت دیکھ کر خدا کا شکر ادا کیا ۔اور زیر آب ملکہ گل نواز کی سلطنت میں کئی روز تک جشن ہوتا رہا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *